مولانا عبدالحمید کے اسفارپر پابندی؛ وزارت انٹیلی جنس سے مذاکرات

مولانا عبدالحمید کے اسفارپر پابندی؛ وزارت انٹیلی جنس سے مذاکرات

تہران (ایلنا+سنی آن لائن) ایرانی مجلس شورائے اسلامی (پارلیمنٹ) کے رکن محمود صادقی نے خبر دی ہے کہ مولانا عبدالحمید کے غیرملکی اور اندرون ملک اسفار پر پابندیوں کے حوالے سے وزیر انٹیلی جنس سے ان کی ملاقات ہوئی ہے۔
تہران سے منتخب اصلاح پسند رکن پارلیمان نے ایلنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے: گزشتہ ہفتہ میں بیس سے زائد ارکان پارلیمان نے وزیر داخلہ اور وزیر انٹیلی جنس کے نام خط لکھتے ہوئے مولانا عبدالحمید کے اسفار پر پابندی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔ اس کے بعد وزارت انٹیلی جنس سے مجھ سے رابطہ کیا گیا تاکہ ہم اس بارے میں بات چیت کریں۔
ڈاکٹر محمود صادقی نے کہا: ان پابندیوں کے بارے میں وزیر انٹیلی جنس سے بھی رابطہ ہوا اور ہم نے ایک میٹنگ ان کے ساتھ رکھی اور ان کے خیالات بھی ہمیں معلوم ہوئے۔ علوی صاحب کا کہنا تھا کہ مولانا کے اسفار بہت ہیں اور بعض پابندیاں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہیں۔
انہوں نے اعلی سکیورٹی حکام سے اپنی بات چیت کے نتائج کے بارے میں کہا: میں نے وزیر انٹیلی جنس سے واضح کیا کہ سفر کرنا اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا ہر شخص کا شہری حق ہے، ایک ممتاز عالم دین جو سب کے لیے قابل احترام ہیں ، ان سے ایسا رویہ رکھنا ہرگز مناسب نہیں ہے۔
صادقی نے مزید کہا: ایسے رویوں سے عوام میں مایوسی پھیل جاتی ہے اور صدر روحانی کے وعدوں کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ان کی کامیابی میں مولانا عبدالحمید نے کردار ادا کیا اور ہم نے صدر مملکت سے بھی یہ واضح کیا ہے۔
یادرہے گزشتہ چند سالوں سے مولانا عبدالحمید کو صوبہ سیستان بلوچستان اور تہران کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں میں ذاتی طورپر سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ نیز انہیں متعدد غیرملکی اسفار سے منع کیا گیا ہے، اب تک صرف ایک دو مرتبہ انہیں عمرہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں