آج : 29 October , 2018
توضیح القرآن

آسان ترجمہ قرآن، سورۃ الانعام (۱۔۱۰)

آسان ترجمہ قرآن، سورۃ الانعام (۱۔۱۰)

الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ۖ ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ ﴿١﴾ هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن طِينٍ ثُمَّ قَضَىٰ أَجَلًا ۖ وَأَجَلٌ مُّسَمًّى عِندَهُ ۖ ثُمَّ أَنتُمْ تَمْتَرُونَ ﴿٢﴾ وَهُوَ اللَّـهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ ۖ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ ﴿٣﴾ وَمَا تَأْتِيهِم مِّنْ آيَةٍ مِّنْ آيَاتِ رَبِّهِمْ إِلَّا كَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِينَ ﴿٤﴾ فَقَدْ كَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ ۖ فَسَوْفَ يَأْتِيهِمْ أَنبَاءُ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ﴿٥﴾ أَلَمْ يَرَوْا كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّن لَّكُمْ وَأَرْسَلْنَا السَّمَاءَ عَلَيْهِم مِّدْرَارًا وَجَعَلْنَا الْأَنْهَارَ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمْ فَأَهْلَكْنَاهُم بِذُنُوبِهِمْ وَأَنشَأْنَا مِن بَعْدِهِمْ قَرْنًا آخَرِينَ ﴿٦﴾ وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتَابًا فِي قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوهُ بِأَيْدِيهِمْ لَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ ﴿٧﴾ وَقَالُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ ۖ وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِيَ الْأَمْرُ ثُمَّ لَا يُنظَرُونَ ﴿٨﴾ وَلَوْ جَعَلْنَاهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنَاهُ رَجُلًا وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِم مَّا يَلْبِسُونَ ﴿٩﴾ وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ﴿١٠﴾

ترجمہ:
تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور اندھیریاں اور روشنی بنائی۔ پھر بھی جن لوگوں نے کفر اپنالیا ہے وہ دوسروں کو (خدائی میں) اپنے پروردگار کے برابر قرار دے رہے ہیں[۱]
وہی ذات ہے جس نے تم کو گیلی مٹی سے پیدا کیا، پھر (تمہاری زندگی کی) ایک میعاد مقرر کردی۔ اور (دوبارہ زندہ ہونے کی) ایک متعین میعاد اسی کے پاس ہے(۱)۔ پھر بھی تم شک میں پڑے ہوئے ہو[۲]
اور وہی اللہ آسمانوں میں بھی ہے، اور زمین میں بھی۔ وہ تمہارے چھپے ہوئے بھید بھی جانتا ہے، اور کھلے ہوئے حالات بھی، اور جو کچھ کمائی تم کررہے ہو، اس سے بھی واقف ہے[۳]
اور (ان کافروں کا حال یہ ہے کہ) ان کے پاس ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے جب بھی کوئی نشانی آتی ہے، تو یہ لوگ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں[۴]
چنانچہ جب حق ان کے پاس آگیا تو ان لوگوں نے اسے جھٹلا دیا۔ نتیجہ یہ کہ جس بات کا یہ مذاق اُڑاتے رہے ہیں، جلد ہی ان کو اس کی خبریں پہنچ جائیں گی(۲)۔ [۵]
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں! ان کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار دیا تھا جو تمہیں نہیں دیا۔ ہم نے ان پر آسمان سے خوب بارشیں بھیجیں، اور ہم نے دریاؤں کو مقرر کردیا کہ وہ ان کے نیچے بہتے رہیں۔ لیکن پھر ان کے گناہوں کی وجہ سے ہم ان کو ہلاک کر ڈالا، اور ان کے بعد دوسری نسلیں پیدا کیں[۶]
اور (ان کافروں کا حال یہ ہے کہ) اگر ہم تم پر کوئی ایسی کتاب نازل کردیتے جو کاغذ پر لکھی ہوئی ہوتی، پھر یہ اسے اپنے ہاتوں سے چھو کر بھی دیکھ لیتے، تو جن لوگوں نے کفر اپنالیا ہے وہ پھر بھی یہی کہتے کہ یہ کھلے ہوئے جادو کے سوا کچھ نہیں۔[۷]
اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ: ’’اس (پیغمبر) پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اُتارا گیا؟‘‘ حالانکہ اگر ہم کوئی فرشتہ اتاردیتے تو سارا کام ہی تمام ہوجاتا(۳)، پھر ان کو کوئی مہلت نہ دی جاتی۔[۸]
اور اگر ہم فرشتے ہی کو پیغمبر بناتے، تب بھی اسے کسی مرد ہی (کی شکل میں) بناتے، اور ان کو پھر ہم اسی شبہے میں ڈال دیتے جس میں اب مبتلا ہیں(۴)۔[۹]
اور (اے پیغمبر!) حقیقت یہ ہے کہ تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اُڑایا گیا ہے، لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں سے جن لوگوں نے مذاق اُڑایا تھا، ان کو اسی چیز نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اُڑایا کرتے تھے۔[۱۰]

حواشی:
(۱) یعنی ایک میعاد تو ہر انسان کی انفرادی زندگی کی ہے کہ وہ کب تک جئے گا، شروع میں تو اس کا علم کسی کو نہیں ہوتا، مگر جب کوئی شخص مرجاتا ہے تو ہر ایک کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کی عمر کتنی تھی۔ لیکن مرنے کے بعد جو دوسرے زندگی آنے والی ہے، وہ کب آئے گی؟ اس کا علم صرف اللہ تعالی کے پاس ہے۔
(۲) کفار سے کہا گیا تھا کہ اگر انہوں نے ہٹ دھرمی کا رویہ جاری رکھا تو دنیا میں بھی ان کا انجام برا ہوگا، اور آخرت میں بھی ان کو عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کفار ان باتوں کا مذاق اُڑاتے تھے۔ آیت ان کو متنبہ کررہی ہے کہ جس بات کا وہ مذاق اُڑا رہے ہیں، عنقریب وہ ایک حقیقت بن کر ان کے سامنے آجائے گی۔
(۳) یہ دُنیا چونکہ انسان کے امتحان کے لئے بنائی گئی ہے، اس لئے انسان سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ اپنی عقل سے کام لے کر اللہ تعالی پر اور اس کے بھیجے ہوئے رسولوں پر ایمان لائے۔ چنانچہ اللہ تعالی کی سنت یہ ہے کہ جب کوئی غیبی حقیقت آنکھوں سے دِکھا دی جاتی ہے تو اس کے بعد ایمان لانا معتبر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص موت کے فرشتوں کو دیکھ کر ایمان لائے تو اس کا ایمان قابلِ قبول نہیں۔ کفار کا مطالبہ یہ تھا کہ اگر کوئی فرشتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی لے کر آتا ہے تو وہ اس طرح آئے کہ ہم اسے دیکھ سکیں۔ قرآنِ کریم نے اس کا پہلا جواب تو یہ دیا ہے کہ اگر فرشتے کو انہوں نے آنکھ دے دیکھ لیا تو پھر مذکورہ بالا اُصول کے مطابق ان کا ایمان معتبر نہیں ہوگا، اور پھر انہیں اتنی مہلت نہیں ملے گی کہ یہ ایمان لاسکیں۔ دوسرا جواب اگلے جملے میں ہے۔
(۴) یعنی اگر کسی فرشتے ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجتے، یا پیغمبر کی تصدیق کے لئے لوگوں کے سامنے بھیجتے تب بھی اس کو انسانی شکل ہی میں بھیجنا پڑتا، کیونکہ کسی انسان میں یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ کسی فرشتے کو دیکھ سکے۔ اس صورت میں پھر یہ کافر لوگ وہی اعتراض دُہراتے کہ یہ تو ہم جیسا ہی آدمی ہے۔ اس کو ہم پیغمبر کیسے مان لیں؟

مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ الله


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں