آج : 14 January , 2018

سانحہ قصور اور ہمارا معاشرہ

سانحہ قصور اور ہمارا معاشرہ

قصور میں معصوم زینب کے ساتھ پیش آنے والے دردناک واقعہ نے پوری قوم کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے اور بلاتفریق رنگ و نسل ہر فرد مطالبہ کر رہا ہے کہ اس گھناؤنے واقعے میں ملوث مجرم کو فوری اور قرار واقعی سزدا دی جائے،
بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ ایک مجرمانہ معاش بنتا جارہا ہے جہاں ہر برائی آئے روز تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے، معاشرہ اسلامی اخلاقی تعلیمات سے ناآشنا ہے، اور جو تعلیم کے زیور سے آراستہ ہیں ان میں تربیت و تادیب کے آثار ہی نہیں پائے جاتے جس کی وجہ سے ہماری اخلاقی قدریں زوال پذیر ہوگئی ہیں۔ انسان کی عقلی قوت جب تک اس کے اخلاقی رویہ کے ماتحت استعمال ہوتی ہے، تمام معاملات ٹھیک رہتے ہیں اور جب اس کے سفلی جذبے اس پر غلبہ پالیں تو نہ صرف اخلاقی وجود سے ملنے والی روحانی توانائی سے اسے محروم کردیتے ہیں، بلکہ اس کی عقلی استعداد کو بھی آخر کار کند کردیتے ہیں، جس کے نتیجے میں معاشرہ زوال پذیر ہوجاتا ہے۔ یہ سب اخلاقی بے حسی کا نتیجہ ہے۔ انسان کی اخلاقی حس اسے اپنے حقوق اور فرائض سے آگاہ کرتی ہے۔ اجتماعی زندگی کا اصل حسن احسان، ایثار، حسن معاملات اور قربانی سے جنم لیتا ہے۔ جب تک اخلاقی حس لوگوں میں باقی رہتی ہے وہ اپنے فرائض کو ذمہ داری اور خوش دلی سے ادا کرتے ہیں اور جب یہ حس مردہ اور وحشی ہوجاتی ہے تو پورے معاشرے کو مردہ اور وحشی کردیتی ہے تو وہ لوگوں کے حقوق کو دیمک کی طرح کھانے لگتی ہے تو ایسے معاشرے میں ظلم و فساد عام ہوجاتا ہے۔
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اخلاقی بگاڑ آج ہماری زندگی کے ہر شعبے میں داخل ہوچکا ہے۔ معاملہ عبادات کا ہو یا معاملات کا، حقوق و فرائض ہوں یا تعلیم و تربیت، امانت، دیانت، صدق، عدل، ایفائے عہد، فرض شناسی اور ان جیسی دیگر اعلی اقدار کمزور پڑھ چکی ہیں۔ کرپشن، درندگی اور بدعنوانی ناسور کی طرح معاشرے میں پھیلی ہوئی ہے۔ ظلم و ناانصافی کا دور دورہ ہے۔ لوگ قومی درد اور اجتماعی خیر و شر کی فکر سے خالی اور اپنی ذات اور مفادات کے اسیر ہوچکے ہیں۔ یہ اور ان جیسے دیگر منفی رویے ہمارے قومی مزاج میں داخل ہوچکے ہیں۔ یہ وہ صورت حال ہے جس پر ہر شخص کف افسوس ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ ہم اخلاقی طور پر اس حد تک پست ہوچکے، اخلاقی بیماریوں کا مرض ہم میں اس حد تک سریت کرچکا ہے کہ ہم مرض جاننے کے باوجود اس کا یقین کرنے اور اپنی اصل اور ہمہ گیر بیماری کا اعتراف کرنے سے قاصر ہیں۔
ہماری قوم انسان نما جانوروں اور وحشی درندوں کا ریوڑ بنتی چلی جارہی ہے، جہاں چار سو انسانوں کے روپ میں خونخوار درندے پھرتے نظر آتے ہیں۔ ملک میں بے عمل واعظ اور مبلغین کی تو بہتات ہے لیکن مصلح کوئی نہیں۔ سیاستدان ہزاروں ہیں مگر لیڈر ایک بھی نہیں، کوئی ایک بھی رہبر نہیں بلکہ سب رہزن ہیں، سب دوسروں کے حقوق غصب کرنے کی فکر میں ہیں۔ ہر کوئی نظام بدلنے میں مگن ہے لیکن انسانوں کو بدلنے کا کوئی نہیں سوچ رہا۔ دوسروں کو بدل کر ہر کوئی انقلاب کا دعویدار ہے مگر کوئی خود کو بدلنے کے لیے تیار نہیں۔ جھوٹ، خوشامد، دوغلے پن، دھوکے بازی، فراڈ، حرام خوری، لالچ، خودغرضی اور بدعنوانی و کرپشن کا ایسا کونسا طریقہ ہے جو ہم نے ایجاد نہیں کیا؟ دھوکہ دہی اور مفاد پرستی کی ایسی کون سی قسم ہے جو اس ملک میں زوروں پر نہیں؟ تشدد، تعصب، عصبیت، درندگی اور انسان دشمنی کے ایسے کونسے مظاہرے ہیں جو ہمارے اس معاشرہ میں دیکھنے کو نہیں ملتے؟ آج کا معاشرہ قاتل کہلانے کے لائق ہے کیونکہ روز بروز بڑی بے دردی سے لوگ قتل ہو رہے ہیں مگر کسی کو کوئی احساس نہیں۔ روز بروز کی بدعنوانیوں نے ہمارے احساسات کو ختم کردیا ہے۔ احساسات کی جو تھوڑی بہت رمق باقی ہے وہ بھی نہیں رہی یہاں دوسروں کے قتل پر افسردہ ہونے کی بجائے لوگ اپنے خونی رشتوں کو بھی قتل کر رہے ہیں۔ اس سے زیادہ بے حسی بدعنوانی کیا ہوسکتی ہے۔ یہ معاشرہ اخلاق احساس سے بہت دور چلا گیا ہے۔
ہم اہل مغرب کی نقل اور ماڈرن ازم کے نام پر دن بدن معاشرتی اخلاقی پستی کا شکار ہو رہے ہیں۔ موبائل، ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور کیبلز نیٹ ورک کے غلط استعمال سے ہماری جوان نسل اخلاقی طور پر تباہ اور دین سے بیزار ہو رہی ہے۔ ڈکومنٹری، سٹوری اور سیکس موویز کے بعد اگر کوئی کمی رہ گئی تھی واحیات گفتگو اور بدگفتاری کی تو وہ پوری کرنے کیلئے سٹیج ڈراموں نے جنم لے لیا۔ انٹرنیٹ اور الیکٹرونک ریفریشمنٹ نے اسلامی معاشرہ کی اخلاقی پاکیزگی و پاکدامنی کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ آج ہم نام کے مسلمان رہ گئے ہیں اور کردار کے۔۔۔۔؟
تاریخ بتاتی ہے کہ جو قومیں تباہ ہوگئیں ان میں شیطانیت حد سے زیادہ تجاوز کرچکی تھی، ان کے افسانے، قصے، کہانیاں و غیرہ اس پر گواہ ہیں اور جو قومیں آج بڑی تیزی سے تباہیوں اور بربادیوں کی طرف بڑھ رہی ہیں اس کی وجہ بھی شیطانیت کے سوا اور کچھ نہیں۔ جب معاشرہ انتہائی پستی کی گہرائی میں چلا جائے تو نرم رویہ اپنانے سے اس کو راہ راست پر نہیں لایا جاسکتا۔ انتہائی سخت قوانین اور ان پر باقاعدہ سختی سے عملدرآمد کروانے سے مسائل کا حل ممکن ہوگا۔ اسلامی معاشرہ کی اخلاقی پاکیزگی و پاکدامنی کو برقرار رکھنے کیلئے سخت سے سخت قوانین کا نفاذ ضروری ہے۔ جب تک انٹرنیٹ سمیت تمام بداخلاقی پھیلانے والے نیٹ ورک کو کچلا نہ گیا معاشرہ کی اصلاح ناممکن ہے، بلکہ معاشرہ مزید تبایہ سے دوچار ہوتا چلا جائے گا۔ اگر ہمیں معاشرہ کو مزید تباہی سے بچانا ہے تو اسلام کے پاکیزہ نظام کو اپنانا ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رول ماڈل بنا کر سیرتِ رسول کو اپنانا اور پھیلانا ہوگا۔ اور پوری قوم کو مغربی و بھارتی ثقافت و میڈیا کے بائیکاٹ کی مہم چلانا ہوگی۔
دنیا میں عروج و ترقی حاصل کرنے والی قوم ہمیشہ اچھے اخلاقی کی مالک ہوتی ہے، جبکہ برے اخلاق کی حامل قوم زوال پذیر ہوجاتی ہے۔ ہمیں قرآن کریم سے راہنمائی حاصل کرنا ہوگی۔ قرآن کریم کی تعلیمات اور اچھے اوصاف کو اپنانا اور سیرتِ رسول کو اپنے اوپر لاگو کرنا ہوگا۔ قرآن کریم و سنت کو پس پشت پھینک کر ہم کہیں فلاح نہیں پاسکتے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں