توضیح القرآن، آسان ترجمۂ قرآن (سورة المائدة: 78-86)

توضیح القرآن، آسان ترجمۂ قرآن (سورة المائدة: 78-86)

«لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا وَّكَانُوا يَعْتَدُونَ ﴿٧٨﴾ كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَن مُّنكَرٍ فَعَلُوهُ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ﴿٧٩﴾ تَرَىٰ كَثِيرًا مِّنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ أَنفُسُهُمْ أَن سَخِطَ اللَّـهُ عَلَيْهِمْ وَفِي الْعَذَابِ هُمْ خَالِدُونَ ﴿٨٠﴾ وَلَوْ كَانُوا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالنَّبِيِّ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَاءَ وَلَـٰكِنَّ كَثِيرًا مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ ﴿٨١﴾ لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ ﴿٨٢﴾ وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ ۖ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ ﴿٨٣﴾ وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن يُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِينَ ﴿٨٤﴾ فَأَثَابَهُمُ اللَّـهُ بِمَا قَالُوا جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ ﴿٨٥﴾ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ ﴿٨٦﴾»

ترجمہ: بنو اسرائیل کے جو لوگ کافر ہوئے ان پر داؤد اور عیسی ابن مریم کی زبان سے لعنت بھیجی گئی تھی[۱]۔ یہ سب اس لئے ہوا کہ انہوں نے نافرمانی کی تھی، اور وہ حد سے گذر جایا کرتے تھے۔(۷۸)
وہ جس بدی کا ارتکاب کرتے تھے، اس سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کا طرز عمل نہایت بُرا تھا۔ (۷۹)
تم ان میں سے بہت سوں کو دیکھتے ہو کہ انہوں نے (بت پرست) کافروں کو اپنا دوست بنایا ہوا ہے[۲]۔ یقیناًجو کچھ انہوں نے اپنے حق میں اپنے آگے بھیج رکھا ہے وہ بہت بُرا ہے، کیونکہ (ان کی وجہ سے) اللہ ان سے ناراض ہوگیا ہے، اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے۔(۸۰)
اگر یہ لوگ اللہ پر اور نبی پر اور جو کلام ان پر نازل ہوا ہے ہے اس پر ایمان رکھتے تو ان (بت پرستوں) کو دوست نہ بناتے، لیکن (بات یہ ہے کہ) ان میں زیادہ تعداد ان کی ہے جو نافرمان ہیں۔ (۸۱)
تم یہ بات ضرور محسوس کرلو گے کہ مسلمانوں سے سب سے سخت دُشمنی رکھنے والے ایک تو یہودی ہیں، اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو (کھل کر) شرک کرتے ہیں۔ اور تم یہ بات بھی ضرور محسوس کرلوگے کہ (غیرمسلموں میں) مسلمانوں سے دوستی میں قریب تر وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو نصرانی کہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں بہت سے علم دوست اور عالم اور بہت سے تارک الدنیا درویش ہیں [۳]، نیز یہ وجہ بھی ہے کہ وہ تکبر نہیں کرتے۔ (۸۲)
اور جب یہ لوگ وہ کلام سنتے ہیں جو رسول پر نازل ہوا ہے تو چونکہ انہوں نے حق کو پہچان لیا ہوتا ہے، اس لئے تم ان کی آنکھوں کو دیکھو گے کہ وہ آنسؤوں سے بہ رہی ہیں [۴]، (اور) وہ کہہ رہے ہیں کہ ’’اے ہمارے پروردگاز! ہم ایمان لے آئے ہیں، لہذا گواہی دینے والوں کے ساتھ ہمارا نام بھی لکھ لیجئے۔(۸۳)
اور ہم اللہ پر اور جو حق ہمارے پاس آگیا ہے اس پر آخر کیوں ایمان نہ لائیں، اور پھر یہ توقع بھی رکھیں کہ ہمارا رب ہمیں نیک لوگوں میں شمار کرے گا؟‘‘ (۸۴)
چنانچہ ان کے اس قول کی وجہ سے اللہ ان کو وہ باغات دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جن میں وہ ہمشہ رہیں گے۔ یہی نیکی کرنے والوں کا صلہ ہے۔ (۸۵)
اور جن لوگوں نے کفر اَپنایا ہے اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے، وہ دوزخ والے لوگ ہیں۔ (۸۶)

۔۔۔۔۔۔۔۔
حواشی
۱۔ یعنی اس لعنت کا ذکر زَبور میں بھی تھا جو حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی، اور اِنجیل میں بھی تھا جو حضرت عیسی علیہ السلام پر اُتری تھی۔
۲۔ یہ ان یہودیوں کی طرف اشارہ ہے جو مدینہ منورہ میں آباد تھے، اور انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ بھی کیا ہوا تھا، اس کے باوجود انہوں نے در پردہ مشرکین مکہ سے دوستیاں گانٹھی ہوئی تھیں، اور ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے۔ بلکہ ان کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے ان سے یہ تک کہہ دیتے تھے کہ ان کا مذہب مسلمانوں کے مذہب سے اچھا ہے۔
۳۔ مطلب یہ ہے کہ عیسائیوں میں چونکہ بہت سے لوگ دُنیا کی محبت سے خالی ہیں، اس لئے ان میں قبولِ حق کا مادہ بھی زیادہ ہے، اور کم از کم انہیں مسلمانوں سے اتنی سخت دُشمنی نہیں ہے، کیونکہ دنیا کی محبت وہ چیز ہے جو انسان کو حق کے قبول کرنے سے روکتی ہے۔ اس کے برعکس یہودیوں اور مشرکین مکہ پر دنیا پرستی غالب ہے، اس لئے وہ سچے طالبِ حق کا طرزِ عمل اختیار نہیں کر پاتے۔ عیسائیوں کے نسبۃً نرم دِل ہونے کی دوسری وجہ قرآن کریم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ تکبر نہیں کرتے، کیونکہ انسان کی اَنا بھی اکثر حق کو قبول کرنے میں رُکاوٹ بن جاتی ہے۔ عیسائیوں کو جو مسلمانوں سے محبت میں قریب تر فرمایا گیا ہے اسی کا ایک اثر یہ تھا کہ جب مشرکین مکہ نے مسلمانوں پر ظلم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تو بہت سے مسلمانوں نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس پناہ لی اور نہ صرف نجاشی، بلکہ اس کی رعایا نے بھی ان کے ساتھ بڑے اعزاز و اکرام کا معاملہ کیا۔ بلکہ جب مشرکین مکہ نے اپنا ایک وفد نجاشی کے پاس بھیجا اور اس سے درخواست کی کہ جن مسلمانوں نے اس کے ملک میں پناہ لی ہے انہیں اپنے ملک سے نکال کر واپس مکہ مکرمہ بھیج دے، تا کہ مشرکین ان کو اپنے ظلم کا نشانہ بنا سکیں تو نجاشی نے مسلمانوں کو بلا کر ان سے ان کا موقف سنا اور مشرکین مکہ کا مطالبہ ماننے سے انکار کردیا، اور جو تحفے انہوں نے بھیجے تھے وہ بھی واپس کردیئے۔ لیکن یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ عیسائیوں کو جو مسلمانوں سے قریب تر کہا گیا ہے، یہ ان عیسائیوں کی اکثریت کے اعتبار سے کہا گیا ہے جو اپنے مذہب پر عمل کرتے ہوئے دُنیا کی محبت سے دُور ہوں، اور ا ن میں تکبر نہ پایا جاتا ہو۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر زمانے کے عیسائیوں کا یہی حال ہے، چنانچہ تاریخ میں ایسی بھی بہت مثالیں ہیں جن میں عیسائیوں نے مسلمانوں کے ساتھ بدترین معاملہ کیا۔
۴۔ جب مسلمانوں کو حبشہ سے نکالنے کا مطالبہ لے کر مشرکین مکہ کا وفد نجاشی کے پاس آیا تھا تو اس نے مسلمانوں کو اپنے دربار میں بلاکر ان کا موقف سنا تھا۔ اس موقع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی حضرت جعفر ابن ابی طالبؓ نے اس کے دربار میں بڑی مؤثر تقریر کی تھی جس سے نجاشی کے دِل میں مسلمانوں کی عظمت اور محبت بڑھ گئی، اور اسے اندازہ ہوگیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو نجاشی نے اپنے علماء اور راہبوں کا ایک وفد آپ کی خدمت میں بھیجا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے سورۂ یٰس کی تلاوت فرمائی جسے سن کر ان لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے، اور انہوں نے کہا کہ یہ کلام اس کلام کے مشابہ ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل ہوا تھا، چنانچہ یہ سب لوگ مسلمان ہوگئے، اور جب یہ واپس حبشہ گئے تو نجاشی نے بھی اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا۔ ان آیات میں اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں