آج : 7 October , 2018

دینی مدارس کا مقدمہ

دینی مدارس کا مقدمہ

اتحاد تنظیمات مدارس کے قائدین نے مدارس کا مقدمہ نئی حکومت کو پیش کردیا ہے۔ دینی مدارس کا مقدمہ پہلے دن سے نہایت مضبوط اور مدلل ہے۔
اس مقدمے کو سننے سے قبل ہر حکمران مدارس کو فتح کرنے کا اعلان کرتا ہے مگر جب حکمرانوں کے سامنے بغیر لگی لپٹی کے بات کی جاتی ہے تو وہ پھر مدارس کے حوالے سے اپنی روش تبدیل کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
دینی مدارس کے حقیقی قائدین اتحاد تنظیمات مدارس کے رہنما ہیں، جو ۲۵ ہزار سے زائد مدارس اور ۳۵ لاکھ سے زائد طلباء کے ترجمان ہیں۔ یہ قائدین پہلے دن سے مدارس کے حقیقی محافظ ہیں، ان کے جذبات میں اخلاص ہے۔ یہ ملک سے بھی مخلص ہیں اور مدارس کے ساتھ ان کی وابستگی کسی مفاد یا غرض سے نہیں ہے۔ اتحاد تنظیمات مدارس کے قائدین نے دو دن قبل وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی اور مدارس کے حوالے سے اپنے مطالبات، مسائل، تجاویز اور معاملات سے آگاہ کیا۔ دینی مدارس کے وکیل اور ترجمان قاری حنیف جالندھری نے اس موقع پر ۱۵ نکات پر مشتمل محضرنامہ پیش کیا۔ قاری صاحب سیم و زر کے متوالے ہیں نہ جاہ و جلال کے متمنی، ہمت کا ہمالہ اور استقامت کا کوہِ گراں ہیں۔ وہ پر پیچ راہوں کو روند دینے کے عادی ہیں، نائن الیون کے بعد جب عالمی سطح پر دینی اداروں کے خلاف منفی مہم شروع ہوئی تو قاری حنیف جالندھری جیسے باہمت علماء سامنے آئے اور اس آندھی کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہوگئے۔ یہ آج بھی اپنے موقف پر استقامت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے دینی مدارس پر آنے والی مشکلات و آفات اور آندھیوں کا سامنا کیا لیکن اصولوں پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔ حصول مقصد کی سچی لگن کی وجہ سے آپ ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں، جرات، بے باکی اور صاف گوئی بھی آپ کی شخصیت کا نمایاں پہلو ہے عقلمندی اور معاملہ فہمی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ دینی مدارس کا حالیہ مقدمہ جب انہوں نے وزیر اعظم اور دیگر حکام کے سامنے پیش کیا تو ایک بار پھر حالات کا رخ بدلتا ہوا محسوس ہوا۔
حکومت نے وفاقی وزیراعظم کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جو وفاقی وزیر مذہبی اور مولانا نورالحق قادی کی معاونت سے دینی مدارس کے حوالے سے جملہ حل طلب امور پر کام کرے گی اور دینی معاملات پر حکومت کی طرف سے وفاقی وزیر مذہبی امور کے علاوہ کسی کو آئندہ بیان جاری کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ حکومت کا یہ اقدام مثبت ہے مگر سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ایسے کیا اقدامات ہیں جو حکومت کرسکتی ہے اور ایسے کون سے امور ہیں جو دینی مدارس سرانجام دیں تو یہ مسائل ہمیشہ کے لیے ختم ہوسکتے ہیں؟
مدارس کی رجسٹریشن کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ دینی مدارس رجسٹریشن نہیں کروا رہے، حالانکہ حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں، دینی مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے حکومتی سطح پر رکاوٹیں ہیں، کوئی بھی مدرسہ رجسٹریشن سے انکاری نہیں ہے۔ مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے صوبوں میں مختلف قوانین ہیں، پنجاب حکومت چیرٹی ایکٹ، صوبہ خیبر پختونخوا وزارت تعلیم اور سندھ و بلوچستان حکومتیں ۱۸۶۰ء کے سوسائٹی ایکٹ کے تحت یہ رجسٹریشن کررہی ہیں، جس کی وجہ سے مسائل ہیں۔ اہل مدارس نے تجویز دی ہے کہ مدارس کو وزارت تعلیم کے تحت رجسٹرڈ کیا جائے تو یہ معاملہ حل ہوجائے گا۔
ایک مسئلہ یکساں نصاب تعلیم کا ہے، یہ مسئلہ صرف مدارس کا نہیں ہے، پورے ملک کا ہے۔ ہر گلی محلے کا الگ الگ نصاب و نظام تعلیم ہے۔ دینی مدارس کے قائدین پہلے دن سے مطالبہ کررہے ہیں کہ پہلے مرحلے میں میٹرک تک نہ صرف مدارس اور اسکولوں کا نصاب ایک کیا جائے بلکہ طبقاتی تفریق ختم کرکے ملک بھر میں یکساں نظام تعلیم رائج کیا جائے اور اس سلسلے میں جو ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے، اس میں علماء کو مزید نمائندگی دی جائے۔
حکومت اور کچھ اداروں کی طرف سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ مدارس کا ڈیٹا نہیں دیا جاتا، حالانکہ کوئی مدرسہ ایسا نہیں جو حکومت اور حکومتی اداروں کو ڈیٹا نہ دیتا ہو، مدارس صرف یہ کہتے ہیں کہ ڈیٹا کے نام پر مدارس کو آئے دن تنگ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ مدارس کے قائدین نے حکومت کو کہا کہ آپ ڈیٹا کے حصول کے لیے جامع اور ون ونڈو سسٹم شروع کریں، ہر مدرسہ پہلے بھی ڈیٹا دیتا تھا، آئندہ بھی دے گا۔
وزیراعظم عمران خان نے اتحاد تنظیمات مدارس کے قائدین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مدارس کے بچوں کا بھی پورا حق ہے کہ وہ زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھ سکیں، تعلیمی اصلاحات کا بنیادی مقصد تفریق کا خاتمہ اور مدرسے کے بچے کو اوپر لانا ہے۔ اس بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں مگر مدرسے کے بچے اوپر کیسے آئیں گے؟ ظاہر ہے جب مدارس اور ان کے طلباء کے ساتھ امتیازی سلون ختم کیا جائے گا، مدارس کی اسناد کو قانونی حیثیت دی جائے گی، ان کی اسناد کو سرکاری سطح پر قبول کیا جائے گا، ان پر بھی سرکاری ملازمت کے دروازے کھولے جائیں گے، یہ کام بھی حکومت کے کرنے کا ہے، ماضی کی حکومتوں سے مدارس کی اسناد کے حوالے سے متعدد بار مذاکرات ہوئے ، ان کو آگے بڑھایا جائے اور ان پر عمل درآمد کیا جائے تو مدارس کے طلباء اوپر آسکتے ہیں۔
ایک مسئلہ مدارس کے ساتھ امتیازی سلوک کا ہے، ہم مدارس کے طلباء کو اوپر لانا بھی چاہتے ہیں اور دوسری طرف ان کو کھڈے لائن بھی لگانا چاہتے ہیں۔ حکمرانوں کو یہ روز بدلنا ہوگی۔ اس کی تازہ مثال یہ ہے کہ بے گناہ اور دینی خدمات میں مصروف عمل علمائے کرام کے نام فورتھ شیڈول میں ڈال کر ان سے ظالمانہ سلوک، دینی مدارس کے قربانی کی کھالیں جمع کرنے پر پابندی اور کھالیں جمع کرنے والوں پر مقدمات، سزاؤں اور جرمانے اور بینکوں کی طرف سے مدارس کے اکاؤنٹ کھولنے پر غیراعلانیہ پابندی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ دوسری طرف کسی این جی او، فلاحی ادارے اور رفاہی اسپتالوں پر ایسی کو قدغن نہیں ہے، وہ آزادانہ اپنی سرگرمیاں کرتے ہیں۔ حکومت مدارس کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہے تو آگے بڑھے، دینی مدارس و مساجد کو یوٹیلیٹی بلز سے استثنا دے یا ان سے کم از کم غیرضروری ٹیکسز ختم کیے جائیں۔ یہ سب اقدامات خلوص نیت اور ملک کے وسیع تر مفاد میں کیے جائیں تو مدرسہ از خود قومی دھارے میں شامل ہوجائے گا۔ اگر مدارس کے بچوں کو اوپر لانے کے نام پر کسی بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کی کوشش کی جائے گی تو پھر مدارس کے لیے یہ ایجنڈا قابل قبول نہیں ہوگا۔
سیاست اور خارجہ امور کا ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے ریاستوں کے مابین تعلقات معاشی مفادات کی بنیاد پر مستحکم ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں چین کی کل سرمایہ کاری ۴۶ ارب ڈالر ہوئی، اس کی بھی شرائط کا علم نہیں مگر ہم نے ڈھنڈورا پیٹ کر آسمان سر پر اٹھالیا، جبکہ انڈیا اور چین کی باہمی تجارت ہی سالانہ ایک کھرب ڈالر کی قریب پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح ہماری ہر نئی حکومت سعودیہ سے ڈیڑھ دو ارب کا تیل ادھار مانگ لینا ہی بڑی سفارتی کامیابی سمجھتی ہے، جبکہ اس وقت ہندوستان اور انڈیا کی تجارتی شراکت سالانہ ۸۵ ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ یو اے ای اور انڈیا کا باہمی تجارتی حجم ۶۰ ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے تو پھر یہ تمام ممالک اپنے مفادات کو داؤ پر لگا کر ہمارا مقدمہ لڑنے کو کیوں تیار ہوں گے؟ تحریک انصاف کی حکومت عالمی سطح پر ریاستی وقار کی بحالی اور معیشت کی بہتری کے دعوے پر ہی اقتدار میں آئی تھی، لیکن محض بھینسوں اور گاڑیوں کی نیلامی سے یہ ٹارگٹ ہرگز حاصل نہیں ہوں گے، اس کے لیے چند بنیادی مگر سخت اقدامات کرنے ہوں گے جو فی الوقت حکومتی ترجیحات میں دور تک نظر نہیں آرہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں