آج : 21 January , 2018

شادی یوں بھی ہوتی ہے

شادی یوں بھی ہوتی ہے

یوں تو ہماری شادی بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق سادگی سے ہوئی، جس میں کوئی رسم و رواج نہیں ہوا۔ مہندی کی رسم نہ ڈھول نہ باجا، پارلر والی فضول خرچی نہ تصویر اور ویڈیو۔
بس ابوجی کو مہمان داری کا شوق تھا کہ ان کے سب بہن بھائی اکٹھے ہو کر رونق لگائیں۔ ماشاء اللہ! ابو کے آٹھ بہن بھائی ہیں اور آگے ان کے اہل خانہ اس طرح ملاکر ۱۵۰ لوگ ہوگئے۔ باقی ابوجی کے دوست و احباب اور ہمارے اساتذہ کرام کو بلایا گیا۔ تقریباً ۲۰۰ لوگوں کے کھانے کا انتظام کیا گیا۔ ہماری شادی سے قبل ہمارے خاندان میں تقریباً ۱۰، ۱۲ کزنز کی شادیاں ہوچکی تھیں اور وہ روایتی شادیاں تھیں۔ گانا بجانا، ڈھو ل اور بے پردگی، مہندی اور مایوں کی رسمیں و غیرہ، لیکن الحمدللہ! اللہ تعالی نے ان چیزوں سے بچائے رکھا۔ ہماری شادی خالہ کے گھر ہوئی ہے۔ شادی کے لیے ہفتے کا دن مقرر ہوا۔ جمعے کا مبارک دن اس لیے نہیں رکھا گیا کہ اس سے قبل ہماری دو کزنز کی شادی جمعے کے دن ہوئی تو مسئلہ ہوا کہ دولہا کسی ایک مسجد میں جمعہ پڑھنے چلا گیا اور دولہے کے والد کہیں اور چلے گئے۔ اسی طرح براتی بھی بکھر گئے۔ پھر جمعے کے بعد مولوی صاحب جلدی دستیاب نہ ہوسکے جس سے نکاح میں تاخیر ہوئی جو مہمانوں کے لیے باعثِ تکلیف بنی، تو اس ایذا رسانی سے بچنے کے لیے ہفتے کا دن طے پایا۔ سب رشتے داروں کو دعوت دیتے ہوئے ابوجی نے وقت کے اہتمام کا خاص خیال رکھنے کو کہا اور ہمارے ابوجی کی وقت کی پابندی کے سب قائل ہیں۔
بس پھر کیا تھا کہ ہمارے ابوجی نے ہمارے سسر صاحب کو گیارہ بجے سے فون کرنا شروع کردیا کہ لیٹ نہ ہونا۔ ادھر سسر صاحب نے ایسی جلدی مچائی کہ آج تک میاں صاحب سے یہ طعنہ ملتا ہے کہ ماموں فون تو ایسے کر رہے تھے کہ جیسے ۱۰ منٹ لیٹ ہوگئے تو خدانخواستہ دلہن بھاگ جائے گی اور ہمارے سسر صاحب وقت کے ایسے پابند ثابت ہوئے کہ اگر دولہا بھی تیار نہ ہوا تو اکیلے ہی دلہن لینے چل پڑیں گے۔ خیر ساڑھے بارہ بجے برات پہنچی، سسرال سے ابوجی کے گھر کا راستہ صرف ۱۰ منٹ کا ہے جب گاڑیاں رکیں تو میاں صاحب کے دوست کہنے لگے کہ لو جی یہاں آنا تھا، شور تو ایسے مچایا تھا کہ گویا کلکتہ جانا ہو۔ بہرحال! ایک بجے نکاح مسنون ہوا، اس کے بعد نماز ظہر ادا کی گئی اور تین بجے تک کھانا کھا کر سب لوگ فارغ ہوگئے۔ ابوجی کہنا تھا کہ دولہا دلہن کو ایک ساتھ نہیں بٹھایا جائے گا، کھانا دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ نہ رزق کی بے حرمتی ہوئی نہ کسی نے کھانا ضائع کیا۔ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے برتن بالکل صاف کیے گئے ہوں شاید یہ اس سادگی کی برکت تھی کہ نہ کسی کی نماز قضا ہوئی، دلہن کو گھر پر ہی تیار کیا گیا اور بے پردگی بھی نہ ہوئی، لہذا ہم چار بچے اپنے سسرال پہنچ گئے۔
ہماری منگنی ۲۰۰۶ء میں ہوئی تھی اور شادی ۲۰۰۸ء میں انجام پائی۔ ہماری منگنی کے کچھ عرصے بعد چھوٹی بہن کو ہمارے چچاجان نے اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے مانگ لیا تھا۔ رشتہ بڑوں میں طے ہوا تھا، لیکن ۲۰۱۰ء میں چچاجان کی وفات ہوگئی۔ (اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے)۔ چچا مرحوم (جو ہمارے خالو بھی تھے) ساتھ والے گھر میں رہائش پذیر تھے۔ ۲۰۱۲ء میں بہن کی شادی طے پائی۔ اس شادی میں تھوڑے لوگوں کو دعوت دی گئی اور دونوں طرف سے مہمان بھی ایک ہی تھے تو کچھ مہمان برات میں شریک ہوئے اور کچھ ہماری طرف سے گھر کے سامنے ٹینٹ لگا کر مہمانوں کے بٹھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ دو بجے برات آئی، نکاح ہوا، کھانا کھایا گیا اور چار بجے سادگی کے ساتھ بہن کو رخصت کردیا گیا۔ الحمدللہ! کوئی بھی کام خلاف شرع نہ ہوا۔
ابوجی نے ہم دونوں بہنوں کے سسرال میں بات کی تھی کہ تصویر و غیرہ کوئی نہیں بنائے گا، لیکن چوں کہ ہم دونوں بہنوں کے میاں حضرات حافظ عالم نہ تھے، تو انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ تصویریں بنوالیں البتہ ہم محفوظ رہے۔
بہن کے ولیمے میں ایک کزن لڑکی نے موبائل میں تصویر بنائی چاہی تو دولہا صاحب (بہنوئی) خاموش رہے۔ بہن نے دیکھا کہ یہ نہیں بول رہے تو خود کلمۃ حق عند سلطان جائر (ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا) کے مطابق کھڑی ہو گئی موقعے کی نزاکت دیکھی نہ سسرال کی گھوریاں۔ جب تک موبائل سے تصویر ختم نہ کروالی سکون سے نہ بیٹھی۔ خیر! بہت بڑا ایشو ہوا کہ دلہن بدتمیز اور بدلحاظ ہے، لیکن اس کا دل مطمئن تھا بلکہ تایا کی فیملی بھی بہن سے کترانے لگی، مگر اس نے اپنی محبت سے ان سے مل کر ان کی غلط فہمی دور کی اور ان کو مطمئن کیا۔ سلام ہے میری مجاہدہ بہن پر اس مسئلے کی وجہ سے ابوجی نے ارادہ کیا کہ ان شاء اللہ اس مرتبہ کوئی عالم داماد ڈھونڈنا ہے۔ تقریباً دو سال اسی طرح رشتے آتے رہے، لیکن پردے پر آکر بات بنتے بنتے بگڑ جاتی۔ امی ابو اور ہماری بہن استقامت سے لوگوں کی باتیں اور طعنے سنتے رہے کہ کب تک پردے کی وجہ سے لڑکی کو بٹھائے رکھوگے۔ حالاں کہ بہن کی عمر بہت زیادہ نہیں ہوئی تھی۔ بالآخر مارچ ۲۰۱۶ء میں ابوجی کی مولانا نعمان کی فیملی سے ملاقات ہوئی جو کہ فیصل آباد کے مشہور ادارے سے فارغ التحصیل تھے۔ ان کے والد اور والدہ آئے اور رشتہ طے کرگئے۔ رائیونڈ اجتماع میں نکاح ہوا اور رخصتی چند ماہ بعد طے پائی۔
۲۰۱۶ء دسمبر کے اختتام پر ابوجی کی ٹانگ پر ایک دانہ نکلا جو بعد میں پھوڑے کی شکل اختیار کرگیا حتی کہ بیٹھنا بھی دشوار ہوگیا۔ چوں کہ ابوجی شوگر کے مریض ہیں تو وہ پھوڑا ٹانگ کے کافی حصے پر پھیل گیا۔ تکلیف اتنی زیادہ تھی کہ جنوری کا پورا مہینہ بستر پر گذارا۔ اسی طرح ہم لوگ ایک دوسرے سے چھپ چھپ کر روتے تھے۔ گھر بیٹھے ہمارا دھیان ابوجی کی طرف لگا رہتا۔ دوا کے ساتھ دعا کا بھی اہتمام جاری رکھا۔ ابوجی اتنے زندہ دل ہیں کہ تکلیف میں بھی کبھی پریشانی ظاہر نہیں کرتے، بلکہ ہمیں کہا کرتے کہ مصیبت میں مسکرانا چاہیے، مگر اب اتنی تکلیف بڑھ گئی کہ مسکرانا بھول گئے۔ پھر بھی تکلیف چھپانے کی کوشش کرتے اور ہمیں تسلی دیتے۔ نعمان بھائی کے گھروالوں کو بلا کر کہا کہ: رخصتی کا دن مقرر کرلو، میری حالت بہت خراب ہے۔ بالآخر ۲ فروری ۲۰۱۷ء کا دن مقرر ہوا۔ سادگی کے ساتھ رخصتی ہونا طے پائی، دلہن کے چند جوڑے اور ضروری سامان تیار کیا۔ کسی رشتے دار کو نہ بلایا، بس گھروالے تھے۔
برات میں دولہے کے والد، والدہ، دو بھائی، ایک بہن اور بھابھی تھی۔ دولہا سمیت کل سات افراد کی برات آئی۔ دولہے کے ایک بھائی کو مدرسے میں کام تھا، وہ برات میں شریک نہ ہوئے۔ ڈیڑھ دو گھنٹے میں وہ لوگ دلہن کو رخصت کروا کے لے گئے۔ الحمدللہ! ہماری لکھاری بہن بنت طارق مولانا نعمان صاحب کو پیاری لگی۔ اب ماشاء اللہ دونوں میاں بیوی تعلیم و تدریس کے شعبے سے منسلک ہیں اور یہ یقیناً اللہ تعالی کی مہربانی ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
’’اور جو تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اس کے نکلنے کا راستہ بنادیتے ہیں۔‘‘
ابوجی نے تینوں بیٹیوں کی شادی کرتے وقت صرف شرافت اور کردار کو مدنظر رکھا۔ ہم دو بہنوں کے میاں عالم تو نہیں، مگر ماشاء اللہ نمازی، متقی اور پرہیزگار ہیں۔ سب سے بڑھ کر عزت اور قدر کرنے والے ہیں۔ امی ابو کی عزت کرتے ہیں، احساس کرتے ہیں۔ جن دونوں ابوجی بیمار رہے تو آتے جاتے رہیں۔ طبیعت و غیرہ پوچھتے تھے۔ الحمدللہ! یہ اللہ تعالی کی خاص رحمت ہے۔ اللہ رب العزت ہر بہن کو قدردان ہمسفر عطا فرمائے۔ آخر میں ایک بات بتاتی چلوں کہ جس پھوڑے کے وجہ سے ابوجی نے رخصتی میں جلدی کی وہ تقریباً تین ماہ تک بہتا رہا۔ اس دوران ابوجی کے ایک شاگرد (ابوجی نے بڑی عمر کے کئی لوگوں کو قرآن مجید پڑھایا ہے) نے کہا کہ استاد جی آپ پاسپورٹ بنوائیں، میں آپ کو عمرہ کروانا چاہتا ہوں اور بالآخر اپریل میں ابوجی نے عمرہ کی سعادت حاصل کرلی۔ ان کی ٹانگ ایسی ہوگئی جیسے اس پر کبھی زخم تھا ہی نہیں۔ یہ سب اللہ کی رحمت تھی اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی برکات تھیں۔ ورنہ اپنی محدود آمدنی دیکھتے ہوئے حج و عمرہ کی تمنا صرف دعاؤں تک ہی محدود تھی اور اس کی وجہ سے جو رشتے دار سادگی سے رخصتی رکنے پر خفا تھے، ان سے بھی صلح ہوگئی۔ سچ ہے ’جسے چاہا در پر بلالیا۔ جسے چاہا اپنا بنالیا۔ یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے۔ یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔‘


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں