شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید :

رمضان المبارک تبدیلی اور دینی و معاشرتی بیداری کا مہینہ ہے

رمضان المبارک تبدیلی اور دینی و معاشرتی بیداری کا مہینہ ہے

خطیب اہل سنت زاہدان نے یکم جون دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں رمضان المبارک کو ’تبدیلی‘ کا مہینہ یاد کیا جس میں دینی و معاشرتی بیداری حاصل ہونی چاہیے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ہزاروں روزہ دار فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالی نے رمضان المبارک کی صورت میں ہمیں ایک عظیم نعمت عطا فرمائی ہے تاکہ انسان نفس امارہ بالسوء کو لگام لگائے جو جرم و گناہ پر ابھارتاہے۔ نفس امارہ سے انسان میں خودپسندی، عجب، لالچ اور حب مال جیسی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ اللہ تعالی نے روزہ فرض فرمایا تاکہ ہم نفس و شیطان پر غالب آجائیں۔
انہوں نے مزید کہا: اس ماہ عظیم کی برکت سے بندوں کا تعلق اللہ تعالی سے مزید مستحکم ہوجاتاہے۔ روزہ ہماری اصلاح و تزکیہ کے لیے آیاہے۔ اسی سے تبدیلی آجاتی ہے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: تلاوت قرآن تدبر اور غوروفکر کے ساتھ ہونی چاہیے۔ جب بندہ روزہ رکھتاہے تب قرآن پاک اپنا اثر رکھتا ہے۔ رمضان میں تلاوت دیگر مہینوں سے مختلف ہے؛ اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ تلاوت کریں یا کم از کم دوسروں کی تلاوت سنیں۔
انہوں نے مزید کہا: رمضان المبارک ترک گناہ کی مشق کرنے کا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں گناہوں سے سخت دوری کرنی چاہیے۔ جس طرح جسمانی بیمار کو ڈاکٹر و حکیم دوائی کے ساتھ کچھ پرہیز بھی دیتے ہیں، اگر وہ پرہیز نہ کرے دوائی کا فائدہ نہیں ہوتاہے، اسی طرح رمضان میں روزہ بھی گناہوں سے پرہیز کے بغیرپوری طرح موثر نہیں رہتاہے۔
خطیب اہل سنت نے کہا: رمضان میں اپنی زندگی میں تبدیلی لائیں۔ رمضان دینی و سماجی شعور پیدا کرنے کے لیے آیاہے تاکہ بحیث مسلمان ہم اپنی ذمہ داریوں سے واقف ہوجائیں اور معاشرے کے حوالے سے بھی آگاہ رہیں۔ ہمارے رمضان کے بعد کے حالات رمضان سے پہلے کے حالات سے بہتر ہوں اور یہ رمضان سے استفادہ ہی کی صورت میں ممکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا: رمضان کا عشرہ اخیر پہنچنے والا ہے۔ اس عشرہ میں مزید اللہ کی عبادت کریں، کوشش ہونی چاہیے کہ کسی مسجد میں اعتکاف کے لیے بیٹھیں اور سفر آخرت کے لیے کوئی توشہ تیار کریں۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: رمضان میں زیادہ سے زیادہ سخاوت، مواسات، صدقات اور خیر کے کاموں میں مشارکت کا مظاہرہ کریں۔ اس ماہ میں دینی مدارس و مکاتب اور قیدیوں کے اہل خانہ سے تعاون کریں۔ کچھ قیدی معمولی رقم کی خاطر جیل میں بند ہیں؛ کسی کو رہا کرواکر ایک خاندان کی خوشی کا باعث بنیں۔

عوام اور حکام تفرقہ ڈالنے والوں کو روکیں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے ایک حصے میں زاہدان کی اسلامک آزاد یونیورسٹی کے ایک لیکچرر کی ہرزہ سرائیوں اور پھر اس کی گرفتاری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: گزشتہ ہفتہ میں ایک شخص کی ہرزہ سرائیوں کی ویڈیو وائرل ہوئی جس سے معاشرہ میں افراتفری پھیل گئی اور کچھ خطرات ظاہر ہوئے۔
انہوں نے متعلقہ سکیورٹی اداروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے گستاخ لیکچرر کو گرفتار کیا جس سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے تاکہ پتہ چل جائے اس کا یہ فعل ذاتی اقدام تھا یا پس پردہ اور لوگ بھی ملوث ہیں۔
خطیب اہل سنت نے ایسے حالات میں امن کی پاسداری اور دشمن کو موقع نہ دینے کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا: بندہ یونیورسٹی کے طلبا، اساتذہ اور تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتاہے جنہوں نے صبر وضبط کا مظاہرہ کیا اور اپنے احساسات کو کنٹرول کرکے تفرقہ ڈالنے والوں کو امن سبوتاژ کرنے کا موقع نہیں دیا۔
اپنے خطاب کے آخر میں مولانا عبدالحمید نے زاہدان شہر کے مضافاتی علاقوں کی حالت زار کا تذکرہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ان کے مسائل حل کرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے کہا اس انقلاب کی کامیابی کا ایک فلسفہ یہی تھا کہ غریبوں اور کمزور طبقوں کا خیال رکھاجائے گا۔ یہاں کمزوروں پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں