آج : 10 February , 2018

قابل تقلید مدرسہ مائنڈ سیٹ

قابل تقلید مدرسہ مائنڈ سیٹ

گزشتہ ہفتے پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز نے ایک سروے رپورٹ جاری کی جس میں مجموعی طور پر مدارس میں پائی جانے والی سوچ کا جائزہ لیا گیا تھا، رپورٹ کے نتائج سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دینی مدارس میں کس قدر اصلاحات لانے کی ضرورت ہے تا کہ مدرسہ کا مائنڈ سیٹ معاشرے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہو سکے اور ان اداروں سے نکلنے والے فضلاء ملک و قوم کی مثبت سمت میں رہنمائی میں اپنے کردار کو زیادہ سے زیادہ موثر بنا پائیں۔
رپورٹ جاری ہونے کے اگلے ہی روز مثالی حسن انتظام کی شہرت اور عصر حاضر کے چیلنجز کا ادراک رکھنے کے حوالے سے معروف دینی ادارے جامعۃ الرشید میں فضلاءکرام کے لیے تربیتی اجتماع کا آغاز ہو رہا تھا جس میں شرکت کے لیے راقم کو بھی دعوت دی گئی تھی۔ پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی مدرسہ مائنڈ سیٹ رپورٹ کی تقریب رونمائی میں شرکت کے بعد داعیہ پیدا ہوا کہ مدرسہ اصلاحات سے بھرپور جامعہ الرشید کا دورہ بھی کیا جائےتا کہ یہ معلوم ہوسکے کہ اس ادارے کا مائنڈ سیٹ مروجہ مدرسہ مائنڈ سیٹ سے کس حد تک مختلف ہے ۔
حسن انتظام اور بہترین تربیت کے مظاہر استقبالیہ ڈیسک سے ہی عیاں ہونا شروع ہو گئے تھے ، استقبالیہ پر مامور طلبہ نے پہنچتے ہی جوس سے تواضع کی اور رجسٹریشن ڈیسک کی جانب رہنمائی کی،رجسٹریشن ڈیسک کیا تھا؟ گویا نادرا آفس تھا جہاں تصویر بنوانے، مکمل معلومات کا اندراج کروانے کے بعد مخصوص کارڈ حاصل کرنے اور پھر قیام کے لیے متعین کمرے تک مکمل رہنمائی فراہم کی گئی، تین روزہ اجتماع کا جو شیڈول ہاتھ میں تھمایا گیا اس میں درج موضوعات یہ تھے:
پاکستان میں اسلامائزیشن۔۔۔امکانات اور خدشات۔ تحفظ پاکستان پروجیکٹ۔ پرامن جدوجہد اور احتجاج کے قانونی طریقے۔ جدید دور میں سماجی اور معاشرتی قائد کا کردار۔سماجی ترقی میں انسانی حقوق کی اہمیت۔۔۔اسلام اور اقوام متحدہ کے منشور کا تقابلی مطالعہ۔ سوشل میڈیا کے چیلنجز اور موثر استعمال۔زندگی میں نظم کی اہمیت اور طریقہ کار۔ جے ٹی آر میڈیا ہاوس۔ ترکی میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ۔۔۔سماجی قیادت سے سیاسی قیادت تک۔پریزنٹیشز ۔ڈاکومنٹریز اور فضلاء کی کارگزاریاں۔
تین دن مسلسل مذکورہ سماجی و معاشرتی موضوعات پر گفتگو ہوئی،فضلاء نے حیران کن کارگزاریاں سنائیں،مشکلات سے آگاہ کیا،سوالات پوچھے اور اساتذہ کرام سے رہنمائی لی ، مقررین میں جامعۃ الرشید کے اساتذہ،موٹیویٹر سپیکرز،اور نامور سماجی شخصیات اور دانشور شامل تھے۔
رئیس الجامعہ مفتی عبدالرحیم نے اجتماع کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس اجتماع کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ ہم اپنے اندر تبدیلی لائیں اور حکومت پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی مدد آپ کے تحت ملک و سماج کی ترقی کے لیے کردار ادا کریں۔ اس ضمن میں رئیس الجامعہ نے فضلاء کو جے ٹی آر میڈیا ہاؤس کی تیار کردہ ٹنڈو آلہ یار کے ایک گاوں کی ڈاکومنٹری دکھائی ، جہاں کے مکینوں نے حکومت کا سہارا لیے بغیر اپنے گاؤں کو مثالی نمونہ بنا کر دکھایا۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے میں تبدیلی لانے کے لیے چار اقدامات ضروری ہیں ۔ادارہ سازی،افراد سازی،اصول و نصاب سازی اور ماحول سازی۔شرکا کو ترغیب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سکولز ،اکیڈمیاں اور تھنک ٹینکس بنائیں ،تربیتی ، فکری،فلاحی اور ابلاغی ادارے قائم کریں اور اپنے اپنے علاقوں میں جا کر سماجی بہبود اور ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ شاہ ولی اللہ کے مکتوبات کا بطور خاص مطالعہ کریں ۔مسلح جدوجہد کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جہاں باقاعدہ حکومت ہو اور نظم اجتماعی قائم ہو وہاں کے حکمران ظالم بھی ہوں تب بھی ہتھیار اٹھانا جائز نہیں،بلکہ قانونی طریقوں سے پرامن جدوجہد کی جائے،آزاد عسکریت تمام مسلم ملکوں میں انارکی کی جڑ ہے،جس طرح نماز کے مکروہات اور مفسدات ہیں اسی طرح جہاد کے مکروہات اور مفسدات بھی ہیں۔ان پر نظر نہ ہونے کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
ممتاز سکالر مولانا زاہدالراشدی نے سماجی انقلاب کے لیے اسوہ حسنہ سے رہنمائی لینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اہل مدارس کو پہلی وحی سے سبق لینے کے ساتھ ساتھ دوسرے سبق پر بھی توجہ دینی چاہیے جو کہ پہلی وحی کے ساتھ ہی جڑا ہوا ہے کہ جب آپ ﷺ خوفزدہ حالت میں گھر پہنچے تو حضرت خدیجہ ؓنے آپ کو تسلی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں،دوسروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں،مہمانوں کا اکرام کرتے ہیں اور مصیبت زدوں کی مدد کرتے ہیں ۔ یہ تھا آپ ﷺ کا وہ سماجی کردار جس کی ہمیں تقلید کرنا ہو گی۔
تحفظ پاکستان پروجیکٹ کے عنوان سے ایک پریذنٹیشن میں جامعۃ الرشید کے اس تحقیقی منصوبے سے آگاہ کیا گیا جس میں بغاوت،خروج،مسلح جدوجہد اور جہاد سے متعلق تفصیلی دستاویز تیار کی جا رہی ہے۔اس دستاویز میں خاص طور پر پاکستان اور افغانستان کے حالات کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔کام شروع کرنے سے قبل سولہ گھنٹوں پر محیط نشست میں افغانستان کے حالات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور محققین کی ٹیم کو کرنٹ سیاسی صورتحال سے آگاہ کیا گیا تاکہ ایک مستند دستاویز تیار کی جا سکے۔تحفظ پاکستان پروجیکٹ تکمیل کے مراحل میں ہے اور جلد ہی اسے حتمی شکل دے کر طباعت کے لیے بھیج دیا جائے گا۔
اجتماع میں فضلا نے انتہائی حوصلہ افزا کارگزاریاں بھی سنائیں جو اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ جامعۃالرشید کا ویژن “معاشرے کو موثر سماجی قیادت کی فراہمی ” کامیابی سےہمکنار ہو رہا ہے۔پرنٹ میڈیا،فعال سوشل میڈیا کے بعد جامعہ نے الیکٹرانک میڈیا میں بھی قدم رکھ دیا ہے اور جے ٹی آر کے نام سے میڈیا ہاؤس قائم کیا ہے ۔جے ٹی آر کے انچارج مفتی عبدالمنعم فائز نے سال کے آخر تک ٹی وی چینل کے اجرا کا اعلان بھی کیا۔
اختتامی تقریب میں مشیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے بجا طور پر کہا کہ جامعۃالرشید کا طرز تعلیم مثالی اور قابل تقلید ہے۔مدارس بند کرنے کی ناقابل عمل تجویز دینے والے دانشوران قوم بھی اگر اس مثالی مدرسہ کا دورہ کریں تو وہ اپنی رائے بدلنے پر مجبور ہو جائیں گے۔یہاں کا مائنڈ سیٹ دیکھنے کے بعد یقیناً وہ مدارس کو بند کرنے کے بجائے عصری جامعات کو بھی جامعۃالرشید کی طرز پر چلانے کی تجویز دیں گے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں