آج : 15 September , 2018

اہل سنت بیرجند کے حالات پر ایک نظر

اہل سنت بیرجند کے حالات پر ایک نظر

بیرجند صوبہ ’جنوبی خراسان‘ کا صدرمقام ہے جس کا شمار ایران کے مشہور اور تاریخی شہروں میں ہوتاہے۔ مشرقی ایران میں واقع اس شہر کی آبادی دو لاکھ سے زائد ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق اس شہر میں 45 ہزار سنی شہری رہتے ہیں۔ آس پاس کی بستیوں اور چھوٹے شہروں میں اہل سنت کی آبادی کہیں زیادہ ہے۔ بیرجند افغانستان کی سرحد سے صرف ڈیڑھ سو کلومیٹر دور ہے۔ سرحد کے اس پار افغانستان کا صوبہ فراہ واقع ہے۔
ایران کے دیگر شہروں اور علاقوں کی طرح جہاں اہل سنت اقلیت میں ہیں، بیرجند میں بھی اہل سنت متعدد مذہبی اور تعلیمی مسائل سے دوچار ہیں۔

بیرجند شہر میں اہل سنت کی مساجد کی تعداد؛ صرف ایک مسجد!
بیرجند میں اہل سنت کی صرف ایک مسجد ہے جو اناسی کے انقلاب سے پہلے تعمیر ہوچکی ہے۔ انقلاب کے بعد جگہ کم پڑنے کی وجہ سے مسجد میں اس طرح توسیع ہوئی کہ اوپر دو منزلوں کا اضافہ ہوا۔ لیکن اب بھی بہت سارے شہری نماز جمعہ اور عیدین کے وقت سڑکوں پر کھڑے ہونے اور سردی و گرمی میں باہر نماز پڑھنے پر مجبور ہیں۔ یہی مسجد تبلیغی جماعت کا مرکز بھی ہے اور اسی کے احاطے میں دینی مدرسہ الصدیق بھی واقع ہے۔
ظاہر سی بات ہے کہ پینتالیس ہزار شہریوں کے لیے ایک مسجد ناکافی ہے۔ عیدین کے لیے گزشتہ پندرہ سالوں سے متعدد صوبائی و ضلعی گورنروں کے سامنے تحریری و تقریری طورپر عیدگاہ کے لیے زمین الاٹ کرنے کی درخواست پیش کی گئی ہے جسے اب تک منظوری نہیں ملی ہے۔

معدود نمازخانے محدود سرگرمیوں کے ساتھ
شہر میں مجموعی طورپر تیرہ نمازخانے قائم ہیں؛ لوگوں نے اپنے طورپر کچھ مکانوں کو خرید کر یا کرایے پر لے کر نمازخانہ بنایاہے جہاں صرف نماز قائم کرنے کی اجازت ہے۔ اذان کے لیے لاوڈسپیکر استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
اسی طرح مذکورہ نمازخانوں میں تقریر کرنے یا جلسے منعقد کرانے پر حکومتی پابندی ہے۔ قرآن پاک کی تعلیم اور ناظرہ کی کلاسیں صرف گرمی کی چھٹیوں میں سکول جانے والے بچوں کے لیے ہیں، لیکن سال کے دیگر مہینوں میں قرآن پڑھانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔
تبلیغی جماعت کو ان نمازخانوں میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہے، یہاں تک کہ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ کچھ شہری کسی نمازخانے میں تشکیل ہوئے تھے، اگلے دن صبح ہی اس نمازخانے پر تالہ لگاکر اسے بند کردیا گیا۔
کسی علاقے میں نمازخانہ (مسجد نہیں!) اختیار کرنے کے لیے سرکاری محکموں کا چکر لگانا پڑتاہے۔ نمازخانہ کے لیے یہ عجیب شرط رکھی گئی ہے کہ محلے والوں کی تعداد کم از کم ایک سو خاندان ہو اور تمام سنی شہریوں اور باشندوں کا نام اور پتہ مکمل کوائف کے ساتھ متعلقہ محکموں کے حوالے کیے جائیں، پھر جاکر انہیں باجماعت نماز پڑھنے یا نہ پڑھنے کی اجازت کی درخواست پر غور ہوگا۔
بیرجند شہر کے آس پاس علاقوں میں اسدیہ، طبس مسینا، بجد، آب گرم، درمیان، نوقاب، ماخونیک اور ہندوالان میں اہل سنت اکثریت میں ہیں یا ان کی بڑی تعداد وہاں آباد ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں