آج : 18 February , 2018

دین اور اقتدار

دین اور اقتدار

”اسباب زوال اُمت “قریباً ڈیڑھ سو سال سے اہل قلم حضرات کا پسندیدہ موضوع رہا ہے اس موضوع پر مسلمانوں کے علاوہ مستشرقین یورپ نے بھی طویل بحثیں کی ہیں اور شاید جدید طرز کی تحریروں کا آغاز بھی ان ہی کے قلموں سے ہوا ہے، میرا گمان ہے کہ اس صدی کے جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہوگا جو کسی نہ کسی طرح ان کے نقطہ نگاہ سے متاثر نہ ہوا ہو، وہ نہایت تفصیل و دل سوزی سے مسلمانوں کی مادی کم زوریوں کو زوال اسلام کا بنیادی سبب قرار دیتے ہیں ۔ان کمزوریوں کو وہ دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں، ایک یہ کہ مسلمانوں کا وہ مملکتی نظام قائم نہیں رہ سکا جو انہوں نے صدر اول میں قائم کیا تھااور وہ مادی اقتدار سے محروم ہوگئے ۔دوسرے یہ کہ ان کے اندر وہ تنظیمی طاقت باقی نہیں رہی جو انہیں ایک دوسرے سے مربوط کیے ہوئے تھی ۔

وہ یہ بات درحقیقت اس بنا پر کہتے ہیں کہ ان کے نزدیک اسلام کی اولین کام یابی بھی اس اقتدار کی بدولت تھی جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پہنچ کر ایک ریاست کی صورت میں قائم کیا تھا ،وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کو نعوذ باللہ ناکامی کا دور بتاتے ہیں ۔اُن کا خیال ہے کہ اسلام سیاسی قوت واقتدار کے ذریعہ قائم ہوا اور پھیلا۔ اور اُس کے زوال کا سبب بھی یہی سیاسی قوت و اقتدار کا زوال ہے ، کیوں کہ وہ اسلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصی اور ذاتی تحریک کہتے ہیں، جو آپ کے اُولو العزمانہ مقاصد کے تحت وجود میں آئی تھی ،اس لیے وہ نہایت بے باکی سے سیاسی قوت اور ریاستی اقتدار کو تمام اسلامی کام یابیوں کا واحد سبب قرار دیتے ہیں۔

اگر چہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی یہ تعبیر اور آپ کی مکی ومدنی زندگی کی اس طرح تقسیم ،مقام رسالت و نبوت کے قطعی منافی اور سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم و تاریخ اسلام کی نہایت غلط تشریح ہے ،تاہم اس کے نہایت تفصیلی اور بظاہر غیر جانب دارانہ تجزیوں نے اور اس صدی کے مادی افکارو نظریات اور جدید فلسفہ ٴسیاست و اجتماع نے مسلمان مفکرین کی بھی ایک بڑی کھیپ کو کم و بیش اسی قسم کے انداز فکر کا قائل کر دیاہے۔وہ بھی مادی تصورات پر مبنی تنظیمات و تحریکات کو اسلام اور مسلمانوں کے شاندار مستقبل کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں اور صاف صاف کہتے ہیں کہ اقتدار نہ ہونے کی وجہ سے مکی زندگی میں اشاعت اسلام کی رفتار سست رہی اور جب مدینہ میں بقول اُن کے سب سے پہلے ایک ریاست اور حکومت قائم کر لی گئی تو اسلام نہایت تیزی کے ساتھ پھیلتا چلاگیا۔قطع نظر اس کے کہ یہ بات حقیقت سے کس قدر مختلف ہے ، اور اسلام کے ”دین اللہ“ہونے کو کس قدر اشتباہ میں ڈال دینے والی ہے اسلام کے بارے میں اُن کے طرز فکر کومستشرقین کے نظریات سے بہت ہی قریب کر دیتی ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ جس قدر یہ بات سچی ہو کہ ”جداہودین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی“اس سے بھی زیادہ یہ بات صحیح ہے کہ اگر دین کو سیاسی اقتدار کے تحت کر دیا جائے تو پھر نہ صرف دین بے اثر ہو کر رہ جائے گا ،مسخ کر دیا جائے گا، بلکہ سیاست دانوں اور اقتدار رکھنے والوں کے ہاتھوں میں اُن کے اغراض کا آلہ کار بن کر رہ جائے گا ،ماضی اور حال کی تاریخ میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں اور اگر ایسے اقتدار کے تحت کبھی کسی جگہ صحیح اسلام قائم ہو بھی گیا تو وہ خود اپنی قوت سے نہیں، بلکہ اقتدار کے وسیلے سے قائم رہے گا اور اقتدار کے گرتے ہی خود بھی ختم ہو جائے گا۔

مقام شکر ہے کہ سلف صالحین ،صد راول کے بعد سے ہی اس نازک صورت حال کی طرف سے غافل نہیں رہے ۔دین و اقتدار کا تعلق نہایت نازک ہے ۔اس میں ذرا اسی افراط وتفریط بے شمار مفاسد کا دروازہ کھول سکتی ہے ،یہ ضروری نہیں کہ دین کو اقتدار کا ذریعہ بالا رادہ بنایا جائے، بلکہ عین ممکن ہے کہ نہایت نیک نیتی سے ایک شخص دین کی خدمت کے لیے ہی ایسا کرے، اس کی یہ خواہش بھی بجائے خود ایک فتنہ بن سکتی ہے۔کیوں کہ اقتدار کو سامنے رکھ لینے کے بعد وہ اور اس کا گروہ اپنے سے جائز اختلاف رکھنے والوں کو بھی شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھے گا ۔وہ ہر گز گوارا نہیں کرے گا کہ اس کے دائرہ کار میں کوئی دوسرا شخص مداخلت کرے، خواہ وہ مداخلت کتنی ہی ضروری جائز اور دین کے لیے ہو ۔وہ تمام مسائل کو اپنے نقطہ نگاہ سے حل کرے گا اور اس نقطہ نگاہ کو دینی نقطہ نگاہ بتائے گا ۔وہ دوسروں کا مشورہ اپنی رائے کی حمایت کے لیے تو قبول کرلے گا ۔لیکن اصلاح و تردید کے لیے نہیں ۔وحی و رسالت کے انقطاع کے بعد اب اس کی عقل و بصیرت ہی فیصلہ کن ہوگی اور اگر چہ وہ نبوت کا مدعی نہ ہو، لیکن مقام نبوت کی رعایتوں اور خصوصیات سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہے گااور حقیقت یہ ہے کہ اس کا احساس فرض (اگر شعوری طور پر نہیں تو )غیر شعوری طور پر احساس برتری میں تبدیل ہوئے بغیر نہیں رہے گا ۔

اور یہ صورت حال نہ صرف امت کی اجتماعیت کے لیے مضر ہوجائے گی، بلکہ مسلمانوں کے فرض عبدیت کا رخ بھی پھیر سکتی ہے، چناں چہ اسی لیے ایک عظیم تربیت یافتہ جماعت، ایک صاحب کردار معاشرہ اور ایک مضبوط وبالا شورائیت کے بغیر دین و اقتدار کے باہمی تعلق کو موجود ہ دورمیں متوازن رکھنا ناممکن ہے اور جب تک ایسا نہیں ہوجاتا یہ بات دینی مصلحت اور دینی حکمت کے عین مطابق ہے کہ اقتدار اور دین کے درمیان واضح امتیاز قائم رکھا جائے ۔

اقتدار خالص دینی ہو اور دین کے لیے ہو تو یقینا وہ مقا صد پورے ہوسکتے ہیں جن کی طرف قرآن و سنت نے راہ نمائی فرمائی ہے ۔ورنہ بصورت دیگر دین کے نام سے بے دینی کا وہ فساد و طوفان اُٹھے گا جو تاریخ پر نظر رکھنے والوں سے پوشیدہ نہیں ،خوارج و معتزلہ کی بے راہ رویاں دین کو اقتدار سے باندھ دینے کی ہی کار فرمائیاں تھیں اور دنیا کی بہت سی دیگر بڑی بڑی نا انصافیاں بھی مذہب کے نام سے عمل میں آئیں اور اس وقت عمل میں آئیں جب کہ مذہب کے نام سے اشخاص و جماعتوں نے اپنا اقتدار قائم کیا ہوا تھا ۔اسلام کو بھی اس صورت حال کی ذمہ داری میں شامل کر دینا بجز نادانی کے اور کیا ہے؟

جب تک خالص و کامل دینی اقتدار کا ماحول و موقعہ نہیں میسر آجاتا ہے اور جب تک اس قسم کا موقعہ و ماحول بنالینے کوششیں بار آور نہیں ہوجاتی ہیں اس وقت تک دین اور اقتدار کے مابین امتیاز رکھتے ہوئے ،اصلاح احوال اور دعوت و ہدایت کی کوششیں ضروری اور قابل قدر ہیں، بلکہ یہ کوششیں ہی اس ماحول اور موقع کو پیدا کرنے والی ہیں جس میں اصولی اور معیاری حکومت قائم ہو سکتی ہے اور جس سے دنیا کا ہر سعید و صالح انسان اتفاق کرے گا ۔

اسلام کی برتری اور عظمت کا راز اس کی عظیم روحانی قوتوں میں ہے، جن سے صرف نظر کرنے کی تعلیم اول اول یورپ کے مستشرقین نے دی۔ انہوں نے اسلام پر جو کچھ بھی لکھا مادی نقطہ نگاہ سے لکھااور غلط مفروضات وقیاسات پر لکھا ،جن لوگوں نے ان ذرائع سے اسلام کا مطالعہ کیااور متاثر ہوئے ،انہوں نے بھی اسلام کی ایسی ہی تعبیرات کو صحیح تعبیرات سمجھا۔ مستشرقین نے ، قبل اسلام، عرب کے حالات کو اس طریقہ پر پیش کیا ہے کہ گویا اسلامی انقلاب کو بروئے کار لانے کے لیے تمام وسائل و اسباب موجود تھے ،صرف ان کو استعمال کرنے والوں کی ضرورت تھی اور یہ ضرورت محمد صلی الله علیہ وسلم اور ان کے رفقا (رضوان اللہ علیہم اجمعین)نے پوری فرمادی ۔اسی طرح انہوں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی مکی و مدنی زندگی کو غیر سیاسی و سیاسی حیثیتوں میں تقسیم کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اسلام کی کام یابی کا تمام تر دارومدار حصول اقتدار پرہے ۔اور اسی طرح وہ خلافت راشدہ کے دورِ حکومت پر بھی اپنی فرضی اور قیاسی آراء کے حاشیے چڑھاتے جاتے ہیں ،ایک معترض و مخالف کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک دوست اور موٴرخ کی حیثیت سے ،اس سے ان کا مقصد در اصل یہ ہوتا ہے کہ وہ اسلام کو دین کے بجائے محض ایک وقتی تحریک بتائیں ،اور محمد صلی الله علیہ وسلم کو رسول الله کے بجائے ،ایک نہایت اعلی درجہ کا سیاسی و عسکری مدبرومفکر قرار دیں اور اس طرح پورے رسالت و خلافت راشدہ کے دور کو صرف چند صاحب فکر اُولو العزم انسانوں کا دور ٹھہرا دیں جن کی شخصی کوششوں سے وقت کی ایک سیاسی اور تہذیبی تاریخ وجود میں آگئی اور اس نے دین و مذہب کی صورت اختیار کر لی ۔

اب اگر ان ہی افکار کو نئے اسلوب و انداز پر احیائے اسلام کی بنیاد بنایا جائے تو یقینا اول تو اسلام کی روحانی حیثیت کا انکار کرنا پڑے گا اور اس کی کام یابی کا دارومدار تمام تر ریاست و اقتدار پر رکھنا ہوگا ۔اور یہ ریاست و اقتدار موجودہ دور کے اُن طریقوں سے ہی حاصل ہو سکے گا جسے یورپ کے فلسفہٴ سیاست اور اجتماع نے مرتب کیا ہو ۔یہ فلسفہٴ سیاست اول تو ایک چیز کو صرف نظری حیثیت سے پیش کرتا ہے اس نظریت سے ایک طبقہ کے جذبات کو سیراب کرتا ہے اور شدت کے ساتھ اصول پرستی کا مظاہرہ کرتا ہے۔لیکن جب عمل و اقدام کا موقعہ آتا ہے تو وہ سابقہ نظریت و اصول پرستی سے دست بردار ہونے لگتا ہے۔

اب اس کے سامنے صرف حصول اقتدار و قیام اقتدار کا مسئلہ سب سے زیادہ اہم رہ جاتا ہے ۔اور پہلا مقصد و نظریہ اس کی توضیح و تاویل کا کھلونا بن جاتا ہے ۔ماضی قریب کی یورپ کی چند نظری تحریکات کا یہ حشر سب کے سامنے ہے ۔اس قسم کے طور طریقوں میں جو رد عمل کی کیفیت پائی جاتی ہے جب تک اس سے انہیں پاک و صاف نہ کر لیا جائے اس وقت تک اسلامی مقاصد کے لیے انہیں استعمال کرنا اسلام کے لیے کم اور استعمال کرنے والے گروہ کے لیے زیادہ فائدہ بخش اور دین کو روحانیت سے جدا کر کے مادیت کے تابع کردینے کے مترادف ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں