آج : 24 April , 2018

اسلام میں خیرخواہی کی تاکید

اسلام میں خیرخواہی کی تاکید

حضرت جریربن عبداللہ رضی اللہ عنہ مشہورصحابی ہیں، آپ کے والد کا اسم گرامی عبداللہ اور والدہ کا بجیلہ تھا، والدہ کی جانب نسبت کی بنا پر ’’البجلی‘‘ کہلاتے ہیں۔ ’’سیراعلام النبلائ‘‘ میں ان کے تذکرے میں ہے کہ جب یہ مسجدنبوی تشریف لائے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادرمبارک اور بعض روایات کے مطابق تکیہ اُنہیں بیٹھنے کے لیے پیش فرمایا۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے سردار بھی تھے، اس بنا پر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ اعزازواکرام کامعاملہ فرمایااور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کومخاطب کرکے ارشاد فرمایا: ’’إذا أتاکم کریم قوم فأکرموہ‘‘ ۔۔۔۔۔۔ ’’جب کسی قوم کاسردار،معززشخص تمہارے پاس آئے تواس کااکرام کرنا چاہیے۔‘‘ (معارف الحدیث،کتاب المناقب والفضائل، ج:۸، ص:۴۴۶، ط:دارالاشاعت)
ان کے اس تذکرہ وتعارف سے مقصودوہ حدیث ذکرکرناہے جوانہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی اور زندگی بھراُس حدیث مبارکہ پرعمل کواپنامشن بنایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ خصوصیت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ’’جوامع الکلم‘‘ نصیب فرمائے تھے، یعنی کلمات اور الفاظ مختصر، مگرمعانی انتہائے گہرے اور طویل۔ بخاری ومسلم کی روایت میں ارشادہے کہ :’’ أعطیت جوامع الکلم‘‘کہ ’’میری خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جامع کلمات عطافرمائے ہیں۔‘‘یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کابول مختصر ہوتا تھا اور معانی بہت۔ چنانچہ حضرت جریربن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’بایعتُ رسولَ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم علٰی إِقامِ الصلوۃ وایتائِ الزکوۃ والنصحِ لکُلّ مسلم۔‘‘ ( مشکوۃ المصابیح،کتاب الآداب، باب الرحمۃ والشفقۃ علی الخلق، ص:۴۲۳، ط؛قدیمی)
ترجمہ: ’’میں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پربیعت کی کہ پابندی کے ساتھ نماز پڑھوں گا، زکوٰۃ ادا کروں گا، اور ہر مسلمان کے حق میں خیرخواہی کروں گا۔‘‘
نماز اور زکوٰۃ اسلام کے اہم ترین ارکان میں سے ہیں، اُن کاتعلق حقوق اللہ سے ہے، اور ’’خیرخواہی‘‘ کے ضمن میں بندوں کے تمام حقوق آجاتے ہیں۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ ارشاد فرمایا: ’’دین سراسر خیرخواہی کا نام ہے۔‘‘ (سنن النسائی،کتاب البیعۃ،النصیحۃ للامام، ج:۲،ص:۱۸۵، ط:قدیمی)نیز مسلم شریف میں حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
’’أن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، قال: الدین النصیحۃ ، قلنا لمن؟ قال : لِلّٰہ ولکتابہٖ ولرسولہٖ ولأئمۃ المسلمین وعامتہم۔‘‘ (صحیح مسلم، باب الدین النصیحۃ، ج:۱،ص:۵۴،ط:قدیمی)
ترجمہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دین خیرخواہی کانام ہے (یعنی نصیحت اور خیر خواہی اعمالِ دین میں سے افضل ترین عمل ہے یا نصیحت اور خیر خواہی دین کا ایک مہتم بالشان نصب العین ہے) ہم نے ( یعنی صحابہؓ نے) پوچھا کہ یہ نصیحت اور خیر خواہی کس کے حق میں کرنی چاہیے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اللہ کے لیے، اللہ کی کتاب کے لیے، اللہ کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے۔‘‘
ان احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہواکہ دینِ اسلام فقط عبادات یا ذکر و اذکار یا وظائف کا نام نہیں، بلکہ بندوں کے حقوق، ان کے ساتھ خیرخواہی، ان کے لیے خیر اوربھلائی کا چاہنا، یہ بھی دینِ اسلام میں شامل اور اس کا حصہ ہے۔ لوگوں کی تذلیل کرنا یا اُن کے نقصان کے درپے ہونا یا اُن کے ساتھ بدخواہی کامعاملہ رکھنا یہ ایمان کی شان کے خلاف ہے۔
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت صاحبِ مشکوٰۃ نے ’’کتاب الآداب، باب الرحمۃ والشفقۃ علی الخلق‘‘ کے تحت ذکر کی ہے۔ مشکوٰۃ المصابیح کی شرح ’’مظاہرحق‘‘ میں مذکورہ روایت کے تحت علامہ نواب قطب الدین خان دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت جریربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے متعلق ایک عجیب واقعہ لکھاہے،یہ واقعہ اس بات پر دلالت کرتاہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جب اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نصیحت ،کسی حکم کوسنتے توساری عمراس حکم کو مدنظر رکھتے اور ہر موڑ پر اس کا لحاظ کرتے ہوئے زندگی گزارتے تھے۔ ساری عمر اپنے دامن سے اس نصیحت کو چمٹائے رکھتے اور ذرہ برابر اس سے اِعراض نہ فرماتے، چنانچہ صاحبِ مظاہرِحق لکھتے ہیں:
’’ایک مرتبہ حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا تین سو درہم کے عوض خرید کیا، انہوں نے بیچنے والے سے کہا کہ: تمہارا یہ گھوڑا تو تین سو درہم سے زیادہ قیمت کاہے، تم اس کی قیمت چار سو درہم لو گے؟ اس نے کہا: ابن عبداللہ! تمہاری مرضی پر موقوف ہے۔ انہوں نے کہا کہ: یہ گھوڑا توچار سو درہم سے بھی زیادہ کا معلوم ہوتا ہے، تم کیا اس کی قیمت پانچ سو درہم لینا پسند کرو گے؟ وہ اسی طرح اس کی قیمت سو سو درہم بڑھاتے گئے اور آخرکار انہوں نے اس گھوڑے کی قیمت میں آٹھ سو درہم ادا کیے۔ جب لوگوں نے ان سے گھوڑے کی قیمت بڑھانے کا سبب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ: اصل بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بیعت کی تھی کہ ہر مسلمان سے خیر خواہی کروں گا (چنانچہ جب میں نے دیکھا کہ اس گھوڑے کا مالک وہ قیمت طلب نہیں کر رہا جو حقیقت میں ہونی چاہیے تو میں نے اس کی خیر خواہی کے پیش نظر اس کو زیادہ سے زیادہ قیمت ادا کی)۔‘‘ (مظاہر حق شرح مشکوٰۃ المصابیح، ج:۴،ص:۵۰۰، ط:دارالاشاعت کراچی)
حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کی تشریح علماء نے یہ لکھی ہے کہ:
’’اللہ تعالیٰ کے حق میں خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات پر ایمان لائے ، اللہ کی وحدانیت و حاکمیت کا اعتقاد رکھے، اس کی ذات و صفات میں کسی غیر کو شریک نہ کرے، اس کی عبادت اخلاصِ نیت کے ساتھ کرے، اور اس کے اوامر و نواہی کی اطاعت و فرمانبرداری کرے، اس کی نعمتوں کا اقرار و اعتراف کرے اور اس کا شکر ادا کرے اور اس کے نیک بندوں سے محبت کرے اور بدکار سرکش بندوں سے نفرت کرے۔
اللہ کی کتاب کے حق میں خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کا عقیدہ رکھے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے ،اس میں جو کچھ لکھا ہے اُسے سمجھے اوراس پر ہر حالت میں عمل کرے، تجوید و ترتیل اور غور و فکر کے ساتھ اس کی تلاوت کرے اور اس کی تعظیم و احترام میں کوئی کوتاہی نہ کرے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ سچے دل سے یہ گواہی دے کہ وہ اللہ کے رسول اور اس کے پیغمبر ہیں ، ان کی نبوت پر ایمان لائے اور انہیں خاتم الانبیاء مانے،وہ اللہ کی طرف سے جو پیغام پہنچائیں اور جو احکامات دیں ان کو قبول کرے اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرے، ان کو اپنی جان، اپنی اولاد، اپنے ماں باپ اور تمام لوگوں سے زیادہ عزیز رکھے، ان کے اہل بیتؓ اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے محبت رکھے اور ان کی سنت پر عمل کرے۔
مسلمانوں کے اماموں کے حق میں خیر خواہی کامطلب یہ ہے کہ جو شخص اسلامی حکومت کی سربراہی کر رہا ہو‘ اس کے ساتھ وفاداری کو قائم رکھے، احکام و قوانین کی بے جا طور پر خلاف ورزی کر کے ان کے نظم حکومت میں خلل و ابتری پیدا نہ کرے، اچھی باتوں میں ان کی پیروی کرے اور بری باتوں میں ان کی اطاعت سے اجتناب کرے، اگر وہ اسلام اور اپنی عوام کے حقوق کی ادائیگی میں غفلت و کوتاہی کا شکار ہوں تو ان کو مناسب اور جائز طریقوں سے متنبہ کرے اور ان کے خلاف بغاوت کا علم بلند نہ کرے، اگرچہ وہ کوئی ظلم ہی کیوں نہ کریں، نیز علماء کی -جو مسلمانوں کے علمی و دینی رہنما ہوتے ہیں- عزت و احترام کرے، شرعی احکام اور دینی مسائل میں وہ قرآن و سنت کے مطابق جو کچھ کہیں اس کو قبول کرے اور اس پر عمل کرے، ان کی اچھی باتوں اور ان کے نیک اعمال کی پیروی کرے۔
اور تمام مسلمانوں کے حق میں خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ ان کی دینی ،دنیاوی خیر و بھلائی کا طالب رہے، ان کو دین کی تبلیغ کرے، ان کو دنیا کے اس راستہ پر چلانے کی کوشش کرے جس میں ان کی بھلائی ہواور اُن کو کسی بھی طرح نقصان پہنچانے کی بجائے نفع پہنچانے کی سعی کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بھی ’’جوامع الکلم‘‘ میں سے ہے، اس کے مختصر الفاظ حقیقت میں دین و دنیا کی تمام بھلائیوں اور سعادتوں پر حاوی ہیں اور تمام علوم اولین و آخرین اس چھوٹی سی حدیث میں مندرج ہیں۔‘‘
(مظاہر حق شرح مشکوۃ المصابیح، ج:۴، ص:۴۹۹، ط:دارالاشاعت کراچی)


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں