آج : 25 November , 2018

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عدل

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عدل

عدل و انصاف ایک ایسا وصف ہے جس پر نظام عالم اور اس کی درستی موقوف ہے، خود اللہ تعالی نے اپنی ذات کے لئے یہ وصف قرآن کریم میں ذکر کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کارخانۂ عالم اور اس کا ٹھیک ٹھیک نظام اللہ تعالی کے عدل و انصاف کے بل بوتے پر چل رہا ہے، لہذا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی یہ وصف اپنے پورے کمال کے ساتھ موجود تھا۔
عدل و انصاف حکومت و سلطنت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اس کا تعلق انسان کی اجتماعی اور انفرادی زندگی اور زندگی کے ہر شعبہ سے بھی نہایت قوی ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام چیزوں میں عدل و انصاف کے اس بلندترین مرتبہ پر تھے کہ اس سے بلند کا تصور نہیں ہوسکتا، چنانچہ آپ کی انفرادی زندگی اور اس کا ہر گوشہ عدل کا کامل نمونہ تھا، آپ بیک وقت نبی ورسول بھی تھے، حاکم و بادشاہ بھی اور قاضی و منتظم بھی، شوہر بھی تھے اور باپ بھی، دوست بھی تھے اور مصلح بھی، کامل انصاف کے ساتھ ان تما م گوشوں پر عمل کرنا حق یہ ہے کہ آپ کا ہی منصب تھا، عدل کا حاصل یہ ہے کہ اس طرح عمل کیا جائے جس سے کسی کی ادنی سی حق تلفی نہ ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی عدل پر انفرادی اور اجتماعی زندگی میں عمل فرماتے تھے، چنانچہ آپ اپنے جسم اطہر کا بھی حق ادافرماتے اور روح مقدس کا بھی، آرام کے وقت آرام اور کام کے وقت کام کرتے تھے، آپ کھاتے پیتے بھی تھے اور روزے بھی رکھتے تھے، سوتے بھی جاگتے بھی، بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ چند حضرات صحابہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت و غیرہ کا حال دیکھا تو کہنے لگے کہ آپ تو ہر گناہ اور عیب سے پاک ہونے کے باوجود ایسی عبادت کرتے ہیں، ہم گناہگاروں کو تو اور زیادہ عبادت کرنی چاہئے، چنانچہ ان میں سے ایک صاحب نے یہ عہدہ کیا کہ وہ آئندہ بہت روزہ رکھا کریں گے، دوسرے نے عہد کیا کہ وہ رات بھر نماز کھڑے رہ کر گزار دیا کریں گے اور تیسرے نے عہد کیا کہ وہ عمر بھر نکاح نہ کریں گہ تا کہ فراغت کے ساتھ عبادت میں ہر وقت مشغول رہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے ایک عام خطاب کے ذریعہ ان کی اصلاح فرمائی پھر فرمایا کہ مجھے تو دیکھو میں روزہ رکھتا بھی ہوں چھوڑتا بھی ہوں، سوتا بھی ہوں نماز بھی پڑھتا ہوں، مطلب یہ ہے کہ زندگی میں اعتدال و توازن برقرار رکھا جائے، یہی اس کے ساتھ عدل و انصاف ہے۔
عدل و انصاف کا نازک پہلو وہ ہوتا ہے کہ خود اپنی ذات کے معاملے میں راستی اور حق پرستی کے ساتھ اس پر قائم رہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں بھی سب سے ممتاز ہیں، آپ سب سے پہلے اپنی ذات کے ساتھ عدل کا معاملہ فرماتے، حدیث میں ہے کہ ایک یہودی نے آپ سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا اور گستاخانہ رویہ اختیار کیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو سزا دینے کی اجازت طلب کی تو آپ نے اجازت نہ دی، اسی طرح ایک بدّو نے سختی کے ساتھ آپ سے قرض کا مطالبہ کیا، حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس سے کہا کہ تو جانتا ہے تو کس سے اس طرح بات کررہا ہے اس نے کہا کہ میں تو اپنا حق مانگ رہا ہوں، آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ اس کو کچھ نہ کہو، حق دار کو بولنے کا حق ہے۔۔۔ ایک گوشہ نشین کے لئے عدل و انصاف سے کام لینا آسان ہوتا ہے لیکن جس کا تعلق اہل و عیال، خاندان، دوست احباب اور مختلف مزاج کے بے شمار لوگوں سے ہوتو اس حالت میں عدل و انصاف پر پورا اترنا نہایت دشوار ہوجاتا ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس میدان میں بھی سب سے آگے تھے، آپ اپنی بے انتہا تبلیغی اور اصلاحی مشغولیتوں کے باوجود اہل و عیال و غیرہ کے معاملہ میں پورا پورا عدل فرماتے، کیا مجال کہ یہ جھکاؤ کسی ایک طرف آپ سے ظاہر ہوا ہو۔ ایک مرتبہ آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے آپ کی کسی دوسری زوجہ محترمہ نے ایک پیالہ میں کھانے کی کوئی چیز آپ کو بھیجی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے غیرت کے مارے اس پیالہ پر ہاتھ مارا جس سے وہ گر کر ٹوٹ گیا تو آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے ایک پیالہ ان کے یہاں بھجوایا۔
اسی طرح عدل و انصاف کے معاملے میں نہ رشتہ داری آڑے آتی تھی، نہ دوستی۔ ایک دفعہ قریش کی کسی عورت نے چوری کرلی اور وہ چوری ثابت بھی ہوگئی، قریش کی عزت کی وجہ سے بعض لوگ چاہتے تھے کہ چور سزا سے بچ جائے اور کس طرح یہ معاملہ دب جائے، حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص محبوب تھے، ان سے لوگوں نے کہا کہ آپ اس معاملہ میں حضور سے سفارش کردیجئے کہ اس کو معاف فرمادیں، انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے معاف کرنے کی سفارش کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر غضبناک ہوگئے اور فرمایا کہ اللہ تعالی کے قانونِ حد میں سفارش کرتے ہو، بنی اسرائیل اسی کی بدولت تباہ ہوئے کہ وہ غریبوں پر قانون نافذ کرتے اور بڑے لوگوں سے درگزر کرتے تھے، پھر فرمایا کہ قانون خداوندی کی زد میں (خدا نہ کرے) اگر میری جگر گوشہ فاطمہ بھی آجائے گی تو میں اس پر وہ قانون جاری کردوں گا۔۔۔ آپ کو ہر وقت عرب کے مختلف قبائل اور دوسرے لوگوں سے واسطہ رہتا تھا، ان میں دوست بھی تھے دشمن بھی، جان نثار بھی تھے اور خون کے پیاسے بھی لیکن جب عدل و انصاف کا معاملہ آتا تو بلا امتیاز آپ حق کے مطابق فیصلہ فرماتے، ابوداؤد میں ہے کہ صخرہ ایک قبیلہ کے سردار اور بڑے بااثر شخص تھے انہوں نے اہل طائف کو مجبور کرکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مطیع و فرماں بردار بنایا تھا جو ایک عظیم احسان تھا لیکن جب صخر کے خلاف بعض حضرات نے ایک مقدمہ آپ کے سامنے پیش کیا تو آپ نے ان کے خلاف فیصلہ دیا۔ اور ان کے احسان کی پرواہ نہ کی۔۔۔ یہودیوں کی دشمنی آپ سے اور اہل اسلام سے کوئی پوشیدہ چیز نہ تھی، لیکن جب عدل و انصاف کا مسئلہ آجاتا اور یہودی حق پر ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کے حق میں فیصلہ فرماتے۔
مسند احمد کی روایت میں ہے کہ ایک صحابی جن کا نام ابوحداد تھا ایک یہودی کے مقروض ہوگئے، اس نے اپنے قرض کا مطالبہ کردیا، ان کے پاس بدن کے کپڑوں کے علاوہ کچھ نہ تھا جس سے اس کا قرض ادا کرتے، انہوں نے اس یہودی سے مہلت طلب کی لیکن وہ نہ مانا اور ان کو پکڑ کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا، آپ نے پوری کارروائی سن کر اپنے جان نثار صحابی سے فرمایا کہ اس کا قرض ادا کردو، انہوں نے عذر کیا کہ میرے پاس ان کپڑوں کے سوا کچھ بھی نہیں، آپ نے پھر یہی حکم دیا (جس کا مطلب یہ تھا کہ بقدر ضرورت بدن کے کپڑے رکھ کر باقی سے قرض ادا کردو) چنانچہ انہوں نے اپنا تہبند اتار کر عمامہ اس کی جگہ باندھ لیا اور اس تہبند سے قرض ادا کردیا۔ اسی طرح خیبر میں جہاں تمام آبادی یہودیوں کی تھی ایک صحابی مقتول پائے گئے، قاتل کا علم نہ ہوسکا، ظاہر ہے کہ قاتل کوئی یہودی ہوگا۔ مقتول کے وارثوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں استغاثہ کیا اور اپنا شبہ یہودیوں پر ظاہر کیا، مگر کوئی ثبوت مہیا نہ کرسکے، آپ نے یہودیوں سے کچھ نہ کہا اور بیت المال سے دیت ادا کردی۔
اسی عدل و انصاف کا یہ اثر تھا کہ مسلمان تو ایک طرف یہودی بھی جو آپ کے جانی دشمن تھے اپنے مقدمات آپ ہی کی بارگاہ عدالت میں لاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انصاف کے ساتھ فیصلہ فرماتے اور وہ خوش خوش واپس جاتے، یہودیوں نے اپنے یہاں بڑے اور چھوٹے کا امتیاز قائم کر رکھا تھا، کمزور قبیلہ والے سے قصاص لے لیتے اور طاقتور قبیلہ والے کو چھوڑ دیتے، ایسا ہی ایک مقدمہ حضور کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے طاقتور قبیلہ سے قصاص دلوایا، اسی لئے اہل اسلام کے نزدیک یہ طے شدہ بات ہے کہ اس روئے زمین پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اور کوئی عدل و انصاف کرنے والا نہیں۔
آپ نے اسی عدل و انصاف پر حکومت و سلطنت کی بنیاد رکھی جو اس قدر مضبوط اور مستحکم تھی کہ ایک ہزار سال تک نہ کوئی زلزلہ اس کو ہلا سکا نہ کسی طوفان سے اس میں رخنہ پیدا ہوا، اگر عدل و انصاف کا معیار قائم رہتا تو رہتی دنیا تک ایسی حکومت کو کوئی مٹا نہیں سکتا تھا۔
اللہ تعالی ہم سب کو نیکی پر اور عدل و انصاف پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں