شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ایران کے معاشی مسائل کا حل بتادیا؛

پروردگارعالم اور قوم کی حمایت سے موجودہ بحرانوں سے چھٹکارا ممکن ہے

پروردگارعالم اور قوم کی حمایت سے موجودہ بحرانوں سے چھٹکارا ممکن ہے

خطیب اہل سنت زاہدان نے ملک کے موجودہ بحرانوں اور معاشی مشکلات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ’اللہ رب العزت کی حمایت‘ اور ’قوم کے ساتھ دینے‘ کی دو بنیادوں کو ان بحرانوں سے نجات کے لیے ضروری قرار دیا۔
سنی آن لائن نے مولانا عبدالحمید کی ویب سائٹ کے حوالے سے ان کے انتیس جون دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ کی رپورٹ شائع کی۔ مولانا نے کہا: جوہری معاہدے سے خارج ہونے کے بعد امریکا ملک پر سخت پابندیاں عائد کرنے کی کوششیں کررہاہے۔ ملک میں پائے جانے والے مسائل کا تعلق اسی موضوع سے ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ابھی امریکا کی پابندیاں نافذ نہیں ہوئی ہیں اور صرف خبر شائع ہونے سے اس قدر مارکیٹ درہم برہم ہوچکی ہے اور معیشت کو نقصان پہنچاہے۔ دریں اثنا عوام کو معاشی مسائل کی شکایت اور امریکا سے مذاکرات کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے امریکا سے براہ راست مذاکرات کے بارے میں اپنا نقطہ نظر واضح کرتے ہوئے کہا: ہمیشہ کی طرح ہمارا خیال یہ ہے کہ ہر مشکل کا حل بات چیت اور گفت وشنید میں ہے، لیکن موجودہ حالات میں جن شرائط کے ساتھ امریکا چاہتاہے، مذاکرات کرنا بہت مشکل ہوگا اور ایسے مذاکرات کے خاطرخواہ نتائج نکلنے کی امید نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا: میرے خیال میں امریکا سے مذاکرات کوئی کامل حل نہیں ہے، بحرانوں سے نجات کے لیے سب سے پہلے ہم اپنی ہی قوم سے بات چیت کریں۔ اللہ تعالی کی رضامندی حاصل کرکے قوم کی بات سننے اور اس کے جائز مطالبات فراہم کرنے سے بحرانوں کا خاتمہ ممکن ہوگا۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: ہم سب کو اپنے کردار اور اعمال میں نظرثانی کرنی چاہیے۔ یہ دیکھ لیں کہاں ہم نے اسلامی شریعت کی خلاف ورزی کی ہے اور ہماری طرف سے کن گروہوں اور برادریوں کے حقوق کی پامالی ہوئی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ناانصافی کی وجہ سے ہم قحط، زلزلے اور امریکا جیسے ظالم کے ذریعے سزا بھگت رہے ہوں۔
انہوں نے مزید کہا: حکام دیکھ لیں کہیں ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کسی پر ظلم ہواہے اور اس کے ساتھ امتیازی رویہ اپنایاگیاہے، اس کی رضامندی حاصل کریں۔ حکام عوام کی آواز سنیں اور جائز احتجاجوں پر توجہ دیں۔ حکام سمیت کوئی بھی شخص اس ملک میں معصوم نہیں ہے؛ تمام مسلم حکمران اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔
انہوں نے کہا: ہر جگہ سے صدائے احتجاج بلند ہورہی ہے، اس کی بڑی وجہ نااہل افسروں اور حکمرانوں کی تقرری ہے جو میرٹ کی بنیاد پر بھرتی نہیں ہوئے ہیں۔ دوسری جانب انتہائی قابل افراد محض اپنے مسلک کی وجہ سے مسترد ہوچکے ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: ایک یا دو وزیروں کی برطرفی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ کمزور اور نالائق افسر حکومت کے علاوہ تمام ریاستی اداروں میں بھی پائے جاتے ہیں جن کے خلاف ایکشن لینا چاہیے۔ معاشی فسادات کی روک تھام صرف سزا دینے سے ممکن نہیں، پالیسیوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

اہل حل و عقد کی مجلس شوریٰ بنائیں
ایران کے ممتاز سنی عالم دین نے ملک کے بحرانوں سے نجات پانے کے لیے مختلف خیالات کے دانشوروں اور شخصیات سے فائدہ اٹھانے پر زور دیتے ہوئے شورائے اہل حل و عقد بنانے کی تجویز پیش کی۔
انہوں نے کہا: آج کل کے مسائل محض حکومت کے مسائل نہیں ہیں، یہ قومی امن اور پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ اب وقت پہنچاہے کہ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے اور ہر شعبے کے ماہرین کی آرا و افکار سے استفادہ کیاجائے۔ ریاستی اداروں سے باہر شخصیات کی افکار سے بھی فائدہ اٹھایاجائے۔
ایران کی خارجہ پالیسیوں کی اصلاح پر زور دیتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: دیگر ملکوں میں نافذ پالیسیوں اور پلانوں میں نظرثانی کی ضرورت ہے۔ قوم سے واضح الفاظ میں بات کریں اور ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کریں۔
انہوں نے تہران سمیت بعض دیگر بڑے شہروں میں سنی برادری کو عید الفطر کی نماز سے روکنے پر تنقید کرتے ہوئے رکاوٹ ڈالنے والوں کو خیرخواہی سے دور یاد کیا۔
اپنے خطاب کے آخر میں میرجاوہ کے سرحدی علاقے میں گارڈز پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا: چالیس سالوں سے مسلح ادارے سنی برادری کے لیے شجرہ ممنوعہ بنادیے گئے ہیں۔ ہماری درخواست ہے کہ انہیں سرکاری طورپر مسلح اداروں میں شامل کیاجائے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں