آج : 5 January , 2019
توضیح القرآن

آسان ترجمہ قرآن (سورۃ الانعام ۳۱۔41)

آسان ترجمہ قرآن (سورۃ الانعام ۳۱۔41)

قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِلِقَاءِ اللَّـهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَاءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوا يَا حَسْرَتَنَا عَلَىٰ مَا فَرَّطْنَا فِيهَا وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ عَلَىٰ ظُهُورِهِمْ ۚ أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُونَ ﴿٣١﴾ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَعِبٌ وَلَهْوٌ ۖ وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ﴿٣٢﴾ قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُ لَيَحْزُنُكَ الَّذِي يَقُولُونَ ۖ فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَـٰكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللَّـهِ يَجْحَدُونَ ﴿٣٣﴾ وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُوا عَلَىٰ مَا كُذِّبُوا وَأُوذُوا حَتَّىٰ أَتَاهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللَّـهِ ۚ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِن نَّبَإِ الْمُرْسَلِينَ ﴿٣٤﴾ وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الْأَرْضِ أَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاءِ فَتَأْتِيَهُم بِآيَةٍ ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَىٰ ۚ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْجَاهِلِينَ ﴿٣٥﴾ إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ ۘ وَالْمَوْتَىٰ يَبْعَثُهُمُ اللَّـهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ ﴿٣٦﴾ وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّن رَّبِّهِ ۚ قُلْ إِنَّ اللَّـهَ قَادِرٌ عَلَىٰ أَن يُنَزِّلَ آيَةً وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٣٧﴾ وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم ۚ مَّا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِن شَيْءٍ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ ﴿٣٨﴾ وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا صُمٌّ وَبُكْمٌ فِي الظُّلُمَاتِ ۗ مَن يَشَإِ اللَّـهُ يُضْلِلْـهُ وَمَن يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿٣٩﴾ قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّـهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللَّـهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿٤٠﴾ بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِن شَاءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ ﴿٤١﴾

 

ترجمہ:

حقیقت یہ ہے کہ بڑے خسارے میں ہیں وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے جاملنے کو جھٹلایا ہے! یہاں تک کہ جب قیامت اچانہ ان کے سامنے آکھڑی ہوگی تو وہ کہیں گے: ’’ہائے افسوس! کہ ہم نے اس (قیامت) کے بارے میں بڑی کوتاہی کی‘‘۔ اور وہ (اس وقت) اپنی پیٹھوں پر اپنے گناہوں کا بوجھ لادے ہوئے ہوں گے۔ (لہذا) خبردار ہو کہ بہت بُرا بوجھ ہے جو یہ لوگ اُٹھا رہے ہیں۔[۳۱]
اور دنیوی زندگی تو ایک کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں(۱)، اور یقین جانو کہ جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں، ان کے لئے آخرت والا گھر کہیں زیادہ بہتر ہے۔ تو کیا اتنی سی بات تمہاری عقل میں نہیں آتی؟[۳۲]
(اے رسول! ) ہمیں خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے، کیونکہ دراصل یہ تمہیں نہیں جھٹلاتے، بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں(۲)۔ [۳۳]
اور حقیقت یہ ہے کہ تم سے پہلے بہت سے رسولوں کو جھٹلایا گیا ہے۔ پھر جس طرح انہیں جھٹلایا گیا اور تکلیفیں دی گئیں، اس سب پر انہوں نے صبر کیا، یہاں تک کہ ہماری مدد ان کو پہنچ گئی۔ اور کوئی نہیں ہے جو اللہ کی باتوں کو بدل سکے۔ اور (پچھلے) رسولوں کے کچھ واقعات آپ تک پہنچ ہی چکے ہیں۔ [۳۴]
اور اگر ان لوگوں کا منہ موڑے رہنا تمہیں بہت بھاری معلوم ہو رہا ہے تو اگر تم زمین کے اندر (جانے کے لئے) کوئی سرنگ یا آسمان میں (چڑھنے کے لئے ) کوئی سیڑھی ڈھونڈ سکتے ہو، تو ان کے پاس (ان کا منہ مانگا یہ) معجزہ لے آؤ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا۔ لہذا تم نادانوں میں ہرگز شامل نہ ہونا(۳)۔[۳۵]
بات تو وہی لوگ مان سکتے ہیں جو (حق کے طالب بن کر) سنیں۔ جہاں تک ان مُردوں کا تعلق ہے، ان کو تو اللہ ہی قبروں سے اٹھائے گا، پھر یہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔[۳۶]
یہ لوگ کہتے ہیں کہ( اگر یہ نبی ہیں تو) ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اُتاری گئی؟ تم (ان سے) کہو کہ اللہ بیشک اس بات پر قادر ہے کہ کوئی نشانی نازل کردے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ (اس کا انجام) نہیں جانتے(۴)۔ [۳۷]
اور زمین میں جتنے جانور چلتے ہیں، اور جتنے پرندے اپنے پروں سے اُڑتے ہیں، وہ سب مخلوقات کی تم جیسی ہی اصناف ہیں۔ ہم نے کتاب (یعنی لوحِ محفوظ) میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ پھر ان سب کو جمع کرکے ان کے پروردگار کی طرف لے جایا جائے گا(۵)۔ [۳۸]
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے وہ اندھیروں میں بھٹکتے بھٹکتے بہرے اور گونگے ہوچکے ہیں(۶) اللہ جسے چاہتا ہے، (اس کو ہٹ دھرمی کی وجہ سے) گمراہی میں ڈال دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے، سیدھی راہ پر لگادیتا ہے۔[۳۹]
(ان کافروں) سے کہو: ’’اگر تم سچے ہوتو ذرا یہ بتاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آجائے، یا تم پر قیامت ٹوٹ پڑے تو کیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے؟ بلکہ اُسی کو پکارو گے، پھر جس پریشانی کے لئے تم نے اُسے پکارا ہے، اگر وہ چاہے گا تو اُسے دور کردے گا، اور جن (دیوتاؤں) کو تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو (اُس وقت) ان کو بھوک جاؤگے(۷) [۴۰۔۴۱]‘‘

حواشی
(۱) یہ بات کافروں کے اس بیان کے جواب میں کہی گئی ہے جو آیت نمبر ۲۹ میں اوپر گذرا ہے کہ: ’’جو کچھ ہے بس یہی دنیوی زندگی ہے‘‘ جواب میں فرمایا گیا ہے کہ آخرت کی ابدی زندگی کے مقابلے میں چند روز کی دُنیوی زندگی، جسے تم سب کچھ سمجھ رہے ہو، کھیل تماشے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی۔ اور جو لوگ اللہ تعالی کے احکام کی پروا کئے بغیر دُنیا میں زندگی گذارتے ہیں تو جس عیش و آرام کو وہ اپنا مقصدِ زندگی بناتے ہیں، آخرت میں جا کر ان کو پتہ لگ جائے گا کہ اس کی حیثیت کھیل تماشے کی سی تھی۔ ہاں! جو لوگ دنیا کو آخرت کی کھیتی بنا کر زندگی گذارتے ہیں، ان کے لئے دنیوی زندگی بھی بڑی نعمت ہے۔
(۲) یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو صرف اپنی ذات کے جھٹلانے سے اتنا زیادہ رنج نہ ہوتا، لیکن زیادہ رنج کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالی کی آیتوں کو جھٹلاتے ہیں۔ آیت کے یہ معنی الفاظ قرآن کے بھی زیادہ مطابق ہیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج سے بھی زیادہ مطابقت رکھتے ہیں۔ واللہ سبحانہ اعلم۔
(۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے بہت سے معجزات عطا فرمائے تھے، جن میں سب سے بڑا معجزہ خود قرآن کریم تھا، کیونکہ آپ کے اُمی ہونے کے باوجود یہ فصیح و بلیغ کلام آپ پر نازل ہوا جس کے آگے بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں نے گھٹنے ٹیک دیئے، اور کسی نے وہ چیلنج قبول نہ کیا جو سورۂ بقرہ (۲:۲۳) و غیرہ میں دیا گیا تھا۔ اسی کی طرف سورۂ عنکبوت (۲۹:۵۱) میں اشارہ فرمایا گیا ہے کہ تنہا یہی معجزہ ایک حق کے طلب گار کے لئے کافی ہونا چاہئے تھا۔ لیکن کفار مکہ اپنی ضد اور عناد کی وجہ سے ہر روز نت نئے معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے۔ اس سلسلے میں جس قسم کے بیہودہ مطالبات وہ کرتے تھے، ان کی ایک فہرست قرآن کریم نے سورۂ بنی اسرائیل (۱۷: ۸۹۔۹۳) میں بھی بیان فرمائی ہے۔ اس پر کبھی کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ خیال ہوتا تھا کہ اگر ان کے فرمائشی معجزات میں سے کوئی معجزہ دکھا دیا جائے تو شاید یہ لوگ ایمان لاکر جہنم سے بچ جائیں۔ اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مشفقانہ خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ در حقیقت ان کے یہ مطالبات محض ہٹ دھرمی پر مبنی ہیں، اور جیسا کہ پیچھے آیت نمبر ۲۵ میں کہا گیا ہے، یہ اگر ساری نشانیاں دیکھ لیں گے تب بھی ایمان نہیں لائیں گے، اس لئے ان کے مطالبات کو پورا کرنا نہ صرف بیکار ہے، بلکہ اللہ تعالی کی اس حکمت کے خلاف ہے جس کی طرف اشارہ آگے آیت نمبر ۳۷ میں آرہا ہے۔ ہاں اگر آپ خود ان کے مطالبات پورے کرنے کے لئے ان کے کہنے کے مطابق زمین کے اندر جانے کے لئے کوئی سرنگ بنا سکیں یا آسمان پر چڑھنے کے لئے کوئی سیڑھی ایجاد کرسکیں تو یہ بھی کر دیکھیں۔ اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالی کے حکم کے بغیر آپ ایسا نہیں کرسکتے۔ اس لئے یہ فکر چھوڑ دیجئے کہ ان کے منہ مانگے معجزات انہیں دِکھائے جائیں۔ پھر اللہ تعالی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ تعالی اگر چاہتا تو سارے انسانوں کو زبردستی ایک ہی دین کا پابند بنادیا، لیکن درحقیقت انسان کو دنیا میں بھیجنے کا بنیادی مقصد امتحان ہے، اور اس امتحان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان زور زبردستی سے نہیں، بلکہ خود اپنی سمجھ سے کام لے کر ان دلائل پر غور کرے جو پوری کائنات میں بکھرے پڑے ہیں، اور پھر اپنی مرضی سے توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان لائے۔ انبیائے کرام لوگوں کی فرمائش پر نت نئے کرشمے دِکھانے کے لئے نہیں، ان دلائل کی طرف متوجہ کرنے کے لئے بھیجے جاتے ہیں، اور آسمانی کتابیں اس امتحان کو آسان کرنے کے لئے نازل کی جاتی ہیں، مگر ان سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جن کے دل میں حق کی طلب ہو۔ اور جو لوگ اپنی ضد پر اَڑے رہنے کی قسم کھا چکے ہوں، ان کے لئے نہ کوئی بڑی سے بڑی دلیل کارآمد ہوسکتی ہے، نہ کوئی بڑے سے بڑا معجزہ ۔
(۴)اس آیت میں فرمائشی معجزات نہ دکھانے کی ایک اور وجہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی کی سنت یہ رہی ہے کہ پچھلی قوموں کو جب کبھی ان کا مانگا ہوا معجزہ دکھایا گیا ہے تو ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی کردی گئی ہے کہ اگر اس کے باوجود وہ ایمان نہ لائے تو انہیں اس دنیا ہی میں ہلاک کردیا جائے گا، چنانچہ کئی قومیں اسی طرح ہلاک ہوئیں۔ چونکہ اللہ تعالی کے علم میں ہے کہ کفارِ مکہ میں سے اکثر لوگ ہٹ دھرم ہیں، اور وہ فرمائشی معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے، اس لئے اللہ تعالی کی سنت کے مطابق وہ ہلاک ہوں گے۔ اور اللہ تعالی کو ابھی یہ منظور نہیں ہے کہ انہیں عذاب عام کے ذریعے ہلاک کیا جائے۔ لہذا جو لوگ فرمائشی معجزات کا مطالبہ کررہے ہیں وہ اس کے انجام سے ناواقف ہیں۔ ہاں جن لوگوں کو ایمان لانا ہے، وہ مطلوبہ معجزات کے بغیر دوسرے دلائل اور معجزات دیکھ کر خود ایمان لے آئیں گے۔
(۵) اس آیت نے یہ بتایا ہے کہ مرنے کے بعد دوسری زندگی صرف انسانوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے، بلکہ تمام جانوروں کو بھی قیامت کے بعد حشر کے دن زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ ’’تم جیسی ہی اصناف ہیں‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح تمہیں دوسری زندگی دی جائے گی، اسی طرح ان کو بھی دوسری زندگی ملے گی۔ ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے کہ جانوروں نے دنیا میں ایک دوسرے پر جو ظلم کئے ہوں گے، میدان حشر میں مظلوم جانور کو حق دیا جائے گا کہ وہ ظالم سے بدلہ لے۔ اس کے بعد چونکہ وہ حقوق اللہ کے مکلف نہیں ہیں، اس لئے ان پر دوبارہ موت طاری کردی جائے گی۔ یہاں اس حقیقت کو بیان فرمانے کا مقصد بظاہر یہ ہے کہ کفار عرب مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو ناممکن قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ سارے کے سارے انسان جو مر کر مٹی ہوچکے ہوں گے ان کو دوبارہ کیسے جمع کیا جاسکتا ہے؟ اللہ تعالی نے یہاں یہ فرمایا ہے کہ صرف انسانوں ہی کو نہیں، جانوروں کو بھی زندہ کیا جائے گا، حالانکہ جانوروں کی تعداد انسانوں سے کہیں زیادہ ہے۔ رہا یہ معاملہ کہ دنیا کی ابتدا سے انتہا تک کے بے شمار انسانوں اور جانوروں کے گلے سڑے اجزاء کا کیسے پتہ لگایا جائے گا؟ تو اس کا جواب اگلے جملے میں یہ دیا گیا ہے لوحِ محفوظ میں ہر بات درج ہے، اور یہ ایسا ریکارڈ ہے جس میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ہے، لہذا نہ انسانوں کو جمع کرنا اللہ تعالی کے لئے کچھ مشکل ہے، نہ جانوروں کا۔
(۶) یعنی اپنے اختیار سے گمراہی کو اپنا کر انہوں نے حق سننے اور کہنے کی صلاحیت ہی ختم کرلی ہے۔ یاد رہے کہ یہ ترجمہ ’’فی الظلمت‘‘ کو ’’صم و بکم‘‘ سے حال قرار دینے پر مبنی ہے جسے علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے راجح قرار دیا ہے۔
(۷) عرب کے مشرکین یہ مانتے تھے کہ اس کائنات کو اللہ تعالی نے پیدا کیا ہے، لیکن ساتھ ہی ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اس کی خدائی میں دوسرے بہت سے دیوتا اس طرح شریک ہیں کہ خدائی کے بہت سے اختیارات ان کو حاصل ہیں۔ اب ہوتا یہ تھا کہ وہ ان دیوتاؤں کو خوش رکھنے کی نیت سے ان کی پرستش کرتے رہتے تھے، مگر جب کوئی ناگہانی آفت پڑتی تھی، مثلاً سمندر میں سفر کرتے ہوئے پہاڑ جیسی موجوں میں گھر جاتے تھے تو اپنے گھڑے ہوئے دیوتاؤں کے بجائے اللہ تعالی ہی کو پکارتے تھے۔ یہاں ان کی اس عادت کے حوالے سے یہ سوال کیا جارہا ہے کہ جب دنیا کی ان مصیبتوں میں تم اللہ تعالی ہی کو پکارتے ہو تو اگر کوئی بڑا عذاب آجائے، یا قیامت ہی آکھڑی ہو تو یقیناًاللہ تعالی ہی کو پکارو گے۔

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں