آج : 24 March , 2018

داخلی صنعتکار مصنوعات کی کوالٹی بڑھادیں

داخلی صنعتکار مصنوعات کی کوالٹی بڑھادیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے نئے شمسی سال کو ایران میں ’قومی مصنوعات کی حمایت کا سال‘ قرار دینے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے داخلی مصنوعات کی کوالٹی بڑھانے اور حکومت و عوام کی طرف سے ان کی حمایت پر زور دیا۔
سنی آن لائن نے خطیب اہل سنت زاہدان کی آفیشل ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ دی، مولانا عبدالحمید نے اپنے تئیس مارچ دوہزار اٹھارہ کے بیان میں کہا: داخلی صنعتکاروں کو ہماری وصیت ہے کہ اپنی مصنوعات اور پیداوار کی کوالٹی بڑھادیں اور مناسب پروڈکٹس بازار میں بھیج دیں۔
انہوں نے مزید کہا: حکومت سے بھی درخواست ہے کہ داخلی پروڈیوسرز اور صنعتکاروں کی مزید حمایت کریں اور اندرونی کارخانوں اور ورکشاپس کے ٹیکسوں میں کمی کریں۔ عوام بھی قومی مصنوعات کو ترجیح دیں تاکہ کارخانے بند نہ ہوجائیں اور دوسروں کے لیے روزگار بھی فراہم ہوجائے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے بینکوں میں سودی لین دین اور کاروبار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے حکومت اور پارلیمنٹ کی طرف سے ان کے قوانین کی اصلاح پر زور دیا۔

دارالعلوم زاہدان کی سالانہ تقریب دستاربندی بھائی چارہ کی ایک مثال ہے
مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے ایک حصے میں دارالعلوم زاہدان کی سالانہ تقریب دستاربندی و ختم بخاری کے قریب ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دارالعلوم زاہدان کی سالانہ تقریب دستاربندی آزادی، بھائی چارہ اور اتحاد و ہمدلی کی مثال ہے۔ اس تقریب میں علمائے کرام، دانشور حضرات، حکومتی ذمہ داران اور دیگر مہمان ملک کے مختلف علاقوں سمیت بعض دیگر ملکوں سے شریک ہوتے ہوئے۔
انہوں نے کہا: الحمدللہ اس تقریب میں دنیا و آخرت کے مسائل پر گفتگو ہوتی ہے اور اس کے مثبت اثرات ملک و ملت پر نمایاں ہوچکے ہیں۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے اس عظیم دینی مرکز کے سالانہ اجتماع کی تاریخ (بارہ اپریل) کا اعلان کرتے ہوئے نمازیوں سے درخواست کی اس پروقار تقریب کی کامیابی کے لیے اللہ تعالی کے دربار میں عاجزی سے دعا مانگیں اور اس ذات پاک کی رضامندی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: اللہ تعالی کی نظر کرم کے بغیر تمام جلسے اور تقریبات بے سود ہیں؛ جو شخص کوئی کام کرتاہے، صرف اللہ ہی کے لیے وہ کام کرے۔ کوشش کرنی چاہیے کہ ایسے جلسوں کے فائدے تمام فرقوں، افکار اور خیالات کے حاملین کو پہنچیں اور اسلام اور وطن کو ان سے فائدہ پہنچے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں