آج : 19 January , 2019

مغربی تہذیب ثقافت اور مسلمان خواتین

مغربی تہذیب ثقافت اور مسلمان خواتین

کیا کبھی آپ کسی معروف ڈپارٹمینٹل اسٹور گئے ہیں؟ پوری توجہ اور انہماک کے ساتھ اپنی اشیا ضرورت کی خریداری میں مصروف ہوں، ایسے میں کسی بنت حوا کی آواز سوچ و فکر کا دائرہ اپنی طرف مبذول کراتی ہے۔ متعلقہ کمپنی کی مصنوعات کی خوبیوں، فوائد اور ثمرات کی تسبیح میں گنواتی زبان لمحہ بھر کے لئے آپ کو ذہنی و قلبی تذبذب سے دوچار کردیتی ہے، کشش صوت سے لے کر ہیئت لباس تک کا وصف اور ڈھنگ ابلیسی تیر بن کر آپ کی ایمانی و روحانی نظر و فکر کے قالب کو زخمی کرتا نظر آئے گا۔
قارئین! یہ رونا اور یہ دکھڑا کسی خاص مقام، مکان اور جگہ کا نہیں ہے۔ شامت اعمال کی یہ مشاہداتی تصویریں مسلم معاشرے میں ہر نشیب و فراز اور قدم قدم پر دیکھنے کو ملتی ہیں۔ جاہلیت قدیمہ اور جاہلیت جدیدہ صنف نازک کی تذلیل، تحقیر اور عدم توقیر کے حوالہ سے سر مو کوئی فرق و امتیاز نہیں رکھتیں۔ حوا کی بیٹی ماضی قدیم میں یونانیوں کے ہاں برائیوں کا منبع، عرب کے ہاں ذلت و رسوائی کی علامت اور اہل کلیسا کے ہاں لونڈیوں سے بدتر حیثیت کی حامل گردانی جاتی تھی۔ حد تو یہ ہے کہ نصرانیت باوجود ایک مذہب سماوی کا دعویدار ہونے کے تحریف و تبدل کی رنگ آمیزی سے اس قدر کھوکھلا ہوچکا تھا کہ، عورتوں کے لئے کلام مقدس کو چھونا اور گرجے میں داخلہ تک ممنوع قرار دیا جاچکا تھا۔ اس کے برخلاف اسلام نے ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی صورت میں عورت کے حقوق بیان اور بحال کیے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک تعلیمات تو صنف اناث کو آبگینوں کی مانند نازک بتلاتی اور ان کی حفاظت کا حکم دیتی ہیں۔ فی زمانہ حقوق نسواں کی بحالی اور تحفظ کے نام پر ٹڈی دل مغرب زدہ این جی اوز کا وجود نامسعود مسلمان خواتین کو دین سے برگشتہ خاطر کرنے کے لئے کیا کیا طریقے اور حربے اپنا رہا ہے؟ آیئے! ایک اچٹتی نظر اس کھلی حقیقت پر ڈالتے ہیں:
(۱) معاشرے کے مستحکم اور فیصلہ کن اہمیت و حیثیت رکھنے والے افراد کار سے ربط و ضبط بڑھانا تا کہ راستے کی رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔
(۲) اشتہارات کی تشہیر اور لٹریچر کی اشاعت کے ذریعہ رائے عامہ کی ہمواری۔
(۳) باقاعدہ اور منظم طریقہ کار کے تحت عدالتوں میں عورتوں کے لئے جنسی فیصلوں کی آزادی کے عنوان سے من پسند شادی کرنے والے جوڑوں کے مقدمات عدالت میں ہیں تا کہ بین الاقوامی سطح پر اس طرز عمل کی زیادہ سے زیادہ پذیرائی ہوسکے۔
(۴) جنسی بے راہ روی کو ہوا دینے کے لئے مخلوط تعلیمی اداروں کے قیام کی بھرپور حوصلہ افزائی۔
(۵) دفاتر، فیکٹریوں اور کارخانوں میں مرد و عورت کے اختلاطی ماحول کی نشو و نما۔
نوبت بایں جا رسید کہ بعض مسلم ممالک میں مخلوط ماحول پیدا کرنے کے لیے ایجوکیشن، انجینئرنگ، اکاؤنٹس اور دیگر دفتری امور کے لئے خواتین کیڈٹس کی بھرتی جاری و ساری ہے۔
(۶) ذرائع ابلاغ کے ذریعہ مخلوط محفلوں کی خبریں، کہانیاں اور رپورتاژ منظر عام پر لائی جارہی ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا سے پیش کیے جانے والے پروگراموں میں جنسی آزادی اور خاندانی منصوبہ بندی کے مقاصد کو خصوصی طور پر اجا گر اور نمایاں کیا جارہا ہے۔ اس صورت حال پر حفیظ جالندھری کے اشعار جاندار اور خوبصورت تجزیہ و تبصرہ معلوم ہوتے ہیں:
اب مسلمانوں میں بھی نکلے ہیں کچھ روشن خیال
جن کی نظروں میں حجاب صنف نازک ہے وبال

چاہتے ہیں بیٹیوں، بہنوں کو عریاں دیکھنا
محفلیں آباد لیکن گھر کو ویراں دیکھنا
یہ بات اب طشت از بام ہوچکی ہے کہ ان این جی اوز کے پشت پناہ اقوام متحدہ، امریکہ اور صہیونی گماشتے ہیں، جن کا مطمح نظر اور مقصد حیات ہی اسلام کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھانا ہے۔ تسلیم کہ معاش بعض مخصوص حالات و کیفیات میں کچھ خواتین کی اقتصادی مجبوری ہے لیکن اس کیلئے حدود شرع کو پامال کرنا، اسلامی تعلیمات کا سرعام عملی استہزا کرنا اور مشرقی روایات و اقدار کو پس پشت ڈالنا کہاں کی دانشمندی، روشن خیالی اور تہذیب یافتہ ہونے کی علامت و نشانی ہے؟ اسلام دین فطرت ہے۔ اس کی روشن، واضح اور غیرمبہم تعلیمات ہر دور و زمانہ میں چھوٹے سے لے کر بڑے تک، عورت سے لے کر مرد تک، بچہ سے لے کر بوڑے تک، جاہل سے لے کر عالم تک، فقیر سے لے کر غنی تک غرض ہر ایک کے لئے یکساں قابل قبول و عمل تھیں، ہیں اور رہیں گی۔ کمی اور نقص انسان کی کمزوری اور خامی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے مسلمان خواتین اپنی متاع عفت و ایمان کی حفاظت، اہمیت اور ضرورت کو اسلام کی آفاقی تعلیمات کی روشنی میں جاننے، سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی سعی بلیغ کریں۔ سردست صاحب ایمان خاتون کا لباس اسلام کی نگاہ میں کیا اہمیت و حیثیت رکھتا ہے؟ اس سوال کا جواب دین مبین کی تعلیم کردہ ہدایات کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔
ؐ* حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ تعالی ان عورتوں پر رحم فرمائے جنھوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں (مکہ سے مدینہ) ہجرت کی۔ جب اللہ پاک نے ’’ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ‘‘ کا حکم نازل فرمایا تو انھوں نے اپنی موٹی چادروں کو کاٹ کر دو پٹے بنالیئے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں مشرک عورتیں سر پر دوپٹہ باندھ کر کے بقیہ حصہ کمر پر ڈال دیا کرتی تھیں۔ اس کے برعکس مسلمان عورتوں کو حکم ہوا کہ سر سمیت سینہ اور گلے پر بھی دوپٹہ ڈالیں۔ یہ حکم سن کر صحابیات نے موٹی چادروں کو کاٹ کر اپنے دوپٹے بنالئے، کیونکہ باریک کپڑے سے سر اور بدن کا پردہ نہ ہوسکتا تھا۔ تحفہ خواتین میں مولانا عاشق الہی رحمہ اللہ حدیث مذکور کے ذیل میں رقمطراز ہیں: آج کل کی عورتیں سر چھپانے کو عیب سمجھتی ہیں اور دوپٹہ اوڑھتی بھی ہیں تو اس قدر باریک ہوتا ہے کہ سر کے بال اور مواقع حسن و جمال اس سے پوشیدہ نہیں ہوتے، دوسرے اس قسم کا دوپٹہ بناتی ہیں کہ سر پر ٹھہرتا ہی نہیں چکناہٹ کی وجہ سے بار بار سرکتا ہے اور پردہ کے مقصد کو فوت کردیتا ہے۔
* حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک ایسے مرد پر لعنت فرماتے ہیں جو عورت کا لباس پہنے اور ایسی عورت بھی اللہ تعالی کی لعنت کی سزاوار ٹھہرتی ہے جو مرد کا پہناوا زیب تک کرے۔ اس حدیث مبارک کی روشنی میں اپنے گرد و پیش پر نظر ڈالیے! فیشن پرستی کا ماحول، موسم اور فضا اباحیت پسندی، جنسی بے راہ روی، فحاشی و عریانی اور مادیت کی یورش ہر سو بپا کئے ہوئے ہے۔ نادانی خودفریبی اور نفس پرستی کا شکار مسلمان غیروں کی نقالی میں اس قدر منہمک ہوچکا ہے کہ مرد و زن کے ہیئت لباس، نوعیت کار اور پیدائشی فرق تک کو ختم کردینے پہ تلا ہوا ہے۔
* حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی دوسری روایت میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اہل جہنم کے دو طبقے ایسے ہیں جن کو میں نے نہیں دیکھا۔ ان دو گروہوں میں سے ایک تو وہ قوم ہوگی جن کے پاس کوڑے ہونگے گائے کی دم کی طرح اور اس سے وہ لوگوں کو (ناحق) مارینگے۔ دوسرا طبقہ ان عورتوں کا ہے جو بظاہر کپڑے پہنے ہوں گی لیکن پھر بھی ننگی ہوں گی، مردوں کو اپنی طرف مائل کرنے والی اور خود ان کی جانب میلان رکھنے والی ہوں گی۔ ان کے سر خوب بڑے بڑے اونٹوں کے کوہان کی طرح ہوں گے۔ وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پاسکیں گی۔ حالانکہ اس کی خوشبو اتنی اتنی دور سے آرہی ہوگی۔ کتنی سخت و عید ہے ان دختران ملت کے واسطے جو اسلامی معاشرت اور اوضاع و اطوار سے صرف نظر کر کے جدت پسندی اور باطل رسول و رواج کو اپنی کامیابی کی کلید اور ترقی کا زینہ سمجھ بیٹھی ہیں۔ کیا آج مغرب کی مادہ پرستی نے عورت کو زمانہ جاہلیت کی طرح عزت کی اوج ثریا سے خاک ذلت پر نہیں دے مارا؟ کیا آج امت مسلمہ کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں مغربی استعمار کے دام تزویر کا شکار نہیں؟ فیصلہ آپ پر ہے!! فطرت سے بغاوت کے نتیجے میں خود اس یورپ کی معاشرتی ٹوٹ پھوٹ اور خانگی زندگی کی زبوں حالی کیا صورت و شکل اختیار کرچکی ہے؟ اس ضمن میں سوویت یونین کے آخری صدر میخائل گورباچوف کا یہ اعتراف جرم سند کے طور پر پیش کرنے کیلئے کافی ہے، جس میں انھوں نے کہا: ہم نے عورتوں کو گھر سے نکال کر بہت بڑی غلطی کی ہے۔ اس سے اگرچہ ہماری مصنوعات بڑھ گئیں لیکن ہم معاشرتی ابتری کا شکار ہوگئے ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں