آج : 13 September , 2018

نئے ہجری اسلامی سال اور عشرے کا آغاز

نئے ہجری اسلامی سال اور عشرے کا آغاز

آج (۱۲ ستمبر) نئے ہجری اسلامی عشرے کا بھی آغاز ہوگیا ہے۔ قرآن کریم کے مطابق سورج اور چاند کی گردش اور روز و شب کا سلسلہ اللہ تعالی کی قدرت کاملہ کی نشانیوں میں سے ہے اور ہر مہینے کے آغاز پر چاند دیکھنے کے بعد اللہ تعالی سے امن و سلامتی اور برکت و عافیت کی دعا مانگنا احادیث سے ثابت ہے۔ اس لیے نئے اسلامی سال اور عشرے کے آغاز کے موقع پر ہمیں اپنی انفرادی زندگیوں اور بحیثیت قوم و ملت اجتماعی زندگی کا جائزہ لے کر رجوع الی اللہ کا اہتمام کرنے اور نئے آنے والے ماہ و سال کے لیے نیا ولولہ، عزم اور جذبہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
نئے ہجری اسلامی سال اور عشرے کے آغاز کے موقع پر جب ہم اسلامی دنیا کی طرف ایک نظر دوڑاتے ہیں تو ہمارے لیے خوشیوں، مسرتوں اور کامرانیوں کا سامان کم کم دکھائی دیتا ہے جبکہ درد و الم، تاسف و مایوسی اور انتشار و خلفشار کے مظاہر زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ گزشتہ عشرہ اسلامی دنیا کے متعدد حصوں کے لیے خوفناک لڑائی، خانہ جنگی، نسل کشی اور تباہی و بربادی کے خونین مناظر سے پر رہا۔ ویسے تو اسلامی دنیا کے خلاف عالمی کفریہ طاقتوں کی یلغار پندرہویں صدی ہجری کے آغاز پر سرد جنگ کے خاتمے اور نیو ورلڈ آرڈر کے اعلان کے بعد سے ہی تیز ہوگئی تھی تاہم نائن الیون کے بعد دنیا میں غیرمعمولی صورت حال پیدا ہوگئی اور پہلے افغانستان اور پھر عراق پر باقاعدہ جارحیت کی گئی جس کے دوران لاکھوں مسلمان قتل، مجروح اور بے گھر ہوگئے۔ تقریبا ایک عشرے کی براہ راست مہم جوئی کے بعد جب عالمی طاقتوں نے یہ محسوس کیا کہ براہ راست جارحیت کے ذریعے اسلام کے ’’خطرے‘‘ کا مقابلہ کرنا زیادہ کارگر حکمت عملی نہیں ہے بلکہ اس سے مسلمانوں کے حوصلے مزید بلند اور عزائم مزید پختہ ہورہے ہیں تو انہوں نے اسلامی دنیا کے خلاف ایک نئی قسم کی انتہائی خطرناک حکمت عملی اپنائی جس کا ہدف عالم اسلام کے مختلف حصوں میں نسلی، گروہی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر انتشار و خلفشار اور خانہ جنگی کی فضا قائم کرنا تھا۔ چنانچہ ۲۰۱۱ء کے آغاز پر تیونس سے ’’عرب بہار‘‘ کے نام سے ایک پر اسرار تحریک کا آغاز ہوگیا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے مصر، لیبیا، بحرین، یمن اور شام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور کئی ممالک میں تخت الٹ دیے گئے اور پورا عالم عرب انقلاب کے نعروں سے گونجنے لگا۔ چونکہ اس تحریک کے نتیجے میں متعدد اسلامی ممالک میں کئی عشروں سے قابض ڈکٹیٹروں سے نجات کی امید پیدا ہوگئی تھی اس لیے اسلامی دنیا کے بیشتر عوام نے اس انقلابی لہر کی حمایت کی اور اس کا حصہ بنے مگر انجام کار یہ انقلاب نہ صرف عالم عرب بلکہ پورے عالم اسلام کے لیے ایک عذاب بن گیا۔ مصر میں کچھ عرصے کے لیے تو ایک عوامی و انقلابی حکومت قائم ہوگئی مگر پھر عالمی طاقتوں نے اپنا کھیل کھیلا اور مصر پر عبدالفتاح السیسی کی شکل میں ایک نئے سفاک ڈکٹیٹر کو مسلط کردیا گیا۔ تیونس جہاں سے عرب بہار کا آغاز ہوا تھا، مسلسل سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ یمن اور شام بدترین خانہ جنگی کا شکار ہوگئے۔ صرف شام میں گزشتہ سات برسوں کے دوران سات لاکھ سے زائد انسان لقمۂ اجل بنے جبکہ دسیوں لاکھ اس وقت بھی مختلف ممالک میں در بدر پھر رہے ہیں۔ لڑائی کی اس آگ نے سعودی عرب تک کو اپنے نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ سعودی عرب نے اس خطرناک فتنے سے اپنے دفاع کے لیے متعدد اسلامی ممالک کی افواج کا اتحاد بھی تشکیل دیا مگر ہنوز اس اتحاد کے ثمرات سامنے نہیں آئے۔
عرب دنیا میں پائی جانے والی اس خانہ جنگی سے دیگر اسلامی ممالک بھی متاثر ہوئے۔ ترکی جو مرد آہن رجب طیب اردوان کی قیادت میں اپنی عظمت رفتہ کی بحالی کی جد و جہد میں مصروف ہے، ایک جانب کرد بغاوت کے خطرے کا مقابلہ کررہا ہے تو دوسری جانب شام کی خانہ جنگی سے متاثرہ لاکھوں مہاجرین کی میزبانی و کفالت کا بوجھ بھی اٹھا رہا ہے اور شاہد یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں اب اس کے خلاف بھی سازشیں کرنے پر کمر بستہ ہوچکی ہیں تا کہ مسلمانوں کی امیدوں کا یہ مرکز بھی قائم نہ رہ سکے۔
جہاں تک وطن عزیز پاکستان کا تعلق ہے تو اگرچہ پاکستانی قوم، ہماری مسلح افواج اور قومی سلامتی کے اداروں نے انتھک محنت اور جد و جہد سے ملک کے اندر پنپنے والے فتنوں پر بہت حد قابو پالیا ہے اور الحمدللہ ہمیں کسی خانہ جنگی یا داخلی انتشار کا خطرہ در پیش نہیں ہے مگر خارجہ محاذ پر ہماری مشکیں کسنے کی تیاریاں مکمل ہیں اور ہمیں معاشی دباؤ کے ذریعے مارنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
اسلامی دنیا کے حل طلب مسائل کی اگر بات کی جائے تو اس وقت فوری طور پر امت مسلمہ کو سات لاکھ روہنگیا مسلمانوں کی وطن واپسی کا مسئلہ درپیش ہے جس کا کوئی حل سامنے نہیں ہے۔ دوسری جانب فلسطین کا مسئلہ امریکا کی جانب سے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت ماننے اور فلسطین کی رہی سہی امداد بھی بند کردینے کے بعد مزید گھمبیر ہوچکا ہے جبکہ کشمیر کے مسئلے کی صورت حال یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کے قتل عام میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے اور دنیا اس پر صم بکم عمی بنی بیٹھی ہوئی ہے۔
اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ صورت حال یہ ہے کہ دنیا میں ابلاغی دہشت گردی کی توپیں بھی مسلمانوں پر آگ برسا رہی ہیں اور دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے ایمان و عقیدت کے مرکز و منبع حضور رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کر کے امت مسلمہ کی مسلسل دل آزاری کی جارہی ہے۔
نئے اسلامی سال اور نئے عشرے کے آغاز پر یہ سارا منظرنامہ دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے لیے کچھ حوصلہ افزا نہیں ہے مگر دوسری جانب یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح واضح ہے کہ مسلمانوں کی اس تمام تر مظلومیت و مقہوریت کے باوجود ایک طرف اسلام دنیا میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب بن چکا ہے تو دوسری طرف مسلمانوں کے مقبوضہ علاقوں کشمیر، فلسطین، افغانستان و غیرہ میں مسلمانوں کا جذبہ حریت بھی سلامت ہے۔ افغانستان میں اتحادی افواج کو واضح ہزیمت اور شکست کا سامنا ہے اور طالبان اب کابل کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ فلسطین کے مسلمانوں کا عزم ناقابل تسخیر ثابت ہوا ہے اور وہ اپنی سرزمین کا ایک انچ حصہ بھی صہونیت کو دینے پر آمادہ نہیں۔ کشمیریوں نے بھارت کی سات لاکھ غاصب فوج کو دھول چٹادی ہے اور بھارتی فوجی خودکشیاں کررہے ہیں۔ پوری اسلامی دنیا کے نوجوانوں میں امت مسلمہ کے مفادات سے وابستگی کے جذبات بڑھ رہے ہیں اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے جدید وسائل و ذرائع کا استعمال روز افزوں ہے۔ یہ ایک خوشگوار احساس ہے جو مسلمانوں کو نئے عشرے میں ایک نئے عزم کے ساتھ جینے اور حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ نیا اسلامی سال اور نیا عشرہ امت مسلمہ کے لیے ایمان کی سلامتی، عافیت اور کامیابی و کامرانی کی نوید ثابت ہو۔

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں