آج : 29 October , 2018

دینی مدارس اور این جی اوز کے بارے میں دوہرا حکومتی طرز عمل

دینی مدارس اور این جی اوز کے بارے میں دوہرا حکومتی طرز عمل

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۱۳ جولائی ۲۰۱۸ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمایئے:
’’بیرونی امداد کی تفصیل نہ بھجوانے والی ضلع بھر کی ۱۰۵ این جی اوز کو شوکاز جاری ہوئے، مگر سماجی تنظیموں کے سربراہان نے ڈیٹا نہ بھجوا کر احکامات کو ہوا میں اڑادیا، ذرائع کے مطابق عام انتخابات کی مصروفیت کے باعث سماجی تنظیموں کے خلاف کارروائی نہ ہونے کا امکان ہے، جس سے ساری تنظیموں کے حوصلے بڑھ گئے ہیں، تفصیل کے مطابق محکمہ سوشل ویلفیئر سے منسلک ضلع بھر کی ۱۸۶ سماجی تنظیموں میں سے ۸۰ این جی اوز کے سربراہان کی جانب سے ڈیٹا بھجوا دیا گیا، جبکہ ۱۰۵ سماجی تنظیموں کے مالکان نے احکامات کو ہوا میں اڑدیاجس پر محکمہ سوشل ولیفیئر انتظامیہ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے شوکاز نوٹس جاری کر کے وضاحت طلب کی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی سماجی تنظیموں کے سربراہان کے اکاؤنٹس میں ۱۰ کروڑ کے فنڈز کے بارے میں غیرتسلی بخش جواب دینے کی وجہ سے کارروائی کے لیے ڈی جی سوشل ویلفیئر نے احکامات جاری کیے تھے، لیکن کارروائی ابھی تک التوا کا شکار ہے، اسی طرح ۱۸۔۲۰۱۷ء میں بیرونی امداد کے آڈٹ کے لیے اکاؤنٹس کا ڈیٹا طلب کیا گیا تھا، لیکن سماجی تنظیموں کے سربراہان کی طرف سے انکار پر کارروائی کے احکام جاری کیے گئے ہیں، اس موقع پر محکمہ سوشل ویلفیئر حکام نے ’’دنیا‘‘ کو بتایا کہ فنڈز کی تفصیل نہ بھجوانے پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘‘
غیرسرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے حوالے سے یہ صرف ایک ضلع کی صورت حال ہے، جس سے پورے ملک میں پھیلے ہوئے این جی اوز کے وسیع جال اور سرگرمیوں کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ تنظیمیں عوامی تعاون اور غیرملکی امداد کے ساتھ سے معاشرے میں تعلیم، صحت اور دیگر سماجی خدمات کے حوالے سے کام کرتی ہیں اور محکمہ سوشل ویلفیئر کے ہاں رجسٹرڈ ہوتی ہیں، جو ان کے حسابات کی نگرانی کرتا ہے اور آمد و خرچ کے معاملات کو کنٹرول کرنے کاذمہ دار ہے۔
ملک بھر میں پھیلی ہوئی ایسی ہزاروں این جی اوز غیرملکی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں سے جو تعاون حاصل کرتی ہیں، ان کی سرگرمیوں کے بارے میں وقتاً فوقتاً مختلف سطحوں پر تحفظات کا اظہار ہوتا چلا آرہا ہے، جن میں سے ایک بات تو یہی ہے کہ آمد و خرچ میں توازن نہیں ہے اور بہت سی رقم اصل مقصد کے بجائے غیرضروری مدات میں خرچ ہو جاتی ہے، جبکہ دوسری بات ہمیشہ یہ سامنے آتی ہے کہ بہت سی این جی اوز سماجی اور تعلیمی مقاصد سے ہٹ کر پاکستان کی داخلی قومی و دینی پالیسیوں کے بارے میں منفی سرگرمیوں میں مصروف رہتی ہیں اور خاص طور پر بین الاقوامی سیکولر لابیوں کی سرپرستی میں خاندانی نظام کے اسلامی احکام اور مشرقی تہذیب کی اقدار و روایات کو کمزور کرنے کی کوششوں میں ملوث دکھائی دیتی ہیں۔ جس کا تازہ مثال اسی قسم کی ایک این جی او کا اخبارات میں شائع ہونے والا یہ مطالبہ ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کے ووٹوں کا مسلمانوں کی فہرست میں شمار کیا جائے ورنہ ان کے نزدیک انتخابات منصفانہ شمار نہیں ہوں گے۔ جبکہ قادیانیوں کے ووٹوں کا شمار پاکستان کا خالصتاً داخلی دستوری اور قانونی معاملہ ہے۔ جس کا غیر ملکی امداد سے چلنے والی این جی اوز کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسی طرح متعدد این جی اوز دستور پاکستان کی اسلامی دفعات، ملک میں نافذ چند شرعی قوانین، تحفظ ناموسِ رسالت کے قانون اور نکاح و طلاق کے قرآنی احکام کے خلاف بھی نفرت پھیلانے میں ہمہ وقت مصروف رہتی ہیں۔
پنجاب کے ایک سابق صوبائی وزیر پیرمحمد بنیامین رضوی مرحوم نے اپنی وزارت کے دور میں اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا تھا اور این جی اوز کا اس حوالے سے باقاعدہ تعاقب شروع کیا تھا، مگر وہ اسے جاری نہ رکھ سکے اور پھر کسی نامعلوم دشمن کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔ سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے بھی ایک موقع پر اس کی کوشش کی تھی، مگر وہ اس میں پیش رفت نہ کرسکے اور معاملہ جوں کا توں جاری رہا۔
ایک طرف تو یہ صورت حال ہے کہ ہزاروں این جی اوز سماجی خدمات کے نام پر غیرملکی امداد حاصل کرتی ہیں، مگر اس کا حساب نہیں دے پاتیں بلکہ ملک کے دستور و نظریہ اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے خلاف سرگرم عمل رہتی ہیں اور دوسری طرف دینی مدارس کے بارے میں ریاستی اداروں کی چابکدستی اور تیز رفتار کارروائیوں پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے جو عام لوگوں کی امداد کے ساتھ معاشرے میں قرآن و سنت کی تعلیم کو عام کرتے، دینی ماحول کو باقی رکھنے اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی شاندار روایات کے تحفظ کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں، ہمارے ریاستی اداروں کی مجموعی پالیسی اب تک مسلسل یہ چلی آرہی ہے کہ:
* دینی مدارس اپنے آزادانہ تعلیمی کردار سے دست بردار ہو کر خود کو ریاستی اداروں کے حوالے کردیں اور اپنے معاشرتی، تعلیمی و دینی ایجنڈے سے دست بردار ہوجائیں۔
* ان مدارس کو مبینہ طور پر غیرملکی ذرائع سے ملنے والے رقوم سے محروم رکھا جائے جو بہت زیادہ نہیں ہوتیں اور جو تھوڑی بہت ہوتی ہیں، وہ غیرملکی اداروں اور حکومتوں کی بجائے بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی طرف سے فراہم کی جاتی ہیں۔
* ملک کے اندر اپنے عوام کی طرف سے دینی مدارس کو مہیا کی جانے والی امداد کے راستے بھی بند کیے جائیں اور انہیں ان ذرائع آمدن سے محروم کردیا جائے، جس کی ایک مثال چند سالوں سے عیدالاضحی کے موقع پر چرم ہائے قربانی کی مدارس کو فراہمی کے سلسلہ میں اختیار کی جانے والی حکومتی پالیسی ہے کہۂ * مدارس کے منتظمین کو جو اکثر علاقہ کے سرکردہ علماء کرام ہوتے ہیں، اجازت نامہ کے نام پر دفتروں کے بار بار چکر لگوا کر ان کی تذلیل کی جاتی ہے۔
* چرم قربانی بھی قربانی کے گوشت کی طرح قربانی کرنے والے کا حق ہے کہ وہ جس شخص یا ادارے کو چاہے دے، مگر اسے اس حوالے سے پابند کر کے ایک شرعی اور جائز حق سے محروم کردیا جاتا ہے جس کی حیثیت بالکل ایسی ہے جیسے سرکاری طور پر یہ پابندی لگادی جائے کہ قربانی کا گوشت ڈی سی کی اجازت کے بغیر کسی کہ نہ دیا جائے یا کوئی شخص سرکاری اجازت کے بغیر کسی سے قربانی کا گوشت وصول نہ کرے۔
* اس مقصد کے لیے متعلقہ سرکاری محکمے عیدالاضحی کی تعطیلات کے دوران بھی اس قدر چوکنا ہوتے ہیں کہ فوری کارروائی، چھاپے اور گرفتاریاں عمل میں لائی جاتی ہیں۔
* اس کے علاوہ بھی دینی مدارس کے خلاف مختلف النوع کارروائیاں سال بھر جاری رہتی ہیں اور ایک طرح سے ان پر خوف و ہراس کی فضا ہر وقت مسلط رکھنے کو مستقل حکومتی پالیسی کا درجہ دے دیا گیا ہے۔
ہماری اس گزارش کو عملی طور پر دیکھنا ہو تو قارئین اگلے ماہ عیدالاضحی کے موقع پر کھلی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں کہ کروڑوں روپے کی غیرملکی امداد کوئی حساب دیے بغیر ہضم کرنے والی این جی اوز کے خلاف کارروائی کے احکام تو ایک سال سے معرض التوا میں پڑے ہوئے ہیں، مگر اپنے ہی محلہ میں اپنے ہی شاگردوں اور نمازیوں سے قربانی کی کھال وصول کرنے والے مدارس کے خلاف کارروائی اس تیز رفتاری اور بے رحمی سے ہوگی کہ یوں لگے گا جیسے ملک کی مقدس سرحد پر کسی دشمن نے حملہ کردیا ہے اور ملکی سالمیت کے تحفظ کے لیے اس قدر فوری ایکشن ناگزیر ہوگیا ہے۔
سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے دورِ اقتدار میں ایک بین الاقوامی فورم پر کہا تھا کہ دینی مدارس ملک کی سب سے بڑی این جی اوز ہیں جو لاکھوں شہریوں کو مفت تعلیم، رہائش، خوراک اور دیگر سہولیات فراہم کرتی ہیں، مگر معاشرے میں دینی تعلیم اور اسلامی ماحول قائم رکھنے کے لیے محنت کرنے والے دینی مدارس اور غیرملکی امداد کے ساتھ اسی معاشرے میں دینی تعلیم، تہذیب اور اسلامی معاشرتی اقدار کے خلاف کام کرنے والی ہزاروں این جی اوز کے بارے میں حکومتی اداروں کا یہ متضاد طرز عمل اور دوہرا معیار بھی سامنے رکھیں، کیا ہمارے قومی سطح کے پالیسی ساز ادارے ملک کے دستور و قانون اور اپنے ہی دین و ثقافت کے ناگزیر تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس طرز عمل پر نظر ثانی کی کوئی صورت نکال سکیں گے؟

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں