آج : 7 August , 2018

امریکہ کی نئے ایٹمی معاہدے پر مذاکرات کی پیشکش اور پابندیاں عائد کرنا سمجھ سے بالاتر ہے: صدر روحانی

امریکہ کی نئے ایٹمی معاہدے پر مذاکرات کی پیشکش اور پابندیاں عائد کرنا سمجھ سے بالاتر ہے: صدر روحانی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ نیا ایٹمی معاہدہ کرنے لیکن ساتھ ہی ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے جواب میں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکہ ایرانی عوام کے خلاف نفسیاتی جنگ لڑ رہا ہے۔
ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے نئے ایٹمی مذاکرات کی بات کرنی اور ساتھ ہی دوبارہ پابندیاں عائد کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔
’وہ ایرانی قوم کے خلاف نفسیاتی جنگ کرنا چاہتے ہیں اور عوام میں تفریق ڈالنا چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا ’مذاکرات کے ساتھ پابندیاں سمجھ سے بالاتر ہے۔ وہ ایران کے بچوں، مریضوں اور عوام پر پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔
صدر روحانی نے کہا کہ ایران ہمیشہ مذاکرات کے حق میں رہا ہے لیکن واشنگٹن کو پہلے یہ ثات کرنا ہو گا کہ اس پر اعتبار کیا جا سکتا ہے۔
’اگر آپ دشمن ہیں اور دوسرے پر چھرے سے وار کرتے ہیں اور پھر لہتے ہیں کہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کو اس چھرے کو ہٹانا ہو گا۔‘
’وہ کیسے ثابت کر سکتے ہیں کہ ان پر اعتبار کیا جا سکتا ہے؟ واپس ایٹمی معاہدے میں شامل ہو کر۔
صدر روحانی نے مزید کہا کہ ’امریکہ ایران پر پابندیاں عائد کرتا ہے اور 2015 کے ایٹمی معاہدے سے نکل جاتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ بات چیت کرنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے براہ راست بات چیت کی دعوت انتخابات سے قبل امریکی عوام کے لیے ہے ۔۔۔ اور ایران میں انتشار پھیلانے کے لیے۔‘

ٹرمپ نے کیا کہا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ نیا ایٹمی معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ امریکہ ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر رہا ہے۔
پیر کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا: ’میں ایک نئے معاہدے کے لیے تیار ہوں جس میں ایرانی حکومت کی تمام منفی سرگرمیوں کا مکمل احاطہ کیا گیا ہو ۔‘
ایران پر امریکی پابندیاں کا پہلا مرحلہ پیر کی رات سے نافذ ہو جائے گا۔
امریکہ نے صدر ٹرمپ کے پیش رو براک اوباما کے دور میں ایران کے ساتھ ایک چھ ملکی ایٹمی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت ایران نے اپنا ایٹمی پروگرام معطل کر دیا تھا جس کے عوض اس پر عائد پابندیاں اٹھا دی گئی تھیں۔
تاہم صدر ٹرمپ ابتدا ہی سے اس معاہدے کے خلاف رہے ہیں اور انھوں نے مئی میں اس معاہدے سے امریکہ کے نکل جانے کا اعلان کیا تھا جس پر یورپی ملکوں نے سخت تشویش کا اظہار کیا تھا۔
یہ معاہدہ ایران، امریکہ، جرمنی، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کے درمیان طے پایا تھا جس کا مقصد ایران کو ایٹمی بم بنانے (جسے ایران مسترد کرتا آیا ہے) سے روکنا تھا۔
امریکہ کے علاوہ اس معاہدے میں شامل دیگر ممالک کا خیال ہے کہ ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کا یہی بہترین راستہ ہے۔
یورپی ممالک سمجھتے ہیں کہ اگر امریکی پابندیاں لگ جاتی ہیں تو انھیں اربوں ڈالر کے کاروبار کا نقصان ہو گا۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں