آج : 25 November , 2018
توضیح القرآن

آسان ترجمۂ قرآن- سورة الانعام (11-18)

آسان ترجمۂ قرآن- سورة الانعام (11-18)

قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ انظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ ﴿١١﴾ قُل لِّمَن مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ قُل لِّلَّـهِ ۚ كَتَبَ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ۚ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿١٢﴾ وَلَهُ مَا سَكَنَ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴿١٣﴾ قُلْ أَغَيْرَ اللَّـهِ أَتَّخِذُ وَلِيًّا فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ ۗ قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ ۖ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿١٤﴾ قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ﴿١٥﴾ مَّن يُصْرَفْ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهُ ۚ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ ﴿١٦﴾ وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّـهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿١٧﴾ وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ ﴿١٨﴾

ترجمہ:

(ان کافروں سے) کہو کہ: ’’ذرا زمین میں چلو، پھرو، پھر دیکھو کہ (پیغمبروں کو) جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا؟(۱)‘‘ [۱۱]
(ان سے) پوچھو کہ: ’’آسمانوں اور زمین میں جوم کچھ ہے وہ کس کی ملکیت ہے؟‘‘ (پھر اگر وہ جواب نہ دیں تو خود ہی) کہہ دو کہ: ’’اللہ ہی کی ملکیت ہے۔ اس نے زحمت کو اپنے اُوپر لازم کر رکھا ہے۔ (اس لئے توبہ کرلو تو پچھلے سارے گناہ معاف کردے گا، ورنہ) وہ تم سب کو ضرور بالضرور قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے، (لیکن) جن لوگوں نے اپنی جانوں کے لئے گھاٹے کاسودا کر رکھا ہے، وہ (اس حقیقت پر) ایمان نہیں لاتے۔[۱۲]
اور رات اور دن میں جتنی مخلوقات آرام پاتی ہیں، سب اسی کے قبضے میں ہیں(2)، اور وہ ہر بات کو سنتا، ہر چیز کو جانتا ہے۔‘‘ [۱۳]
کہہ دو کہ: ’’کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو رکھوالا بناؤں؟ (اس اللہ کو چھوڑ کر) جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اور جو سب کو کھلاتا ہے، کسی سے کھاتا نہیں‘‘؟ کہہ دو کہ: ’’مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ فرماں برداری میں سب لوگوں سے پہل کرنے والا میں بنوں‘‘ اور تم مشرکوں میں ہرگز شامل نہ ہونا [۱۴]
کہہ دو کہ: ’’اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک زبردست دن کے عذاب کا خوف ہے۔‘‘ [۱۵]
جس کسی شخص سے اس دن وہ عذاب ہٹا دیا گیا، اس پر اللہ نے بڑا رحم کیا، اور یہی واضح کامیابی ہے[۱۶]
اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو خود اس کے سوا اسے دُور کرنے والا کوئی نہیں، اور اگر وہ تمہیں کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہی ہے [۱۷]
اور وہ اپنے بندوں کے اُوپر مکمل اقتدار رکھتا ہے، اور وہ حکیم بھی ہے، پوری طرح باخبر بھی۔[۱۸]

حواشی:
(۱) مشرکینِ عرب شام کے تجارتی سفر کے دوران ثمود اور حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی بستیوں سے گذرا کرتے تھے جہاں ان قوموں کی تباہی کے آثار انہیں آنکھوں سے نظر آتے تھے۔ قرآنِ کریم انہیں دعوت دے رہا ہے کہ وہ ان قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کریں۔
(۲) غالباً اشارہ اس طرف ہے کہ رات اور دن کے اوقات میں جب لوگ سوتے ہیں تو دوبارہ بیدار بھی ہوجاتے ہیں، حالانکہ نیند بھی ایک چھوٹی موت ہے جس میں انسان دُنیا سے بے خبر اور بالکل بے اختیار ہوجاتا ہے۔ لیکن چونکہ وہ اللہ تعالی ہی کے قبضے میں ہوتا ہے، اس لئے جب وہ چاہتا ہے اسے بیداری کی دُنیا میں واپس لے آتا ہے۔ اسی طرح جب بڑی موت آئے گی تب بھی انسان اللہ تعالی کے قبضۂ قدرت میں ہوگا، اور وہ جب چاہے گا، اسے دوبارہ زندگی دے کر قیامت کے یوم حساب کی طرف لے جائے گا۔

مفتی محمدتقی عثمانی حفظہ الله


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں