عورت کے سفر حج کے متعلق چند مسائل

عورت کے سفر حج کے متعلق چند مسائل

جس عورت کے پاس اتنی مالیت ہو کہ جو مکہ معظمہ تک اپنے خرچہ سے آجاسکتی ہو لیکن اس کے ساتھ جانے والا شوہر یا کوئی محرم نہ ہو تو اس پر حج کے لئے جانا فرض نہیں اگر محرم کے بغیر حج کو چل دے گی تو گنہگار ہوگی۔ جب محرم مل جائے یا شوہر کے ساتھ جانے کی صورت ہوجائے تب حج کے لئے روانہ ہو، محرم کا عاقل بالغ اور دیندار ہونا شرط ہے اگر فاسق ہو اور اس سے خطرہ ہو تو اس کے ساتھ نہ جائے۔

مسئلہ: اگر محرم یا شوہر اپنے خرچ سے ساتھ جانے پر تیار نہ ہو تو اس کا خرچہ بھی عورت کے ذمہ ہے ہاں اگر وہ اپنے خرچہ خود برداشت کرے تو کچھ حرج نہیں۔

مسئلہ: بوڑھی عورت بھی بغیر محرم کے حج کو نہیں جاسکتی اور نہ کسی دوسرے سفر پر جو دور کا سفر ہو۔

مسئلہ: اگر عورت پر حج فرض ہوگیا اور محرم بھی ساتھ جانے کو تیار ہے تو شوہر اس کو حج فرض سے نہیں روک سکتا ہاں اگر محرم ساتھ نہ ہو یا حج نفلی ہو تو شوہر کو روکنے کا حق ہے۔

مسئلہ: اگر عورت کے پاس حج کا خرچہ ہے اور محرم یا شوہر بھی موجود ہے لیکن عدت میں ہے تو اس کو حج کے لئے جانا جائز نہیں ہے خواہ عدت فسخ نکاح کی ہو یا طلاق کی یا شوہر کی موت کی اگر عدت میں حج کو چلی جائیگی تو گنہگار ہوگی۔

مسئلہ: اگر عورت کے پاس حج کا خرچہ ہے لیکن محرم یا شوہر نہیں ہے اور عمر بھر محرم نہ ملا تو مرنے سے پہلے وصیت کر جانا واجب ہے کہ میری طرف سے حج کرادیا جائے اور یہ وصیت اس کے تہائی مال میں نافذ ہوگی۔

 

خواتین کے لئے شرعی احکام از مولانا ڈاکٹر محمدعبدالحی عارفی۔ ص: ۲۰۳


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں