آج : 1 January , 2018
مولانا عبدالحمید:

انسان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ’نفاق‘ ہے

انسان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ’نفاق‘ ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے انتیس دسمبر دوہزار سترہ کے خطبہ جمعہ میں اعتقادی و عملی نفاق کو انسان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یاد کرتے ہوئے مال اور اولاد کی ’حد سے زیادہ محبت‘ کو منافقت کے اسباب میں شمار کیا۔
سنی آن لائن نے مولانا عبدالحمید کی ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ دی، خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بیان کا آغاز سورت المنافقون کی آیات 9-11 کی تلاوت سے کرتے ہوئے کہا: نفاق بہت خطرناک بیماری ہے جس پر لوگ کم ہی توجہ دیتے ہیں۔ نفاق ایک ایسی کمزوری ہے جو انسان کو دورنگی کا مجسمہ بنادیتی ہے۔
انہوں نے منافقت کی اقسام کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا: نفاق کی دو قسمیں ہیں؛ ایک اعتقادی نفاق ہے کہ بندہ خود کو توحید، رسالت، معاد اور قرآن پر ایمان رکھنے والا ظاہرکرتاہے، لیکن حقیقت میں وہ ان سب کو نہیں مانتا۔ اعتقادی نفاق سب سے زیادہ خطرناک منافقت ہے۔
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: کفر کی ایک قسم وہ ہے جو انسان کو دین کے دائرے سے نکالتاہے۔ جبکہ ایک اور قسم ہے جو انسان کو اسلام سے نہیں نکالتی، لیکن اسے ناشکر و ناقدر لوگوں میں شمارکرتی ہے اور کفر کی مانند ہے۔ شرعی نصوص میں بعض گناہ مثلا ترک نماز ’کفر‘ بتائے گئے ہیں؛ کفر کے درجات ہیں۔ یہ ایسے سنگین گناہ ہیں جن سے بندہ کفر کے خطرے میں مبتلا ہوتاہے۔
انہوں نے کہا: مسلمانوں میں کچھ لوگ ہیں جو اپنے عہدوں اور دنیوی مفادات کی خاطر خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں، لیکن ان کا جھکاو ¿ سب سے زیادہ غیرمسلموں اور یہود و نصاری کی طرف ہے۔
خطیب اہل سنت نے منافقت کی دوسری قسم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: آج کل مسلمانوں میں عملی نفاق عام ہوچکاہے؛ عقیدے کے لحاظ سے وہ مسلمان ہیں، لیکن ان کا شیوہ منافقانہ ہے اور نفاق کی نشانیاں ان میں پائی جاتی ہیں۔ صحیح احادیث میں ’جھوٹ‘، ’امانت میں خیانت‘، ’عہدشکنی‘ اور وعدہ خلافی نفاق کی نشانیوں میںشمار ہوچکی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: افسوس کی بات ہے مسلمانوں میں ایمان اور عمل کی کمزوری پائی جاتی ہے۔ مسلمان مسجد تک آنے کی توفیق نہیں پاتا۔ گناہ کا ارتکاب اور نیک کاموں کی عدم توفیق نفاق ہی کے آثار و نتائج ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: اللہ تعالی کو مت بھولیں اور اپنے دلوں کو حب مال سے پاک رکھیں۔ حب مال کی نشانی یہی ہے کہ بندہ واجب حقوق کی ادائیگی سے گریز کرے، لوگوں کا قرض ادا نہ کرے اور زکات نہ دے۔ اولاد سے پیار کریں اور ان کی اچھی تربیت کا بندوبست کریں، لیکن ان کی خاطر حرام پیسہ نہ لیں اور اللہ کی نافرمانی نہ کریں۔
شیخ الحدیث و صدر دارالعلوم زاهدان نے اپنے خطاب کے اس حصے کے آخر میں انفاق کو حب مال کا علاج قرا ر دیتے ہوئے فقیروں اور غریب و نادار لوگوں پر خرچ کرنے کی تاکید کی۔

شیعہ سنی کے درمیان توازن قائم کرکے سب کو خدمت کا موقع دیں
ایران کے ممتاز سنی عالم دین نے ایک سنی بلوچ کو بطور ’ایران بوکسنگ فیڈریشن‘ کے چیئرمین منتخب کرنے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی و ملکی سطح پر شیعہ وسنی کے درمیان توازن قائم کرنے پر زور دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطبہ جمعہ کے ایک حصے میں صوبہ سیستان بلوچستان کے محکمہ ورزش اور نوجوانان کے جنرل ڈائرکیٹر کے بطور چیئرمین بوکسنگ فیڈریشن انتخاب کو خوش آئند اقدام قرار دیا۔
اس نوجوان سنی بلوچ کو مبارکباد دیتے ہوئے اہل سنت زاہدان کی مرکزی جامع مسجد میں ان کی موجودی میں مولانا عبدالحمید نے کہا: بندہ اس عزیز نوجوان کو مبارکباد پیش کرتاہے اور ان کے لیے مزید کامیابیوں کی دعائیں مانگتاہے۔
انہوں نے سرکاری ذمہ داریوں پر متعین سنی شہریوںکو مخاطب کرتے ہوئے کہا: تمام فرزندانِ اہل سنت کو جنہیں کچھ مناصب سونپ دیے گئے ہیں، میرا پیغام ہے کہ سچی اور درست خدمت کا خیال رکھیں اور قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کریں تاکہ اہل سنت برادری کے دیگر قابل افراد کو بھی خدمت کا موقع مل سکے اور وہ بھی سرکاری ملازمتوں اور ذمہ داریوں میں لگ جائیں۔
اعلی حکام کو اپنا پیغام پہنچاتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: حکام سے ہماری درخواست ہے وہ ملکی اور صوبائی سطح پر اہل سنت کو ملازمتیں اور عہدے سونپنے کے لیے محنت کریں۔ انہیں یقین دلاتے ہیں کہ اگر سنی برادری کے لائق و قابل افراد کو موقع دیا جائے، وہ دوسروں سے زیادہ کام کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا: ایرانی اہل سنت دیگر ایرانیوں کی طرح ایرانی ہی ہیں اور انہیں ہم وطن اور پہلے درجے کے شہری کی نگاہوں سے دیکھا جائے اور کلیدی عہدوں میں انہیں خدمت کا موقع دیں۔
اہل سنت ایران کی ممتاز دینی و سماجی شخصیت نے صوبہ سیستان بلوچستان میں عہدوں کی تقسیم میں ’توازن‘ پر زور دیتے ہوئے کہا: صوبہ سیستان بلوچستان میں عہدوں کو بانٹتے ہوئے شیعہ وسنی کے درمیان توازن کا خیال رکھنا چاہیے۔ جب شیعہ وسنی بھائی بھائی ہیں، تو انہیں مساوات اور برابری کی نگاہوں سے دیکھاجائے؛ اللہ تعالی کی رضامندی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے مفادات اسی میں ہیں۔
دارالعلوم زاہدان کے صدر و مہتمم نے مزید کہا: اتحاد جو اسلامی جمہوریہ ایران کی اہم سٹریٹجیوں میں شامل ہے، اسی کا تقاضا ہے کہ پوری قوم کے تمام افراد میں مساوات قائم ہو اور سب کو اکٹھا کیاجائے۔ قوم کو مختلف مسالک اور قومیتوں میں تقسیم نہیں کرنی چاہیے۔ لہذا ان میں توازن اور تعادل قائم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں