آج : 13 October , 2018

دارالعلوم دیوبند! (ایک جائزہ)

دارالعلوم دیوبند! (ایک جائزہ)

نوٹ: آج سے تقریبا ۸۰ سال قبل مصر کے ہفت روزہ ’’الاسلام‘‘ میں محدث العصر حضرت علامہ سید محمدیوسف بنوری رحمہ اللہ کا ایک عربی مضمون شائع ہوا تھا، جس کا اردو ترجمہ بعد میں جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے ترجمان رسالہ ’’الرشید‘‘ کی اشاعتِ خاص ’’دارالعلوم دیوبند نمبر‘‘ ۱۳۹۶ھ؍ ۱۹۷۶ء میں شائع ہوا، مضمون کا مختصر تعارف حضرت نے اپنے قلم سے یوں فرمایا تھا:
’’ماہنامہ ’الرشید‘ کے خاص نمبر ’دارالعلوم دیوبند نمبر‘ کے لیے راقم الحروف بنوری سے عزیزم عبدالرشید ارشد نے مضمون لکھنے کی فرمائش کی تھی، ضعیف اور عدیم الفرصت ہونے کی وجہ سے جدید مضمون لکھنے سے قاصر رہا۔ آج سے تقریباً ۴۰ سال قبل قاہرہ میں ایک مضمون عربی میں ایک ہفت روزہ رسالہ ’’الاسلام‘‘ میں وہاں کے فضلاء کے مطالعہ کے لیے لکھا تھا کہ وہ دارالعلوم کی خدمات سے واقف ہوسکیں، اس کا ترجمہ پیش کیا جارہا ہے۔ ظاہر ہے کہ ۴۰ سال پہلے دارالعلوم کا جو کارنامہ تھا، بعد میں دارالعلوم دیوبند نے بہت سے جدید کارنامے اور آثار مبارکہ اضافہ کیے ہیں، ان کا ذکر اس میں نہ ملے گا، یہ بات پیش نظر رہے۔‘‘ [محمد یوسف بنوری]
افادیت کے پیش نظر مذکورہ بالا تحریر ماہنامہ ’’بینات‘‘ میں افادۂ عام کے لیے پیش خدمت ہے۔‘‘

زمانے میں اللہ تعالی کے کچھ نفحات ہیں، وہ ایک قوم کو خاص ترجیحی مآثر عطا کرتا ہے اور دوسری قوم کو دیگر خصائص سے مشرف کرتا ہے۔ کبھی قوموں کو یہ خصائص عطا کرتا ہے اور کبھی اُن سے روک لیتا ہے، چنانچہ ارشاد ہے: ’’اور ان ایام کو ہم بدلتے رہتے ہیں لوگوں میں۔‘‘ نیز ارشاد ہے: ’’یہ اللہ کی سنت ہے جو گزر چکی ہے اس کے بندوں میں۔‘‘ قرونِ اولیٰ کی بات رہنے دیجئے جن میں قرآن و سنت اور حدیث کے چشمے اُبل رہے تھے، قرونِ متوسطہ‘ چوتھی صدی سے آٹھویں صدی تک ہی کو لیجئے، آپ دیکھیں گے کہ اس دور میں خطۂ عرب، حجاز، عراق، شام، اُندلس، مصر اور خراسان و ماوراء النہر کے علاقے کتاب و سنت اور دیگر علومِ دینیہ سے بکثرت بہرہ ور ہیں اور ان میں بلند پایہ حفاظ حدیث و ناقدین رجال، مایہ ناز ائمہ فقہ اور حاملین دین کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر نظر آئے گا، جن کی کثرت سے عقل حیران ہے۔
حافظ خطابی الشافعی، ابوعمر قرطبی مالکی، حافظ عزالدین، ابن عبدالسلام الشافعی، حافظ ابن دقیق العید، حافظ فضل اللہ تور پشتی حنفی، حافظ علاء الدین الماردینی حنفی، حافظ علاء الدین مغلطائی، حافظ ابن حجر اور اس پائے کے دیگر جہابذۂ امت، اس دور میں آسمان علم و فضل کے درخشندہ ستارے بن کر چمکے اور ایک عالم کو اپنی روشنی سے منور کیا۔
لیکن اس دور میں سرزمین ہند بنجر نظر آتی ہے اور وہ مذکورہ بالا علاقوں کے عبقری افراد کے شانہ بشانہ چلنے سے قاصر ہے، بلاشبہ اس دور میں بھی کچھ سربرآوردہ افراد پیدا ہوئے اور باہر سے یہاں آئے، لیکن اُن کے آثار و نشانات اَنمٹ ثابت نہ ہوئے، تا کہ اللہ تعالی نے خطۂ ہند پر احسان فرمایا اور عبقری امام، نابغۃ الایام، الامام الحجۃ شاہ ولی اللہ فاروقی دہلویؒ کو پیدا کیا، جب کہ ہندوستان کے اُفق پر غالی شیعوں اور رافضیوں کے سیاہ بادل منڈ لارہے تھے، قریباً سارے ہندوستان پر ان کا تسلط تھا، بدعات راسخ ہوچکی تھیں اور سنت کی رسی بوسیدہ ہو رہی تھی۔
نوامیسِ فطرت میں اللہ تعالی کی یہ سنت جاری ہے کہ ایک جماعت تا قیامت حق پر قائم رہے گی اور یہ کہ اللہ تعالی ہر آئندہ نسل میں ایسے رجال کار کو کھڑا کرتا رہے گا جو دین سے غالیوں کی تحریف اور باطل پرستوں کے غلط ادعاء کی اصلاح کرتے رہیں گے، چنانچہ اسی سنت کے مطابق اللہ تعالی نے اس امام کے ذریعے ملتِ حنفیہ کے ستونوں کو مضبوط کیا، قرآن و سنت کے علم صحیح کی بنیاد ڈالی اور قوم کی بدحالی کا مداوا کیا، اُن کے بعد ان کی اولاد و احفاد کے ذریعے ولی اللہی تحریک پروان چڑھی اور اس کے حسن روز افزون کو چار چاند لگے۔
پس ہندوستان میں یہ پہلی دینی و علمی تحریک تھی، جس کی بنیادیں نہایت راسخ اور جس کی عمارت بلند و بالا تھی۔ امام ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کی جدید علمی تحریک اور شیعوں کی دستبرد سے اہل سنت و الجماعت کے مسلک کی حمایت و حفاظت کا بار اُن کے فرزندِ اکبرشاہ عبدالعزیز دہلوی رحمہ اللہ نے اُٹھایا اور اُن کی تحریک دینی اور مروجہ بدعات کی اصلاح و تردید کو سنبھالنے کا فریضہ شاہ اسماعیل شہید بن شاہ عبدالغنی بن شاہ ولی اللہ رحمہم اللہ نے انجام دیا، یوں ان دو شخصوں کے ذریعے اللہ تعالی نے شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی علمی و اصلاحی تحریک کی تکمیل کرائی۔
بعد از اں جب ویرانۂ ہند پر حکومت کے منحوس سائے پھیلنے لگے اور اس کے جبر و استبداد اور تسلط کو استحکام نصیب ہوا، تو ولی اللہی تحریک کے انوار مٹنے لگے اور اس باد موسم سے اس کی تر وتازہ شاخیں پژمردہ ہونے لگیں۔ اُدھر برٹش گورنمنٹ کے تکبر و خودسری میں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں حکومت اور مسلمانوں کے درمیان ۱۸۵۷ء کا معرکہ ہوا، جس میں بدقسمتی سے حکومت کو غلبہ اور مسلمانوں کو شکست ہوئی، اس سے حکومتِ برطانیہ کی تیزی و تندی میں مزید اضافہ ہوا، اس کا تسلط اور بھی مستحکم ہوگیا۔
اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اس کی انتقامی سازشوں سے دین کی بنیادیں ہلنے لگیں اور شعائر اسلام ایک ایک کرکے مٹنے لگے۔ ان بھیانک تاریکیوں میں ایک گمنام سے خطے میں جو دارالسطنت دہلی سے تقریبا سو میل کے فصل پر واقع ہے، روشنی کی صبح صادق نمودار ہوئی، یہ مبارک خطہ قصبۂ دیوبند ہے، چنانچہ عارف باللہ الشیخ مولانا محمدقاسم نانوتوی دیوبندی رحمہ اللہ نے ۱۲۸۳ھ میں ایک دینی و علمی مرکز کی بنیاد رکھی، جو آج دارالعلوم اور جامعہ قاسمیہ کے نام سے شہرۂ آفاق ہے۔ یہ روشنی بتدریج پھیلتی چلی گئی، یہاں تک کہ اس سے دور دراز کے تاریک علاقے بھی منور ہوگئے اور خطۂ ہند سے جہل کے پردے ہٹ گئے اور پھر اُس کا فیضان خطہ ہند سے نکل کر جاوا، سماٹرا، چین، جنوبی افریقہ، افغانستان اور ایران تک پہنچا اور ان شاء اللہ! اس کے نور و ضیاء اور حسن و بہار میں روزافزون اضافہ ہوتا رہے گا۔
جو حقائق میری آنکھوں کے سامنے ہیں وہ مجھے مجبور کر رہے ہیں کہ میں علی رؤس الاشہادیہ دعویٰ کروں کہ اگر سرزمین دیوبند سے علم و معرفت کا یہ چشمۂ صافیہ نہ بہہ نکلا ہوتا تو تیرہویں صدی کے اواخر میں ہندوستان سے قرآن و سنت کے علوم کا خاتمہ ہوگیا ہوتا۔
میں یہاں اس عظیم الشان دانش کدہ کی ابتدائے تاسیس سے لے کر اسلامی صدی کے نصف تک کے ۷۰ سالہ دور کے آثار و برکات کی جانب چند اشارات کرنا چاہتا ہوں:

دیوبند اور افراد سازی
جن حضرات نے اس دارالعلوم میں داخل ہو کر اُس کے درجات عالیہ میں درس لیا، مگر اس کے پورے نصاب کی تعلیم نہیں پائی، ان کی تعداد دس ہزار سے زائد ہے اور جو حضرات اس کے مقررہ نصاب کی تکمیل کے بعد دارالعلوم کی آخری سند سے مشرف ہوئے، ان کا شمار پانچ ہزار تک پہنچتا ہے اور ان میں سے وہ نابغہ شخصیتیں جنہوں نے علم و حکمت کے دروازے کھولے اور ہندوستان میں مختلف جہتوں سے فیض کے چشمے جاری کیے، ان کی تعداد ایک ہزار نفوسِ قدسیہ سے کم نہیں۔ ۱۲۵۰ھ سے ۱۳۵۷ھ تک دارالعلوم سے فیض یاب ہونے والے طلبہ کا سالانہ داخلہ ڈیڑھ ہزار ہے اور ان میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ صرف وہ طلبہ ہیں، جو خاص دارالعلوم میں اقامت پذیر ہیں، ان طلبہ کی تعداد اس کے علاوہ ہے، جو دارالعلوم سے وابستہ مدارس میں تعلیم پاتے ہیں اور مجموعی طور پر ان دینی مدارس سے فارغ ہونے والے علماء کرام کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے، جو میں اُوپر ذکر کر چکا ہوں۔

دیوبند اور تاسیس مدارس
جو حضرات اس شیریں اور فیاض چشمہ (دارالعلوم دیوبند) سے سیراب ہو کر نکلے، انہوں نے اپنے اپنے علاقے میں بے شمار مدارس دینیہ کی بنیادیں استوار کیں، اس وقت ان کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہے، تا ہم جو مدارس اس جامعہ (دارالعلوم دیوبند) سے منسوب ہیں، ہندوستان میں ان کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہوگی۔
ان میں سے بعض مدارس وہ ہیں جن کی بنیاد فضلائے دارالعلوم نے خود رکھی، بعض ایسے ہیں جن کو فضلائے دارالعلوم کے مبارک ہاتھ تدریس و اہتمام کی شکل میں چلا رہے ہیں اور بعض ایسے ہیں جن کا دارالعلوم سے امتحانی رابطہ ہے اور سالانہ امتحان کے پرچے دارالعلوم سے ارسال کیے جاتے ہیں، مگر یہ مدارس کسی محکمۂ اوقاف کے زیر انتظام چل رہے ہیں، نہ کوئی مخصوص جماعت ان کی کفیل ہے، تا کہ جامعہ ازہر سے متعلقہ مدارس کی طرح ان میں انتظامی وحدت ہوتی، بلکہ ہر مدرسہ اپنے اُمور و معاملات میں مستقل ہے، بہر حال یہ جامعہ دارالعلوم دیوبند ان تمام دینی مدارس کی اصل بنیاد (اُم المدارس) ہے جو سرزمین ہند کو منور کر رہے ہیں۔

دیوبند کی نابغہ اور سرآمد روزگار شخصیتیں
علماء دیوبند میں سب سے اول جن حضرات کو سیادت و قیادت کا شرف حاصل ہوا وہ تین افراد تھے جن کے سینوں میں پاک صاف دل اور اُن کے دماغ میں بلند پایہ اسلامی افکار و علوم کا وسیع سمندر تھا۔
۱: الشیخ الامام عارف باللہ مولانا محمدقاسم رحمہ اللہ (المتوفی: ۱۲۹۷ھ)
۲: الفقیہ المحدث العارف مولانا الشیخ رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ (المتوفی: ۱۳۲۳ھ)
۳: بحر بیکراں الشیخ مولانا محمد یعقوب نانوتوی رحمہ اللہ (المتوفی: ۱۳۰۴ھ)
ان حضرات کے خصائص کی تفصیل کے لیے مستقل فرصت درکار ہے۔ مختصر یہ کہ یہ حضرات علوم کتاب و سنت اور علوم ظاہر و باطن کے جامع اور عارفین اور اصحاب قلوب کی وراثت کے امین تھے، انہوں نے پہاڑ سے زیادہ راسخ عزائم کے ساتھ ورع و زہد، انکسار و تواضع، شہرت سے نفرت اور اتباع سنت ایسے بلند پایہ اخلاق و شمائل کو اس حد تک جمع کرلیا تھا کہ اخلاق عالیہ میں یہ حضرات اپنے دور میں ضرب المثل تھے، ان کی تعریف میں راقم الحروف کا یہ قصیدہ ہے:
ھمم لھم فی الدھر درۃ تاجھم کلم لھم تشفی الصدی صلصال
’’ان کا عزم و ہمت زمانے میں ان کے تاج کا موتی ہے۔ ان کے کلمات سے خشک لب تشنۂ سیراب ہوتا ہے۔‘‘
سمت و صمت و الوقار و ھیبۃ علم غزیر ھامی ھطال
’’خوش روئی، خاموشی، وقار، ہیبت، بے پناہ برسنے اور بہنے والا علم۔‘‘
لھم التواضع و الرزانۃ و التقی فضل لھم ضربت بہ المثال
’’ان کی تواضع، رزانت و متانت اور تقویٰ، و طہارت کے فضائل ضرب المثل ہیں۔‘‘
و تلأ لأت أنوارھم بوجوھھم ھدی النبی جمالھم و جلال
’’ان کے انوار اُن کے چہروں سے چمکتے ہیں، ان کا جلال و جمال طریقہ نبوی کی تفسیر ہے۔‘‘
کرم و خلق عفّۃ و دیانۃ ھدی الصحابۃ حالھم و مقال
’’کرم، اخلاق، عفت و دیانت میں ان کا قول و عمل صحابہؓ کے نقش قدم پر ہے۔‘‘
باھی جمالھم جمال شریعۃ فھی جمال و زاد کمال
’’ان کے ذاتی جمال کا جمالِ شریعت سے آمیزہ ہوا، تو ان کے جمال کو چار چاند لگ گئے اور کمال میں اضافہ ہوا۔‘‘
و بھی کمالھم کمال علومھم عند التباھی فاستزاد جمال
’’اور بوقتِ مقابلہ کمالِ علوم کے ساتھ ان کا ذاتی کمال غالب آیا اور ان کے حسن و جمال میں اضافہ کا موجب ہوا۔‘‘
دع وصف قوم أزھرت آثارھم فالشمس البھر و المدیح خیال
’’اس قوم کی کیا تعریف کی جائے جن کے آثار تاباں و درخشاں ہیں، پس آفتاب خود ہی روشن ہے اور مدح و ثناء خیالِ محض ہے۔‘‘
و الشمس طالعۃ زھت أنوارھا و الوصف یقصر و المجال حجال
’’اور آفتاب طلوع ہے اس کے انوار خود چمکتے ہیں، وصف قاصر رہتا ہے اور گفتگو کی مجال وسیع ہے۔‘‘
ان حضرات کے بعد قیادت مندرجہ ذیل حضرات کے سپرد ہوئی:
۱: مسند الوقت، شیخ العصر، الاستاذ الامام، شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ (۱۳۳۹ھ)
۲: عارف باللہ الشیخ مولانا عبدالرحیم رائے پوری رحمہ اللہ (۱۳۳۷ھ)
۳: شیخ المحدث مولانا خلیل احمد سہارن پوری رحمہ اللہ (المتوفی بالمدینۃ المنورۃ ۱۳۴۶ھ و دفن بالبقیع)
ان کے بعد شیخ محدث حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی طال بقاۂٗ اور الشیخ امام العصر الشاہ محمد انور الکشمیری رحمہ اللہ (متوفی ۱۳۵۲ھ) اور موجودہ دور میں اس کے ستون جن پر اس کی عمارت قائم ہے چار نفوس ہیں:
۱: الشیخ مولانا اشرف علی تھانوی۔
۲: محقق العصر مولانا شبیر احمد عثمانی دیوبندی، صاحب فتح الملہم شرح صحیح مسلم، شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ ڈابھیل۔
۳: شیخ العصر مولانا الشیخ حسین احمد مدنی، شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند۔
۴: فاضل محقق مفتی اعظم مولانا کفایت اللہ دہلوی، صدر جمعیت علماء ہند۔
مسلمانوں کی رہنمائی اور بیداری میں ان چاروں حضرات کی مساعی جمیلہ قابلِ تشکر ہیں، انہوں نے مسلمانوں کے لیے علم و عمل اور دین و سیاست کا بہت اونچا معیار قائم کیا ہے اور اُن کے لیے علمی و سیاسی اور اجتماعی و انفرادی مسائل پر غور و فکر کرنے کی راہیں کشادہ کردی ہیں۔ یہ حضرات پختہ فکر، ذہن رسا، صدق عمل اور خلوص نیت کے جامع ہیں، ان کے چہروں سے علم و حکمت کا نور، جھلکتا ہے اور قیل و کمال کی علامات نمایاں ہیں۔ اللہ تعالی امت کے لیے ان کی نافع زندگی کو عافیت و سلامتی سے ہم کنار کرے اور عزت و کرامت کے ساتھ ان کی مساعیِ مبارکہ میں برکت فرمائے۔

علمائے دیوبند اور ان کے علمی آثار
علمائے دیوبند نے تفسیر و قرآن، شرحِ حدیث، اصول فقہ، فقہ حنفی، فرائض، توحید و عقائد، سیرت و آداب اور دیگر علوم و فنون میں نیز فرق باطلہ، عیسائیت، ملاحدہ، دہریت، مرزائیت اور قادیانیت کے رد میں، نیز دین متین کی حفاظت اور مبتدعین کے رد اور غیرمقلدین کی بعض سینہ زوریوں کی تردید میں جو کتابیں تالیف فرمائی ہیں، ان کی تعداد دو ہزار کے قریب ہے، جن میں چھوٹے چھوٹے رسائل سے لے کر کئی کئی جلدوں پر مشتمل ضخیم کتابیں شامل ہیں۔ یہ مقدار صرف اکابر اور نابغہ شخصیتوں کی تالیف کی ہے، دارالعلوم کے دیگر فضلاء اور منتسبین کی تالیفات مزید برآں ہیں۔ ان تمام کتابوں کے نام کی تفصیل کے لیے ایک مستقل کتاب درکار ہے۔ ان اکابر میں سے صرف ایک مصنف حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کی تصنیفات ۵۰۰ سے زائد ہیں، ان میں سے بعض کتابوں کی دو سے لے کر بارہ تک جلدیں ہیں، یہاں تک کہ موصوف کثرتِ تالیف میں قاہرہ کے نابغہ عالم شیخ جلال الدین سیوطیؒ سے بھی فائق ہیں۔ اگر میں یہ کہوں تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا کہ اس نابغۂ ہند کی کتابیں اتقان و تحقیق میں نابغہ مصر کی کتابوں سے فائق ہیں۔ ہاں! سیوطیؒ کی وسعت معلومات اور ان کے حیرت افزا تبحر کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ شیخ تھانوی کی ان کتب مذکورہ میں سے بیشتر ملکی زبان اردو میں ہیں، لیکن عربی میں بھی کم نہیں۔ پھر ان تالیفات کے علاوہ آپ کے وہ مواعظ و ملفوظات ہیں، جو آپ نے مختلف مجالس اور جلسوں میں بیان فرمائے اور جن میں بہت سے علوم اور بلند پایہ تحقیقات ہیں۔
علمائے دیوبند میں سے صرف ایک عالم مولانا الشیخ الفقیہ عزیز الرحمن دیوبندی رحمہ اللہ نے مختلف سوالات کے جواب میں پچاس ہزار فتاویٰ صادر فرمائے۔ ان کے فتاویٰ دارالعلوم کے کتب خانے میں محفوظ ہیں اور شیخ تھانوی کے فتاویٰ کی (۵) ضخیم جلدیں طبع ہوچکی ہیں اور شیخ محدث و فقیہ مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کے فتاویٰ (۳) جلدوں میں شائع ہوچکے ہیں۔ اس طرح ان حضرات کے علم و نفع کثیر کا دنیا میں چرچا ہے۔ میں یہاں ان حضرات کی ان کتابوں کا اجمالی تذکرہ کرتا ہوں، جو تفسیر قرآن، شرح حدیث، شروح کتب حدیث اور علم و ادب سے متعلق ہیں۔

علمائے دیوبند اور تفسیر قرآن
۱: ترجمہ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ ، بزبانِ اردو، اس پر عجیب و غریب فوائد تحریر فرمانے کا سلسلہ شروع کیا تھا، مگر ان کی تکمیل نہ فرما سکے۔
۲: تکملہ فوائد شیخ الہندؒ ، از محقق عصر مولانا شبیراحمد عثمانیؒ ، سورۂ آل عمران اور سورۂ مائدہ سے آخرِ قرآن تک۔
۳: تفسیر بیان القرآن، ۱۲؍حصص از مولانا اشرف علی تھانوی، جو نفائس جلیلہ پر مشتمل ہے۔
۴: خلاصۂ تفسیر بیان القرآن، از مصنف موصوف۔
۵: فتح المنان فی تفسیر القرآن، از مولانا عبدالحق دہلوی دیوبندی (تحصیلاً) آٹھ ضخیم جلدوں میں یہ تفسیر عربی اور اردو دونوں میں مشتمل ہے اور اس میں بلند پایہ فوائد ہیں۔
۶: البیان فی علوم القرآن، از مولانا عبدالحق موصوف، یہ بہت ہی عمدہ کتاب ہے، اس کا انگریزی میں ترجمہ ہوچکا ہے۔
۷: ترجمۂ قرآن، مولانا عاشق الہی، مع فوائد تفسیریہ (اردو)
۸: مشکلات القرآن، از امام العصر مولانا محمدانور شاہ کشمیری (عربی)
۹: اعجازُ القرآن، از محقق العصر مولانا شبیر احمد عثمانی دیوبندی۔
۱۰: حاشیہ تفسیر بیضاوی کامل، از مولانا عبدالرحمن امروہی (عربی)
۱۱: حاشیہ تفسیر جلالین، از مولانا حبیب الرحمن دیوبندی سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند۔
۱۲: سبق انعامات فی نسق الآیات (عربی) از حکیم الامت تھانوی۔
۱۳: رسالہ اسرارِ قرآنی (اردو) از مولانا محمدقاسم نانوتوی آپ کا ایک رسالہ آیات قبلہ کے اسرار میں ہے۔
۱۴: درسِ تفسیر قرآن (اردو) از مولانا حسین علی پنجابی، تلمیذ حضرت شیخ گنگوہیؒ ۔
۱۵: تقریرات متعلقہ تفسیر قرآن: از مولانا عبیداللہ سندھی دیوبندی جو اُن کے بعض تلامذہ نے قلم بند کیں۔
۱۶: حاشیہ تفسیر مدارک، تا بقرہ از بعض علمائے دیوبند۔
۱۷: فوائد تفسیریہ، از مولانا احمد علی لاہوری جو مولانا سندھی سے مستفاد ہیں۔
۱۸: قرآن کریم کی چند سورتوں سے متعلقہ چند رسائل، از مولانا احمدعلی لاہوری، یہ بھی مولانا سندھی سے مستفاد ہیں۔
نوٹ: (مولانا احمد علی لاہوری کے نام کا محمد علی لاہوری قادیانی کے نام سے التباس نہ ہونا چاہیے، مولانا احمدعلی اہل حق میں سے ہیں اور محمدعلی لاہوری طائفہ قادیانیہ مرزائیہ کے بڑے طاغوتوں میں سے تھا۔ قادیانیت کے بانی اور اس کے موافقین کی تکفیر پر علمائے ہند کا اجماع ہے، ان برخود غلط دعا دی کی بنا پر جن کو سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ مسٹر محمدعلی لاہوری نے بھی بیان القرآن کے نام سے ایک تفسیر لکھی ہے جس میں ہذیانات اور اباطیل ہیں، پس متنبہ رہنا چاہیے۔)
۱۹: شیخ محقق تھانوی کے دو رسالے جن میں سے ایک میں نذیراحمد دہلوی پر اور دوسرے میں مولانا احمد علی کے رسائل پر تنقید کی ہے۔
۲۰: ہدیۃ المہدیین فی تفسیر آیت خاتم النبیین، از مولانا محمد شفیع دیوبندی، خاصا بڑا اور عجیب رسالہ ہے۔
۲۱: خاتم النبیین: امام العصر مولانا محمدانور شاہ کشمیریؒ کا آیت خاتم النبیین میں ایک رسالہ ہے، جو بہت ہی عجیب و غریب علوم پر مشتمل ہے۔
۲۲: عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسی علیہ السلام از امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ۔ حضرت عیسی علیہ السلام سے متعلقہ آیات کی مبسوط شرح جو بہت سے علوم و لطائف پر حاوی ہے۔ قرآن کریم سے متعلقہ علمائے دیوبند کی تالیفات کا احاطہ بہت ہی دشوار ہے۔ بلاتامل جو فوری طور پر اس وقت ذہن میں آئیں میں نے بطور نمونہ ان کا تذکرہ کردیا، تا کہ علمائے دیوبند کی خدمت دین اور خدمت قرآن کا قدرے اندازہ ہوسکے، ورنہ تفصیل کے لیے دوسرا موقع درکار ہے۔
حاصل یہ کہ جلیل القدر تالیفات ہیں، جن کے ذریعے اللہ تعالی نے اُمت کو بہت ہی نفع پہنچایا اور ان کو زمین میں حسنِ قبول عطا فرمایا جس سے توقع ہوتی ہے کہ وہ عنداللہ بھی مقبول ہوں گی، جیسا کہ کہا گیا ہے:
انا لنرجوا فوق ذلک مظھرا
فضلائے دارالعلوم دیوبند کے مآثر میں سے نمازِ فجر کے بعد قرآن کریم کا درس دینا بھی ہے جو ہندوستان کی بہت سی مساجد میں رائج ہے، اس درس کے ذریعے جمہور اُمت اور عوام مسلمین کو جو ضروریات دین سے واقف نہیں‘ قرآن کے مقاصد کی جانب توجہ دلائی جاتی ہے اور یہ خدمت دین کی ایک جدید تحریک ہے اور اس کے آثار بہت ہی عمدہ ہیں، حق تعالی اس میں برکت فرمائے۔

دیوبند اور علم حدیث
علم حدیث علمائے دیوبند کی بہت سی تالیفات ہیں جن کا احاطہ کرنا مشکل ہے، یہاں مختصر سی تعداد ذکر کرتا ہوں:
۱: حاشیہ صحیح بخاری (عربی) از مولانا الشیخ احمدعلی سہارنپوری رحمہ اللہ (متوفی: ۱۲۹۷ھ)
موصوف کا شمار اکابر علمائے دیوبند میں ہوتا ہے اور ان کا یہ حاشیہ ایک ضخیم شرح کا حکم رکھتا ہے۔
۲: بذل المجہود فی شرح سنن ابی داؤد (عربی) از مولانا الشیخ خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ (متوفی: ۱۳۴۶ھ) پانچ ضخیم جلدوں میں (اور اب مصر سے ۲۰ جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔ مترجم)
۳: فتح الملہم فی شرح صحیح مسلم (عربی) از محقق العصر مولانا شبیراحمد عثمانی، پانچ صحیح جلدوں میں۔ (دو جلدیں چھپ چکی ہیں، تیسری زیرِ طبع ہے۔ افسوس! کہ باقی کی تکمیل نہ ہوسکی۔ مترجم)
۴: فیض الباری بشرح صحیح البخاری (عربی) یہ امام العصر مولانا الشیخ محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کی تقاریر کا مجموعہ ہے، ان شاء اللہ! متعدد جلدوں میں عنقریب مصر سے شائع ہوگی۔
۵: العرف الشذی علیٰ جامع الترمذی (عربی) یہ شیخ محدث گنگوہیؒ کی تقاریر کا مجموعہ ہے۔
۶: الکوکب الدری علیٰ جامع الترمذی (عربی) یہ شیخ محدث گنگوہیؒ کی تقاریرِ درس کا مجموعہ ہے۔
۷: النفح الشذی شرح الترمذی (اردو) یہ بھی حضرت گنگوہیؒ کی تقریرِ درس ہے۔
۸: شرح سنن ابی داؤد (عربی) امام العصرؒ کی تقاریر کا مجموعہ، دو جلدوں میں۔
۹: حاشیہ ابن ماجہ (عربی) از امام العصرؒ ۔
۱۰: اوجز المسالک فی شرح مؤطا امام مالک (عربی) از مولانا الشیخ محمدزکریا کاندھلوی، متعدد ضخیم جلدوں میں، دو جلدیں طبع ہوچکی ہیں۔ (کامل چھ جلدیں ہیں اور اب بیروت و غیرہ سے متعدد جلدوں میں شائع ہو رہی ہے۔ مترجم)
۱۱: التعلیق الصبیح علی مشکوۃ المصابیح (عربی) از مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ ، اس کا چار ضخیم جلدیں دمشق سے شائع ہوچکی ہیں۔
۱۲: اعلاء السنن متعدد اجزاء میں (عربی) اس میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مسلک کی احادیث جمع کی گئی ہیں اور مولانا اشرف علی تھانوی کے زیر اشراف تالیف کی گئی ہے۔
۱۳: الآثار (عربی) از مولانا اشرف علی، اس میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے دلائل ایک جزء میں جمع کیے ہیں۔
۱۴: شرح شمائل ترمذی (عربی۔اردو) از مولانا الشیخ محمدزکریا کاندھلوی۔
۱۵: النبراس الساری فی اطراف البخاری (عربی) از مولانا عبدالعزیز پنجابی، دو جلدوں میں۔ مقیاس الواری کے نام سے اس پر موصوف کا حاشیہ بھی ہے۔
۱۶: حاشیہ نصب الرایہ للزیلعی (عربی) اس کا نام ’’بغیۃ الألمعی‘‘ رکھا جائے۔ مجلس علمی کے زیر اہتمام مصرف میں ’’نصب الرأیۃ‘‘ کے ساتھ زیر طبع ہے۔
۱۷: التعلیق المحمود علی سنن ابی داؤد، از مولانا فخر الحسن گنگوہیؒ تلمیذ رشید شیخ محدث گنگوہیؒ کا نفیس اور ضخیم حاشیہ ہے۔
۱۸: حاشیہ ترمذی، جو شیخ محدث شیخ الہند دیوبندی رحمہ اللہ کی جانب منسوب ہے۔
۱۹: شرح تراجم بخاری، از شیخ الہند۔
یہ ان کے مآثر علمی کا مختصر سا جائزہ ہے، جو نسائی کے سوا صحاحِ ستہ کی شروح سے متعلق ہے، جن کتابوں کا نام تذکرے سے رہ گیا ہے، ان کی تعداد بھی معمولی نہیں ہوگی، اس پر ان علمی رسائل کا مزید اضافہ کرلیا جائے جو حدیث کے ابحاث سے مزین ہیں، مثلاً: ایضاح الأدلۃ، أوثق العری، أحسن القری، القطوف الدانیۃ، اسراء النجیح، المصابیح، فصل الخطاب، خاتمۃ الخطاب، کشف الستۃ، نیل الفرقدین۔ ان کے علاوہ دیگر رسائل جو احادیث وفقہ کے مختلف موضوعات پر ان اکابر نے تالیف فرمائے ہیں اور اس مقالے میں ان سب کے تذکرے کی گنجائش نہیں۔

دیوبند اور علم و ادب
علمائے دیوبند نے علم و ادب پر بھی بڑی عمدہ اور نافع کتابیں تالیف کی ہیں، چند نام حسب ذیل ہیں:
۱: شرح حماسہ از مولانا فیض الحسن سہارنپوری، تلمیذ حضرت گنگوہیؒ ، یہ نفیس شرح ’’فیضی‘‘ کے نام سے معروف ہے۔
۲: تسہیل الدراسہ شرح دیوانِ حماسہ (عربی ۔ اردو) از مولانا ذوالفقار علی دیوبندی والد ماجد شیخ العصر مولانا شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ ۔
۳: التبیان شرح دیوانِ متنبّی، از مولانا موصوف۔
۴: التعلیقات علی سبع المعلقات، از مولانا موصوف ایضاً۔
۵: عطر الوردۃ فی شرح البردۃ، ایضا، نفیس شرح ہے۔
۶: ارشاد الی بانت سعاد، ایضاً، قصیدہ کعب بن زبیرؓ کی عجیب شرح۔
۷: فتح المغلقات شرح المعلقات، از مولانا نظام الدین کیرانوی۔
۸: شرح حماسہ، از مولانا محمد اعزاز علی امروہی، شیخ الادب دارالعلوم دیوبند۔
۹: شرح دیوان متنبی، ایضاً۔
۱۰: التعلیقات شرح المقامات، از مولانا نورالحق، تلمیذ مولانا محمود حسنؒ ، استاذ الادب کالج لاہور۔
۱۱: درایۃ المتیقط علی کفایۃ المتحفظ لابن الاجدابی، از بعض فضلائے دیوبند۔
۱۲: حاشیہ نفخۃ الیمن، از مولانا محمد شفیع دیوبندی۔
پس یہ قرآن و حدیث اور ادب سے متعلق آثار ہیں اور یہ جواہر علمائے دیوبند کے قلم کے رہینِ منّت ہیں، ان کے علاوہ اُصول فقہ، فقہ حنفی، علم عقائد، فرائض، تصوف، سیرت نبویہ اور تاریخ اسلام و غیرہ سے متعلق اکابر دیوبند کی تصانیف بے شمار ہیں، جن کے تعارف کے لیے دوسرا موقع درکار ہے۔ ان تمام اُمور سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے ساری عمر درس و تقریر کے ذریعے قوم و حیاتِ علمی کی روح پھونکنے میں اپنی زندگی صرف کردی اور ان مآثر جلیلہ کے مقابلے میں مذکورہ بالا آثار بہت ہی معمولی ہیں۔ مختصر یہ کہ یہ علمائے دیوبند ہیں اور یہ ان کے آثار ہیں جو ان کی علمی خدمت میں بلندیِ مرتبت پر شاہد ہیں۔ توقع ہے کہ ایک تجربہ کار صاحب بصیرت ان آثار کی قدر شناسی کرے گا، اگر ایسے قلب میں انصاف اور فکر میں بصیرت عطا کی گئی ہو۔ اور ان کی آثار کی صحیح قدر و قیمت کا اندازہ اس وقت ہوسکتا ہے جب کہ ہندوستان کے جمہور مسلمانوں میں اس کی تاثیرات کو ملاحظہ فرمایا جائے:
تلک آثارنا تدل علینا
فانظروا بعدنا الی الآثار
اگر تم چاہتے ہو کہ ایسے مردانِ راہ کی زیارت کرو جو اللہ تعالی کے نزدیک وجاہت رکھتے ہوں، مگر انسانوں میں گمنامی کو پسند کرتے ہوں تو ان علمائے دیوبند کو جاکر دیکھو، اگر صحف و مجلات اور اخبار و جرائد میں ان کا ذکر نہیں تو نہ ہو، ان کا ذکرِ خیر مخلوق کی زبانوں پر ہے، قلوب ان کی گواہی دیتے ہیں، عالم کے بینات اور کائنات کے صحیفے ان کے شاہد ناطق ہیں اور اگر اس سے کچھ لوگ جاہل یا متجاہل ہیں، تو کچھ افسوس اور شکایت نہیں اور چونکہ جو چیز کہ اللہ کے پاس ہے وہ زیادہ بہتر اور پائدار ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ دیوبندی تحریک یا صحیح معنوں میں ہندوستان کی دینی و علمی تحریک دراصل اسی دہلوی تحریک کی تجدید ہے، جس کے لیے امام شاہ ولی اللہؒ اور ان کے صاحبزادگانِ گرام قدر اُٹھے تھے اور دوسری جہت سے دیکھئے تو یہ اس تحریک کی تکمیل اور تشیید ہے، پس اکابرِ دیوبند اس جماعت کا نام ہے جن کو اللہ تعالی نے خدمت دین، خدمت علم دین، خدمت علوم قرآن و سنت کے لیے منتخب فرمایا اور اس بیان پر تعجب کیوں کیجئے! آفتاب اپنے مطلع سے طلوع ہوچکا ہے اور چیز اپنے معدن میں اجنبی نہیں رہی، اس کو بُوئے عنبریں اقطارِ ہند میں مشام جاں کو معطر کر رہی ہے اور اس کے چشمے اُبل اُبل کر زمین کے اطراف و اکناف کو سیراب کر رہے ہیں۔ اس کے انوار و برکات آفاق و بلاد کو روشن کر رہے ہیں اور یہ روشنی صفحات ایام پر مسلسل پھیلتی جائے گی۔
پس یہ ہیں علمائے دیوبند اور ان کا علمی مرکز
ان فی ذلک لذکری لمن کان لہ قلب أو ألقی السمع و ھو شہید


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں