آج : 15 February , 2018

ایران: مختلف صوبوں کے سنی علمائے کرام کا مطالبہ؛ امتیازی سلوک ختم کریں

ایران: مختلف صوبوں کے سنی علمائے کرام کا مطالبہ؛ امتیازی سلوک ختم کریں

زاہدان (سنی آن لائن) ایران کے طول و عرض سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام اور مختلف شہروں کے خطبائے جمعہ نے ایرانی انقلاب کی 39ویں سالگرہ کے موقع پر اہل سنت کی مشکلات حل کرنے، امتیازی سلوک کے خاتمے اور مذہبی آزادی یقینی بنانے پر زور دیاہے۔
زاہدان سے تعلق رکھنے والے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: اسلامی انقلاب کی 39ویں سالگرہ ملک کے طول و عرض میں پھوٹنے والے احتجاجی مظاہروں کے ساتھ آ پہنچی ہے۔ آج ملک کے بحرانوں اور معاشی مسائل کی جڑ موجودہ داخلی و خارجی پالیسیوں میں ہے۔ ہمیں اپنی خارجہ پالیسیوں پر نظرثانی کرکے اختلافات اور چپقلشیں ختم کرنے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔ یہ لڑائیاں ہمارے مفاد میں نہیں ہیں اور ان کا منفی اثر ہوتاہے۔
انہوں نے مزید کہا: 39ویں سالگرہ کے موقع پر اہل سنت ایران کی آواز اور مطالبہ مرشد اعلی، صدر مملکت سمیت تمام حکام تک پہنچاتے ہیں کہ امتیازی سلوک کا خاتمہ کریں۔ ملک میں ایسے ادارے بھی ہیں جہاں ایک سنی شہری بھی ملازم نہیں ہے۔ اہل سنت کے جوانوں کو مسلح اداروں میں بطور افسر اور باقاعدہ ملازم بھرتی نہیں کیا جا تھا۔

ماضی پر نظرثانی ہی سے کمزوریوں کا ازالہ ممکن ہے
ایران کے مغربی صوبہ کرمانشاہ کے کرد عالم دین ملاقادر قادری نے اپنے خطبہ جمعہ میں کہا ہے: جب کسی کی عمر چالیس کو پہنچتی ہے اور وہ اپنی سوچ پر نظرثانی نہیں کرتا، اس کی اصلاح کی کوئی امید نہیں ہے۔ ہمارے انقلاب کی عمر چالیس سال کے قریب پہنچ چکی ہے اور اعلی حکام کو چاہیے اپنی سوچ اور پالیسیوں میں نظرثانی کریں۔
انہوں نے مزید کہا: نظرثانی ہی کی صورت میں کمزوریوں کا ازالہ اور غلطیوں میں کمی لانا ممکن ہوگا۔

ہمارے دینی مسائل میں کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں ہے
دریں اثنا ایران کے شمالی صوبہ گلستان کے نامور عالم دین مولانا محمدحسین گورگیج نے مشہد کے بعض سنی نمازخانوں کی بندش پر تنقید کرتے ہوئے کہا: افسوس کی بات ہے کہ اسلامی انقلاب سے چالیس سال گزرنے کے باجود اہل سنت کے مدارس اور نمازخانوں پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔ شیعہ و سنی کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مساجد، نمازخانے اور قرآنی مکاتب کا اہتمام علمائے کرام ہی کے ہاتھوں میں ہونا چاہیے۔
دارالعلوم فاروقیہ گالیکش کے صدر نے مزید کہا: کسی بھی حکومت کو، اگرچہ اسلامی ہی کیوں نہ ہو مذہبی امور میں مداخلت کی اجازت نہیں ہے۔ علما اور مدارس تاریخ میں مستقل اور حکومتوں سے علیحدہ رہے ہیں۔ جو عالم دین حکومتوں کے سامنے سرجھکاتاہے، وہ غلط کاموں کی نشاندہی کے لیے اپنی آواز نہیں اٹھاسکتا۔

صوبہ خراسان کے شہر خواف کے عالم دین مولانا حبیب الرحمن مطہری نے عدل و انصاف کی فراہمی اور امتیازی سلوک کے خاتمے پر تاکید کرتے ہوئے کہا: انقلاب کی بقا کا راز اتحاد، بھائی چارہ، عدل، امتیازی پالیسیوں کی بیخ کنی اور لسانی و مسلکی اکائیوں کو ملک چلانے میں شریک بنانے میں ہے۔ سب کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ دشمنوں کی سازشیں ناکام ہوجائیں۔

ایران کے وسط جنوب میں سرگرم عالم دین شیخ سید عبدالباعث قتالی نے بندرعباس کے سنی نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے: ایران کی سنی برادری کا کوئی غیرقانونی مطالبہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود کچھ حکام اہل سنت کے مطالبات کو اپنی تنگ نظری کی وجہ سے مسترد کرتے ہیں اور ان کی تکمیل کے سامنے رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں