آج : 19 March , 2018

عہدوں کی تقسیم میں لسانی و مسلکی برادریوں میں توازن سے پائیدارامن حاصل ہوگا

عہدوں کی تقسیم میں لسانی و مسلکی برادریوں میں توازن سے پائیدارامن حاصل ہوگا

اہل سنت ایران کی ممتاز دینی شخصیت نے شیعہ وسنی سمیت تمام لسانی برادریوں میں توازن اور کسی امتیازی رویے کے بغیر عہدوں کی تقسیم پر زور دیتے ہوئے ایسے اقدامات کو پائیدارامن اور اتحاد کے لیے ضروری قرار دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے سولہ مارچ دوہزار اٹھارہ میں زاہدان میں سنی برادری کی مرکزی جامع مسجد میں خطاب کرتے ہوئے کہا: شیعہ وسنی اور بلوچ و سیستانی صوبہ سیستان بلوچستان کے اصلی باشندے ہیں۔ میری نصیحت تمام شہریوں کو یہی ہے کہ اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ لیکن اتحاد محض زبان کے استعمال سے حاصل نہیں ہوتا۔ نعرے لگانے اور تمنا کرنے سے اتحاد حاصل نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے مزید کہا: صوبائی حکام دوراندیشی کا مظاہرہ کریں چاہے ان کا تعلق کسی بھی برادری سے ہو۔ ارکان پارلیمان بھی صرف اپنی ہی برادری کے لیے تگ و دو نہ کریں، سب کے لیے محنت کریں۔ جب کسی ادارے کو پبلک سروسز میں چھان بین کی ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے، وہ دل بڑا کریں اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرکے تعصب سے کام نہ لیں۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: حکام صرف ایک مخصوص فرقے اور برادری کو عہدوں پر لگانے کی کوشش نہ کریں۔ ترقی کا راز تمام برادریوں کی شرکت اور تعاون میں ہے۔ سب کو اکٹھے آگے چلنا چاہیے۔ لہذا دو فریقوں میں توازن قائم کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا: سیستانی و بلوچ، شیعہ وسنی حضرات چوکس رہیں! آپ کے دشمن صرف غیرملکی نہیں ہیں، ملک کے اندر بھی انتہاپسند عناصر جو خیرخواہی کے دعویدار ہیں، آپ کے دشمن ہیں۔ یہ عناصر اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتے ہیں۔ کسی بھی ایک برادری کو نظرانداز کرنا غلط اقدام ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: عہدوں اور ملازمتوں کی تقسیم میں سب برادریوں کا خیال رکھنے سے پائیدار امن اور اتحاد یقینی بن جائے گا۔ اگر ہم اپنے مشترکہ دشمنوں کا ناکام بنانا چاہتے ہیں، اس کا طریقہ یہی ہے کہ اپنے حقوق کا خیال رکھیں، ایک دوسرے کو تسلیم کریں اور ہر خطے کی آبادی کو مدنظر رکھیں۔
انہوں نے مزید کہا: میرے خیال میں وہ شیعہ یا سنی جو صرف اپنی ہی برادری کے لیے کوشش کرتے ہیں اور دوسروں کو محروم رکھنا چاہتے ہیں، وہ اس صوبے کے دشمن ہیں۔ یہ لوگ ہماری ترقی کے دشمن ہیں۔ حکام سے توقع ہے انتہاپسند عناصر کو قوت کے مراکز سے دور رکھیں جو صرف معاشرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
خطیب اہل سنت نے کہا: محترم گورنر! ولی فقیہ کا نمائندہ! یہاں شیعہ و سنی کے درمیان برابری کی بنیاد پر توازن قائم کریں۔ اگر آپ نے یہ پالیسی اپنائی، پھر یہاں سے سیکورٹی فورسز اور سرحدی پولیس کو واپس لے جائیں۔ انہیں آرام کرنے دیں اور ان کا بجٹ صوبے کی ترقی پر خرچ کردیں۔

عملی اتحاد کانفرنسز سے حاصل نہیں ہوتا
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے ایک حصے میں ایران کے تمام حصوں میں سنی برادری کے حقوق کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے کہا: معقول توازن کا اجرا پورے ملک میں ہونا چاہیے۔ یہ کامیاب پالیسی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اتحاد کے لیے کانفرنسز اور سمینارز کا انعقاد کافی نہیں ہے۔ تقریب بین المسالک اور اتحاد کانفرنس کافی نہیں ہیں، عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر روحانی سے درخواست ہے کہ اپنے سنی بھائیوں کا خیال رکھے۔ شیعہ وسنی کے حقوق کو یقینی بنانے سے قابض طاقتیں اور عالمی سامراجی قوتوں کو شکست ہوگی۔

خطیب اہل سنت نے اپنے خطاب کے پہلے حصے میں دعا کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا: گناہ و معاصی بندے کوشیطان اور گمراہی تک پہنچاتے ہیں جبکہ نیک اعمال اللہ تک پہنچنے والے راستے ہیں۔ جو قوم توبہ و استغفار کرتی ہے، وہ ہرگز ضائع نہیں ہوگی اور عذاب الہی سے دوچار نہیں ہوجائے گی۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں