آج : 5 September , 2018

شکر کی شیرینی

شکر کی شیرینی

آج نقی آفس سے گھر کافی دیر میں آئے۔ میں کھانا بنانے میں مصروف تھی، اس لیے دیر سے آنے کی وجہ معلوم نہ ہوسکی۔ رات کے کھانے کے بعد دسترخوان سمیٹتے ہوئے میں نے نقی سے تاخیر ہونے کی وجہ معلوم کی۔ جواب دینے کی بجائے پہلے تو وہ مسکرانے لگے پھر بولے:
’’میں سوچ رہا تھا کہ تم اتنی دیر صبر کیسے کرلیا؟ ورنہ تو دروازے پر ہی تھانیدارنی بن کر کھڑی ہوتی ہو کہ بتائیں اب تک کہاں تھے آپ؟‘‘
’’تو کیا کریں پوچھنا پڑتا ہے۔ آج کل مردوں کے لیے باہر بہت سے دلچسپی کے ٹھکانے بن گئے ہیں۔‘‘ میں نے بھی مزاحیہ انداز میں کہا۔
’’ارے ناشیہ! کہیں اِدھر اُدھر نہیں گیا تھا۔ گاڑی کے ٹائر خراب ہورہے تھے۔ بچے کب سے لانگ ڈرائیو پر جانا چاہ رہے تھے ان کی چھٹیاں بھی ہیں تو سوچا آج ٹائر کی مارکیٹ کا چکر لگالوں۔‘‘
میں برتن کچن میں رکھ کر واپس ان کے پاس آبیٹھی۔
’’تو پھر کیا دیکھ کر آئے؟‘‘
’’ارے یا کچھ نہ پوچھو پچیس تیس ہزار کا خرچہ ہے۔‘‘
تو پھر اتنی رقم کہاں سے آئے گی؟‘‘
وہ شرارتی نظروں سے مجھے گھورنے لگے پھر ہاتھ دھونے کے لیے بیسن کی طرف چلے گئے میں ان کے پراسرار انداز پر متجسس ہوگئی۔
’’ارے بھئی! اب ایسی شک بھری نظروں کے تیر نہ چلاؤ۔میں نے کچھ رقم جمع کی ہے تو اس سے ان شاء اللہ خریدلوں گا۔
’’بچت آپ نے کہاں سے کرلی؟ اس کا مطلب ہے پہلے بھی آپ بچت کرلیتے ہوں گے؟‘‘ میرا شک بڑھا جارہا تھا۔
’’ارے کہاں بچت ہوتی ہے سب کچھ تو تم پر اور تمہارے بچوں پر خرچ ہوجاتا ہے۔ میں کہاں اپنے اوپر فضول خرچی کرتا ہوں۔‘‘
واقعی نقی بالکل بھی فضول خرچ نہ تھے۔ اس بات کا میرے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ کندھے اچکا کر کچن کی طرف چلی گئی۔ شوہر ہمارا کتنا خیال رکھتے ہیں ایک احساس دل میں ابھرا لیکن شوہر پر کچھ ظاہر نہ کیا۔ آخر ہمارا حق ہے، شکریے کی کیا ضرورت ہے۔ خوب جما جما کر شرٹ کی آستینوں پر استری کی اس کے بعد جب کالر پر استری کرنے لگی تو کالر کا حشر دیکھ کر خون جل کر رہ گیا، ایک تو اتنی گرمی میں استری کرو، پھر محنت بھی ضائع ہوگئی۔ کالر کا کپڑا بالکل کمزور ہوگیا تھا اور نیچے سے کالر کا استر نظر آرہا تھا۔ نقی، نتاشہ اور وکی کے ساتھ بچہ بنے موبائل پر گیم کھیل رہے تھے۔ میں نقی کی شرٹ ہاتھ میں پکڑے ان کے پاس لائی اور کالر ان کی بالکل آنکھوں کے سامنے کردی۔
’’دیکھ رہے ہیں کالر کا حشر۔۔۔ اب ایسی کالر ہے کہ بندہ کسی غریب کو دیتے ہوئے بھی شرمائے اور آپ آفس پہن کر جائیں گے۔ کب سے کہہ رہی ہوں کچھ نئی شرٹس بنالیں لیکن آپ میری کوئی بات سنتے ہی نہیں۔‘‘
نقی نے شرٹ کو ہاٹھ میں لے کر اس کا جائزہ لیا پھر لاپروائی سے اس کو ایک طرف ڈال دیا اور بولے:
’’ابھی دوسری طرف سے کالر مضبوط ہے درزی سے کالر کو پلٹوالوں گا۔‘‘
میں غصے سے انہیں گھور کر رہ گئی۔ وہ اپنی ذات کے لیے خرچ کرنا جانتے ہی نہ تھے۔
’’اس کے علاوہ اور بھی شرٹس خراب ہیں، سب دے دینا میں ٹھیک کروا دوں گا۔ تم اپنا بلڈپریشر مت بڑھاؤ خواہ مخوا ڈاکٹر کا خرچہ ہوگا۔‘‘ یہ کہہ کر پھر گیم میں مصروف ہوگئے۔
میں دھلے ہوئے کپڑے تہ کر کے رکھ رہی تھی کہ وکی نے اپنے یونیفارم کی پینٹ دھلے کپڑوں سے نکالی۔
’’امی! دیکھ رہی ہیں نا یہ پینٹ گھنٹے سے خراب ہو رہی ہے۔‘‘
میں نے پینٹ پر نظر ڈالی۔ ایک آدھ دفعہ گر جانے کی وجہ سے اس پر ہلکی سی رگڑ لگ گئی تھی، ورنہ پینٹ تو نئی ہی تھی۔ نقی نے گرمیوں کے آغاز پر بچوں کو نئے لباس دلوائے تھے۔
میں نے پینٹ اس کے ہاتھ سے لے لی اور بولی:
’’چلو بھاگو یہاں سے۔۔۔ کوئی ایسی خراب نہیں ہوئی، ابھی یہ چلے گی۔‘‘
وکی پر میری بات کا کوئی اثر نہیں ہوا اور ماش کے آٹے کی طرح اینٹھ گیا اور منہ بسورتے ہوئے بولا:
’’مجھے نہیں پتا مجھے نئی شرٹ چاہیے۔‘‘
اتنے میں اسے ابو آتے نظر آئے۔ فوراً بولا:
’’ابو! مجھے اسکول کی نئی پینٹ چاہیے، یہ اب بھس گئی ہے۔ مجھے دوستوں کے سامنے پہنتے ہوئے شرم آتی ہے۔‘‘
نقی بھی اسے پیار سے سمجھانے لگے۔
’’بیٹا! ذرا سا خراب ہوجائے تو کپڑے کو ایسے ضائع تھوڑی کرتے ہیں۔ ان شاء اللہ! اب موسم بدلے گا تو میں نئی دلوادوں گا۔‘‘
بچوں کا قیمتی ہتھیار آنسو ہوتے ہیں۔ سو وکی صاحب کے آنسو شروع ہوگئے اور ماں کے دل پر برسات شروع ہوگئی۔ میں وکی کے قریب گئی، گال سے اس کے آنسو صاف کیے اور بولی:
’’سنیں! اس کو پینٹ نئی دلوادیں۔‘‘
وہ حیرت سے مجھے دیکھنے لگے اور بولے:
’’مہینے کے آخری تاریخیں چل رہی ہیں، میں کہاں سے اس فضول خرچی کے لیے پیسے نکالوں؟‘‘
’’میرے بچے کے لیے پینٹ فضول خرچی لگ رہی ہے اور گاڑی میں جو ٹائر لگوائے، وہ فضول خرچی نہیں تھے؟‘‘ نقی کا منہ حیرت سے میری بات سن کر کھلا رہ گیا۔
’’گاڑی کا خرچہ فضول خرچی تھا؟ تم بچوں کے لیے گاڑی کو مین ٹین رکھتا ہوں کے راستے میں کہیں مشکل نہ ہو اور وہ تمہیں فضول خرچی لگتی ہے۔‘‘
میرا پارہ غصے سے بڑے رہا تھا۔ اب ناشکر عورتوں کی طرح میری زبان سے ناشکری کے کلمات شروع ہوچکے تھے۔
’’ہاں! آپ کے پاس تو ہمارے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ اپنے حساب سے آپ کو خرچا کرنا ہوتا ہے اور میں اور میرے بچے ترستے رہتے ہیں۔‘‘ کہیں میرے کان میں کوئی بولا تھا۔ ’’دوزخ میں سب سے زیادہ عورتیں اپنی ناشکری کی وجہ سے ہوں گی۔‘‘ میں اس سرگوشی پر اپنا سر جھٹک کر رہ گئی۔ میرا شوہر جو اپنے بچوں کی ہر جائز خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتا تھا، میں سب غصے کے وبال میں بھول چکی تھی کہ میری فوراً خواہش پوری کیوں نہ کی؟
کانچ کے گلاسوں میں ٹھنڈا چیری شیک نکال کر میں نتاشہ اور وکی کو دے رہی تھی کہ چھوٹی بہن عروبہ اپنے بیٹے کے ساتھ گھر میں داخل ہوئی۔
’’واؤ بہنا! کیا گرمی میں ٹھنڈا ٹھنڈا جوس پیا جارہا ہے۔ پر یہ جوس کون سا ہے، کلر سے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔‘‘ عروبہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی۔
’’خالہ! چیری شیک ہے کیا آپ نہیں بناتیں؟‘‘ نتاشہ پٹاخا مزے سے جوس پیتے ہوئے بولی۔
’’اچھا تو چیری شیک ہے۔۔۔ نا بھئی نا ہمارے میاں تو چیری کے نام پر کان پکڑتے ہیں کہ بہت مہنگی ملتی ہے۔ کہاں ہماری خواہشیں پوری کرتے ہیں۔‘‘
میں نے ایک نظر عروبہ پر ڈالی جو انگلی میں گاڑی کی چابی گھما رہی تھی، جسم پر بہترین لان کا سوٹ تھا، بچہ مہنگے ترین اسکول میں پڑھتا تھا۔ لیکن بس شوہر چیری نہیں لاتا تھا تو کتنے غم زدہ انداز میں اپنی ساری نعمتوں، آسائشوں کو بھول کر ایک چھوٹی سے خواہش کو پورا نہ ہونے کا شکوہ کر رہی تھی۔
’’میرے بندوں میں سے تھوڑے میرا شکر ادا کرنے والے ہیں۔‘‘
اس آیت کی بازگشت میرے کان میں پھڑ پھڑائی۔ وہ بھی میری ہم جنس تھی ہمیں شکر ادا کرنے کی کہاں عادت تھی۔ ہم تو ناشکرے بندے ہیں۔
ناشتہ کرتے وقت نقی بڑی خوش دلی کے ساتھ مجھے کل کے دن کی آفس کی روداد سنا رہے تھے۔ ’’ناشیہ یار! کل تم نے جو بکرے کے پائے بنا کردیے تھے آفس والوں نے تو ہڈیاں تک آخیر تک چبا ڈالیں۔ سب میری قسمت پر رشک کر ررہے تھے کہ میرے مزے ہیں کہ بیوی اتنے مزے مزے کے کھانے بناتی ہے۔ چشتی صاحب تو ہڈی چوستے ہوئے سرد آہ بھر کر بولے تھے یار! تمہاری بیوی تو ٹفن پورا تیار کرکے تمہیں دیتی ہے اور ایک ہمارا نصیب، دسترخوان پر دو روٹیاں رکھ کر اس پر آملیٹ، کباب یا آلو کی ترکاری رکھ کر ہماری بیگم صاحبہ ہمیں دیتی ہیں۔ کبھی قورمہ یا نہاری آفس کے لیے مانگ لوں تو ایسی بے بھاؤ کی سننی پڑتی ہیں کہ تمہاری اولاد کے ناشتے کے لیے اور تم سب کے لنچ کے لیے اتنی روٹیاں ڈالنی پڑتی ہیں کہ لگتا ہے کہ میں کسی تنور پر روٹیاں لگا رہی ہوں پھر تمہارے سالن کی بھی فکر کرتی رہوں۔ بس چپ کر کے یہ تھیلی میں جو ملے صبر کر کے کھالیا کرو۔‘‘
ان کی درد بھری کہانی سن کر آفس میں سب کے قہقہے چھوٹ گئے۔ نقی کے منہ سے تعریفی کلمات سن کر مجھے بہت اچھا لگا۔ دل چاہا میں بھی ان کا شکریہ ادا کروں کہ بھئی! آپ چیزیں لا کر دیتے ہیں تو میں پکاتی ہوں آپ کسی چیز میں کمی نہیں کرتے تب ہی تو اچھا بنتا ہے، لیکن میرے ہونٹ سِلے رہے، شکریہ ادا کرنے کی مجھے عادت جو نہ تھی۔
نقی کے صبح کی تعریف سے دل خوش تھا۔ سوچا آج نقی کی پسند بھنڈی گوشت شور بے والا بنادوں۔ کپڑے استری کر کے باتھ روم میں ٹانگے کہ آفس سے آتے ہی نہاتے تھے اور خود بچوں کو پڑھانے بیٹھ گئی۔ نقی آفس سے آکر سلام دعا کر کے باتھ روم کا رخ کر گئے پھر زور سے ان کے چلانے کی آواز آئی:
’’ناشیہ!۔۔۔‘‘
میں ہونق ہو کر کمرے کی طرف بھاگی کہ کیا ہوگیا؟
باتھ روم کی دروازے سے جھانکتے نقی چلائے: ’’تولیہ کہاں ہے؟‘‘
’’تولیہ باہر گیلری میں ہے، صبح آفس جاتے وقت گولہ بنا کر بیڈ پر پھینک جاتے ہیں، میں نے دھوپ لگانے کے لیے گیلری میں پھیلا دیا تھا، روز آپ کے آنے سے پہلے باتھ روم میں رکھ دیتی ہوں، آج رکھنا بھول گئی تو پورا گھر سر پر اٹھالیا۔‘‘
مجھے ان کے چلانے پر غصہ آرہا تھا۔ وہ بھی غصے سے بولے:
’’تم آج نہیں اکثر بھول جاتی ہو، کبھی شیمپو رکھنا، کبھی صابن رکھنا بھول گئی۔‘‘
’’اگر کبھی بھول گئی تو آپ نے میرے رکھنے کا بھی کبھی شکریہ ادا کیا۔ ابھی کپڑے استری کیے کھانا پکا رہی ہوں، کتنی خدمت کرتی ہوں، مگر آپ کے منہ سے پھول نہیں جھڑتے (صبح کی تعریف بالکل بھلا دی تھی) کیسا ناشکرا مجھے شوہر ملا ہے۔ ہائے اماں! یہی شخص میرے نصیب میں رہ گیا تھا۔ کتنی میری ناقدری کرتا ہے۔‘‘
میری باتیں سن کر انہوں نے غصے سے باتھ روم کا دروازہ بند کرلیا۔
میں غصے سے بل کھاتی رہی۔ بات چھوٹی تھی لیکن مجھے بڑی لگ رہی تھی۔ غصے میں سالن کا شوربہ بھی نہیں بنایا خشک بھنڈی بنا کر رکھ دی جو نقی کو سخت ناپسند تھی۔ مجھے غصے میں دیکھ کر نقی نے خاموشی سے کھانا کھایا۔ مجھے لمحے بھر کے لیے بھی خیال نہ آیا کہ ذراسی بات پر میں نے اللہ سے شکوہ شروع کردیا کہ کیسا شوہر ملا ہے جو میری قدر نہیں کرتا؟ حالاں کہ مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ میرا کتنا خیال رکھتے ہیں۔ میری قدر کرتے ہیں لیکن بھئی مجھے تو غصہ آرہا تھا کہ ابھی انہوں نے کیوں کچھ کہا۔
بچے اماں ابا کی سرد جنگ دیکھ رہے تھے۔ نقی بھی کچھ شاکی سے لگ رہے تھے۔ وکی نے باپ سے پارک جانے کی ضد شروع کی، جب ابا راضی ہوگئے تو اماں کے پیچھے لگ گیا۔ اماں راضی نہیں ہو رہی تھیں تو آنکھوں میں آنسو بھر لایا کہ امی آپ کے بغیر مزہ نہیں آتا۔
اب بھئی بچے کی تو بھیگی آنکھ بھی برداشت نہیں تو عبایا پہن کر بچوں کے ساتھ گیٹ سے باہر آگئی۔ ساتھ والی پڑوسن اپنے میاں کے ساتھ ہنستی مسکراتی جاتی نظر آئی اور ایک ہمارے میاں ہونٹ بھینچے موٹر سائیکل پر بیٹھے ہیں جو بس ہماری غلطی پکڑنے میں لگے رہتے ہیں۔ ایک آہ بھر کر موٹرسائیکل پر پیچھے بیٹھ گئی۔ قریب پارک کے لیے گاڑی کی بجائے موٹر سائیکل پر جاتے ہیں اور اس سواری پر مجھے خوف آتا ہے تو نقی کو خوب کس کر کندھا پکڑ کر بیٹھتی ہوں، مگر جب غصے میں ہوتی ہوں تو ان کو نہیں تھامتی جس سے ان کو میرے موڈ کا اندازہ ہوجاتا ہے۔
پارک میں نتاشہ تو جمپنگ پیڈ پر چڑھ گئی اور وکی دوسرے جھولے کی طرف بڑھ گیا میں پارک میں بینچ پر بیٹھ گئی۔ نقی بچوں کے ساتھ مصروف تھے۔ میں خالی دماغ سب کو دیکھنے میں مصروف تھی۔
اچانک کانوں میں ایک مرد کے دھاڑنے کی آواز آئی۔ آواز پر کان دھرے، کہاں سے آئی ہے؟ جمپنگ پیڈ کے پاس ایک عورت ڈیڑھ سالہ بچی سینے سے چمٹائے کھڑی تھی۔ اس کا چار سالہ بیٹا پیڈ پر اچھل رہا تھا۔ اور وہ اس کا شوہر لگ رہا تھا جو بیوی پر چلا رہا تھا کہ بچی کو جمپنگ پیڈ پر کیوں نہیں چھوڑ رہی۔ بچی بڑے بچوں کے ساتھ گھبرا رہی تھی۔ بچے جب زور سے اچھلتے تو بچی ڈرتی تھی۔۔۔ اتنے میں شوہر صاحب نے آؤ دیکھنا نہ تاؤ اور بچی کو بیوی سے جھپٹ کر پیڈ پر اچھال دیا اور بیوی کو کہنیلگا: خبردار اس کو ہاتھ نہ لگانا۔
اب بچی گلا پھاڑ کر رو رہی تھی لیکن ماں کو اٹھانے کی اجازت نہ تھی۔ وہ عورت بالکل خاموش مجسمے کی طرح ساکت کھڑی تھی۔ پھر ارد گرد لوگ بولنے لگے تو شوہر نے بچی کو اٹھانے کی اجازت دی۔ ماں نے لپک کر روتی بچی کو سینے سے لگایا اور وہاں سے دوسرے جھولے کی طرف آتے ہوئے میرے پاس سے گزری میں نے اس کی آنکھوں کی طرف دیکھا۔ وہ سرخ تھیں، آنسوؤں کے طوفان کو اس نے پلکوں کی باڑ سے روکا ہوا تھا۔
وہ بچی کو چھوٹے بچوں کے جھولے کی طرف لے گئی۔ میں حیرت زدہ یہ منظر دیکھ رہی تھی کہ کیسا بدتمیز شوہر ہے سب کے سامنے بیوی کو گالیاں دے دہا ہے۔ بچوں سے بے رحمی کا سلوک کر رہا ہے اور عورت خاموش ہے کوئی جواب نہیں دے رہی۔
نقی اس دوران میرے قریب آکر بیٹھ گئے اور غصے سے بڑبڑائے:
’’بدبخت نے نشہ کیا ہوا ہے۔ پورا پارک سر پر اٹھایا ہوا ہے۔‘‘
یہ سن کر تو میرے سر پر گویا پہاڑ آن پڑا۔ اس عورت کے صبر کو میں نے داد دی جو ساری دنیا کے سامنے لعن طعن سن رہی ہے۔ نشئی شوہر کی حرکتیں برداشت کر رہی ہے۔ اور ایک میں ہوں جو شوہر کی ذرا سی ڈانٹ برداشت نہ کر پائی اور آگے سے کیا کچھ کہہ دیا۔
یااللہ! میں کیسی عورت ہوں، کبھی شوہر کا احسان نہیں مانتی کہ وہ عزت سے مجھے گھر بٹھا کر کھلا رہا ہے۔ مجھے کبھی کسی کے سامنے ذلیل نہیں کرتا، میرے بچوں سے ہمیشہ محبت بھرا سلوک رکھا اور میں اس سے شکوہ کرتی ہوں۔
یا اللہ! مجھے معاف کردینا۔ مجھے ہدایت دے، مجھے ناشکری عورتوں میں شامل نہ کرنا آج سے میں اپنے شوہر کا زبان سے بھی شکریہ ادا کروں گی کہ اللہ نے ان کو میرا سرتاج بنایا۔ جنہوں نے مجھے ملکہ بنا کر گھر میں رکھا ہے۔
نقی کے ساتھ قدم ملا کر چلتی ہوئی جب میں بائیک پر بیٹھی تو نقی کا کندھا مضبوطی سے پکڑا۔ نقی نے مسکرا کر میری طرف پلٹ کر دیکھا۔
ایک شکر آمیز طمانیت کی لہر میرے سینے میں اٹھے۔
’’یا اللہ! تیرا شکر احسان کہ تو نے مجھے کتنا اچھا شوہر دیا۔‘‘


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں