آج : 31 October , 2018

رات کی نماز

رات کی نماز

آپ جب اپنے کسی بہت گہرے دوست یا کسی بہت پیارے عزیز، رشتے دار سے ملتے ہیں تو یہی دل چاہتا ہے ناں کہ اس سے خوب باتیں کریں، اس کی سنیں اور اپنی سنائیں اور اگر وہ دوست یا عزیز آپ کا خیرخواہ اور ہمدرد ہو تو آپ اپنے تمام غم اسے بتا کر دل ہلکا کرلیتے ہیں لیکن کیا کوئی دوست آپ کا غم دور بھی کرسکتا ہے؟ نہیں ہمارا غم دور کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی، کوئی ہمارے مدد کرسکتا ہے، ہمیں سمجھا سکتا ہے، ہماری دلجوئی کرسکتا ہے مگر غم یا پریشانی دور نہیں کرسکتا۔
تو پھر ہمارا حقیقی دوست اور مددگار کون ہے؟۔۔۔ یقیناً ہمارا رب۔۔۔ چاہے کسی سے اپنا غم، اپنی فکر، اپنی پریشانی کا ذکر نہ کیجیے مگر اپنے رب کریم کو کہہ دیجیے اور کہیے بھی تنہائی میں اور رو رو کر کہیے، ضد کرکے کہیے وہ نہ صرف آپ کا دکھڑا سنے گا بلکہ اسے دور بھی کردے گا۔ اللہ سے باتیں کرنے کے لیے نماز کا وسیلہ لیجیے اور پانچ وقت کی نماز تو ہم پر فرض ہے ہی، وہ نماز بھی پڑھیے جس کا ذکر اللہ نے قرآن میں فرض نمازوں کے علاوہ کیا ہے یعنی رات کی نماز۔
رات کی اس نماز کو ’تہجد‘ کہا جاتا ہے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’افضل الصلاۃ بعد الفریضۃ صلاۃ اللیل۔۔۔ (مسلم)
’’فرض (نمازوں) کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے۔‘‘
[یہ حدیث بھی ترجمے کے ساتھ سمجھ کر یاد کرلیں]
رات کی نماز یعنی تہجد کی اتنی زیادہ فضیلت آئی ہے کہ خود اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے: ’’رات کے وقت اس کے سامنے سجدے کرو اور بہت رات تک اس (اللہ کی) تسبیح بیان کیا کرو۔‘‘ (سورہ دھر)
’’بے شک پرہیزگار بہشتوں اور چشموں میں ہوں گے اور اپنے رب کی عطا کردہ نعمتیں لے رہے ہوں گے (اس بات پر کہ) بے شک یہ لوگ اس سے پہلے (دنیا میں) نیکوکار تھے، رات کو (تہجد پڑھنے کی وجہ سے) بہت کم سوتے تھے اور اخیر شب میں استغفار کیا کرتے تھے۔ ‘‘
ان کے علاوہ بھی بہت سی آیات تہجد کی فضیلت میں نازل ہوئی ہیں۔ یہ نماز اللہ سے انتہائی قرب کا ذریعہ ہے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’ا ے لوگو! سلام کو پھیلاؤ، لوگوں کو کھانا کھلاؤ، رشتے داریوں کو جوڑو اور رات میں تہجد کی نماز پڑھو جب کہ لوگ سو رہے ہوں، تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ گے۔‘‘ (ترمذی)
ایک اور جگہ ارشادِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
’’جنت میں ایک محل ہے جس کا اندرونی حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آتا ہوگا۔ حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کس کو ملے گا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!؟۔۔۔ فرمایا: اس کو جو شیریں کلام ہو اور لوگوں کو کھانا کھلاتا ہو اور نماز تہجد میں کھڑے ہوئے رات گزارتا ہو، جب کہ لوگ سو رہے ہوں۔‘‘ (طبرانی)
جنت بھی ملے گی اور محل بھی، پھر یہی نہیں بلکہ فرمایا: ’’جس شخص کی رات میں نماز (تہجد) زیادہ ہوگی، اس کا چہرہ دن میں زیادہ حسین ہوگا۔‘‘ (ابن ماجہ)
یعنی تہجد پڑھنے سے چہرے پر نور پیدا ہوتا ہے۔
ایک اور حدیث ہے: ’’تمہیں تہجد ضرور پڑھنی چاہیے اس لیے کہ یہ تمہارے سے پہلے نیک لوگوں کا کفارہ ہے اور گناہوں سے روکنے والی ہے۔‘‘ (ترمذی) دوسری روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ’’بدن سے بیماری دور کرنے والی ہے۔‘‘ (طبرانی)
ایک حدیث قدسی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میرا بندہ اپنے جن اعمال سے میرا قرب حاصل کرتا ہے، ان میں سب سے زیادہ محبوب اعمال وہ ہیں جن کو میں نے اس پر فرض کیا ہے اور میرا بندہ برابر نفلوں کے ذریعے مجھ سے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ میرا محبوب بن جاتا ہے اور جب میرا محبوب بن جاتا ہے تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور میں اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پیر بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔‘‘
سبحان اللہ! کیا بات ہے رب کے کرم کی! کہ نفلی نمازوں اور نفلی عبادتوں سے خوش ہو کر اللہ اپنے بندے کے سارے اعضا کو اطاعتِ الہی میں لگادیتا ہے۔
اور جیسا کہ پہلے ذکر آیا کہ تہجد قرب الہی کا ذریعہ ہے تو ایک اور حدیث میں ارشاد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالی اس نظر آنے والے آسمان پر آجاتا ہے اور بندوں کو بلاتا ہے، کہتا ہے کہ کون ہے جو مجھے پکارے اور میں اس کی مدد کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے اور میں اسے معاف کردوں؟‘‘ (مسلم، بخاری)
اب میں آپ کو ایک سچا واقعہ بتانے جارہی ہوں جو مجھے کسی قریبی عزیزہ نے بتایا تھا، لیجیے ان کی زبانی ہی سنیے: ’’ اللہ تعالی نے مجھے الحمدللہ ہر نعمت سے نواز رکھا ہے۔ میری شادی ایک اچھے گھرانے میں ایک اچھے شخص سے ہوئی۔ اللہ تعالی نے بیٹے اور بیٹیاں دونوں نعمتیں عطا فرمائیں۔ ویسے تو سب بچے کبھی کبھار بیمار ہو ہی جاتے ہیں مگر مجھے اپنی چھوٹی بیٹی کی بہت فکر رہتی تھی۔ وہ بہت کمزور تھی اور کمزور کی وجہ معلوم نہیں تھی۔ میں اور میرے شوہر اسے لے کر بہت سے ڈاکٹروں کے پاس گئے تھے لیکن کہیں بھی اسے کامل صحت نہیں مل پاتی تھی۔ چند دن ٹھیک گزرتے اور پھر اس کی حالت پہلے جیسے ہوجاتی تھی۔ ڈاکٹروں نے اسے معدے کا کوئی مسئلہ بتایا تھا۔ ڈاکٹروں کے بعد حکیموں سے بھی رجوع کیا مگر کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ نکلا۔ اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ ایک روز مجھ سے میری ایک سہیلی ملنے کے لیے آئی وہ شادی کے بعد کسی اور شہر میں چلی گئی تھی۔ اس کے شوہر بہت دین دار تھے اور وہ بھی ان کے رنگ میں رنگ گئی تھی۔ اب کئی سالوں بعد وہ مجھ سے ملنے آئی تھی۔ باتوں باتوں میں، مَیں نے اپنی چھوٹی بیٹی کا ذکر کیا اور اسے ساری تفصیل بھی بتائی کہ کہاں کہاں اس کا علاج کروا چکی ہوں۔ میری سہیلی نے نہایت اطمینان اور یقین سے کہا:
’’فکر مت کرو، ان شاء اللہ تمہاری بیٹی بالکل ٹھیک ہوجائے گی۔ بس تم علاج کے ساتھ ایک کام کرو۔‘‘
میرا دل جیسے کھل دا گیا۔ ’’ہاں ہاں! ضرور کروں گی بتاؤ کیا کروں؟‘‘
’’تم تہجد کی نماز پڑھا کرو اور پھر اللہ سے دعا کیا کرو، اللہ تمہاری مشکل کو آسان کردے گا۔‘‘
اس کی بات سن کر میں نے اثبات میں سر تو ہلادیا مگر حقیقت میں مجھے یہ کام بہت مشکل لگ رہا تھا۔ میں نے کئی دن اسی شش و پنج میں گزار دیے۔ میں ارادہ کرتی اور پھر اگلے دن پرٹال دیتی۔ ایک روز میری بیٹی کی طبیعت زیادہ خراب تھی۔ مجھے بار بار رونا آرہا تھا اور میں خود سے ہی کہہ رہی تھی کہ میں کیسی کاہل اور گناہ گار بندی ہوں کہ اپنے رب سے خاص وقت میں ملنے سے گھبراتی ہوں۔ وہ وقت کہ جس کی تلقین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے اور خود رب کریم اس وقت اپنے بندوں کو دینے کے لیے پکارتا ہے۔۔۔بس پھر میں نے قطعی فیصلہ کرلیا کہ اب ضرور تہجد میں اٹھ کر نماز پڑھوں گی۔ میری نیت و ارادہ مضبوط تھا کہ خود بخود تہجد کے وقت آنکھ کھلنے لگی اور میں نماز کے لیے اٹھنے لگی۔ نماز پڑھ کر خوب اللہ سے دعا مانگتی۔ اللہ کا کرم ہوا کہ مجھے تہجد پڑھتے دو ڈھائی ماہ ہی گزرے تھے کہ میری بیٹی کی تکلیف ختم ہوگئی اور اب وہ بالکل صحت مند ہے اور میں الحمدللہ تہجد کی پابند ہوں، سب کو تہجد پڑھنے کی ترغیب دیتی ہوں کیوں کہ فرض نماز کے بعد یہ سب سے افضل نماز ہے اور رب کریم سے دعا کرنے کا بہترین وقت بھی۔۔۔‘‘
سچ ہے کہ واقعی جب اللہ سے محبت ہو اور اس کی عظمتوں کا احساس دل میں پیدا ہوجائے تو تہجد جیسی عبادت بھی آسان ہوجاتی ہے۔
اللہ عزوجل ہم سب کو فرائض کی پابندی کے ساتھ تہجد گزار بھی بنادے آمین ثم آمین


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں