آج : 9 February , 2019

شوقِ علم اور صبر وہمت کی تصویرِ مجسّم

شوقِ علم اور صبر وہمت کی تصویرِ مجسّم

سن ۱۴۳۸ھ-۱۴۳۹ھ کا تعلیمی سال شروع ہوا تو ہر سال کی طرح اس برس بھی مادرِ علمی جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے شعبہ درسِ نظامی کے دیگر درجات سمیت، درجہ اولیٰ میں طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے اپنے علمی سفر کا آغاز کیا، ان میں ایک طالب علم عمامے اور سفید لباس میں ملبوس، نمازوں میں صفِ اول کے اہتمام اور باادب انداز کی بنا پر نمایاں دکھائی دینے لگا اور اساتذۂ جامعہ کی مجلسوں میں بھی اس کا ذکرِ خیر آنے لگا۔ معلوم ہوا کہ اُسے اپنے رفقائے درس کی خیرخواہی کا جذبہ بھی حاصل ہے۔ اس نے ازخود اساتذہ کو اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے درس گاہ کے کمزور طلبہ کو اسباق یاد کرانے اور اُنہیں تکرار کرانے کی ذمہ داری لے لی۔ ایک استاذ حج کے سفر پر تھے تو فون پر ان سے اپنے بعض رفقاء کے لیے دعاؤں کی درخواست کی جن کے قدم ڈگمگا رہے تھے۔ ذہین طلبہ میں ساتھیوں کی خیرخواہی کے جذبات اساتذہ کو بہت بھلے لگتے ہیں۔ شب میں تکرار ومطالعے کے دوران کبھی کبھار کوئی بات پوچھنے بھی آجاتا۔ ماہِ صفر میں سہ ماہی امتحان کا نتیجہ آیا تو وہی طالب علم اپنے فریق میں سوم پوزیشن کا حق دار ٹھہرا۔ پڑھنے لکھنے کے ذوق کے ساتھ، مدرسے کے ماحول میں ادب آداب برتنے اور نیکی کا مزاج رکھنے والے طلبہ‘ اساتذہ کی نگاہوں میں ہوا کرتے ہیں۔ انہی خوبیوں کی بنا پر مختصر تعلیمی دورانیے میں ہی اساتذہ کے دلوں میں جگہ بنانے والا یہ ہونہار طالب علم ’’عبداللہ عرفان‘‘ تھا۔
شب وروز یونہی گزرتے جاتے تھے، ایک روز خبر ملی کہ عبداللہ بیمار ہے تو خیال ہوا کہ معمول کا مرض ہوگا، اور دو چار روز میں وہ صحت یاب ہوکر دوبارہ تعلیمی سلسلہ شروع کرلے گا، لیکن چند روز بعد یہ معلوم ہوا کہ عبداللہ کو ’’بلڈ کینسر‘‘ کا مرض تشخیص ہوا ہے، اور وہ شہر کے ایک معروف ہسپتال میں داخل ہے۔ تب پہلی بار دل دھک کر رہ گیا، عیادت کے لیے اس کے پاس جانا ہوا تو مرض کے پورے ادراک کے باوجود عبداللہ کی ہمت وحوصلہ بہت بلند نظر آیا۔ اسے یہی دھن تھی کہ میرے اسباق ضائع ہورہے ہیں، مجھے جامعہ جانا ہے۔ تسلی دی جاتی کہ صحت مقدم ہے، طبیعت کچھ سنبھل جائے تو ان شاء اللہ! جامعہ جانا شروع ہوجائے گا، لیکن اُسے قرار نہ آتا۔ ہسپتال میں بھی نصابی کتابیں اس کے سرہانے رکھی دکھائی دیتیں، اور روز کے اگلے اسباق کی بھی اسے پوری خبر ہوتی۔ اساتذۂ جامعہ عیادت کے لیے جاتے تو اس کی یہی تکرار ہوتی، اور اہلِ خانہ کے سامنے بھی یہی رٹ ہوتی کہ مجھے چھٹی دلائی جائے، میرے اسباق کا نقصان ہورہا ہے اور مرض کی نزاکت کی بنا پر معالجین اس کی اجازت نہیں دے سکتے تھے، لیکن اس حالت میں عبداللہ کا یہ شوقِ علم، علم کے تنزل کے اس دور میں عیادت کے لیے آنے والوں کے لیے سبق آموز تھا۔
حصولِ علم کے شوق وذوق کے ساتھ بلڈکینسر جیسے تکلیف دہ مرض میں اس کا صبر وشکر بھی دیدنی تھا، جب کبھی جانا ہوا تو وہ سراپا صبر نظر آیا، اور اللہ تعالیٰ کی دیگر اَن گنت نعمتوں پر شکرگزار دکھائی دیا۔ بلاشبہ اس کے پاس بیتے چند لمحات میں اس کے ایمان افروز جملے سن کر پتھر دل بھی بدلتا محسوس ہوتا تھا۔ اساتذہ جاتے تو ان سے اسباق یا جامعہ واساتذۂ جامعہ کے حوالے سے گفتگو ہوتی یا کوئی دینی مسئلہ چھیڑ دیتا، اور اس کے متعلق رہنمائی طلب کرتا۔ بعض اوقات اس کے پوچھے گئے دقیق سوالات سن کر اس کے دینی جذبے پر بے حد رشک آتا۔ مرض کے اس دورانیے میں اس کے تنہائی کے فارغ اوقات، قرآنِ کریم کی تلاوت سننے میں بسر ہوتے۔ دورانِ علالت مسلسل نو ماہ اس صالح نوجوان نے اسی طرح قابلِ رشک حالت میں گزارے، اور یوں وہ ہمت وحوصلے اور صبر واستقلال کی ایک مثال چھوڑ گیا۔
اس دوران اپریل کے آخری ایام میں معلوم ہوا کہ ڈاکٹروں نے اسے لاعلاج قرار دے دیا ہے، اور خود عبداللہ کے علم میں بھی یہ بات لائی جاچکی ہے۔ اس روز عیادت کے لیے جاتے ہوئے دل ودماغ اُلجھ کر رہ گئے تھے اور کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا کہ آج اُسے کیونکر اور کن باتوں سے تسلی دی جاسکے گی؟! لیکن وہاں تو معاملہ ہی اور تھا، بندہ کے کچھ کہنے سے قبل وہ خود گویا ہوا: ’’استاذ جی! جب شروع میں مجھے ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ تم ٹھیک ہوجاؤ گے تب بھی مجھے ان کی بات کا یقین نہ تھا، اور اب انہوں نے لاعلاج قرار دیا ہے تو اب بھی مجھے ان کی باتوں پر یقین نہیں، میں عمرے پر جاؤں گا، میرا اللہ مجھے ٹھیک کردے گا۔‘‘ عزم وہمت پر مشتمل یہ بلند وبانگ جملے سن کر دل پگھل کر رہ گیا اور اس کے اس ایمانی جذبے کو دیکھ کر دروں میں بے حد شرمندگی محسوس ہوئی کہ کہاں میں اور کہاں یہ نکہتِ گل! پھر وہ سفرِ عمرہ پر روانہ ہوا، چند روز مدینہ طیبہ -علی صاحبہاآلاف آلاف تحیات وتسلیمات – میں رہنے کے بعد طبیعت بگڑتی محسوس ہوئی تو عمرے کے لیے مکہ مکرمہ جاتے ہوئے راستے میں فون پر رابطہ ہوا، بتانے لگا: ’’عمرے کے لیے جارہا ہوں، میری طبیعت خراب ہے، دعا کیجیے گا۔‘‘ عرض کیا کہ: ضرور! لیکن تم تو خود دعاؤں کی قبولیت کے مقامات میں ہو، ہمارے لیے بھی دعا کرنا۔ عمرے کی ادائیگی کے بعد طبیعت تشویش ناک حالت تک بگڑ گئی اور مکہ مکرمہ کے ایک ہسپتال میں داخل کرنا پڑا، حالت کچھ بہتر ہوئی تو پاکستان لاکر دوبارہ مقامی ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ ہسپتال اور گھر کا یہ آنا جانا اس پورے عرصے میں لگا رہا۔ اہلِ خانہ نے بھی علاج معالجے اور تیمارداری میں کوئی کسر نہ چھوڑی، لیکن جسم میں مرض کے اثرات دن بدن گہرے ہوتے جارہے تھے۔
شوال میں جامعہ کا نیا تعلیمی سال شروع ہوا تو اس پورے عرصے میں شدید تکالیف کو سہہ جانے والا بلند ہمت عبداللہ سال کے پہلے تعلیمی دن پھوٹ پھوٹ کر رو دیا کہ میری پڑھائی ضائع ہورہی ہے، مجھے جامعہ جانا ہے۔ ادھر مرض اور جسمانی حالت اس کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ اہلِ خانہ مرض کی کیفیت کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے اس مطالبے پر پریشان تھے، لیکن آخر اس کی دیرینہ خواہش کے سامنے معالجین نے گھٹنے ٹیک دیئے اور وہ روزانہ ایک دو گھنٹے جامعہ آکر اسباق میں شریک ہونے لگا۔ جسمانی کمزوری کی بنا پر زیادہ دیر تک بیٹھنے کی ہمت نہ ہوتی تھی، یہ سلسلہ بھی کچھ روز ہی چل پایا، پھر مرض کے اثرات بڑھتے گئے تو وہ گھر اور ہسپتال ہی آتا جاتا رہا۔
اس دوران موسمِ حج قریب آیا تو عبداللہ نے سفرِ حج پر جانے کی ضد شروع کردی، جو اس نازک مرض میں ناممکن نہ سہی، انتہائی دشوار ضرور تھی، اس لیے معالجین کی جانب سے بجا طور پر سفر کی اجازت نہ ملی، لیکن چار ذوالحجہ کو اسے ہسپتال سے گھر جانے کی رخصت حاصل ہوئی تو وہ بائیومیٹرک (جو سعودی حکومت کے نئے قانون کے مطابق سفرِ حج پر جانے کی خاطر ضروری ہے) کے لیے پہنچ گیا، اور اپنے طور پر ویزہ حاصل کرنے کی کوششیں بھی شروع کردیں، مرض کی تشویش ناک نوعیت کے ادراک کے باوجود حرمین شریفین- اللہ تعالیٰ ہر نوع کے شرور وفتن سے ان کی حفاظت فرمائے- کا اس قدر اشتیاق بھی حیرت انگیز تھا، وہ اس کم عمری میں کئی بار حرمین کی معطر ومنور فضاؤں سے مستفید ہوچکا تھا، اور یہ شوق ہی تھا جس نے اسے مرض کی نزاکت سے بے پرواہ بنا ڈالا تھا، لیکن ان آخری ایام میں ویزہ ملنا تھا نہ ملا، اور ادھر عیدالاضحی کے دوسرے روز ہی اسے دوبارہ ہسپتال میں داخل ہونا پڑا، یوں پھر گردشِ ایام چل پڑی، اور مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی! آخر وہ دن آگیا جب عبداللہ نے سفرِ آخرت پر روانہ ہونا تھا، چند روز پہلے ہی گلے میں انفیکشن شروع ہوا تھا، جس سے خورد ونوش میں تکلیف ہونے لگی، ایک روز قبل طبیعت زیادہ بگڑی اور اگلے ہی دن وہ اس فانی دنیا اور اس کے باسیوں سے منہ موڑ کر اپنی منزلِ مقصود کی جانب روانہ ہو گیا۔ ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کو اس دنیا میں آنکھ کھولنے والا عبداللہ اپنی حیاتِ مستعار کی پوری سترہ بہاریں دیکھ پایا، اور یکم محرم ۱۴۴۰ھ مطابق ۱۲ستمبر ۲۰۱۸ء بروزِ بدھ کی شام غروبِ آفتاب کے وقت قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے اس کی زندگی کا چراغ گُل ہوا، إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون!
اگلے روز جب جامع مسجد بنوری ٹاؤن میں جنازہ پہنچا تو ابھی جامعہ کا تعلیمی وقت شروع ہونے میں چند منٹ باقی تھے، عبداللہ کے والد، استاذِ محترم مولانا امداد اللہ صاحب سے کہنے لگے: ’’دیکھیے مولانا ! میرا بیٹا آج بھی وقت پر جامعہ پہنچا ہے۔‘‘ صبح سوا آٹھ بجے مجسّمِ صبر عبداللہ کے باہمت والد بھائی عرفان ہارون نے ہزاروں علماء، طلبہ اور دین واہلِ دین سے محبت وتعلق رکھنے والوں کی موجودگی میں اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور طارق روڈ پر واقع شہر کے قدیم شہرِ خموشاں میں اسے سپردِ خاک کیا گیا۔
یوں تو اس دنیا میں سبھی جانے کے لیے ہی آئے ہیں، لیکن بعض لوگوں کا جانا سینکڑوں ہزاروں دلوں کو مغموم کو کرجاتا ہے۔ ہماری جامعہ کے عزیز طالبِ علم عبداللہ عرفان v کا شمار بھی ایسے ہی لوگوں میں ہے، وہ اس دنیائے علم ونور سے چار ماہ کا نہایت قلیل عرصہ ہی فیض یاب ہوسکا، لیکن ایمان وتوکل، ہمت وحوصلے، حصولِ علم کے شوق وذوق، اساتذہ کے ادب واحترام، رفقائے درس کی خیرخواہی اور حرمین شریفین سے عشق ومحبت جیسے تابناک عنوانات سے مزین زندگی کی صورت میں خاص طور پر اپنے ہم عمروں، ہم جولیوں اور طلبۂ علم کے لیے ایک مثال پیش کر گیا۔ بلاشبہ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کی موت، زندگیوں میں تبدیلی کا باعث بنے۔ عبداللہ کے انتقال کے بعد اس کے اہلِ خانہ سے تعزیت کے لیے آنے والوں کا تانتا بندھا رہا۔ زمانۂ علالت میں اس کے صبر وہمت اور اس فانی زندگی کے خوب صورت اختتام پر سبھی رشک کناں تھے۔ بندہ کی موجودگی میں ایک بزرگ عالم تعزیت کے لیے تشریف لائے اور اہلِ خاندان کو اس کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن کریم کے ختمات کی ترغیب دی، تو اسی مجلس میں خاندان کے حفاظ اور دیگر اعزاء نے سو قرآنِ کریم اپنے ذمے لے لیے۔ دورانِ مرض پورے عرصے میں اہلِ خانہ نے اس کی خدمت اور تیمارداری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، خصوصاً عبداللہ کے والد محترم بھائی عرفان ہارون نے جس ہمت وحوصلے اور خندہ پیشانی کے ساتھ اس کے مرض کے طویل دورانیے اور جدائی کے کٹھن لمحات کو طے کیا، اس میں بھی سیکھنے کا جذبہ رکھنے والوں کو بہت کچھ ملا۔ اللہ تعالیٰ عزیز عبداللہ عرفان کی کامل مغفرت فرمائے، اس کی قبر پر رحمتیں نازل فرمائے اور طلبائے علمِ دین کو اس جیسا شوق وذوقِ علم نصیب فرمائے، آمین یارب العالمین!


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں