آج : 18 September , 2018

دینی مدارس اور سرکاری سرپرستی

دینی مدارس اور سرکاری سرپرستی

دینی مدارس ایک بار پھر موضوع بحث ہیں اور ان کے نصاب و نظام کے بارے میں حسب سابق مختلف تبصرے سامنے آرہے ہیں۔
گزشتہ نصف صدی کے دوران میں نے اس موضوع پر سینکڑوں مضامین میں اظہار خیال کیا ہے مگر موجودہ حالات میں یوں لگ رہا ہے کہ ان ساری باتوں کو پھر سے شاید دہرانا پڑجائے کیونکہ آج کی نسل کو اس سلسلہ میں حقائق اور پس منظر سے آگاہی کے مناسب مواقع میسر نہیں ہیں جبکہ یہ ملک کے تعلیمی نظام کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی ضروری ہے۔ آٹھ سال قبل جون ۲۰۱۰ء کے دوران حیدرآباد سندھ کے معروف درسگاہ جامعہ ریاض العلوم لیاقت کالونی کے سالانہ جلسہ میں گفتگو کے موقع پر ان میں سے چند امور کا جائزہ لیا تھا جن میں دینی مدارس کے سرکاری سرپرستی، مداخلت یا امداد قبول نہ کرنے کا سوال بھی شامل تھا۔ یہ معروضات روزنامہ اسلام میں ۱۷ جون ۲۰۱۰ء کو شائع ہوچکی ہیں جن کا اس سوال سے متعلقہ حصہ دوبارہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے:
بعد الحمد و الصلوۃ۔ دینی مدارس اپنے اخراجات عوامی چندے اور اصحابِ خیر کے رضاکارانہ تعاون کے ذریعے پورے کرتے ہیں اور کسی سرکاری امداد کو قبول کرنے سے مسلسل گریزاں ہیں۔ اس کے بنیادی طور پر تین اسباب ہیں جن کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
(۱) پہلا سبب یہ ہے کہ دینی مدارس کے موجودہ نظام کے آغاز میں سب سے پہلے قائم ہونے والے دینی مدرسہ دارالعلوم دیوبند کے بنیادی اصول میں بانی دارالعلوم حضرت مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ نے اس بات کی ہدایت کردی تھی کہ مدرسہ کا نظام عام لوگوں کے چندے اور تعاون کے ذریعے چلایا جائے اور کسی حکومت یا ریاست کی طرف سے مستقل امداد قبول نہ کی جائے۔ یہ بات دارالعلوم دیوبند کے اصول ہشت گانہ میں درج ہے اور ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد قائم ہونے والے دینی مدارس کے آزادانہ نظام کے لیے راہنما اصول کا درجہ رکھتی ہے۔
چند سال قبل ایک اور مسلک سے تعلق رکھنے والے ایک بڑے دینی مدرسہ کے مہتمم صاحب نے جو میرے ذاتی دوستوں میں سے ہیں، کہا کہ ہمارے مدارس تو زیادہ تر خلیج کے شیوخ کے تعاون سے چلتے ہیں اور اب باہر سے رقوم کی آمد میں رکاوٹیں شروع ہوگئی ہیں جس سے بہت مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کے مدارس کی کیا صورتحال ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ہمیں ایک بزرگ کی نصیحت اور تلقین فائدہ دے رہی ہے اور ہمارے ہاں اس قسم کی مشکلات اتنی زیادہ نہیں ہیں، انہوں نے تفصیل پوچھی تو میں نے اصول ہشت گانہ میں مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ کے مذکورہ بالا ارشاد کا حوالہ دیا، انہوں نے فرمایا کہ ہاں وہ واقعی صاحبِ فراست بزرگ تھے۔
(۲) سرکاری امداد قبول نہ کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ہمیں اس امداد کا پس منظر معلوم ہے کہ یہ کس طرف سے آرہی ہے اور کیوں آرہی ہے؟ ہمارے اپنے حکمرانوں کو تو تعلیمی بجٹ میں کبھی دینی تعلیم کا خیال تک نہیں آیا، البتہ ان کے ذریعے عالمی استعمار دینی مدارس میں رقوم تقسیم کرکے مداخلت کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے جسے ہم بحمداللہ تعالی اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ ہم استعمار کو جانتے ہیں اور استعمار ہمیں جانتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہم یہ امداد کیوں قبول نہیں کررہے اور ہم بھی جانتے ہیں کہ وہ یہ رقوم ہمارے حکمرانوں کے ذریعے دینی مدارس میں کیوں تقسیم کرنا چاہتا ہے؟ ہمارا ایک دوسرے سے گزشتہ ڈیڑھ صدی سے مسلسل واسطہ ہے ۔ دینی مدارس نے ہمیشہ عوامی چندوں پر اور صدقہ و زکوۃ پر اپنا نظام چلایا ہے۔ ہمیں کسی صحیح امداد کو قبول کرنے سے انکار نہیں ہے، ہمیں بھی ہر وقت پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم عوام کے دروازوں پر شوق سے نہیں جاتے، لیکن جس امداد کا مقصد ہمیں ہمارے دینی کردار سے محروم کرنا ہو ہم اس کی طرف دیکھنا بھی نہیں چاہتے، ہم سمجھتے ہیں کہ دینی مدارس کی بقا اور ان کے موجودہ دینی و تعلیمی کردار کا تحفظ اسی میں ہے کہ وہ انتظامی اور مالی دونوں حوالوں سے آزاد رہیں اور کسی قسم کی سرکاری امداد یا مداخلت کو قبول نہ کریں۔
(۳) دینی مدارس کو سرکاری تحویل میں دینے اور ان کے اخراجات کے لیے سرکاری رقوم قبول کرنے سے ہمارے انکار کی تیسری وجہ یہ ہے کہ ہم اس تجربے سے ایک بار پہلے گزر چکے ہیں اور دوبارہ اس دام فریب کا شکار نہیں ہونا چاہتے۔ سابق صدر محمدایوب خان مرحوم کے دور میں جب محکمہ اوقاف قائم ہوا اور زیادہ آمدنی والی ہزاروں مساجد محکمہ اوقاف نے اپنی تحویل میں لیں تو ان کے ساتھ بیسیوں دینی مدارس بھی محکمہ اوقاف کے کنٹرول میں چلے گئے، جن کے بارے میں کہا گیا کہ ان کا انتظام علماء کرام سے بہتر چلایا جائے گا۔ اگر کوئی صاحب ہمت دوست ان مدارس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہیں اور اس کے لیے تحقیق کرسکیں تو بہت سے ہو شر با انکشافات سامنے آسکتے ہیں۔ میں مثال کے طور پر صرف دو مدرسوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ اوکاڑہ کے گول چوک کی جامع مسجد میں جامعہ عثمانیہ کے نام سے ایک بڑا مدرسہ محکمہ اوقاف نے اپنی تحویل میں لیا تھا جس کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اس کے کمرے کرائے پر چڑھے ہوئے ہیں اور جامعہ عثمانیہ تاریخ کے دھندلکوں میں گم ہوچکا ہے۔ اسی طرح نیلا گنبد لاہور کی مسجد میں قائم مدرسہ رحیمیہ کی حالت زار دیکھ لی جائے کہ محکمہ اوقاف سے پہلے اس کی صورتحال کیا تھی اور اب وہ کس پوزیشن میں ہے۔ اسی دور میں محکمہ تعلیم نے بہاولپور کی ایک بڑی دینی درسگاہ جامعہ عباسیہ کو تحویل میں لے کر اسے جامعہ اسلامیہ کے نام سے اسلامی یونیورسٹی کا درجہ دیا تھا اور درس نظامی کے ساتھ عصری تعلیم کے امتزاج کے نام سے ایک مشترکہ نصاب متعارف کروانے کا اعلان کیا تھا۔ اس مقصد کے لیے علامہ شمس الحق افغانی، مولانا عبدالرشید نعمانی، مولانا احمد سعید کاظمی اور مولانا عبدالغفار حسن رحمہم اللہ تعالی جیسے اکابر علماء کو وہاں تدریس کے لیے بلایا گیا تھا اور کچھ عرصہ تک مشترکہ دینی و عصری نصاب تعلیم کو اکٹھا چلایا گیا تھا۔ مگر آج دیکھ لیا جائے کہ اس کی پوزیشن کیا ہے اور دینی تعلیم کا کتنا حصہ اس کے نصاب میں باقی رہ گیا ہے؟
اس تلخ تجربہ کے بعد بھی اگر کوئی حلقہ دینی مدارس سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ سرکاری مداخلت یا کنٹرول کو قبول کرلیں گے تو اسے اپنا دماغی معائنہ کروانا چاہیے۔ اس سلسلہ میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ چند سال قبل ایک یورپی وفد میں شامل برطانوی خاتون نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ کے سرکاری اہلکار اور بیوروکریٹس اس قدر کرپٹ کیوں ہیں کہ جو بھی ادارہ سرکاری تحویل میں جاتا ہے اس کی حالت دگرگوں ہوجاتی ہے؟ میں نے خاتون سے کہا کہ یہ سوال تو مجھے آپ سے کرنا چاہیے تھا اس لیے کہ یہ سب لوگ آپ حضرات کے شاگرد ہیں اورا ن کو جو کچھ پڑھایا ہے آپ لوگوں ہی نے پڑھایا ہے!


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں