آج : 20 November , 2018

۱۲؍ربیع الاول، بدعات و منکرات سے بچیں!

۱۲؍ربیع الاول، بدعات و منکرات سے بچیں!

سرور کونین، آقائے نامدار، رحمۃ للعالمین، محسن انسانیت، ہادئ اعظم، مصطفی، مجتبی، شفیع المذنبین نے راجح قول کے مطابق ۸؍ربیع الاول بروز دوشنبہ سنہ ۵۷۰ء صبح صادق کے وقت عبداللہ بن عبدالمطلب کے گھر آنکھ کھولی، باپ کا سایہ ولادت سے پہلے ہی سر سے اُٹھ چکا تھا، چار سو کفر و شرک اور جہالت و ظلمت کا دور دورہ تھا، سنگدلی اور بے رحمی ہر فرد کی جبلت میں پیوست تھی، تو ہم پرستی اور رنگ و نسل کے تعصبات نے معاشرے میں پنجے گاڑ رکھے تھے، خود غرضی، خودپرستی اور خود پسندی کے جراثیم سے معاشرہ کا انگ انگ زہر آلود اور زخمی زخمی تھا۔
ظلم و ظلمت کے اس تاریک ماحول میں، جہاں دور دور روشنی کی کوئی جھلک نہیں تھی، رب ذوالجلال نے احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دست قدرت سے اس طرح پروان چڑھایا کہ نہ دامن پر کوئی داغ تھا اور نہ قلب و باطن میں کسی طرح کا میل، حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کتنا اچھا نقشہ کھینچا ہے:
و احسن منک لم تر قط عین
و اجمل منک لم تلد النساء
خلقت مبرأً من کل عیب
کأنک قد خلقت کما تشاء
آپ جیسے حسن و جمال سے سرشار کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے اور نہ کسی خاتون نے جنا ہے، آپ ہر عیب سے منزہ و پاک اس طرح پیدا کئے گئے ہیں جیسے آپ کو اپنی ہی پسند و انتخاب سے پیدا کیا گیا ہو۔۔۔
تاریخ کے ہر دور میں خاتم النبیین، رسول عربی کے محاسن و کمالات سے متعلق شعر و سخن کا اسلوب ہو یا بلیغ سے بلیغ تر نثر کا، اتنا کچھ لکھا گیا ہے کہ ان مقالات و مضامین اور قصائد و کتب کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا، پوری انسانی تاریخ میں کسی بھی قوم و ملت میں اس کی کوئی نظیر پیش نہیں کی جاسکتی، لیکن پھر بھی حقیقت یہ ہے کہ کوئی نعتیہ کلام یا نثر کا کوئی بلیغ اسلوب ان قرآن آیات و کلمات کے گرد تک بھی نہیں پہنچ سکتا، جو خالق کون و مکان نے قرآن کریم میں آپ کی شان میں نازل فرمائی ہیں اور جو قیامت تک آپ کے ذکر جمیل سے مشام جان کو معطر رکھتی ہیں۔
لیکن اس بدیہی حقیقت سے آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں کہ ان اوصاف جمیلہ اور مقامات رفیعہ کے ذکر کا حاصل ہر صاحب ایمان کو، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر نام لیوا کو اور حب رسول کا دم بھرنے والے ہر امتی کو ہادئ کامل کے نقش قدم پر چلنے اور زندگی کے شب و روز میں آپ کی ہر اُس ادا کو اپنانے کی تاکید ہے جو قرآن حکیم اور سنت وسیرت کے مستند علمی و عملی اثاثے کی شکل میں امت کے پاس محفوظ ہے، یہ اثاثہ افراد اور معاشرے کے ہر نشیب و فراز کے لئے حکیمانہ تعلیمات پر مشتمل ہے، انسانی معاشرے کے ہر دور، ہر طبقہ، ہر رنگ و نسل اور بحر و بر میں پھیلی ہوئی ہر طرح کی آبادی کیلئے مفصل ہدایات کا جامع ترین نسخہ کیمیا ہے۔۔۔ ارشاد ربانی ہے:
“لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ” (الاحزاب: ۲۱)
مصطفی جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تعلیمات ایمانیات، عبادات، معاملات (اپنے وسیع تر مفہوم میں جس کا دائرہ شخصی، عائلی و تجارتی معاملات سے لے کر عدالتی، دستوری اور بین الاقوامی معاہدات و معاملات تک پھیلا ہوا ہے) سماجی و معاشرتی حقوق و آداب، اور قلب و باطن سے متعلق اخلاق حسنہ و سیۂ کی عمیق اور دقیقہ رس تفصیلات پر مشتمل ہے جن کی روشنی میں بندۂ مومن اپنے ظاہر و باطن اور زندگی کے ہر موڑ پر اسوۂ حسنہ کو اپنانے کا مکلف ہے، قدم قدم پر دین کو غالب رکھنے اور پیغمبرانہ تعلیمات کو اپنانے کی تاکید ہے، قرآن کریم کی اس آیت میں اسی کا حکم ہے:
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ” (البقرۃ: ۲۰۸)
اس روئے زمین پر جب تک مسلمان تعلیمات نبوی کی روشنی میں، اسوۂ حسنہ کے مطابق زندگی گزارتے رہے وہ اس خطۂ ارضی کے واحد سپر پاور تھے اور تاریخ کے ایک طویل دورانیے تک ان کا کوئی مقابل نہیں تھا لیکن جب سے اسوہ حسنہ کا نوران کے جسم و جان سے رخصت ہوا ہر طرف کی ظلمتوں نے ان کا امن و سکون اور ان کی جہاں بانی و بالادستی کی قوت و طاقت کو ملیامیٹ کرکے رکھدیا، آج بھی تقریبا دو ارب کی آبادی رکھنے، ۵۶ ریاستوں پر حکمرانی کرنے اور وسائل دولت و معیشت، تیل، گیس اور معدنیات سے مالامال عالم اسلام کو عالمی طاقتیں، کھلونوں کی طرح ریموٹ کنٹرول سے چلا رہی ہیں، ان مسلم ریاستوں کا حکمران طبقہ ہو، معاشرے کے دولتمند افراد ہوں یا ان ریاستوں کی بیوروکریسی، مسلم ریاستوں کے یہ سب طبقات اپنے خیالات و تصورات سے بھی، اپنی گفتار سے بھی اور اپنی شب و روز کی سرگرمیوں سے بھی دینی تعلیمات سے نابلد اور سیرت سے ناآشنا پوری طرح مغرب کے تابع مہمل ہیں، مغرب نے لادین نظام تعلیم اور مادہ پرستانہ تربیت سے ان طبقات کو ایسا زہر پلادیا ہے کہ اب ان کی نظروں میں اسلامی تعلیمات، دینی اقدار و روایات اور محمد عربی علیہ الصلوۃ و السلام کا اسوۂ حسنہ تو بس قدیم تاریخ کی ایک کہانی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
ان نامساعد حالات کے باوجود، مقام شکر ہے کہ عالم اسلام کے طول و عرض میں ایسے رجال باصفا کی کمی نہیں ہے جن کے دل حب رسول کے جذبات و احساسات سے سرشار ہیں اور شب و روز کے ہر موڑ پر تعلیمات نبوی کا عکس ان کا ظاہر و باطن میں پیوست نظر آتا ہے، طاغوتی طاقتوں کی بالادستی، آئے دن اٹھنے والے فتنوں اور ہر سو پھیلی ظلمتوں کے اس تاریک دور میں بھی، اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ایسی تڑپ اور درد دل رکھنے والوں کی کمی نہیں ہے جن کی راتیں رب کے سامنے ہاتھ اٹھائے آہ و بکا کی سسکیوں میں کٹتی ہیں اور دن میں یہ مردان خدا مست، تعلیم و تربیت اور خلق خدا کی ہمدردی میں ہر طرح کی مشکلات جھیلتے نظر آتے ہیں جبکہ دوسری طرف طعن و تشنیع کے زہر میں بجھی ہوئی زبانوں، خنجر کی طرح چلنے والے قلموں کے زخم بھی سہتے ہیں، ان خادمان دین کے شبانہ روز محنت کا محور یہ آرزو ہے کہ امت کو طاغوت کے شر سے بچایا جائے، اس کو اسوۂ حسنہ کے رنگ میں رنگا جائے اور اسلام کا دم بھرنے والا امتی سنت و سیرت کے انوار و برکات سے معمور نظر آئے، ان مردان خدا مست کی زندگی کا لمحہ لمحہ اس لگن میں گزرتا ہے کہ امت کو اغیار کی نقالی اور یہود و نصاری کی فکر غلامی سے آزادی ملے اور ماضی کی طرح وہ اپنی سیاست، معیشت، علم و ہنر اور اجتماعی زندگی کے ہر میدان کو قرآنی احکام اور اسوہ حسنہ کی روشنی سے منور کرکے دنیا کو دین حنیف کی برکات و ثمرات سے آگاہی فراہم کرے، یہ سنت الہی ہے کہ چراغ سے چراغ اور دیئے سے دیا جلتا ہے، بحمداللہ دین حنیف کی دعوت اور علوم نبوت کے تحفظ کا مبارک کام تسلسل کے ساتھ جاری ہے، معاشرے میں ایسے رجال کار کی تعداد کم اور محدود ضرور ہے لیکن اللہ تعالی کے فضل و کرم سے جہد مسلسل کے ثمرات ظاہر ہورہے ہیں کہ صدق و اخلاق پر مبنی جد و جہد کو کبھی ناکامی و نامرادی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
عشق رسول اور دین حنیف کی بالادستی کا راستہ یہ ہے کہ افراد امت کو اسوۂ رسول اپنانے کا خوگر بنایا جائے اور زندگی کے ہر شعبے سے متعلق نبوی تعلیمات سے آگاہی فراہم کی جائے، اسی طرح کا طرز عمل بجا طور پر حُب رسول کا مظہر بنتا ہے کہ مشک اپنی خوشبو سے ہی اپنی پہچان کراتا ہے۔
لیکن شامت اعمال سے حُب رسول کا جذبہ اب شب و روز کے لمحات حیات سے سمٹتے سمٹتے رسمی طور پر ۱۲ ربیع الاول کے دن میں محدود ہو کر رہ گیا ہے، کاش اس موقع پر بھی اگر جلسے جلسوں اور مظاہروں کی جگہ اتباع سنت اور اسوہ حسنہ کی ترغیب سے متعلق کچھ سرگرمیاں دیکھنے میں آتیں تو وہ خلاف شرع مفاسد پیدا نہ ہوتے جو سامنے آنے لگے ہیں اور جن میں وقت کے ساتھ ساتھ شدت آتی جارہی ہے۔
جو حضرات حب رسول کے مبارک عنوان کے ساتھ ان کاموں میں شریک ہوتے ہیں یا ان کے محرک بنتے ہیں، ان کی خدمت میں مؤدبانہ التجاء ہے کہ اپنے اس طرز عمل کے نتائج و عواقب کا ٹھنڈے دل سے جائزہ اور محاسبہ کیا جائے، قرآنی احکام، پیغمبرانہ تعلیمات و ہدایات اور قرون اولی کے تعامل کا جائزہ لے کر اختیار کردہ معمولات کو شرعی معیاروں پر پرکھا جائے۔
کیا ہم میں سے کوئی شخص یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ اس کے دل میں حب رسول کا جذبہ کسی صحابی کے برابر ہے اور کیا کسی ادنی مرتبہ کے کسی صحابی نے حب رسول کے اظہار کیلئے کبھی وہ کچھ طرز عمل اختیار کیا تھا جو آج ہم کرنے لگے ہیں۔ دین نہ تو کسی افسانے کا نام ہے، نہ ہی منگھڑت خیالات کا، اور نہ اپنے من کی شوقیوں اور خواہشات پر چلنے کا نام دین ہے۔
۱۲ ربیع الاول کے جلوسوں میں اب عید میلاد النبی کے نام سے نماز بھی شروع ہوگئی ہے، نعلین مبارکیں کے نقش پر مشتمل بینر، سڑکوں پر لگے ہوئے بجلی کے کھنبوں پر لگائے جاتے ہیں، متعینہ تاریخ گزرنے کے بعد وہ ٹوٹ کر گرتے ہیں اور پاؤں کے نیچے روندے جاتے ہیں، عورتیں بھی عید میلاد النبی منانے میں مردوں کے شانہ بشانہ چلتی نظر آتی ہیں اور ایسے ایسے مکروہ مناظر نظر آنے لگے ہیں جن کے انجام بد کے تصور سے خوف آتا ہے، جگہ جگہ نوجوانوں کی ٹولیاں نعتیہ ریکارڈنگ کی آوازپر مٹکتے اور دھمال ڈالتے ہیں، ایک صاحب نے چشم دید واقعہ ذکر کیا کہ بلڈنگ کے سامنے سے گزرنے والے جلوس کا تماشہ دیکھنے کیلئے بالکونیوں پر عورتیں بھی نہ صرف محو تماشا تھیں بلکہ وہ اور جلوس کے شرکاء مالٹوں سے ایک دوسرے کا نشانہ لے کر ’’دل لگی‘‘ کر رہے تھے، یہ تو عام سی بات ہے کہ جگہ جگہ چوراہوں پر روضۂ رسول اور بیت اللہ کی سبیھین بنائی جاتی ہیں، ’’بیت اللہ‘‘ کا طواف ہوتا ہے اور ’’روضۂ رسول‘‘ پر اظہار عقیدت کیلئے گل پاشی بھی ہوتی ہے۔
عیسائی دنیا ۲۵ دسمبر کو کرسمس ڈے مناتی ہے، اس کا آغاز بھی، حضرت عیسی علیہ السلام کے یوم ولادت کی نسبت سے، محض اظہار عقیدت و محبت کیلئے ہوا تھا، اور وہ بھی بہت بعد کی تاریخ میں، بے ضرر طور پر صرف چرچ کی چہار دیواری میں۔۔۔ لیکن آج ہر آنکھ دیکھ سکتی ہے کہ اس ایک دن میں یورپ کے تمام ملکوں میں جرائم کی شرح سال بھر کی مجموعی تعداد سے بھی متجاوز ہوجاتی ہے۔
ہم سب کیلئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ کیا اظہار عقیدت کے عنوان سے، حب رسول کے نعرے لگا کر، پرچم اٹھا کر اور ہر طرح کے منکرات و خرافات گھڑ گھڑ کے ہمارے قدم کچھ اس طرح کے انجام کی طرف تو نہیں بڑھ رہے ہیں جہاں اس وقت عیسائی دنیا کرسمس کا ڈے منا کر کھڑی ہے؟
مولائے کریم ہر طرح کے زیغ و ضلال اور ہر طرح کی بے اعتدالی و کوتاہی سے پناہ عطا فرمائے۔ آمین


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں