توضیح القرآن۔ آسان ترجمۂ قرآن (المائدة 87-93)

توضیح القرآن۔ آسان ترجمۂ قرآن (المائدة 87-93)

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ﴿٨٧﴾ وَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّـهُ حَلَالًا طَيِّبًا ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ الَّذِي أَنتُم بِهِ مُؤْمِنُونَ ﴿٨٨﴾ لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّـهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ ۖ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ۚ ذَٰلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ ۚ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿٨٩﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿٩٠﴾ إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ ﴿٩١﴾ وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَاحْذَرُوا ۚ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿٩٢﴾ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوا وَّآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوا وَّآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوا وَّأَحْسَنُوا ۗ وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ﴿٩٣﴾

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ نے تمہارے لئے جو پاکیزہ چیزیں حلال کی ہیں ان کو حرام قرار نہ دو، اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ یقین جانو کہ اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا[۱]۔ (۸۷)
اور اللہ نے تمہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے حلال پاکیزہ چیزیں کھاؤ، اور جس اللہ پر تم ایمان رکھتے ہو اس سے ڈرتے رہو۔ (۸۸)
اللہ تمہاری لغو قسموں پر تمہاری پکڑ نہیں کرے گا،[۲] لیکن جو قسمیں تم نے پختگی کے ساتھ کھائی ہوں[۳]، ان پر تمہاری پکڑ کرے گا۔ چنانچہ اس کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو وہ اوسط درجے کا کھانا کھلاؤ جو تم اپنے گھروالوں کو کھلایا کرتے ہو، یا ان کو کپڑے دو، یا ایک غلام کو آزاد کرو۔ ہاں اگر کسی کے پاس (ان چیزوں میں سے) کچھ نہ ہو تو وہ تین دن روزے رکھے۔ یہ تمہارے قسموں کا کفارہ ہے جب تم نے کوئی قسم کھالی ہو (اور اسے توڑ دیا ہو)، اور اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو[۴]۔ اسی طرح اللہ تعالی اپنی آیتیں کھول کھول کر تمہارے سامنے واضح کرتا ہے، تا کہ تم شکر ادا کرو۔(۸۹)
اے ایمان والو! شراب، جوا، بتوں کے تھان اور جوئے کے تیر[۵]، یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں، لہذا ان سے بچو، تا کہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔(۹۰)
شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دُشمنی اور بغض کے بیج ڈال دے، اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے۔ اب بتاؤ کہ کیا تم (ان چیزوں سے) باز آجاؤگے؟(۹۱)
اور اللہ کی اطاعت کرو، اور رسول کی اطاعت کرو، اور (نافرمانی سے) بچتے رہو۔ اور اگر تم (اس حکم سے) منہ موڑوگے تو جان رکھو کہ ہمارے رسول پر صرف یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صاف صاف طریقے سے (اللہ کے حکم کی) تبلیغ کردیں۔(۲)
جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، اور نیکی پر کاربند رہے ہیں، انہوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا ہے، اس کی وجہ سے ان پر کوئی گناہ نہیں ہے[۶]، بشرطیکہ وہ آئندہ ان گناہوں سے بچتے رہیں، اور ایمان رکھیں اور نیک عمل کرتے رہیں، پھر (جن چیزوں سے آئندہ روکا جائے ان سے) بچا کریں، اور ایمان پر قائم رہیں، اور ا س کے بعد بھی تقویٰ اور احسان کو اپنائیں[۷]۔ اللہ احسان پر عمل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (۹۳)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حواشی:
۱۔ جس طرح حرام چیزوں کو حلال سمجھنا گناہ ہے، اسی طرح جو چیزیں اللہ نے حلال کی ہیں ان کو حرام سمجھنا بھی بڑا گناہ ہے۔ مشرکین مکہ اور یہودیوں نے ایسی بہت سی چیزوں کو اپنے اُوپر حرام کر رکھا تھا، جس کی تفصیل ان شاء اللہ سورۂ انعام میں آئے گی۔
۲۔ ’لغو‘ قسموں سے مراد ایک تو وہ قسمیں ہیں جو قسم کھانے کے ارادے کے بغیر محض محاورے اور تکیۂ کلام کے طور پر کھالی جاتی ہیں، اور دوسرے وہ قسمیں بھی لغو کی تعریف میں داخل ہیں جو ماضی کے کسی واقعے پر سچ سمجھ کر کھائی گئی ہوں، مگر بعد میں معلوم ہو کہ جس بات کو سچ سمجھا تھا وہ سچ نہیں تھی۔ اس قسم کی قسموں پر نہ کوئی گناہ ہوتا ہے، اور نہ کوئی کفارہ واجب ہوتا ہے، البتہ بلاضرورت قسم کھانا کوئی اچھی بات نہیں ہے، اس لئے ایک مسلمان کو اس سے احتیاط کرنی چاہئے۔
۳۔ اس سے مرادہ وہ قسم ہے جس میں آئندہ زمانے میں کوئی کام کرنے یا نہ کرنے کا عہد کیا گیا ہو۔ ایسی قسم کو توڑنا عام حالات میں بڑا گناہ ہے، اور اگر کوئی شخص ایسی قسم توڑ دے تو اس کا کفارہ بھی واجب ہے جس کی تفصیل آیت میں بیان فرمائی گئی ہے۔ ایک تیسری قِسم کی قَسم وہ ہے جس میں ماضی کے کسی واقعے پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا گیا ہو، اور مخاطب کو یقین دلانے کے لئے قسم کھالی گئی ہو۔ ایسی قسم سخت گناہ ہے، مگر دنیا میں اس کا کوئی کفارہ سوائے توبہ اور استغفار کے کچھ نہیں ہوتا۔
۴۔ مطلب یہ ہے کہ قسم کھالینا کوئی مذاق نہیں ہے، اس لئے اول تو قسمیں کم سے کم کھانی چاہئیں، اور اگر کوئی قسم کھالی ہو تو حتی الامکان اسے پورا کرنا ضروری ہے۔ البتہ اگر کسی شخص نے کوئی ناجائز کام کرنے کی قسم کھالی ہو تو اس پر واجب ہے کہ قسم کو توڑے اور کفارہ ادا کرے۔ اسی طرح اگر کسی جائز کام کی قسم کھائی، مگر بعد میں اندازہ ہوا کہ وہ کام مصلحت کے خلاف ہے، تب بھی ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت فرمائی ہے کہ ایسی قسم کو توڑ دینا چاہئے، اور کفارہ ادا کرنا چاہئے۔
۵۔ بتوں کے تھان سے مراد وہ قربان گاہ ہے جو بتوں کے سامنے بنادی جاتی تھی، اور لوگ بتوں کے نام پر وہاں جانور و غیرہ قربان کیا کرتے تھے۔
۶۔ جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو بعض صحابۂ کرام کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ جو شراب حرمت کا حکم آنے سے پہلے پی لی گئی ہے، کہیں وہ ہمارے لئے گناہ کا سبب نہ بنے۔ اس آیت نے یہ غلط فہمی دُور کردی، اور یہ بتادیا کہ چونکہ اس وقت اللہ تعالی نے شراب پینے سے صاف الفاظ میں منع نہیں کیا تھا، اس لئے اس وقت جنہوں نے شراب لی تھی اس پر ان کی کوئی پکڑ نہیں ہوگی۔
۷۔ احسان کے لغوی معنی ہیں ’’اچھائی کرنا‘‘۔ اس طرح یہ لفظ ہر نیکی کو شامل ہے، لیکن ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تشریح فرمائی ہے کہ انسان اللہ کی عبادت اس طرح کرے جیسے وہ اس کو دیکھ رہا ہے، یا کم ازکم اس تصوّر کے ساتھ کرے کہ اللہ توالی اسے دیکھ رہا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان اپنے ہر کام میں اللہ تعالی کے سامنے ہونے کا دھیان رکھے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں