ماہ صیام کے دوران مسجد نبوی کے 100 دروازے زائرین کے لیے کھلے

ماہ صیام کے دوران مسجد نبوی کے 100 دروازے زائرین کے لیے کھلے

مسجد نبوی کے انتظامی امور کے نگراں ادارے کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ماہ صیام کے دوران مسجد کے 100 دوازے زائرین کی آمد ورفت کی سہولت کے لیے دن رات کھلے رکھے گئے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مسجد نبوی کی انتظامی کمیٹی کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران مسجد نبوی میں زائرین کی آمد ورفت کے لیے 10 ہنگامی دروازے بھی قائم کیے گئے تاکہ مسجد میں آنے والے نمازیوں اور روزہ داروں کو کسی قسم کی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مسجد نبوی میں آمد ورفت کے لیے ایک سو دروازوں کے کھلے رکھنے کے ساتھ ساتھ زائرین کو ہر قسم کا آرام وراحت پہنچانے کے لیے 600 ملازمین تعینات کیے گئے ہیں۔
جہاں تک مسجد نبوی کے تاریخی دروازوں کی تاریخی اہمیت کا سوال ہے تو مورخین کا کہنا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مسجد اپنے دست مبارک سے مسجد تعمیر کی تو اس کے صرف تین داخلی اور خارجی دروازے تھے۔ ایک دروازہ جنوب، دوسرا مغرب اور تیسرا مغرب کی سمت سے تھا۔ انہیں آج بھی باب الرحمۃ، باب جبریل اور باب ابوبکر صدیق کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔
متذکرہ دروازے آج بھی انہی ناموں کے ساتھ موجود ہیں مگر انہیں آمد ورفت نہیں بلکہ صرف زیارت کے لیے کھولا جاتا ہے۔ نمازیوں کی تعداد میں اضافے کے بعد خلیفہ دوم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی کی توسیع کا حکم دیا۔ سنہ 17ھ میں مسجد نبوی کی توسیع کے بعد اس کے مزید تین دروازوں کا اضافہ کیا گیا۔ حضرت عثمان بن عفان کے دور میں مسجد نبوی کے چھ دروازے ہی رہے تاہم ان میں سے ایک دروازہ خواتین کے لیے مختص کیا گیا۔
مختلف ادوار میں مسجد نبوی کی توسیع کا عمل جاری رہا۔ یہاں تک کہ موجودہ سعودی خاندان کے حکمران شاہ سعود بن عبدالعزیزآل سعود نے مسجد نبوی کے پانچ مزید دروازوں کے قیام کے ساتھ مزید توسیع کی۔ ان کے دور میں مسجد کے 10 اور دروازے بھی بنائے گئے۔ ان میں تین داخلی دروازے شامل ہیں۔ انہیں باب الملک، باب عمر بن خطاب، باب عثمان بن عفان، باب عبدالعزیز، باب المجیدی کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔
بعد ازاں خادم الحرمین الشریفین شاہ فہد بن عبدالعزیز نے مسجد نبوی کی شمالی، مشرقی اور مغربی سمت میں توسیع کرائی اور مزید کئی دروازے شامل کیے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں