آج : 3 December , 2018

کسی کو تہمت لگانے کا عذاب

کسی کو تہمت لگانے کا عذاب

و عن معاذ بن انس رضی اللہ تعالی عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من حمی مومنا من منافق بعث اللہ ملکا یحمی لحمه یوم القیمة من نار جھنم و من رمی مسلما بشیء یرید به شینه حبسه اللہ علی جسر جھنم حتی یخرج مما قال، رواہ ابوداود۔
ترجمہ: ’’حضرت معاذ بن انس رضی اللہ تعالی نہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے کسی مؤمن کو منافق سے بچایا (یعنی غیبت کرنے والے کی تردید کی، اور جس کی غیبت ہو رہی ہو اس کی حمایت کی) تو اللہ جل شانہ قیامت کے دن ایک فرشتہ بھیجیں گے جو حمایت کرنے والے کے گوشت کو دوزخ کی آگ سے بچائے گا، (یعنی یا تو اسے دوزخ میں داخل نہ ہونے دے گا، اور اگر وہ داخل ہوگیا تو اس کو عذاب نہ ہونے دے گا) اور جس کسی نے کسی مسلمان کو تہمت لگادی اللہ تعالی اس کو دوزخ کے پُل پر ٹھہرائے رکھے گا، یہاں تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے (صاف سُتھرا) ہوکر نکل جائے گا‘‘ (مشکوۃ المصابیح ص: ۴۲۴ از ابوداؤد)

تشریح
اس حدیث پاک میں دو باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے، اول یہ کہ جو کوئی کسی کی غیبت کرے تو جس کی غیبت کی جا رہیہو اس کی طرف سے دفاع کیا جائے، اور اس کا بہت بڑا فائدہ بتایا ہے، یہ مضمون غیبت کے بیان میں بھی گذر چکا ہے۔
دوسری بات یہ کہ کسی کو کسی طرح سے بھی تہمت لگانے سے پرہیز کرنا واجب ہے، اگر کسی نے کسی کو تہمت لگادی تو یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے، اس کی وجہ سے قیامت کے دن بڑی مصیبت کھڑی ہوجائے گی، جس کسی کو تہمت لگائی تھی اس سے چھٹکارا کرنا ضروری ہوگا، دوزخ کی پشت پر پُل صراط قائم کی جائے گی، سب کو اس پر سے گذرنا ہوگا، جو اس سے پار ہوتا جائے گا جنت میں داخل ہوتا چلا جائے گا، تہمت لگانے والا شخص پل صراط پر روک لیا جائے گا، اور جب تک تہمت لگانے کے گناہ سے پاک و صاف نہ ہوگا جنت میں نہ جائے گا، پاک صاف ہونے کے دو طریقے ہیں، یا تو وہ شخص معاف کردے جس کو تہمت لگائی، یا اپنی نیکیاں اس کو دے کر اور اس کے گناہ اپنے سر لے کر دوزخ میں جلے، چونکہ وہاں بندے حاجت مند ہوں گے اس لئے یہ امید تو بہت کم ہے کہ کوئی شخص معاف کردے، اب دوسری صورت یعنی دوزخ میں جلنا ہی رہ جاتا ہے، کس کو ہمت ہے جو دوزخ میں جلنے کا ارادہ کرے، جب اس کی ہمت نہیں تو اپنے نفس اور زبان پر قابو پانا ضروری ہوا بہت سی عورتیں اور مرد اس بات کا بالکل خیال نہیں کرتے کہ کسی کے حق میں کیا کہہ گذرے، کس پر کیا تہمت لگادی، اور کس کو کس بہتان سے نواز دیا، جہاں ساس بہوؤں میں لڑائی ہوئی جھٹ کہہ دیا کہ رنڈی ہے، سوکنیں لڑنے لگیں، تو ایک نے دوسری کو بدکار کہہ دیا، نند بھاوج میں لڑائی ہوئی تو کہہ دیا کہ یار گھیرے پھرتی ہو، کسی کو چور بتادیا، کسی کے بارے میں کہہ دیا کہ شرابی ہے، اور تہمت لگانے میں ان لوگوں تک کو نہیں بخشا جاتا جن سے کبھی ملاقات بھی نہیں ہوئی بلکہ جو لوگ مرگئے دنیا سے جا چکے اُن پر بھی تہمتیں دھردیتے ہیں، یہ بہت سی خطرناک بات ہے، جس کی پاداش بہت سخت ہے۔
جو لوگ دنیا میں کمزور ہیں یا دور ہیں یا مرگئے ہیں، بدلہ لینے سے عاجز ہیں ان کے آگے یا پیچھے اگر ان کو کوئی تہمت لگادی اور وہ بدلہ نہ لے سکے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ معاملہ یہیں ختم ہوگیا، آخرت کا دن آنے والا ہے جہاں پیشی ہوگی، حساب کتاب ہوگا، مظلوموں کو بدلے دلایے جائیں گے، اس دن کیا ہوگا؟ اس کو غور کرنا چاہیے، عام لوگ تو پھر بھی کچھ نہ کچھ حیثیت رکھتے ہیں، اپنا زر خرید غلام تو دنیا کے رواج میں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتا، لیکن اگر کسی نے اپنے زر خرید غلام کو زنا کی تہمت لگادی تو تہمت لگانے والوں پر قیامت کے دن حدقائم کی جائے گی، الا یہ کہ وہ تہمت لگانے میں سچا ہو، (کما فی الترغیب و الترہیب عن البخاری و مسلم)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہلاک کرنے والی سات چیزوں سے (خاص خصوصیت اور اہتمام کے ساتھ) بچو، حضرات صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کیا کہ وہ سات ہلاک کرنے والی چیزیں کیا ہیں؟ فرمایا:
’’(۱) اللہ کے ساتھ شرک کرنا، (۲) جادو کرنا، (۳) اس جان کو قتل کرنا جس کا قتل اللہ نے حرام فرمادیا مگر یہ کہ حق کے ساتھ ہو (جس کو علماء اور شرعی قاضی جانتے اور سمجھتے ہیں)، (۴) سود کھانا، (۵) یتیم کا مال کھانا، (۶) میدانِ جہاد سے پشت پھیر کر بھاگ جانا، (۷) پاک باز مؤمن عورتوں کو تہمت لگانا، (جو برائیوں سے) غافل ہیں۔‘‘ (بخاری و مسلم)
یعنی جو عورتیں۔۔۔ پاکباز اور عصمت والی ہیں ان کو تہمت لگانا ان بڑے بڑے گناہوں میں شامل ہے جو ہلاک کردینے والے ہیں، یعنی دوزخ میں پہنچانے والے ہیں، اُن کو تہمت لگانا اس لئے سخت ہے کہ انھیں بُرائی کا دہیان تک نہیں ہے، اور جنھیں زبان پر قابو نہیں مرد ہوں یا عورت وہ ان بیچاریوں پر تہمتوں کے گولے پھینکتے رہتے ہیں، اگرچہ کسی ایسی عورت پر بھی تہمت لگانا درست نہیں جس کا چال چلن مشکوک ہو۔

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں