آج : 18 November , 2018

ایران: نصابی کتب میں صحابہؓ کی شان میں گستاخی؛ مولانا عبدالحمید کی سخت تنقید

ایران: نصابی کتب میں صحابہؓ کی شان میں گستاخی؛ مولانا عبدالحمید کی سخت تنقید

سرباز (سنی آن لائن) ایران کی وزارت تعلیم کی جانب سے شائع کردہ نصابی کتابوں میں اہل سنت کی مقدسات کی توہین پر سخت تنقید کرتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا صحابہ و اہل بیتؓ کی توہین اہل سنت کے لیے ناقابل برداشت ہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان کی آفیشل ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، مولانا عبدالحمید نے جکیگور کے دینی مدرسہ میں پندرہ نومبردوہزار اٹھارہ کو منعقد تقریب دستاربندی سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ہائے اسکول کی نصابی کتاب ’دین و زندگی‘ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو العیاذ باللہ’جھوٹا‘ قرار دیاگیاہے جس پر سنی برادری میں سخت غصہ پایاجاتا ہے۔ کسی بھی ادارے یا شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اہل سنت کی مقدسات کی توہین کرے۔
انہوں نے مزید کہا: محکمہ تعلیم کو ہرگز یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اہل سنت کی مقدسات کے خلاف گستاخانہ مواد شائع کرے اور ایسی کتابوں کو سنی علاقوں میں پڑھائے۔ دوسروں کی مقدسات کی توہین کسی بھی مذہب میں جائز نہیں ہے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے حضرت ابوہریرہؓ کی شان میں گستاخی کی مذمت کرتے ہوئے کہا: اہل سنت بالاتفاق حضرت ابوہریرہؓ کو ایک عظیم الشان صحابی تسلیم کرتے ہیں اور ان کے عقیدے میں صحابہؓ عادل، ثقہ اور مقبول ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: جب دیگر صحابہؓ اپنی ضروریات کی خاطر کاروبار میں مصروف تھے، حضرت ابوہریرہؓ دن رات آپﷺ کی صحبت اور خدمت میں رہتے اور احادیث از بر فرماتے تھے۔ بعض کتابوں کے دعوے کے برخلاف آپؓ فقیہ بھی تھے اور حافظ محدث بھی۔آپؓ کی روایات زیادہ ہیں اس وجہ سے کہ آپؓ حدیث کی عدم روایت کو کتمان علم سمجھتے تھے۔
ممتاز دینی و سماجی رہ نما نے کہا: ہماری نصابی کتابوں میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی ناقابل برداشت ہے۔ سنی شہری پورے ملک کے کونے کونے میں رہتے ہیں، لہذا نصابی کتابوں میں ہرگز صحابہ کا تذکرہ گستاخانہ انداز میں نہیں ہونا چاہیے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: دنیا میں پوری تاریخ کو دیکھیں ہرگز نبی اکرم ﷺ جیسے اعلی پایہ کے استاذ جو اپنے شاگردوں کو اس انداز میں تربیت کرسکے، آپ کو نظر نہیں آئے گا۔ شیعہ وسنی علما اپنی جگہ، حتی کہ امام ابوحنیفہؒ بھی صحابہؓ جیسے شاگرد تربیت نہ کرسکے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں