آج : 26 April , 2018

علماء کا رتبہ بلند

علماء کا رتبہ بلند

اللہ رب العزت نے اپنی مخلوق میں سے بعض کا انتخاب فرمایا اور انہیں ایمان کی ہدایت سے نوازا، پھر اہل ایمان میں سے بعض کو خصوصیت بخشی اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم سے سرفراز فرمایا، انہیں دین کی سمجھ اور سخن فہمی کا سلیقہ بخشا، انتخاب و اجتباء کا یہ دستور ہر دور اور ہر زمانہ میں رہا ہے، انہیں معراج علم سے رفعت اور زیور حلم سے زینت بخشی، انہیں حضرات سے حلال و حرام میں فرق، حق و باطل میں امتیاز، مفید و مضر کی شناخت اور حسن و قبح کی پہچان ہوتی ہے، ان کی فضیلت عظیم اور ان کا رتبہ بلند ہے، انبیاء کے وارث، اولیاء کے قرۃ العین ہیں، مچھلیاں ان کے لئے پانی میں دعاگو ہیں اور فرشتے ان کے واسطے پر بچھاتے ہیں، قیامت کے دن انبیاء کے بعد علماء ہی شفاعت کریں گے، ان کی مجالس میں حکمت کے موتی لٹائے جاتے ہیں، ان کے کردار و عمل سے غافلوں کو تنبہ ہوتا ہے، یہ عبادت گذاروں سے بلند مرتبہ اور زاہدوں سے عالی مقام ہیں، ان کی زندگی غنیمت اور ان کی موت مصیبت ہے، بھولے ہوؤں کو یاد دلانا، اور نہ جاننے والوں کو بتلانا ان کا دستور ہے، ان سے کسی ضرر کا اندیشہ اور کسی نقصان کا خطرہ نہیں ہے، ان کے حسن تادیب سے اطاعت گذاروں میں سبقت اور ان کے حسن موعظت سے کوتاہ دستوں میں ہمت کا داعیہ ابھرتا ہے، ساری مخلوق ان کے علم کی محتاج ہے اور باطل کے خلاف حق کی دلیل انہیں کے اقوال ہیں، ساری مخلوق کو ان کی اطاعت لازم اور ان کی نافرمانی خطرناک غلطی ہے، جس نے ان کی پیروی کی وہ ہدایت کی راہ پر رہا اور جس نے ان کی پیروی چھوڑی وہ بھٹک گیا، مسلمانوں کے بادشاہ کو اگر کسی معاملہ میں تردد ہو تو ضروری ہے کہ علماء ہی کی طرف رجوع کرے اور انہیں کی رائے پر عمل کرے، امراء کو کسی مسئلہ میں اشتباہ ہو تو انہیں کی بات فیصل اور معتمد ہوگی، قاضیوں کو کہیں مشکل معاملہ درپیش آجائے تو علماء ہی کے قول پر فیصلہ دیں گے اور اسی پر اعتماد کریں گے۔
یہ لوگ بندوں کے چراغ، شہروں کے روشن منارے، تقویم امت کے سروسامان اور حکمت کے سرچشمے ہیں، شیطان ان سے جلتا ہے، اہل حق کے قلوب ان سے زندگی پاتے اور اہل باطل کے نفوس ان سے موت کے گھاٹ اترتے ہیں، زمین میں ان کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان میں تارے، ان کی روشنی سے بحر و بر کی تاریکیوں میں رہنمائی ہوتی ہے، جب ستارہ چھپ جاتا ہے تو آدمی حیران ہوجاتا ہے اور جب اس کے نور سے تاریکی چھٹ جاتی ہے تو نگاہیں کام کرنے لگتی ہیں، اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ تمہارے ان دعوؤں کی دلیل کیا ہے؟ تو میں کہوں گا کہ کتاب اللہ، پھر سنت رسول اللہ، پھر اگر کوئی پوچھے کہ اچھا ایسی باتیں سناؤ جس سے انسان کے دل میں علم کی تڑپ اور اللہ و رسول کی مرضیات کے حصول کی رغبت جوش زن ہو تو میں گذارش کروں گا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّـهُ لَكُمْ ۖ وَإِذَا قِيلَ انشُزُوا فَانشُزُوا يَرْفَعِ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ‘‘ اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں جگہ کھولدو تو تم جگہ کھولدیا کرو اللہ تعالی تم کوکھلی جگہ دیگا اور جب یہ کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہوا کرو اللہ تعالی تم میں ایمان والوں کے اور ان لوگوں کے جن کو علم عطا ہوا ہے درجے بلند کرے گا اور اللہ تعالی کو تمہارے سب اعمال کی پوری خبر ہے۔
دیکھو اللہ تعالی نے مؤمن سے رتبۂ بلند کا وعدہ فرمایا ہے اور علماء کو مزید درجات کی بشارت سنائی ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ:
’’ يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا‘‘ جسے چاہتا ہے حکمت عطا فرماتا ہے اور جس کو حکمت عطا فرمائی گئی اسے بہت خیر سے نوازا گیا۔
اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’ وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ‘‘ ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی۔
اور ارشاد ہے: ’’ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ‘‘ اللہ سے ڈرنے والے اس کے بندوں میں علماء ہی ہیں، اللہ تعالی عزیز و غفور ہیں۔
اس آیت میں اللہ تعالی نے یہ بات واضح فرمادی ہے کہ خدا سے عالم ہی ڈرتا ہے، اللہ عزوجل کا ارشاد ہے کہ:
’’ وَلَـٰكِن كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ‘‘ لیکن تم لوگ اللہ والے ہوجاؤ اس لئے کہ تم لوگ کتاب کی تعلیم دیتے ہو اور اسے پڑھتے ہو۔
اور فرمایا کہ:
’’ لَوْلَا يَنْهَاهُمُ الرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ عَن قَوْلِهِمُ الْإِثْمَ‘‘ اگر انہیں ربانی اور احبار گناہ کی بات سے نہ روکتے۔
ربانی اور احبار سے مراد علماء اور فقہاء ہیں۔ اور ارشاد ہے کہ:
’’ وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا ۖ وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ‘‘ ہم نے ان میں پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے ہدایت و ارشاد کا فریضہ انجام دیتے تھے اور یہ منصب انہیں اس وقت عطا ہوا جب انہوں نے صبر کیا اور انہیں ہماری آیتوں کا یقین تھا۔
اور فرمایا:
’’ وَعِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا‘‘ رحمن کے بندے وہ ہیں جو کہ زمین پر تواضع کے ساتھ چلتے ہیں اور جب ان سے جاہل بات کرتے ہیں تو رفع شر کی بات کرتے ہیں۔
وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا، تک اصحاب علم کی فضیلت کا بیان ہے، اس طرح کی جو صفات اور جو احوال قرآن میں مذکور ہیں، یہ علماء کے فضل و کمال کی کھلی دلیل ہیں نیز یہ کہ اللہ تعالی نے انہیں مخلوق کا پیشوا اور مقتدا بنایا ہے، تا کہ ان کی اقتداء و پیروی کی جائے۔
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ’’ يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَن يَشَاءُ‘‘ میں حکمت سے مراد علم اور فقہ ہے، انہیں کا ارشاد ہے کہ ’’ آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا‘‘ (ہم نے سلیمان کو حکم اور علم عطا فرمایا) میں حکم اور علم سے مراد فقہ، عقل اور علم ہے ’’ وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ‘‘ (اور ہم نے لقمان کو حکمت دی) میں بھی جو لوگ ان کی نبوت کے قائل نہیں ہیں، ان کے نزدیک حکمت کا مفہوم یہی عقل و تفقہ اور اصابت قول ہے، نیز حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ’’ أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ‘‘ (اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول اور اولی الامر کی اطاعت کرو) میں اولوالامر سے مراد علماء فقہ و حدیث ہیں، حضرت مجاہد سے بھی یہی روایت ہے کہ اولوا الامر علماء و فقہاء کو کہا گیا ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں