آج : 11 September , 2018
خطیب اہل سنت زاہدان:

کعبہ میں پائی جانے والی کشش بے مثال ہے

کعبہ میں پائی جانے والی کشش بے مثال ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے سات ستمبر کے بیان میں حج کے پیغامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کعبہ معظمہ کو مسلمانوں کے لیے سب سے پرکشش مقام یاد کیا جس کی زیارت کی خواہش سب کے دلوں میں موجزن ہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے خطبہ جمعے کا آغاز سورت الحج کی آیات نمبر 26-29 سے کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالی نے ہمیں دو قسم کی روحانی اور مادی نعمتوں سے نوازا ہے۔ کچھ نعمتیں ایسی ہیں جو مانگے بغیر ہمیں ملی ہیں؛ مثلا کان، آنکھ اور دل کسی محنت کے بغیر ہمیں مل چکے ہیں۔جبکہ بعض نعمتوں کے حصول کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: مقبول ایمان اور قیامت سمیت پیغمبروں اور فرشتوں پر ایمان لانے کی نعمت محنت سے حاصل ہوتی ہے۔ اگرچہ انسان کی خلقت فطرت توحید پر ہوئی ہے، پھر بھی اس بالقوہ نعمت کو عملی صورت دینے کے لیے محنت اور کوشش کی ضرورت ہے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: اللہ تعالی کو یہ منظور نہیں تھا کہ ہمیں سب کچھ کسی محنت کے بغیر عطا فرمائے، اسی لیے سنت الہی ہے کہ بہت ساری مادی اور روحانی نعمتوں کے حصول کے لیے ہم محنت کا سہارا لیں۔ درست عقاید، احکام اور اخلاق و برتاو سے ہی ہم مثالی انسان بن سکتے ہیں۔ لہذا اپنی اصلاح کرکے اللہ تعالی کا قرب حاصل کریں۔
انہوں نے مزید کہا:اللہ رب العزت کے یہاں ہماری خوبصورتی، مال و دولت اور جاہ و مقام کی کوئی قیمت نہیں ہے؛ یہ نعمتیں خود اللہ تعالی ہی نے ہمیں عطا فرمائی ہے۔ جو اللہ کو پسند ہے، وہ ہمارے ایمان اور اعمال کی خوبصورتی ، اخلاص اور تقویٰ جیسی چیزیں ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کعبہ معظمہ کے اعلی مقام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: نمازیوں کی نمازیں اس وقت تک قبول نہیں ہوں گی جب تک وہ اپنا رخ کعبہ کی طرف نہیں رکھیں گے۔ کعبہ تمام عبادتوں اور بندوں کی توجہات کا مرکز ہے۔ جانور ذبح کرتے ہوئے بھی اس کا منہ قبلہ کی جانب کرنا پڑتاہے۔ مردوں کو دفنانے سے پہلے بھی انہیں قبلہ رخ کیا جاتاہے۔ نیز وضو بناتے ہوئے مستحب ہے کہ منہ قبلہ کی طرف ہو۔
انہوں نے مزید کہا: کعبہ کے معمار حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام تھے جو پاک طینت اور نیک و صالح لوگ تھے۔ اللہ تعالی نے اپنے گھر کی تعمیر کے لیے نیک اور پاک لوگوں کا انتخاب فرمایا اور اس کام کے لیے ناپاک مال اور ہاتھ کو پسند نہیں فرمایا۔ انہوں نے تعمیر کے بعد قبولیت کی دعا مانگی اور ہمیں بھی کسی نیک کام کے بعد اللہ سے قبولیت کی دعا مانگنی چاہیے۔

حج اسلام کی عظمت اور اتحاد و اتفاق کا نشان ہے
بات آگے بڑھاتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے حج کی اہمیت اور اس کے بعض پیغامات پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا: اللہ تعالی کو اتحاد و اتفاق اور عبادت کے لیے ایک جگہ اکٹھے ہونا پسند ہے۔ لاکھوں فرزندانِ توحید کعبہ کے اردگرد اکٹھے ہوکر اللہ کی عبادت کیا کرتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کو نہیں پہچانتے ہیں۔ ان کا تعلق مختلف برادریوں، زبانوں، ثقافتوں، رنگوں اور پس منظر سے ہے، لیکن ایک دوسرے کو برداشت کرکے وہ ایثار کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اللہ کو ایسا اتحاد پسند ہے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: اللہ سبحانہ و تعالی نے ایک خاص کشش کعبہ میں رکھی ہے۔ لاکھوں کڑوروں افراد یہ خواہش دل میں لیے رکھتے ہیں کہ انہیں باربار کعبہ کی زیارت نصیب ہوجائے۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنا سب کچھ خرچ کرنے کے لیے بھی تیار ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: کس قدر عجیب منظر ہوتاہے جب تمام مسلمان کفن اوڑھے عرفات کے میدان میں اکٹھے ہوتے ہیں اور اللہ تعالی سے مٖغفرت کی دعا مانگتے ہیں۔ شاہ و گدا ایک ہی سادہ لباس میں خالی جیبوں کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں۔
مولانا نے کہا: اللہ تعالی ہمیں حج کے ذریعے اتحاد و یکجہتی، کشت و خون سے گریز اور ایک دوسرے کو لوٹنے سے دوری کرنے کا سبق دیتاہے۔ نیز حج سے ہمیں یہ سبق ملتاہے کہ کامیابی کا واحد راستہ اللہ تعالی اور اس کے رسول برحق ﷺ کی اطاعت میں ہے۔ حج کا پیغام ہے کہ تقویٰ کے ساتھ زندگی گزاریں اور یہ سب سے بڑا توشہ ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا: لہذا حجاج کرام جنہوں نے حج کے دوران توبہ کی ہے، اپنی توبہ اور وعدہ پر قائم رہیں۔ ہمیشہ اللہ تعالی اور اس کے رسول خاتم النبیین ﷺ کی اطاعت کریں۔ تمام گناہوں اور برائیوں سے سخت اجتناب کریں۔

معاشی مسائل کے حل کیلیے فوری اور جامع تدبیر کی ضرورت ہے
نامور سنی عالم دین نے اپنے بیان کے دوسرے حصے میں ایران کے معاشی مسائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے حکام کی جانب سے فوری اور جامع اقدامات اٹھانے پر زور دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ایرانی کرنسی کی شدید گراوٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: عوامی پریشانی کا ایک سبب ڈالر اور دیگر عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدر میں شدید کمی بھی ہے۔ عالمی سامراجی طاقتوں کی ظالمانہ پابندیوں کی وجہ سے ہماری کرنسی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور ملک میں افراطِ زر جیسے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔
انہوں نے ایران کے معاشی و اقتصادی مشکلات کے پیچھے کارفرما دیگر اسباب کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا: ایک طرف کرپشن، قومی خزانے کی لوٹ ماراور مالی خورد برد میں متعدد بااثر افراد ملوث ہوئے اور دوسری جانب معیشت کے مسائل کے حل کے لیے غلط طریقے اپنانے اور اندرونی و بیرونی پالیسیوں کی وجہ سے موجودہ معاشی مسائل نے سر اٹھایا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزید کہا: ملک کے موجودہ معاشی مسائل نے غریب اور بے روزگار طبقوں کے علاوہ امیر و مالدار سمیت معاشرے کے تمام طبقوں کومتاثر کیا ہے اور سب معاشی دباو سے دوچار ہیں۔ بہت سارے تاجروں پر کروڑوں کے قرضے ہیں جو ڈالر کی صورت میں ادا ہوتے ہیں، موجودہ حالات میں ان کے لیے قرضوں کی ادائیگی ناممکن ہوگئی ہے۔
مولانا عبدالحمید نے اس حوالے سے دعا کے ساتھ ساتھ مناسب تدبیر اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا: تمام اعلی حکام بشمول مرشد اعلی، صدر مملکت اور دیگر ذمہ داران کو چاہیے فوری اور جامع پلان تیار کریں، اس سے پہلے کہ کوئی بڑی مصیبت رونما ہوجائے۔ اسی صورت میں ایرانی کرنسی دوبارہ اپنی قدر حاصل کرسکتی ہے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے اپنے خطاب میں صوبائی گورنر کی موجودی میں صوبہ سیستان بلوچستان کے عوام کے معاشی مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا عوام کی معیشت اور کمائی کے لیے کوشش کریں جو سخت بحرانی کیفیت میں ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں