روزہ انسان کو پرہیزگاری و خیرخواہی سے آراستہ کرتاہے

روزہ انسان کو پرہیزگاری و خیرخواہی سے آراستہ کرتاہے

خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے پچیس مئی دوہزار اٹھارہ کے بیان میں اصلاح نفس میں روزے کی تاثیر پر گفتگو کرتے ہوئے اسے پرہیزگاری، اطاعت شعاری اور خیرخواہی پیدا کرنے والی عبادت قرار دی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے سورت البقرة کی آیت 183 کی تلاوت سے خطبہ جمعہ کا آغاز کرتے ہوئے کہا: اس آیت میں اللہ تعالی نے تقویٰ و پرہیزگاری کو روزے کی حکمت بیان فرمائی ہے۔ روزہ ہی سے بندہ متقی بن سکتاہے۔
انہوں نے مزید کہا: ہر انسان میں ایک ’نفس امارہ‘ ہوا کرتاہے جو انسان کو سرکش اور باغی بناتاہے۔ اللہ تعالی جو سب سے زیادہ جاننے والا ہے اور ہماری کمزوریوں اور ان کے علاج سے خوب واقف ہے، ہمارے وجود میں تسلیم اور ماننے کی صفت پیدا کرنا چاہتاہے۔ اسی لیے کچھ احکام فرض ہوئے تاکہ ہماری بغاوت کا خاتمہ ہوجائے اور گناہ کی طرف خواہش کی بیخ کنی ہوجائے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے مزید کہا: روزے کی حکمت یہی ہے کہ بندہ خدا کے سامنے سرتسلیم خم کرکے سرکشی و بغاوت چھوڑدے۔ جب بندہ اپنے رب کے سامنے سرنڈر کرتاہے، پھر چوں و چرا اور کیوں کیوں کرتا نہیں پھرتاہے۔لہذا ایسے افراد شریعت پر عمل کرنے کے حوالے سے شک و شبہہ کا شکار نہیں ہوتے ہیں۔ وہ حقوق اللہ اور حقوق الناس کا خیال رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا: جب بندہ محض اللہ کی خاطر اور ایمان کے ساتھ روزہ رکھتاہے تاکہ ثواب کمائے، اللہ تعالی اس کو گناہوں سے محفوظ رکھتاہے اور شیطان بھی اس کے سامنے عاجز بن جاتا ہے۔ رمضان شیاطین قید ہوتے ہیں، اس کا یہی مطلب ہے کہ شیطانوں کا لوگوں پر کنٹرول نہیں رہتا اور وہ ان کے سامنے بے بس ہوجاتے ہیں۔
خطیب اہل سنت نے مزید کہا: شیطان کی عاجزی و بے بسی روزہ کی برکت سے ممکن ہوتی ہے۔ بھوک اور پیاس سے نفس امارہ کو شکست ہوتی ہے جو شیطان کے ساتھ مل کر انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اس دشمن کی تباہی روزہ ہی سے ممکن ہے۔ رمضان میں روزہ کے علاوہ دیگر عبادات کا بھی اہتمام ہونا چاہیے۔
انہوں نے رمضان کو ہمدردی کا مہینہ یاد کرتے ہوئے کہا: رمضان صدقات و خیرات اور مواسات و ہمدردی کا مہینہ ہے۔ زکات ادا کرکے کثرت سے صدقہ دیا کریں۔ ان بیماروں کے ساتھ تعاون کریں جو اپنے علاج سے عاجز ہیں۔ نیز غریبوں، یتیموں اور قیدیوں کے اہل خانہ سے تعاون کریں۔ دینی مدارس کو بطور خاص مالی مدد پہنچائیں جن کے اخراجات آپ ہی کے کندھوں پر ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: جو شخص زکات نہیں دیتاہے یا نماز میں سستی و کاہلی کرتاہے، وہ ابھی تک تمرد و بغاوت کا شکار ہے اور رمضان المبارک کی برکتوں سے محروم رہ چکاہے۔ رمضان بندوں میں تقویٰ، اتباع و پیروی، خیرخواہی اور ترک گناہ کی صفت پیدا کرتاہے۔ اس ماہ میں شیطان بھی قید ہوتاہے اور جہنم کے دروازے بھی بند ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: جنت خوشیوں اور نعمتوں کی جگہ ہے جہاں بدامنی اور غم کا وجود ہی نہیں ہے۔ وہ رحمت للعالمین اور دوستوں سے ملاقات کا مقام ہے۔ جنت میں اہل بہشت کا ایک لمحہ اس دنیا کی تمام خوشیوں سے بڑھ کر ہے۔ ان عظیم نعمتوں کو حاصل کرنے کے لیے روزہ جیسی عبادات کا اہتمام کرنا چاہیے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا: ہم سب کو چوکس رہنا چاہیے؛ دینی و معاشرتی بیداری بہت اہم ہے۔ دینی شعور سے بندہ اپنی مذہبی ذمہ داریوں سے آگاہ ہوتاہے اور پھر اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیاری کرنے لگتاہے۔ نوجوانی، فراغت، صحت اور دولت نیز رمضان سب مواقع ہیںجن کا صحیح فائدہ اٹھاکر ہم اپنی آخرت سنوارسکتے ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں