آج : 25 February , 2018

سیستان بلوچستان: صوبائی مقابلہ تقریر و مضمون نگاری منعقد ہوگیا

سیستان بلوچستان: صوبائی مقابلہ تقریر و مضمون نگاری منعقد ہوگیا

زاہدان (سنی آن لائن) ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان کے شورائے ہم آہنگی مدارس اہل سنت کے اہتمام سے انیسواں مقابلہ تقریر و مضمون نگاری، نظم خوانی اور شعر زاہدان کے مدرسہ علوم دینی مولانا عبدالعزیزؒ میں منعقد ہوگیا ۔
مذکورہ سالانہ مقابلہ کی آخری نشست جمعرات بائیس فروری کو منعقد ہوگئی جہاں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو انعامات سے نوازا گیا۔
صوبہ سیستان بلوچستان کے مختلف شہروں کے طلبا نے ضلعی سطح کے مقابلوں کے بعد زاہدان میں فائنل راونڈ میں شرکت کی۔ 170 منتخب طلبہ نے فارسی، عربی، بلوچی اور انگریزی زبانوں میں تقریر کرکے اپنا ہنر دکھایا جبکہ شعر و شاعری اور نظم خوانی میں بھی مقابلہ ہوا۔ نیز طلبہ کے مجلوں کو بھی مقابلہ کے لیے پیش کیا گیا۔
مذکورہ عمومی مقابلہ کی افتتاحی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے مفتی عبدالقادر عارفی نے قلم اور زبان سے دین کی خدمت، دینی اور عصری علوم کو جمع کرنے اور نئی دنیا کی زبان سیکھنے پر زور دیا جن پر دینی مدارس کے طلبہ اور فضلا کو توجہ دینی چاہیے۔

مفتی قاسمی: مقابلوں کا انعقاد رجال سازی کے لیے ہے
دارالعلوم زاہدان کے رئیس دارالافتا مولانا قاسمی نے آخری نشست میں تقسیم انعامات سے قبل خطاب کرتے ہوئے کہا: ایسے مقابلوں کے انعقاد کا مقصد طلبہ کی تیاری اور رجال کار پیدا کرنا ہے۔ انہیں مستقبل کے داعیان دین اور خادمان ملت بناناہے تاکہ وہ بخوبی امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فرض پورا کرسکیں۔
انہوں نے کہا: امت مسلمہ کی بعثت ’مقرونہ‘ اور مجموعی طورپر وہ معصومہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے ساتھ ساتھ ان کی امت بھی مبعوث ہوئی تاکہ وصال کے بعد ان کا مشن جاری رہے۔ نیز یہ امت ہرگز گمراہی پر متفق نہیں ہوسکتی جس طرح حدیث شریف میں آیاہے۔
استاذالحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزید کہا: تمام تر سازشوں کے باوجود اب تک اسلام باقی ہے چونکہ یہ اسلام کی ذاتی خصوصیت ہے۔ نیز ہر دور میں اللہ تعالی نے ایسے رجال کو سامنے لایا تاکہ وہ امت مسلمہ کی صحیح رہنمائی کرکے فتنوں کے طوفانوں سے اسے بچارکھیں۔
انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی ہر خطاب سے پہلے خود کو بھی اپنی تقریر کا مخاطب سمجھ لیں اور آخر میں استغفار کیا کریں۔ تقریر سے پہلے ہمیشہ ’’اللہم ادخلنی مدخل صدق و اخرجنی مخرج صدق‘‘ کی دعا کا اہتمام ہو۔
یاد رہے تقریب کے آخر میں 37 طلبہ اور مجلات کے نمائندوں کو شیلڈز اور انعامات دیے گئے جنہوں نے پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشنوں پر فائز رہے تھے۔ نیز میزبان مدرسے کے بارہ حافظان قرآن کو انعامات اور اسناد سے نوازا گیا۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں