آج : 21 April , 2018

یادیں (پہلی قسط)

یادیں (پہلی قسط)

اپنے آپ کو مسلک کے اعتبار سے دیوبندی کہتے اور لکھتے ہوئے تو مجھے اس لئے تأمل ہوتا ہے کہ اس سے فرقہ واریت کی بو آتی ہے، اور بعض لوگ دیوبندی مسلک کے لفظ سے اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ دیوبندی کوئی مذہبی فرقہ ہے جس نے امت کی اکثریت سے ہٹ کر کوئی الگ راستہ نکالا ہے حالانکہ دارالعلوم دیوبند کے مکتب فکر سے وابستہ علماء اپنے اعتقاد اور عمل میں قرآن کریم اور سنت نبوی علی صاحبہا السلام کی ٹھیک اُسی معتدل تعبیر کے قائل ہیں جو چودہ سو سال سے امت میں متوارث چلی آتی ہے، انہوں نے کسی نئے فرقے کی بنیاد نہیں ڈالی بلکہ جمہور امت جن عقائد کے قائل اور جن اعمال پر کاربند چلے آتے تھے علماء دیوبند ٹھیک انہی عقائد و اعمال کے پابند ہیں، البتہ اگر کبھی اُن پر کوئی گرد و غبار آتا دیکھا، تو اُسے حکمت اور استقامت سے ہٹانے کی کوشش انہوں نے ضرور کی ہے، جس کے نتیجے میں بعض ان سے عناد رکھنے والوں نے یہ تأثر دیا ہے کہ وہ ایک الگ فرقہ ہیں۔ اس موضوع پر حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمدطیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’علمائے دیوبند کا دینی رخ اور مسلکی مزاج‘‘ بہترین کتاب ہے، اور اس کے مقدمے میں میں نے اس پہلو کو مزید واضح کیا ہے لیکن اس وقت کہنا یہ تھا کہ حضرات علماء دیوبند کو دینی معاملات میں اپنا آئیڈیل سمجھنے کے باوجود مجھے یہ کہنے میں تو تأمل ہوتا ہے کہ میں مسلک کے اعتبار سے ’’دیوبندی‘‘ ہوں کیونکہ اس سے فرقہ واریت کی بو آتی ہے، لیکن میں پیدائشی طور پر دیوبندی ضرور ہوں اور مجھے اللہ تبارک و تعالی کے فضل و کرم سے یہ سعادت ضرور حاصل ہے کہ میری پیدائش اُس قصبے میں ہوئی جہاں دارالعلوم دیوبند نے علم و فضل، عزیمت و استقامت اور عظمتِ کردار کے وہ پہاڑ پیدا کئے جن کی نظیریں اس آخری دور میں ملنی مشکل ہیں۔
دیوبند میں ہمارے آباء و اجداد ’’میاں جی‘‘ کے لقب سے مشہور تھے۔ ’’میاں جی‘‘ اس دور میں ایک لقب تھا جس کے بارے میں حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا ہے کہ: ’’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قصبات و دیہات میں پھیلے ہوئے عام مکاتب جن میں قرآن کریم کی تعلیم کے بعد اردو، فارسی، حساب ریاضی کی تعلیم کا عام رواج تھا جو آج کل مڈل اسکول کی تعلیم سے زیادہ معیاری تعلیم تھی، اس کے اساتذہ ’’میاں جی‘‘ کے لقب سے مشہور ہوتے تھے جو دینی تعلیم کے ساتھ عملی تقدس کے حامل ہوں، جیسے حضرت حاجی امداداللہ صاحب مہاجر مکی رحمہ اللہ کے شیخ میاں جی نورمحمد صاحب (رحمۃ اللہ تعالی علیہما) بھی لوہاری میں معروف ہوئے، اور میاں جی منے شاہ صاحب رحمہ اللہ دیوبند میں صاحب کشف و کرامات بزرگ ہوئے ہیں‘‘۔
حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بھی لکھا ہے کہ:
’’مجھے اپنے خاندان کا کوئی موثق اور با سند نسب نامہ ہاتھ نہیں آیا، مگر شریعت نے ان معاملات میں سند متصل ہونے کی شرط نہیں رکھی، بلکہ بڑے بوڑھوں کی زبان پر عام شہرت کو کافی سمجھا ہے۔ میں نے اپنے خاندان کے بزرگوں سے بتواتر یہ بات سنی ہے کہ ہمارا خاندان حضرت رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہے۔‘‘(۱)
میری پیدائش ۵؍شوال ۱۳۶۲ھ کو ہوئی۔ اپنی پیدائش کی یہی تاریخ حضرت والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ کی بیاض میں لکھی ہوئی دیکھی تھی۔ چونکہ اُس ماحول میں تاریخوں کو محفوظ رکھنے کیلئے ہجری سالوں اور مہینوں ہی کا حساب رکھا جاتا تھا اس لئے حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے ساتھ شمسی تاریخ نہیں لکھی تھی لیکن بعد میں مختلف تقویموں کے ذریعے حساب لگانے سے معلوم ہوا کہ وہ اکتوبر ۱۹۴۳ء کی تیسری تاریخ تھی۔ اور یہ واقعہ بھی میں نے اپنی والدہ ماجدہ اور اپنے بہن بھائیوں سے سنا کہ جس دن میں پیدا ہوا، اُسی دن جس بستر پر مجھے لٹایا گیا تھا، اس پر چھت سے ایک سانپ آکر گر گیا تھا، اور اگر اسے کسی طرح بستر سے ہٹا کر مار نہ دیا گیا ہوتا، تو شاید یہ دنیا میری برائیوں سے محفوظ ہوجاتی۔
بہرحال! مجھے اپنی عمر کے صرف چارسال سات مہینے (اکتوبر ۱۹۴۳ء سے مئی ۱۹۴۸ء تک) دیوبند کے قصبے میں گذارنے کا موقع ملا اور وہاں بچپن کا صرف وہ وقت میں نے گذارا جس میں بچے کو اپنے کھیل کود کی دنیا سے باہر کسی چیز کا شعور نہیں ہوتا اور بعد میں جب بڑا ہوجاتا ہے، تو اس دور کی باتیں بھول بیٹھتا ہے۔ لیکن مجھے اس بچپن کے دیوبند کی بہت سی باتیں اس طرح یاد ہیں جیسے میں آج انہیں دیکھ رہا ہوں۔
یہ وہ وقت تھا جب دیوبند کے گھروں میں نہ بجلی تھی، نہ پنکھا، نہ بہتے ہوئے پانی کے نل، نہ تیل نہ گیس کے چولھے۔ بجلی کے قمقموں کی جگہ یا تو موم بتی کے چراغ تھے، یا لالٹینیں۔ نلوں کی جگہ پانی کا ذخیرہ مٹی کے مٹکوں یا پتیل کے گھڑوں میں رکھا جاتا تھا، جنہیں بھر نے کے لئے اکثر کسی ماشکی کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں جو چمڑے کی بڑی سی مشک کمر پر لاد کر گھر گھر پانی پہنچایا کر تا تھا۔ کوئی فیشن ایبل اور خوشحال علاقہ ہوتا، تو اس میں بورنگ کر کے ایک مشترک لوہے کا نلکا لگادیا جاتا تھا جس کے ہینڈل کو زور زور سے اوپر نیچے کر کے کسی بالٹی یا لوٹے میں پانی بھرا جاسکتا تھا۔ پانی مہیا کرنے کے علاوہ اس کا ایک فائدہ یہ تھا کہ ہاتھوں کی، بلکہ پورے جس کی ورزش ہوجایا کرتی تھی۔ چونکہ میری عمر ایسی ورزش کی متحمل نہیں تھی، اس لئے دوسروں کو اس کے ہینڈل سے جھولتے ہوئے دیکھ کر ہی خوش ہولیتا تھا۔ گھروں میں پینے کے لئے صراحیاں ہوتی تھیں، جولُو کے تھپیڑے کھا کر خوب ٹھنڈی ہوجایا کرتی تھیں۔ بجلی کے پنکھوں کی جگہ ہاتھ کے پنکھے ہوتے تھے، جو آج بھی جب بجلی چلی جاتی ہے، تو بے طرح یاد آتے ہیں۔
مئی جون کے موسم میں جب گرمی کی تپش در و دیوار سے پھوٹتی، تو لکھوری اینٹوں سے بنے ہوئے صحن میں کوئی سقّاء (جسے بہشتی اور ماشکی بھی کہا جاتا تھا) اپنی مشک سے فرش پر پانی کا چھڑکاؤ کر جاتا تھا اور جب فضا میں رُکی ہوئی ہوا کو ہاتھ کے پنکھوں سے منہ کی طرف درآمد کیا جاتا، تو گیلے فرش سے سوندھی سوندھی خوشبو اٹھا کرتی تھی اور اُس سے ممکنہ ٹھنڈک حاصل کرنے کا کام بھی نکل جاتا تھا۔ اسی موسم میں جب میں اپنی والدہ ماجدہ کے ساتھ ایک بانوں سے بنی ہوئی چار پائی پر صحن میں لیٹتا تو میرے اور تاروں بھرے آسمان کے درمیان گیس، پٹرول اور ڈیزل کا کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا تھا اور نہ فضا میں پھیلی ہوئی کسی روشنی سے کوئی چھوٹے سے چھوٹا ستارا ماند پڑتا تھا۔ جگمگ کرتے ستاروں کے درمیان کہکشاں کے جال اور اُس سے پھوٹتی ہوئی سفیدی کو میں دیر تک تکتا رہتا اور ہم بچے یہ سمجھتے تھے کہ یہ آسمانی سڑک ہے جو اللہ تعالی نے فرشتوں کیلئے بنائی ہے۔ اسی آسمانی سڑک پر فرشتوں کی آمد و رفت کا تصور کرتے کرتے مجھے نیند آجاتی تھی۔
دل چاہ رہا ہے کہ اپنی ان یادوں کو بچپن کے اُس دور کے کچھ متفرق واقعات سے شروع کروں، لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ میں اُس وقت کے اپنے گھر کے افراد کا مختصر تذکرہ کردوں:
مجھے اپنے والد ماجد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ کا تعارف کرانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ میری پہچان اُن کے واسطے سے ہوتی ہے نہ کہ اُن کی پہچان میرے واسطے سے (۲)، میں جو کچھ بھی ہوں، انہی کی نسبت سے ہوں۔ اگر کوئی اچھائی اللہ کی توفیق سے ملی ہے، تو انہی کے واسطے اور فیض سے، اور اگر کوئی برائی آئی ہے، تو وہ ان کی صحبت سے فائدہ نہ اٹھانے کی وجہ سے ہے، غرض جو کچھ ہوں، انہی کا ہوں:
اگر سیاہ دلم، داغ لالہ زارِ توام
وگر کشادہ جبینم، گلِ بہارِ توام
لہذا میری اس سرگزشت میں ان کا تذکرہ ان شاء اللہ تعالی بار بار آئے گا۔
میں نے جب سے آنکھ کھولی حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کو دو کاموں میں مشغول دیکھا۔ وہ اس وقت اگر چہ دارالعلوم دیوبند کے مفتی اعظم کے عہدے اور تدریس سے مستعفی ہوچکے تھے لیکن ایک تو بہت سے طالب علم جو خاص طور پر انہی سے شاگردی کا شرف حاصل کرنا چاہتے تھے اُن سے خصوصی درخواست کر کے اُن سے ہمارے گھر پر آخر پڑھا کرتے تھے۔ یہ وہ چیز تھی جسے آج کو چنگ اور ٹیوشن، پڑھانے والوں کے لئے آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہوتے ہیں، لیکن دینی مدارس میں استاذ شاگرد کا رشتہ ایسا بے لوث ہوتا ہے کہ جس طالب علم کے لئے باقاعدہ درس گاہ میں پڑھنا کافی نہ ہوتا ہو، اسے استاذ الگ سے پڑھانے میں نہ صرف یہ کہ بخل سے کام نہیں لیتے، بلکہ پوری ذمہ داری کے ساتھ شاگرد کا حق ادا کرتے ہیں، اور اس پر طالب علم سے کوئی معاوضہ وصول کرنا مدارس کے ماحول میں نہایت معیوب سمجھا جاتا ہے، چاہے استاذ کی معاشی حالت کیسی ہی کمزور ہو۔ چنانچہ حضرت والد صاحب رحمہ اللہ اسی جذبے کے ساتھ ان طلبہ کو ہمارے گھریا مسجد میں پڑھایا کرتے تھے۔
ہمارے محلے کی مسجد کا نام تو آدینی مسجد تھا (۳) لیکن لوگ اُسے عام بول چال میں دینی مسجد کہتے تھے۔ شروع میں ہمارے دادا حضرت مولانا محمد یٰسین صاحب رحمہ اللہ اُس کے متولی تھے (۴)، بعد میں حضرت والد صاحب رحمہ اللہ اُس کے متولی بنے اور بعض اوقات اُس میں بھی درس دیا کرتے تھے۔
دوسرے جب وہ گھر میں ہوتے، تو اکثر اوقات انہیں کچھ نہ کچھ لکھتے ہوئے ہی پایا۔ یہاں تک کہ رات کو بھی گرمیوں میں جب ہمارے گھر کے صحن میں روشنی کیلئے سہ دری کے ایک دروازے میں ایک لالٹین لٹکادی جاتی تھی حضرت والد صاحب رحمہ اللہ اسی لالٹین کی روشنی میں اکثر و بیشتر لکڑی کے قلم کو (جسے اس وقتِ کلک کا قلم کہا جاتا تھا) دوات مین ڈبو ڈبو کر کچھ نہ کچھ لکھتے نظر آتے تھے، کیونکہ فاؤنٹین پین کا رواج نہیں ہوا تھا۔ اس کی عبادت گاہ تھی، جہاں سے ان کی تلاوت اور ذکر کی آواز آیا کرتی تھی۔
مجھے بچپن کے اُس دور میں حضرت والد ماجد رحمہ اللہ کے علمی اور عملی کمالات کا اندازہ تو کیا ہوتا؟ (صحیح معنی میں تو وہ اب بھی نہیں ہے،) لیکن اتنا ضرور تھا کہ اپنی چھوٹی سی کائنات میں وہی محبت و عقیدت کا سب سے بڑا مرکز تھے۔ اور وہ بھی مجھ سے بہت پیار کرتے تھے۔ میرے تقریباً تمام بڑے بھائیوں نے ان کی محبت کے ساتھ اُن کی ڈانٹ ڈپٹ اور مار کا بھی مرہ چکھا تھا لیکن میرے حصے میں اُن کا صرف پیار ہی پیار آیا تھا۔ ایک مرتبہ میں (تقریباً بارہ سال کی عمر میں)اپنی والدہ مرحومہ کے ساتھ اپنے بڑے بھائی کے یہاں لاہور چلا گیا تھا۔ اُس وقت انہوں نے بھائی جان کے نام اپنے خط میں لکھا تھا:
’’محمد تقی سلمہ کے بغیر مجھے بھی دن کاٹنے مشکل ہو رہے ہیں۔‘‘
دیوبند کے زمانے میں اُن کا صرف ایک مرتبہ مدارس کا سفر مجھے یاد ہے جس میں ان کی جدائی میرے لئے انتہائی صبر آزما تھی اور اُس پر طرّہ یہ ہوا کہ جب وہ سفر سے واپس تشریف لائے، تو میں نے ضد کرکے اپنے بھائیوں کو اس پر آمادہ کرلیا تھا کہ اُن کے استقبال کیلئے میں بھی ان کے ساتھ ریلوے اسٹیشن جاؤں گا۔ اس میں سب سے بڑا شوق تو حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کے استقبال کا تھا لیکن اسٹیشن جانے میں دو مزے اور بھی تھے۔ ایک یہ کہ اسٹیشن جانے کیلئے تانگے (گھوڑا گاڑی) کی سواری لازمی تھی۔ محلے میں ایک ہندو تانگے والا پھگو کے نام سے مشہور تھا۔ ایسے مواقع پر اس کی خدمات حاصل کرنے کیلئے تانگے کے پہلے سے بکنگ کرالی جاتی تھی، جو اُس موقع پر کرالی گئی تھی، اس تانگے کی سواری کا موقع ہمیں بہت کم ملتا تھا کیونکہ قریب کے فاصلے پیدل اور درمیانی قسم کے فاصلے اپنی والدہ صاحبہ کے ساتھ ڈولی (پالکی) میں طے ہوجایا کرتے تھے۔ اتنی دور جانا شاذ و نادر ہوتا تھا جس کیلئے تانگے کی ضرورت ہو۔ لہذا اسٹیشن جانے میں اس شاہانہ سواری کا مزہ بھی آنا تھا جس کا تصور بڑا دلفریب تھا۔ دوسرے ریلوے اسٹیشن ہمارے لئے بذات خود ایک اعلی درجے کی تفریح گاہ سے کم نہ تھا جس سے لطف اندوز ہونے کے مواقع خال خال ہی میسر آتے تھے۔ لہذا یہ ہمارے لئے کئی لحاظ سے ایک انتہائی پر لطف اندوز ہونے کے مواقع خال خال ہی میسر آتے تھے۔ لہذا یہ ہمارے لئے کئی لحاظ سے ایک انتہائی پرلطف اور پر مسرت موقع تھا۔
لیکن عین وقت پر نہ جانے کس طرح میرا ہاتھ جل گیا اور اُس کی وجہ سے علاج معالجے کیلئے مجھے گھر ہی میں روک لیا گیا اور میں اسٹیشن جانے سے محروم رہا۔ یہ محرومی میرے لئے کئی محرومیوں کا مجموعہ تھی اس لئے اُس کی حسرت آج بھی یاد ہے۔ لیکن اُس کے بعد یہ پرلطف منظر بھی بھلائے نہیں بھولتا کہ جونہی حضرت والد صاحب رحمہ اللہ گھر میں داخل ہوئے اُنہوں نے کسی اور طرف متوجہ ہونے کے بجائے سب سے پہلے مجھے پکارا اور آگے بڑھ کر گود میں اٹھالیا۔ لالٹین کی روشنی میں اُن کی سیاہ گھنی داڑھی اور ان کا خوشی اور محبت سے کھلا ہوا چہرہ اس وقت بھی میرے تصور کی نگاہوں میں اس طرح سامنے ہے جیسے میں ابھی ان کو دیکھ رہا ہوں۔
جاری ہے۔۔۔۔

_______________

حواشی:
۱: ہمارے نسب کی یہ تفصیلات حضرت والد صاحب قدس اللہ سرہ کی کتاب ’’میرے والد ماجد‘‘ میں درج ہیں۔
۲: اور الحمدللہ! ان کا قدرے مفصل تذکرہ میں اپنی کتاب ’’میرے والد میرے شیخ‘‘ میں کرچکا ہوں اور ماہنامہ البلاغ کا مفتئ اعظم نمبر بھی میری ادارت میں شائع ہوچکا ہے جس میں بہت سے مضامین کے علاوہ برادر معظم حضرت مولانا مفتی محمدرفیع عثمانی صاحب مدظلہم کے قلم سے اُن کی مفصل سوانح بھی ہے جو بعد میں الگ کتابی صورت میں بھی شائع ہوچکی ہے۔ اسی میں ہمارے خاندان اور آباء و اجداد کا تذکرہ بھی ہے۔
۳: آدینہ فارسی زبان میں جمعہ کو کہتے ہیں اور آدینی کا مطلب تھا وہ مسجد جس میں جمعہ ہوتا ہو۔
۴: حضرت مولانا محمدیاسین صاحب رحمہ اللہ دارالعلوم دیوبند کے قیام سے ایک سال پہلے ۱۲۸۲ھ میں پیدا ہوئے تھے، اور اس طرح دارالعلوم دیوبند کے تقریباً ہم عمر تھے، اور ان کا یہ مقولہ میں نے حضرت والد صاحب رحمہ اللہ سے بارہا سنا کہ ہم نے دارالعلوم دیوبند کا وہ زمانہ دیکھا ہے جب وہاں کے شیخ الحدیث سے لیکر چوکی دار تک ہر شخص صاحب نسبت ولی اللہ تھا۔ ہمارے یہ دادا قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی کے خاص مرید تھے، اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمہ اللہ کے ہم سبق۔ زندگی بھر دارالعلوم دیوبند میں فارسی اور ریاضی کے استاذ رہے، اور دیوبندی کی کئی کئی نسلوں نے ان کی شاگردی کا شرف حاصل کیا۔ ان کے حالات حضرت والد صاحب رحمہ اللہ نے اپنے رسالے ’’میرے والد ماجد‘‘ میں تفصیل کے ساتھ بیان فرمائے ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں