آج : 1 September , 2018

مسلمانوں کی لاشوں پراسرائیل اور میانمارمیں مہلک ہتھیاروں کے معاہدے

مسلمانوں کی لاشوں پراسرائیل اور میانمارمیں مہلک ہتھیاروں کے معاہدے

اسرائیلی اخبارات نے انکشاف کیا ہے کہ روہنگیا میں مسلمانوں کی مجرمانہ نسل کشی کے الزامات اور فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے ہاتھوں قتل عام کے الزامات کے باوجود میانمار اور اسرائیل کے درمیان ’ڈرٹی ویپنز‘ [انتہائی مہلک] ہتھیاروں کی خریدو فروخت کا معاہدہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے کثیرالاشاعت عبرانی اخبار ’ہارٹز‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ میانمار کی مغربی مسلم اکثریت ریاست اراکان میں مسلمانوں کی مذہبی عصبیت کی بنیاد پرہونے والی نسل کشی میں اسرائیلی اسلحہ استعمال کیا جاتا رہا ہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے۔
اخباری رپورٹ میں اقوام متحدہ کے میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام کی تحقیقات کے حوالے سے قائم کردہ اقوام متحدہ کے تحقیقات کمیشن کا حوالہ دیا ہے جس میں تصدیق کی گئی ہے کہ میانمارمیں وحشیانہ قتل عام، منظم انداز میں اجتماعی عصمت ریزی، شیرخواربچوں کو بدترین ظلم اور سفاکیت کا نشانہ بنانے، جبری گم شدگی اورمسلمانوں سے غیرانسانی سلوک کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ اراکان میں رہنگیا نسل کے مسلمانوں کی نسل کشی کے کھلے ثبوت اور عالمی اداروں کی طرف سے میانمار کی حکومت پر کڑی تنقید بھی برما اور اسرائیل کے درمیان مہلک اسلحہ کی خریدو فروخت نہیں روک سکی۔
ستمبر 2015ء کو میانمار کے آرمی چیف مین انوگ ھلائنگ نے اسرائیل کا دورہ کیا اور اعلیٰ صہیونی عسکری اور سیاسی قیادت سے ملاقات کی تھی۔ واپسی سے قبل انہوں نے کروڑوں ڈالر مالیت کے اسلحہ کی خریداری کے معاہدوں کا اعلان کیا۔
دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے میانمار کو اسلحہ کی فروخت کا کبھی دعویٰ نہیں کیا اور اسے صیغہ راز میں رکھا گیا مگرمیڈیا میں میانمارکو فروخت کئے گئے اسلحہ کی فروخت کی رپورٹس اور تصاویر سے دونوں ملکوں کے درمیان مہلک ہتھیاروں کی خریدور فروخت کا بھانڈہ پھوٹ جاتا ہے۔
میانمار میں نہتے مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے اسرائیلی اسلحہ کے استعمال کا پہلی بار انکشاف سنہ 2015ء کواسرائیل کے انسانی حقوق کے ایک کارکن ’ایٹائی میک‘ نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ روہنگیا میں جاری جنگی جرائم میں اسرائیل کا بھی ہاتھ ہے کیونکہ برما کی فوج وہاں پر جنگی جرائم میں اسرائیل سے خریدہ اسلحہ استعمال کررہی ہے۔ سنہ 2017ء کو اسرائیلی سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی جس میں میانمار کو اسلحہ کی فروخت پر پابندی عائد کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔
اسرائیلی انسانی حقوق کارکن کا کہنا تھا کہ انہیں میانمار کی فوج کی طرف س’فیس بک‘ پر پوسٹ کی گئی اسرائیلی اسلحہ کی تصاویر ملی ہیں۔ یہ تصاویر مصدقہ ہیں۔ ان سے ثابت ہوتا ہے کہ برما کی فوج اسرائیلی سے مہلک ہتھیار حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ میانمار کی فوج کو جنگی تربیت بھی فراہم کررہی ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں