ذکری فرقہ اور اس کے عقائد

ذکری فرقہ اور اس کے عقائد

سوال… ہمارے علاقے میں اصلاحی جماعت کے نام سے ایک گروہ ہے جو سادہ قسم کے لوگوں کو ورغلا رہا ہے اور یہ لوگ مندرجہ ذیل عقائد رکھتے ہیں:
1..صرف ذکر کرو، باقی نماز، روزہ، حج وغیرہ کی کوئی خاص اہمیت نہیں، ذکر نہیں کرو گے تو یہ تمام فضول ہیں۔
2..سلطان محمد علی ان کا پیشوا ہے، اس کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے روپ میں آیا ہے، یعنی سلطان محمد علی کی ذات اصل میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ذات ہے، صرف شکل وصورت میں فرق ہے۔
3..سلطان محمد علی کے اندر الله تعالیٰ کی ذات ہے، سلطان محمد علی کا ہاتھ الله کا ہاتھ ہے۔
4..سلطان محمد علی کو امام مہدی بھی کہتے ہیں۔
5..سلطان محمد علی کامل مرشد ہے جو ہر جگہ موجود ہے او راپنے مریدوں کو ہر جگہ دیکھ رہا ہے۔
6..یہ لوگ خود کو صحابی کہتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو مسلمان بھی نہیں سمجھتے۔
7..یہ لوگ حج نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ وہ ذات پاکستان میں بھی ہے تو وہاں جانے کی کیا ضرورت ہے!
8..سلطان محمد علی کا لنگر کھانا نہیں ہے بلکہ نور ہے، جو کھائے گا وہ اپنے اندر نور داخل کرے گا، نیز یہ لوگ سعودی عرب کے لوگوں کو مسلمان نہیں مانتے۔

یہ لوگ اپنی اصلیت عام تقریروں اور رسالوں سے ظاہر نہیں کرتے بلکہ لوگوں کو ورغلا کر اپنے دفاتر لے جاتے ہیں اور جب وہ قریب جاتے ہیں تو یہ مندرجہ بالا باتیں کرتے ہیں، تب ان کی حقیقت ظاہر ہوتی ہے، میں خود ان کے دفتر جاکر ان کی گفت گو سن چکا ہوں۔ آپ حضرات قرآن وحدیث کی روشنی میں ہماری وضاحت کے ساتھ راہ نمائی فرمائیں، تاکہ سادہ لوح مسلمان ان کے شکنجے میں پھنسنے سے محفوظ ہو جائیں۔

وضاحت…سوال میں مذکورہ”اصلاحی جماعت“ سے فرقہ ”ذکری“ مراد ہے، ذکریوں کی ہیرا پھیری کی وجہ سے سائل ان کے عقائد پر مکمل طور سے مطلع نہیں ہو سکا، عقائد کی مزید وضاحت جواب میں حسب ضرورت کر دی گئی ہے۔

جواب…1..واضح رہے کہ نماز، روزہ، حج جیسی عبادتیں ضروریاتِ دین میں سے ہیں، یعنی یہ دلائل قطعیہ سے ثابت ایسے احکام ہیں جن کا دین میں شامل ہونا ہر خاص وعام کے علم میں ہے، ان میں سے کسی حکم کا بھی انکا رکرنا یا اس کی تخفیف کفر ہے، لہٰذا جو شخص نماز، روزہ، حج وغیرہ کو ہلکا سمجھے اورانہیں کوئی خاص اہمیت نہ دے، بلکہ ذکر کے بغیر ان ارکان کو فضول سمجھے، تو وہ اسلام سے خارج ہے۔

درحقیقت ذکری فرقہ کے پیروکار سرے سے نماز کے منکر ہیں، نماز کے بجائے پانچ وقت ذکر کرتے ہیں۔ (کتاب: میں ذکری ہوں،ص:7)

اسی طرح یہ لوگ رمضان کے روزوں کے بھی منکر ہیں، اس کے بجائے دوسرے دنوں میں تین ماہ آٹھ دن روزے رکھ لیتے ہیں۔ (کتاب:”میں ذکری ہوں“:1/39-37)

2..صحیح بات یہ ہے کہ یہ لوگ سید محمد جون پوری کو باقاعدہ رسول مانتے ہیں اور ان کا کلمہ یہ ہے :”لا الہ الا الله نور پاک مہدی مراد الله“، الفاظ کی ہیر پھیر سے ان کے اصل عقائد نہیں چھپ سکتے، حضرت محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، جو شخص آپ صلی الله علیہ وسلم کے بعد کسی اور کو نبی مانے، وہ کافر ہے۔

3..ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ الله تعالیٰ ہر لحاظ سے یکتا ہیں، نہ آپ کا کوئی مثل ہے اور نہ ذات وصفات میں کوئی آپ کا شریک ہے، لہٰذا الله رب العزت کی ذاتِ عالی یا صفات میں کسی کو شریک ٹھہرانے والا مشرک ہے۔

4..یہ عقیدہ قطعاً احادیث صحیحہ کے خلاف ہے، احادیث میں جس مہدی موعود کا ذکر ہے وہ قربِ قیامت میں دجال کے ظہور سے پہلے ظاہر ہوں گے، حضرت حسن رضی الله عنہ کی اولاد میں سے ہوں گے، نصاری سے آپ کی بہت عظیم الشان جنگ ہو گی اور آپ ان پر فتح یاب ہوں گے، آپ کے زمانے میں دین کی خوب اشاعت ہو گی، دنیا عدل وانصاف سے بھر جائے گی، مکہ مکرمہ کے باشندے ان سے بیعت کریں گے اور جس سال آپ کا ظہور ہو گا اس سال رمضان میں چاند اور سورج گرہن ہو گا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے آپ کی ملاقات ہو گی، آپ کے حالات کتب احادیث میں تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں، ان میں سے کوئی علامت بھی ایسی نہیں جو ان کے مذہبی پیشوا پر صادق آتی ہو ۔

5..ہر جگہ موجود او رہرجگہ دیکھنے والے کے لیے”حاضر ناظر“ کی تعبیر استعمال کی جاتی ہے، جس کا آسان سا مطلب ہے: ”وہ شخصیت جس کا وجود کسی خاص جگہ میں نہیں، بلکہ اس کا وجود بیک وقت ساری کائنات کو محیط ہو اورکائنات کی ایک ایک چیز کے تمام حالات اوّل سے آخر تک اس کی نظر میں ہو“ یہ مفہوم صرف الله تعالیٰ کی ذات پاک پر صادق آتا ہے اور یہ صرف اسی کی شان ہے۔

6..”صحابی“ اس ہستی کو کہا جاتا ہے جو آپ صلی الله علیہ وسلم کی صحبت مبارکہ سے فیض یاب ہوا ہو، یا بحالتِ ایمان اور بیداری آپ صلی الله علیہ وسلم کی دنیوی حیات میں زیارت سے سرفراز ہو او رپھر حالتِ اسلام پر اس دنیا سے رخصت ہو جائے، آپ صلی الله علیہ وسلم کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بابِ نبوت وصحابیت ہمیشہ کے لیے بند کردیے گئے، کسی مسلمان کوبلاوجہِ شرعی کافر جاننا کفر ہے۔

7..ذکری فرقے سے تعلق رکھنے والے حج جیسی عظیم عبادت کے بھی منکر ہیں، بلکہ یہ تو خانہ کعبہ کو قبلہ ہی تصور نہیں کرتے ، حج بیت الله کے بجائے ”کوہِ مراد“ میں جاکر حج کرتے ہیں، جو کہ تربت(ضلع مکران) کے قریب ایک میل کے فاصلے پر ایک پہاڑ ہے۔ (کتاب: ”مہدی تحریک،ص:71)

8..یہ بالکل باطل اور بے اصل عقید ہے۔

لہٰذا سوال میں ذکر کردہ اصلاحی جماعت کے نام سے موسوم (ذکری) گروہ کے عقائد کا اہل سنت والجماعت کے عقائد سے کوئی تعلق نہیں، یہ فرقہ دائرہٴ اسلام سے خارج ہے، مسلمانوں کو ایسے عقائد اور ایسے لوگوں سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں