آج : 23 December , 2018

چین میں اویغور مسلمانوں کا استحصال

چین میں اویغور مسلمانوں کا استحصال

برما میں مسلمان اقلیت روہنگیا کے خلاف ریاستی بربریت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی المناک صورتحال پر مسلم دنیا میں عوامی اور حکومتی سطح پر بھرپور احتجاج ہوا، تا ہم برما کے ایک چھوٹے ملک ہونے کے باوجود مسلمان ممالک کا احتجاج مؤثر اور عملی اقدام کی شکل اختیار نہ کرسکا۔

اویغور مسلمان تاریخ کی روشنی میں
چین کی شمال مغربی ریاست سنکیانگ میں آباد مسلم قومیت اویغور کا بھی روہنگیا مسلمانوں کی طرح استحصال کیا جارہا ہے، تا ہم اس معاملہ پر مسلم دنیا کا میڈیا اور حکومتیں بالکل خاموش ہے۔ اویغور مسلمانوں کی اکثریت مشرقی ترکستان (سنکیانگ) میں آباد ہیں، یہ بنیادی طور پر ترک ہیں اور صدیوں سے اس خطہ میں آباد ہیں۔ مشرقی ترکستان (سنکیانگ) کا رقبہ ۱۶لاکھ کلومیٹر مربع ہے، یہاں کی زمین معدنی ذخائر سے مالامال ہے، سنکیانگ میں چالیس نہریں، ۱۲ دریا اور تین پہاڑی سلسلہ واقع ہیں، جغرافیائی طور پر سنکیانگ کی پاکستان اور ہندوستان سمیت ۸ ممالک سے سرحد ملتی ہے۔
اویغور مسلمان مشرقی ترکستان کے روایتی حاکم ہیں، تاہم چین کے بڑھتے ہوئے نفوذ اور طاقت کی وجہ سے مشرقی ترکستان چین کے زیرتصرف ہوگیا۔ اویغور مسلمانوں نے چینی تسلط کے خلاف ایک سے زائد مرتبہ بغاوت کی، ۱۹۳۳ میں مسلمانوں نے باقاعدہ ایک علیحدہ آزاد ریاست قائم کی، جس کا علیحدہ دستور تھا اور خواجہ نیاز اس کے پہلے صدر تھے، تا ہم کچھ ہی عرصہ بعد چینی حکومت نے جمہوریہ مشرقی ترکستان پر قبضہ کرلیا اور تاریخی روایات کے مطابق تمام حکومتی ارکان سمیت ۱۰ ہزار مسلمانوں کو شہید کیا۔ ۱۹۴۹ میں سنکیانگ باقاعدہ طور پر چین میں شامل ہوگیا، چند سالوں بعد چینی حکومت نے سنکیانگ یعنی مشرقی ترکستان کو خودمختار ریاست کا درجہ دے دیا، تاہم یہ خودمختاری محدود درجہ کی تھی، سنکیانگ پر چینی حکومت کا ہی کنٹرول رہا۔

اویغور مسلمانوں پر چینی حکومت کے مظالم
اقوام متحدہ نے گزشتہ دنوں سنکیانگ میں وسیع و عریض رقبوں پر پھیلے تربیتی کیمپوں کی موجودگی اور اس میں موجود ۱۰ لاکھ سے زائد مسلمانوں کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا، اس کے ساتھ ہی عالمی جرائد و اخبارات نے سنکیانگ میں آباد مسلم اقلیت اویغور کے حالات معلوم کیے اور چینی حکومت کے رویہ پر تحقیق کی جس میں ہوشربا انکشافات سامنے آئے۔
برطانوی نشریاتی ادارہ (بی بی سی) کی رپورٹ کے مطابق اپریل ۲۰۱۷ء میں منظور شدہ قوانین کے مطابق سنکیانگ میں عوامی مقامات (ہوائی اڈے، ٹرین اسٹیشن و غیرہ) پر کام کرنے والے ملازمین مکمل لباس پہننے والی خواتین اور داڑھی والے مردوں کو سفر سے روکنے کے پابند ہوں گے۔ رپورٹس کے مطابق چینی حکومت کی جانب سے سنکیانگ میں مختلف مساجد ڈھا دی گئی ہے اور بعض اسلامی ناموں پر بھی پابندی ہے۔ امریکی جریدے بزنس انسائیڈر کے آسٹریلوی شمارے کے مطابق اویغور مسلمانوں کی سخت نگرانی کی جاتی ہے، ہر جگہ پر سکیورٹی کیمرے نصب ہے۔ ناکوں اور محلوں میں تعینات سکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری مقامی آباد سے ہر قسم کی تفتیش کرنے کی مجاز ہے۔ ہر اویغور مسلمان کی انگلیوں کے نشانات، آنکھوں اور چہروں کی علامات اور حتی کہ چلنے کے انداز اور خون کے نمونوں DNA سے شناخت کی جاتی ہے۔ مسلمان اپنے موبائل و دیگر ذاتی آلات تفتیش کے لیے پیش کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

اویغور مسلمانوں پر چینی حکومت کا سخت سکیورٹی
عالمی ادارہ انسانی حقوق (HRW) نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ چینی حکومت نے ۲۰۰ سرکاری افسران کو اویغور مسلمانوں کے گھر جانے اور ان کے ساتھ وقت گزارنے کے مشن کے لیے مخصوص کیا ہے۔ چینی حکام مسلم گھرانوں کے ساتھ ایک دن یا اس سے زیادہ وقت گزارتے ہیں، اس دوران وہ گھریلو سرگرمیوں اور باہمی بات چیت میں شامل ہوکر گھروالوں کی سیاسی سوچ کا اندازہ لگاتے ہیں اور اس متعلق رپورٹ ترتیب دیتے ہیں۔ اویغور مسلمان چینی حکام کا دو ماہ میں پانچ مرتبہ استقبال کرنے اور ان کو تمام ذاتی معلومات دینے کے پابند ہوتے ہیں۔
برطانوی جریدے انڈیپنڈنٹ نے چینی حکومت کے اویغور مسلمانوں کے خلاف سلوک کونسل کشی سے تعبیر کیا، جریدے نے چینی ریاستی جبر کو اویغور مسلمانوں کی ثقافت اور مذہب ختم کرنے کی کوشش قرار دیا۔ جریدے نے خطرناک انکشاف کیا کہ چینی حکام مسلمانوں کو خنزیر کا گوشت کھانے اور شراب پینے پر مجبور کرتے ہیں!! جریدے کا مزید کہنا تھا کہ مسلمانوں کو مرنے کے بعد بھی ان کے حقوق نہیں دیے جاتے، چنانچہ چینی حکومت تکفین و تدفین کے مراسم سے دور رہنے کے لیے لاشوں کا جلادیتی ہے۔
چینی حکومت کا ظلم صرف چین تک محدود نہیں بلکہ چین سے باہر رہنے والے اویغور مسلمانوں کا بھی تعاقب کیا جاتا ہے، ۲۰۱۵ء میں مصر کی حکومت نے جامعہ الازہر میں زیر تعلیم اویغور طلبہ کو چینی حکومت کے حوالہ کیا۔ عالمی میڈیا کے مطابق چین اویغور مسلمانوں کے خلاف غیرانسانی اقدامات کو جائز قرار دلوانے کے لیے اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل میں اپنے نفوذ کا استعمال کرتا ہے۔

اویغور مسلمانوں پر مذہبی شعائر کی ادائیگی پر پابندی
چینی حکومت کا یہ جبر ’’تربیتی کیمپوں‘‘ سے باہر کی کہانی ہے، کیمپوں کے اندر الگ ہی دنیا آباد ہے۔ سنکیانگ میں قیام پذیر اگر کوئی اویغور مسلمان غیرملکی ویب سائٹ دیکھتا ہے، چین سے باہر رہنے والے اپنے رشتہ داروں سے بات کرتا ہے، اسلامی شعائر کی پابندی کرتا ہے، یا صرف جمعہ کی نماز میں پابندی سے شریک ہوتا ہے تو ان میں سے کوئی بھی فعل جرم تصور کیا جاتا ہے، اور اس جرم کے مرتکب کو تربیتی کیمپ میں گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ عالمی جرائد سے بات کرتے ہوئے کیمپ سے رہا ہونے والے مسلمانوں نے بتایا کہ کیمپ میں کھانا کمیونسٹ پارٹی کے نغمہ گانے اور چینی صدر کے حق میں نعرے لگانے کے عوض ملتا ہے، انکار کی صورت میں سخت سزا دی جاتی ہے۔ کیمپ میں گرفتار مسلمانوں پر شدید ذہنی دباؤ ڈالا جاتا ہے، ان کو اپنی ذات کی نفی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، اور بالکل ایک روبوٹ کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور کیا جاتا ہے حتی کہ وہ واقعی روبوٹ کی مانند ہوجاتا ہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے مطابق ان کیمپوں میں ۱۰ لاکھ مسلمان گرفتار ہیں، اور یہ پابندیاں صرف اویغور قومیت مسلمانوں کے اوپر ہیں، دیگر قومیتوں کے مسلمانوں کو مذہبی شعائر ادا کرنے کی آزادی ہے۔

چینی حکومت کی ریاستی دہشت گردی عالم اسلام کی خاموشی
چینی حکومت کی اس ریاستی دہشت گردی پر مسلم دنیا بالکل خاموش ہے، دس سال قبل سنکیانگ میں ہونے والے فسادات پر ملائیشیا نے چینی حکومت کے رویہ کی مذمت کی تھی اور ترکی نے اویغور مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھول دیے تھے، تاہم حالیہ واقعات پر کسی اسلامی ملک کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا۔ معروف جریدہ بلومبرگ نے ترکی، سعودی عرب، پاکستان، ملایشیا اور ایران سمیت متعدد اسلامی ممالک سے رابطہ کیا لیکن کسی ملک نے مذمت تو دور کی بات تبصرہ کرنا بھی پسند نہیں کیا۔ برما، فلسطین، شام اور دیگر ممالک میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم سے احساس ہوتا ہے کہ مسلمان انتقام لینے سے عاجز ہے، صرف زبانی کلامی مذمتوں اور بیانات تک محدود ہے، لیکن چینی حکومت کے جبر و ظلم کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے اویغور مسلمانوں کو کوئی ترجمان بھی نہیں جو ان کے حق میں صرف آواز ہی اٹھائے۔ حکومتوں سے قبل اہل فکر و دانش کی ذمہ داری ہے کہ اس معاملہ کی نشاندہی کریں، کیا بعید کہ ہمارے شور سے اس محیط میں تلاطم پیدا ہوجائے جس کی گہرائی سے پاک چین دوستی موسوم ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں