آج : 4 December , 2018
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید:

زندگی کا سب سے بڑا ثاثہ وہی ہے جو آخرت کے لیے تیار کیا جائے

زندگی کا سب سے بڑا ثاثہ وہی ہے جو آخرت کے لیے تیار کیا جائے

خطیب اہل سنت زاہدان نے تیس نومبر دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں آخرت میں کامیابی کے لیے محنت کرنے پر زور دیتے ہوئے فانی زندگی کے مواقع سے درست فائدہ اٹھانے پر تاکید کی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے کہا: تمام آسمانی کتابوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کوئی گناہکار کسی اور شخص کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھاتاہے۔ نیز انسان جو محنت کرتاہے، اس کو وہی ملے گا۔
انہوں نے کہا: کچھ لوگ کہتے ہیں تم فلان شخص کو مارو، قتل کرو، میں جوابدہ ہوجاوں گا۔ یہ غلط بات ہے اور اس سے قاتل کے گناہ سے کچھ کم نہیں ہوتاہے۔ کچھ لوگ غیرمستند افراد سے مسائل معلوم کرتے ہیں اور پوری ذمہ داری ان ہی پر ڈالتے ہیں۔ حالانکہ مسائل جید علمائے کرام سے پوچھنا چاہیے۔ اللہ نے انسان کو عقل کی نعمت عطا فرمائی ہے؛ تحقیق کرکے مسائل معلوم کرنا چاہیے۔
صدر و شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: سعادت و کامیابی کے لیے محض ارادہ کافی نہیں ہے، عمل کی ضرورت ہے۔ بندہ اپنے ہی ہاتھ کی محنت سے کماتاہے، سید ہونا، نیک خاندان سے تعلق رکھنا اور اس طرح کی چیزوں سے کوئی نجات نہیں پاسکتاہے۔ نیک ہونا ضروری ہے۔ آخرت کی بہتری کے لیے محنت کرنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا: آخرت کی سعادت حاصل کرنے کے لیے خیر کے کاموں میں حصہ لیں، صدقہ دیا کریں، دل شکستہ افراد کے ساتھ بیٹھیں اور دل جوئی کریں۔ ہوسکے تو کسی محتاج سے مالی تعاون کریں یا قرض میں پیسہ دیں۔ بھوکے پیاسے اور بے لباس لوگوں کا سہارا بنیں۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: اللہ تعالی اپنے بندوں پر مہربان ہے، لیکن کچھ لوگوں کو بھوکا یا ننگا رکھتا ہے تاکہ ہمیں آزمائش میں مبتلا کرے۔ لہذا اپنی حد تک لوگوں کی مدد کریں۔ اگر تمہارے پاس علم ہے، کسی کام میں مہارت ہے، تو اپنے علم اور مہارت سے دوسروں کی مدد کریں، انہیں مشورت دیں اور ان کام آگے بڑھائیں۔
انہوں نے مزید کہا: موجودہ حالات میں مالی مشکلات کی وجہ سے دینی مدارس (ایران میں) چیلنجوں اور حتی کہ بندش کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ مدارس حکومتوں اور رئیسوں کے بجائے محض عوامی چندوں پر چلتے ہیں اور ہدایت کا چراغ جلائے رکھتے ہیں۔ صدقہ سے بلائیں ختم ہوتی ہیں، لہذا خوب محنت کریں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: ان لمبی راتوں کو ٹی وی دیکھنے اور فضول گپ شپ میں گزارنے کے بجائے عبادت اور ذکر و تلاوت میں لگائیں۔ ہم سب آخرت کے مسافر ہیں، معلوم نہیں ہماری عمر سے کتنا رہ گیا ہے؛ چند دن، چند ہفتے یا کچھ مہینے اور سال۔ لیکن جب بھی جائیں گے تو ہمارا بہترین سرمایہ اور اثاثہ نیک اعمال ہی ہوں گے۔

مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آخر میں بانیء دارالعلوم زاہدان حضرت مولانا عبدالعزیز نوراللہ مرقدہ کی اہلیہ محترمہ کے سانحہ وفات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مرحومہ بی بی ایک صالحہ، ذاکرہ اور تالیہ قرآن خاتون تھیں اور سب کے لیے نیک دعائیں کیا کرتی تھیں۔ نوے سال سے زیادہ ان کی عمر تھی، پھر بھی عبادات میں مصروف رہتی تھیں اور اپنے شہید بیٹے اور مرحوم شوہر گرامی کی ملاقات کے لیے بے تاب تھیں۔
انہوں نے کہا: اب ایک دعا کرنے والی نیک شخص ہم کو داغ فراق دے کر چلے گئی ہیں، لہذا یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ان کی خالی جگہ پر کریں دینی مدارس اور تمام مسلمانوں کے لیے دعائے خیر کا زیادہ اہتمام کریں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں