آج : 5 December , 2018

حضرت مولانا سمیع الحق صاحب رحمہ اللہ کا حادثۂ شہادت

حضرت مولانا سمیع الحق صاحب رحمہ اللہ کا حادثۂ شہادت

قبائے نور سے سج کر، لہو سے باوضو ہو کر
اگر چہ یہ حقیقت مسلم ہے کہ دنیا میں کوئی شخص ہمیشہ رہنے کے لئے نہیں آتا۔ کسی نہ کسی دن اسے جانا ہوتا ہے، لیکن بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی اپنی زندگی میں کبھی وفات کا تصور نہیں آتا۔ برادر مکرم حضرت مولانا سمیع الحق صاحب کی شخصیت ایسی ہی تھی کہ آج ان کے ساتھ رحمۃ اللہ علیہ کا لفظ لکھتے ہوئے قلم تھرّا رہا ہے۔ کبھی یہ تصور نہیں آیا تھا کہ ’’نقوش رفتگاں‘‘ میں مجھے ان پر کچھ لکھنا پڑے گا۔ میں مجمع الفقہ الاسلامی کے اجلاس کے دوران مدینہ منورہ میں تھا، اور نماز مغرب کے بعد اگلی صفوں کی طرف جارہا تھا کہ راستے میں ایک غیرمعروف صاحب نے ڈرتے ڈرتے مجھے یہ خبر سنائی کہ انہیں راولپنڈی میں شہید کردیا گیا ہے۔ یہ خبر مجھ پر صاعقہ بن کر گری، اور میں نے اس کی تصدیق کے لئے مولانا رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے عزیزم مولانا راشدالحق سلمہ کو فون کیا تو جواب میں ان کی رونے کی ہچکیاں ان تمام توقعات پر پانی پھیر گئیں جو اس خبر کے بارے میں اب تک باندھے ہوئے تھا۔ انہوں نے اپنے آپ پر کسی قدر قابو پاتے ہوئے بتایا کہ انہیں کس درندگی کے ساتھ شہید کیا گیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
اس خبر سے ہوش و حواس گم معلوم ہوتے تھے، میں حرم نبوی میں بیٹھا اللہ تبارک و تعالی سے دعا کرتا رہا کہ یا اللہ! آپ کی مشیت کا ہر فیصلہ برحق ہے، اپنے فضل و کرم سے ان کو شہادت کے اعلی ترین مرتبے تک پہنچا کر ان کے پسماندگان کو جس میں ہم سمیت عالم اسلام کے ہزارہا مسلمان شریک ہیں، صبرِ جمیل کی توفیق عطا فرما، اور ان کے ان درندہ صفت قاتلوں کو جن کے بے رحم ہاتھوں نے ہم سے ایک عظیم سرمایہ چھین لیا، کیفر کردار تک پہنچایئے۔
تاہم ان کی وہ باتیں یاد آنے لگیں جو وہ جذبۂ جہاد و شہادت کے سلسلے میں بکثرت فرمایا کرتے تھے، اور دل نے کہا کہ اللہ تعالی نے ان کی شہادت کی آرزو اس طرح پوری فرمائی کہ:
قبائے نور سے سج کر، لہو سے باوضو ہو کر
وہ پہنچے بارگاہِ حق میں کیسے سرخ رُو ہو کر
اب واپس کراچی پہنچا تو ’البلاغ‘ پریس جانے کے لئے تیار تھا۔ کچھ لکھے بغیر بھی رہا نہیں جارہا، اور سمجھ میں بھی نہیں آرہا کہ کیا لکھوں؟ ان کی شخصیت اتنی ہمہ جہت تھی کہ کسی ایک جہت پر لکھنے کے لئے بھی صحیفے چاہئیں۔ ان کی ملکی و ملی خدمات، اُن کی تالیفی اور ادبی خدمات، ان کا علمی ذوق، ان کی جد وجہد کے مختلف مدارج، ان میں سے کونسی چیز ایسی ہے جسے کسی مختصر مضمون میں سمیٹا جاسکے؟ امید ہے کہ ان شاء اللہ تعالی ان کے بھائی حضرت مولانا انوارالحق صاحب مدظلہم اور ان کے فاضل صاحبزادگان سلمہم اس ضرورت کو قابلیت کے ساتھ پورا کریں گے۔ لیکن خود مجھ ناچیز کے ساتھ ان کے نصف صدی سے زائد کے تعلقات ایسے ہیں کہ سمجھ میں نہیں آرہا کہ کون سی بات بیان کروں؟ اور کون سی چھوڑوں؟ دل و دماغ ماؤف معلوم ہورہے ہیں، اور یہ شعر حسبِ حال معلوم ہوتا ہے کہ:
اکنون کرا دماغ کہ پُرسد ز باغباں
بلبل چہ گفت و گل و چہ شنید و صبا چہ کرد
اس وقت تو بخار میں ہوں، اور ابھی تک اکوڑہ خٹک جانے کا بھی موقع نہیں ملا، اللہ تعالی نے توفیق دی اور حواس بجا ہوئے تو ان شاء اللہ پھر ان کے بارے میں تفصیل سے لکھنے کی کوشش کروں گا۔ فی الحال ایک بات ذکر کردوں کہ کچھ عرصہ پہلے میری اُن سے ٹیلی فون پر جو آخری گفتگو ہوئی، اس میں اور باتوں کے علاوہ انہوں نے فرمایا کہ میں البلاغ میں شائع ہونے والی تمہاری ’’یادیں‘‘ دلچسپی سے پڑھتا ہوں کیا ان میں اکوڑہ خٹک کا ذکر بھی آئے گا۔ میں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں آئے گا؟ اور اب عنقریب ہماری پہلی ملاقات کا ذکر آنے والا ہے۔ اتفاق سے وہ ذکر اسی شمارے میں آرہا ہے جب وہ اس دنیا کی سرحد پار کرچکے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ تبارک و تعالی ان کی مکمل مغفرت فرما کر انہیں جنت الفردوس میں مقامات عالیہ عطا فرمائیں اور ان کی چھوڑی ہوئی خیرات و صدقات جاریہ کو ہمیشہ ان کے نامۂ اعمال میں زندہ، جاوید رکھیں:
بنا کردند خوش رسمے بہ خاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں