آج : 10 January , 2019

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بچپن ہی سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص انس اور خلوص تھا اور آپ ﷺ کے حلقہ احباب میں داخل تھے، اکثر تجارت کے سفروں میں بھی ہمراہی کا شرف حاصل ہوتا تھا۔
نزول وحی سے ایک سال پہلے سے حضرت ابوبکرؓ حضرت سرور عالمﷺ کی خدمت میں آتے جاتے تھے، آغاز وحی کے زمانہ میں بسلسلہ تجارت یمن گئے ہوئے تھے، جب واپس آئے تو قریش کے سردار ابوجہل، عتبہ، شیبہ و غیرہ ملنے گئے، اثناء گفتگو میں حضرت ابوبکرؓ نے تازہ خبر دریافت کی، تو کہا: ’’سب سے بڑی خبر اور بڑی بات یہ ہے کہ ابوطالب کا یتیم بھتیجہ مدعی نبوت بنا ہے، اس کے انسداد کے متعلق ہم تمہارے آنے کے منتظر تھے‘‘، یہ سن کر حضرت ابوبکرؓ کے دل میں اشتیاق پیدا ہوا اور اعیان قریش کو خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کر کے خدمت مبارک میں حاضر ہوئے، بعثت کے متعلق سوال کیا اور اسی جلسہ میں قبول اسلام سے مشرف ہوئے، حضرت سرور عالمﷺ نے فرمایا کہ ’’میں نے جس شخص کے سامنے اسلام پیش کیا اس میں ایک قسم کی جھجک اور تردد و فکر ضرور پائی، مگر ابوبکرؓ کہ جس وقت میں نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا انھوں نے بے جھجک قبول کرلیا‘‘۔
حضرت ابوبکرؓ کا آئینہ دل پہلے سے صاف تھا، فقط خورشید حقیقت کی عکس افگنی کی دیر تھی، اور گزشتہ صحبتوں کے تجربوں نے نبوت کے خط و خال کو اس طرح واضح کردیا تھا کہ معرفت حق کے لیے کوئی انتظار باقی نہ رہا، البتہ ان کے اول مسلمان ہونے میں بعض مورخین اور اہل آثار نے کلام کیا ہے، بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اسلام سب سے مقدم ہے، بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اولیت کا فخر حاصل ہے اور بعض کا خیال ہے کہ حضرت زید بن حارثہؓ بھی حضرت ابوبکرؓ سے پہلے مسلمان ہوچکے تھے، لیکن اس کے مقابلہ میں ایسے اخبار و آثار بھی بکثرت موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اولیت کا طغرائے امتیاز صرف اسی ذات گرامی کے لیے مخصوص ہے، محققین نے ان مختلف احادیث و آثار میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا عورتوں میں، حضرت علیؓ بچوں میں، حضرت زید بن حارثہؓ غلاموں میں اور حضرت ابوبکر صدیقؓ آزاد اور بالغ مردوں میں سب سے اول مومن ہیں۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مسلمان ہونے کے ساتھ ہی دین حنیف کی نشر و اشاعت کے لیے جد و جہد شروع کردی اور صرف آپ کی دعوت پر حضرت عثمان بن عفانؓ، حضرت زبیرالعوامؓ، حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ ، حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ، جو معدن اسلام کے سب سے تابان و درخشاں جواہر ہیں مشرف بہ اسلام ہوئے، حضرت عثمان بن مظعونؓ، حضرت ابوعبیدہؓ، حضرت ابوسلمہؓ اور حضرت خالد بن سعید بن العاصؓ بھی آپ ہی کی ہدایت سے دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے۔
آنحضرت ﷺ نے بعثت کے بعد کفار کی ایذاء رسانی کے باوجود تیرہ برس تک مکہ میں تبلیغ و دعوت کا سلسلہ جاری رکھا، حضرت ابوبکرؓ اس بے بسی کی زندگی میں جان، مال، رائے و مشورہ غرض ہر حیثیت سے آپﷺ کے دست و بازو اور رنج و راحت میں شریک رہے۔
مکہ میں ابتداء جن لوگوں نے داعی توحید کو لبیک کہا ان میں کثیر تعداد غلاموں اور لونڈیوں کی تھی جو اپنے مشرک آقاؤں کے پنجہ ظلم و ستم میں گرفتار ہونے کے باعث طرح طرح کی اذیتوں میں مبتلا تھے، حضرت ابوبکرؓ نے ان مظلوم بندگان توحید کو ان کے جفا کار مالکوں سے خرید کر آزاد کردیا، چنانچہ حضرت بلالؓ، عامر بن فہیرہؓ، نذیرہؓ، نہدیہؓ، جاریہؓ و غیرہ نے اسی صدیقی جود و کرم کے ذریعہ سے نجات پائی۔
کفار جب کبھی آنحضرت ﷺ پر دست تعدی دراز کرتے تو یہ مخلص جانثار خطرہ میں پڑ کر خود سینہ سپر ہوجاتا، ایک دفعہ آپ ﷺ خانہ کعبہ میں تقریر فرما رہے تھے مشرکین اس تقریر سے سخت برہم ہوئے اور قدر مارا کہ آپﷺ بے ہوش ہوگئے، حضرت ابوبکرؓ نے بڑھ کر کہا: ’’خدا تم سے سمجھے، کیا تم صرف ان کو اس لیے قتل کردوگے کہ ایک خدا کا نام لیتے ہیں‘‘، یہ مداخلت مشرکوں کو سخت ناگوار ہوئی اور سب کے سب ان پر جھپٹ پڑے اتنا مارا کہ سرپھٹ گیا اور خون بہنے لگا، عزیزوں نے آکر بچایا، حضرت صدیقؓ پٹتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے تبارکت یا ذالجلال و الاکرام‘‘، حضرت عائشہؓ کا قول ہے کہ ’’اس واردات کے بعد جب حضرت ابوبکرؓ گھر پہنچے ہیں تو یہ حال تھا کہ سر پر جس جگہ ہاتھ لگتاو ہیں سے بال الگ ہوجاتے‘‘۔
اسی طرح ایک روز آنحضرت ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ اسی حالت میں عقبہ بن معیط نے اپنی چادر سے گلوئے مبارک میں پھندا ڈال دیا، اس وقت اتفاقاً حضرت ابوبکرؓ پہنچ گئے اور اس ناہنجار کی گردن پکڑ کر خیر الانام ﷺ سے علاحدہ کیا اور فرمایا: ’’کیا تم اس کو قتل کروگے جو تمہارے پاس خدا کی نشانیاں لایا اور کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے‘‘۔
ایک دن حضرت ابوبکرؓ ایک مجمع میں تبلیغ کی نیت سے کھڑے ہوئے اور اللہ اور اس کے رسول کی دعوت دینی شروع کی، تو مشرکین غیظ و غضب کے عالم میں ان پر ٹوٹ پڑے اور ان کو بہت زیادہ زد و کوب کیا، عتبہ بن ربیعہ دوپھٹے پرانے جوتوں سے ان کے چہرہ کو اس طرح مارتا رہا کہ بعد میں ان کے چہرہ کے خد و خال پہچانے نہ جاتے تھے، بنو تمیم آپ کو اس حالت میں اٹھا کر لے گئے کہ ان کو ان کی موت میں کوئی شبہ نہ تھا، دن ڈھلے آپ کو ہوش آیا اور پہلا لفظ جو آپ کی زبان سے نکلا وہ یہ تھا کہ ’’بتاؤ رسول اللہ ﷺخیریت سے ہیں‘‘؟ انھوں نے اس پر ان کو برا بھلا کہا، اس وقت ام جمیل جو اسلام لاچکی تھیں ان سے قریب ہوئیں تو انھوں نے ان سے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں دریافت کیا، انھوں نے کہا: ’’آپ کی والدہ قریب کھڑی ہیں سن لیں گی‘‘، انھوں نے کہا کہ’’ ان کے سامنے کوئی حرج نہیں‘‘، ام جمیل نے بتایا کہ ’’آپ ﷺ بخیر اور صحیح و سالم ہیں‘‘، انہوں نے کہا: ’’میری اللہ سے نذر ہے کہ میں اس وقت تک نہ کچھ کھاؤں گا نہ پیوں گا جب تک رسول اللہ ﷺ کی خدمت بابرکت میں حاضر نہ ہوجاؤں‘‘، لیکن وہ دونوں رک گئیں، جب لوگوں کی آمد و رفت بند ہوئی اور سناٹا ہوا، تو وہ دونوں حضرت ابوبکرؓ کو سہارا دے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لائیں ان کی یہ حالت دیکھ کر حضورﷺ پر بہت اثر پڑا آپﷺ نے ان کی والدہ کے لیے دعا کی اور ان کو اسلام لانے پر آمادہ کیا تو وہ اسی وقت مسلمان ہوگئی۔
جس وقت حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ حضرت ابوبکرؓ کی تبلیغ سے حلقہ بگوش اسلام ہوئے تو حضرت طلحہؓ کے چچا نوفل بن خویلد نے ان دونوں کو ایک ساتھ باندھ کر مارا اور حضرت ابوبکرؓ کے خاندان نے کچھ حمایت نہ کی، ان اذیتوں سے مجبور ہو کر آپ نے آنحضرتﷺ سے اجازت لی اور رخت سفر باندھ کر عازم حبش ہوئے، جب آپ مقام برک الغماد میں پہنچے تو ابن الدغنہ رئیس قارہ سے ملاقات ہوئی، اس نے پوچھا: ’’ابوبکرؓ کہاں کا قصد ہے‘‘؟ آپ نے فرمایا کہ ’’قوم نے مجھے جلاو طن کردیا ہے، اب ارادہ ہے کہ کسی اور ملک میں چلا جاؤں اور آزادی سے خدا کی عبادت کروں‘‘، ابن الدغنہ نے کہا: ’’تم سا آدمی جلاوطن نہیں کیا جاسکتا، تم مفلس و بے نوا کی دست گیری کرتے ہو، قرابت داروں کا خیال رکھتے ہو، مہمان نوازی کرتے ہو، مصیبت زدوں کی اعانت کرتے ہو، میرے ساتھ واپس چلو اور اپنے وطن ہی میں اپنے خدا کی عبادت کرو‘‘، چنانچہ آپ ابن الدغنہ کے ساتھ پھر مکہ واپس آئے، ابن الدغنہ نے قریش میں پھر کر اعلان کردیا کہ ’’آج سے ابوبکرؓ میری امان میں ہیں‘‘۔ قریش نے ابن الدغنہ کی امان کو تسلیم کیا اور کہا کہ ’’ابوبکرؓ سے کہہ دو کہ اپنے رب کی عبادت گھر کے اندر کریں، علانیہ نہ عبادت کریں نہ تلاوت کریں، ورنہ ہم کو خوف ہے کہ ہماری عورتیں اور ہمارے نوجوان مبتلائے فساد ہوجائیں گے۔
عرصہ تک حضرت ابوبکرؓ نے اس کی پابندی کی آخر کار شوقِ دل نے مجبور کیا اور گھر کے باہر میدان میں ایک مسجد بنا کر نماز و تلاوت میں مصروف رہنے لگے، حضرت ابوبکرؓ بے حد رقیق القلب تھے، تلاوتِ کلام مجید کے وقت زار زار روتے، یہ عالم دیکھ کر قریش کی عورتوں اور نوجوانوں کا ہجوم ہوجاتا اور محو حیرت ہوکر پروانہ وار ایک دوسرے پر گرتے، اشراف قریش یہ حالت دیکھ کر گھبرا اٹھے اور ابن الدغنہ کو بلا کر کہا کہ ’’ابوبکرؓ شرائط امن پر قائم نہیں رہے، باہر مسجد میں بالاعلان نماز و قرآن پڑھتے ہیں، ہم کو اپنی عورتیں اور نوجوانوں کے گمراہ ہوجانے کا سخت اندیشہ ہے، ان کو روکو ورنہ اپنی پناہ واپس لو، ہم تم سے بدعہدی نہیں کرنا چاہتے‘‘، اسی کے ساتھ ابوبکرؓ کو علانیہ نماز و قرآن پڑھنے کی اجازت بھی نہیں دے سکتے، ابن الدغنہ نے آکر ابوبکرؓ سے یہ ماجرا کہا تو انھوں نے جواب دیا: ’’تمہاری پناہ تم کو مبارک، میں اللہ کی پناہ سے خوش ہوں‘‘۔

 

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا قبول اسلام، ص۳۶۔۴۰
مرتب: عبدالعلیم ندوی


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں