آج : 25 September , 2018
مولانا عبدالحمید:

دینی و دنیاوی علوم انسانی زندگی کے لیے ضروری ہیں

دینی و دنیاوی علوم انسانی زندگی کے لیے ضروری ہیں

خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے اکیس ستمبر دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعے کا آغاز سورت البقرۃ کی آیات 30-32 کی تلاوت سے کرتے ہوئے علم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بچوں کی تعلیم اور درست تربیت پر زور دیا۔
سنی آن لائن اردو کی رپورٹ کے مطابق، شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان کے سنی نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالی نے علم کو انسانی زندگی کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ انسانی حیات کی ترقی اور تکمیل علم اور تعلیم میں ہے۔ زمین پر اللہ کے خلیفہ کے لیے علم ضروری تھا جس کے بغیر خلافت ہی نہیں ملی۔
انہوں نے مزید کہا: فرشتوں میں دنیا کے علم اور دنیوی امور چلانے کی صلاحیت نہیں تھی، اسی لیے اللہ تعالی نے زمین پر انہیں اپنا خلیفہ مقرر نہیں فرمایا۔ اس امتحان میں فرشتوں کو سمجھایاگیا کہ انسان ہی ایسے علوم حاصل کرکے دنیوی امور چلاسکتاہے۔ اس طرح انسان کی بالادستی فرشتوں پر ثابت ہوگئی۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: اللہ تعالی نے انسان کی فطرت میں ایجاد، اختراع اور سائنس کی صلاحیت رکھی ہے۔ اللہ تعالی بشر کا پہلا استاذ ہے۔ انسان کی آج کی ایجادات بھی اللہ تعالی ہی کی رہ نمائی سے حاصل ہوچکی ہیں۔ انسانی نسل جتنی بڑھ جائے، اتنی ہی اسے ترقی بھی حاصل ہوجاتی ہے اور اللہ تعالی اس کے آرام کے لیے اسباب فراہم فرماتاہے۔
انہوں نے مزید کہا: انسانی کی ترقی کے لیے دنیاوی علوم کے ساتھ ساتھ دینی علوم بھی ضروری ہیں۔ علم شریعت اور دنیا چلانے میں مددگار علوم سے آخرت اور خواہشات نفسانی کی پہچان ممکن ہے۔ ہمہ جہت ترقی اسی صورت میں ممکن ہے۔

مستقبل تعلیم اور ٹیکنالوجی حاصل کرنے والوں کے لیے ہے
مولاناعبدالحمید نے موضوع پر مزید بات کرتے ہوئے کہا: انسان محض عقل کے بل بوتے اللہ تعالی تک نہیں پہنچ سکتا، عقل کے ساتھ وحی بھی شامل ہو تب اللہ مل جاتاہے۔ اسی لیے اللہ تعالی نے پیغمبروں کو مبعوث فرمایا تاکہ انسان کے مرشد بن کر اس کی رہ نمائی کریں۔ مسلم امہ روحانیت کے علاوہ اگر علوم عصریہ میں بھی ترقی کرے، دنیا میں وہ ایک بے مثال قوم بن جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا: جن اقوام نے صرف ٹیکنالوجی پر زور دیا ہے اور اپنے باطن کی اصلاح اور ایمان سے غافل رہے ہیں، وہ عمدہ اور مثالی اقوام نہیں ہیں۔ ایسے لوگ جیسے ہی مرجائیں، اللہ کا عذاب انہیں پکڑلے گا۔ لیکن مسلمان دیگر اقوام کے لیے مثالی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ مسلمان دین و دنیا کے علوم حاصل کریں اور ہمیشہ علمی ترقی کے لیے کوشش کریں۔
ممتاز سنی عالم دین نے کہا: مستقبل ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو علم کے زیور سے آراستہ ہیں۔ دنیاوالے ان لوگوں کے محتاج ہیں جن کے پاس علم ہے۔ مغربی دنیا کے ممالک علم و تعلیم میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں۔ ہم بھی علم و دانش ہی سے دنیا میں کھڑے ہونے کے قابل بن سکتے ہیں۔
قرآن کی تعلیم کی اہمیت واضح کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: اپنی اولاد کا خیال رکھیں، انہیں ضرور قرآن پاک سکھائیں۔ اللہ کی آخری کتاب فتنوں سے نجات کے لیے ضروری ہے۔ جس کے پاس قرآن کا علم ہے، وہ ہر گندگی سے پاک ہوجاتاہے۔ نیز عملی احکام سیکھنے کا اہتمام کریں۔

بچوں کی تعلیم پر خرچ کریں
خطیب اہل سنت زاہدان نے بچوں کی علمی اور اخلاقی تربیت پر زور دیتے ہوئے کہا: آپ کا بہترین پیسہ وہی ہے جو بچوں کی دینی یا عصری تعلیم پر خرچ ہوجائے۔ تمہاری بہترین دولت تمہاری اولاد ہیں۔ ان کی تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔ ان کی علمی، اخلاقی، عملی اور ایمانی تربیت کا اہتمام کریں۔
انہوں نے کہا: تعلیم اور تربیت بہت اہم ہیں۔ بچوں کو سکول یا مدرسہ چھوڑنے نہ دیں۔ ان کے لیے ٹیوشن کا بندوبست کریں اور انہیں بہترین سکولوں میں داخل کرائیں۔

شعبہ تعلیم کسی مخصوص فرقے کی اجارہ داری میں نہیں ہونا چاہیے
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے اپنے خطبہ جمعہ میں شعبہ تعلیم اور جامعات میں فرقہ وارانہ اجارہ داری پر تنقید کرتے ہوئے کہا: سب سے بری تنگ نظری یہی ہے کہ کسی مسلک ، برادری یا فرقے کے بچوں کو جان بوجھ کر تعلیم سے محروم رکھاجائے اور علمی ترقی ان کے لیے مشکل بنائی جائے۔ یہ کم بختی کی انتہا ہے اور اللہ تعالی ایسے لوگوں کو معاف نہیں فرماتاہے۔
انہوں نے کہا: جامعات میں تعلیم یافتہ ماہرین کی تربیت ہوتی ہے۔ وزارت تعلیم اور اعلی تعلیمی اداروں میں مخصوص مسلکی اور فرقہ وارانہ سوچ نہیں ہونی چاہیے۔ ایسے اداروں میں قومی سوچ غالب ہو جس میں تمام قومیتیں اور مسالک داخل ہوجاتے ہیں۔ ان اداروں میں کسی کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے۔ یہاں عدل کا نفاذ ہونا چاہیے، سب کو برابر کے مواقع حاصل ہونے چاہییں۔
انہوں نے کہا: افسوس کی بات ہے کہ اہل سنت میں اعلی تعلیم یافتہ افراد کی تعداد کم ہے۔ اس کی وجہ غیرقانونی رویے ہیں جو ہمارے نوجوانوں کو تعلیم سے دور رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارا بھی قصور ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے مناسب منصوبہ بندی اور بندوبست کا اہتمام نہیں کیاہے۔ گھر کا سامان بیچنے کی ضرورت پڑے، ایسا کریں لیکن بچوں کی تعلیم ادھوری نہ چھوڑیں۔

’’برابری ‘‘ نبی اکرم، صحابہ اور اہل بیت کی پالیسی ہے
مولانا عبدالحمید نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: نعرہ لگانے سے کوئی کام نہیں بنتاہے، عمل کی ضرورت ہے۔ گزشتہ چالیس سالوں میں عمل سے زیادہ نعرے لگائے گئے ہیں۔ ایرانی قوم ایک ہی جسم کے اعضا ہیں۔ برادریوں میں فرق نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے فرقہ وارانہ چپقلشوں سے پرہیز پر زور دیتے ہوئے کہا: درست پالیسی جو اللہ کو مقبول ہے وہی ہے جو امتیازی سلوک اور ناانصافی سے دور ہو۔ لسانی و مسلکی برادریوں میں تفرقہ ڈالنے والی پالیسیاں ہرگز اللہ کو پسند نہیں ہیں۔ برابری اور یکسان رویہ کی پالیسی نبی کریم ﷺ سمیت صحابہ و اہل بیتؓ کی پالیسی ہے۔ اسی کے لیے حضرت امام حسینؓ نے جام شہادت نوش فرمایا۔
اہل سنت ایران کے ممتاز رہ نما نے کہا: یہاں کچھ محکمے ایسے بھی ہیں جن پر ایک ہی خاندان کے لوگ قابض ہیں۔ خاندانی طورپر محکموں کو چلانا اسلامی جمہوریہ ایران اور شیعہ و سنی کے مفاد میں نہیں ہے۔ یہ ملک سب کا ہے۔
مولانا عبدالحمید نے اہل سنت کی مذہبی آزادیوں پر زور دیتے ہوئے کہا: مسجد تعمیر کرنے یا نماز قائم کرنے سے کسی کو منع نہیں کرنا چاہیے۔ لوگوں کی قانونی آزادیوں پر ڈاکہ زنی ناقابل قبول ہے۔ قانون کا راج ہونا چاہیے۔

خطیب اہل سنت نے اپنے بیان کے آخر میں بلوچستان کے شہر سراوان کے ایک ہی سکول سے سترہ طلبہ کے میڈیکل سائنس فیلڈ میں داخلے کی کامیابی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں