آج : 20 December , 2017

پیغمبر اسلام کی حیاتِ طیبہ

پیغمبر اسلام کی حیاتِ طیبہ

محمد صلی اللہ علیہ وسلم 570ء میں پیدا ہوئے، ان کی پیدائش سے پہلے ہی ان کے والد کا انتقال ہوچکا تھا، 6/ سال تک اپنی والدہ اور ان کی وفات کے بعد نویں سال تک دادا کی پرورش میں رہے، پھر آپ کے چچا نے نہایت محبت کے ساتھ آپ کی پرورش کی، اس یتیمی کی زندگی نے آپ کے اندر یتیموں اور کمزوروں کے بارے میں محبت اور رحم دلی کے بے پناہ جذبات پیدا کردیے، آپ کی سچائی اور امانت داری کا اتنا شہرہ تھا کہ لوگ آپ کو صادق (سچا) اور امین (امانت دار) کہہ کر پکارتے تھے، آپ کے اندر فطری طورپر بڑی حکمت و فراست بھی پائی جاتی تھی، نبی بنائے جانے سے پہلے کعبة اللہ کی ٹوٹی ہوئی عمارت کو دوبارہ تعمیر کرنے کے مرحلہ میں مختلف قبیلوں کے درمیان سخت اختلاف پیدا ہوگیا اور اندیشہ پیدا ہوگیا کہ ایسی لڑائی چھڑ جائے گی کہ خون کی ندیاں بہنے لگیں گی؛ لیکن سب لوگوں نے آپ کو حَکَم مان لیا اور آپ نے ایسا خوب صورت فیصلہ کیا کہ سارے لوگوں نے ہنسی خوشی قبول کرلیا۔

ٹھیک 40/ سال کی عمر یعنی611ء میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سے سرفراز فرمایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت و دیانت اور اخلاقی خوبیوں کا پورے مکہ میں چرچا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بچپن اور جوانی اسی مکہ میں گزارا، نبوت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لوگوں نے ہر طرح کی ایذا رسانی کا راستہ اختیار کیا؛ لیکن کوئی انگلی نہ تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار پر اٹھے اور کوئی زبان نہ تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیانت و پاکیزگی پر کھلے۔

جب آپ کی عمر 40/ سال کی ہوئی تو آپ پر اللہ کا کلام اُترنا شروع ہوا، اس اچانک پیش آنے والے واقعہ سے آپ گھبراگئے، آپ فوراً اپنی بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور اپنی گھبراہٹ کا اظہار کیا، اس وقت آپ کی بیوی نے اور ظاہر ہے کہ بیوی سب سے زیادہ شوہر کے حال سے باخبر ہوتی ہے – کہا: خدا کی قسم! اللہ ہرگز آپ کو رُسوا نہیں کرے گا؛ کیوں کہ آپ رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں، لوگوں کا بوجھ اُٹھاتے ہیں، ناداروں کا خیال کرتے ہیں، مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور کسی اچھے کام کی وجہ سے انسان مصیبت میں پڑ جائے تو اس کی مدد کرتے ہیں۔ (بخاری، حدیث نمبر:3) پھر جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ آپ اپنے پیغمبر ہونے کا اعلان فرمائیں تو مکہ کے قدیم طریقے کے مطابق آپ نے صفا کی پہاڑی سے آواز لگائی، لوگ جمع ہوگئے، آپ نے اپنی بات پیش کرنے سے پہلے لوگوں کے سامنے اپنی ذات کو پیش کیا، آپ نے فرمایا کہ میں نے تمہارے درمیان 40/ سال گزارے ہیں، تم نے مجھے سچا پایا یا جھوٹا؟ تمام لوگوں نے یک زبان ہوکر کہا: سچا، پھر آپ نے دریافت کیا کہ تم نے مجھے امانت دار پایا یا خیانت کرنے والا؟ تمام لوگوں کی زبان پر تھا: امانت دار، آپ نے مزید پوچھا: اگر میں کہوں کہ اس پہاڑی کے پیچھے ایک فوج کھڑی ہے، جو تم پر حملہ کرنے والی ہے تو کیا تم اس کا یقین کروگے؟ لوگوں نے کہا: بظاہر ایسے حالات نہیں ہیں کہ کوئی گروہ ہم پر حملہ کرے؛ لیکن ہم نے کبھی آپ کو جھوٹ بولتے ہوئے یا بددیانتی کرتے ہوئے نہیں دیکھا؛ اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ آپ کہیں اور ہم اس کا یقین نہ کریں، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں اللہ کا بندہ اور اس کا پیغمبر ہوں“ – اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کے کس اعلیٰ معیار پر تھے کہ جن لوگوں کے درمیان آپ نے بچپن سے لے کر جوانی تک کا پورا وقت گذارا، ان سے آپ کو اپنے بارے میں دریافت کرنے میں کوئی ڈر نہیں ہوا؛ اسی لیے جن لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول نہیں کیا، وہ بھی اس بات کی ہمت نہیں کرسکے کہ آپ کے اخلاق وکردار پر انگلی اٹھائیں۔

13/ سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں دعوتِ دین کی جد و جہد فرمائی، یہ 13/ سال ایسے گزرے کہ شب و روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے قرار رہتے کہ کسی طرح اللہ کے بندے اللہ کو پالیں اور صحیح راستہ کی طرف آجائیں، پورا دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم گلیوں، کوچوں اور بازاروں میں گھوم گھوم کر دعوت دینے میں گزارتے، ایک ایک دروازہ پر پہنچتے اور دروازہٴ دل کو دستک دیتے، ایک ایک شخص سے ملتے اور اس کی خوشامد فرماتے؛ لیکن بہت کم لوگ تھے، جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہا، اکثریت ان لوگوں کی تھی کہ حق کی روشنی ان کے سامنے دو پہر کی دھوپ کی طرح کھل کر آگئی، مگر بت پرستی اور بے دینی کو چھوڑ نے پر وہ آمادہ نہیں تھے؛ کیوں کہ یہی ان کے آبا و اجداد کا مذہب تھا، اس درمیان کوئی تکلیف نہ تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی نہ گئی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پورے خاندان سمیت بائیکاٹ کیا گیا، مسلمان لقمہ لقمہ کو ترستے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خاندان کے ساتھ درخت کے پتے اور چھال تک کھانے پر مجبور تھے، جسم اقدس پر اونٹ کی اوجھ اور غلاظت ڈال دی گئی، گلے میں پھندہ ڈال کر جان لینے کی کوشش کی گئی، راستہ میں کانٹے بچھائے گئے، جملے کسے گئے اور تالیاں پیٹی گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فاتر العقل اور جادو گر مشہور کیا گیا۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا رخ کیا، شاید ان کو قبولِ اسلام کی توفیق ہو؛ لیکن طائف کی زمین مکہ سے بھی زیادہ سخت ثابت ہوئی، انہوں نے نہ صرف انکار کیا؛ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اوباش لڑکوں کو بھی لگادیا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر پھینکتے، خاک اڑاتے، ہنستے اور تمسخر کرتے، جسم لہو لہان ہوگیا، نعلین مبارکین میں خون جم گیا، گھٹنے زخمی ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ جاتے، تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑا کر دیتے، حضرت زید بن حارثہ ساتھ تھے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کاندھوں پر اُٹھالیا اور ایک باغ کی پناہ لی، ٹوٹے ہوئے دل اور اشک بار آنکھوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی طر ف متوجہ ہوئے، جب مطمئن ہوگئے تو بڑی پُر درد دُعا فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الٰہا! اپنے ضعف و بے سروسامانی اور لوگوں کے مقابلہ میں اپنی بے بسی کی فریاد آپ ہی سے کرتا ہوں، آپ رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں، درماندہ بے کسوں کے پروردگار آپ ہی ہیں، آپ ہی میرے مالک ہیں، آخر آپ مجھے کس کے حوالے کر رہے ہیں؟ کیا اس حریف بے گانہ کے جو مجھ سے ترش روئی روا رکھتا ہے، یا ایسے دشمن کے جو میرے معاملہ پر قابو رکھتا ہے؟ لیکن اگر مجھ پر آپ کا غضب نہیں ہے تو پھر مجھے کچھ پروا نہیں، بس آپ کی عافیت میرے لیے زیادہ وسعت رکھتی ہے، میں اس بات کے مقابلہ میں کہ آپ کاغضب مجھ پر پڑے یا آپ کا عذاب مجھ پر نازل ہو، آپ ہی کے نور جمال کی پناہ مانگتا ہوں، جس سے ساری تاریکیاں روشن ہو جاتی ہیں اور جس کے ذریعہ دین و دنیا کے تمام معاملات سنور جاتے ہیں، مجھے تو آپ کی رضامندی اورخوش نودی مطلوب ہے، آپ کے سوا کہیں سے کوئی قوت و طاقت نہیں مل سکتی۔

خدا کی قدرت دیکھیے کہ ایمان اور اسلام کا جو تخم آپ نے مکہ اور طائف کی سرزمین میں بویا، اللہ اس سے اہل مدینہ کے دلوں کو بار آور فرما رہا تھا، بارش کہیں اور ہو رہی تھی اور ایمان کا آبِ حیات کہیں اور جمع ہو رہا تھا، حج کے موقع سے مدینہ کے لوگ مکہ آئے، ان کے کان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی طرف متوجہ ہوئے، وہ مخلص اور حق کے متلاشی تھے، ضد اور اکڑ نہ تھی، اس لیے فوراً ہی کانوں سے دلوں تک کا فاصلہ طے ہوا، ایمان لائے اور اہل ایمان کو پناہ دینے کا عہد بھی کیا، مکہ کی زمین بتدریج اہل ایمان پر تنگ سے تنگ تر ہوتی جاتی تھی، بعض مسلمانوں کو گلے میں پھندا ڈال کر گرم ریتوں پر گھسیٹا جاتا، بعضوں کو سلگتے ہوئے شعلوں پر لٹایا جاتا اور ان کے جسم سے رسنے والے لہو سے آگ بجھائی جاتی، کسی کو دھوئیں کی دھونی دی جاتی، بعضے تو بے رحمی سے شہید ہی کر دیے گئے۔

لیکن مجال نہ تھی کہ دامنِ صبر مسلمانوں سے چھوٹ جائے اور حکم خداوندی کے بغیر وہ اپنے طور سے فیصلہ کریں، آخر خود خدا کی طرف سے حکم ہوا کہ مسلمان مکہ چھوڑ کر مدینہ آجائیں، مسلمان آہستہ آہستہ مدینہ آنے لگے اور صرف وہی مکہ میں رہ گئے، جو یہاں سے جا نہیں سکتے تھے؛ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک مکہ ہی میں مقیم تھے اور اپنے بارے میں حکم خداوندی کے منتظر، اسلام کے دشمنوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا منصوبہ بنا یا، ہر قبیلہ سے ایک ایک نمائندہ لے کر درِ دولت کا محاصرہ کر لیا، ادھر خدا کی طرف سے صورتِ حال سے آپ کو آگاہ فرمایا گیا، آپ پورے اطمینان کے ساتھ کچھ آیتیں پڑھتے ہوئے اور ایک مشت ِغبار محاصرین پر پھینکتے ہوئے باہر نکل آئے اور چھپتے چھپاتے کچھ دنوں میں مدینہ تشریف لائے، آپ کے سر دھڑ پر انعام مقرر ہوا، پیچھا کرنے والوں نے پیچھا کیا اور اپنے تئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق خاص حضرت ابو بکر کی جان لینے کی کوشش میں کوئی کسر نہ رکھی، مگر خدا کی تدبیر کے سامنے ساری تدبیریں اکارت گئیں اور نبوت کا جو آفتاب مکہ میں طلوع ہوا تھا، مدینہ میں مہر نیم روز بن کر روشن ہوا۔

آپ جب مدینہ میں داخل ہوئے تو جشن کا منظر تھا، بچے، بوڑھے، جوان، مرد اور عورت، آقا اور غلام، بڑے اور چھوٹے، دل اورآنکھیں بچھائے پروانہ وار کھڑے تھے، زبان پر استقبالیہ نغمے، نگاہانِ شوق بے تاب، یاتو مکہ کی سرزمین مسلمانوں پر تنگ تھی یا پھر مدینہ نے دل و جگر راہوں میں بچھا رکھے تھے، مہاجرین کے لٹے پٹے قافلوں کو اہل مدینہ نے اپنے یہاں جگہ دی، گھر دیا، دَر دیا، کھیت اور باغات نثار کیے اور سب سے بڑھ کر اتھاہ محبت اور پیار کی سوغات دی، اہل مدینہ نے جو ایثار کیا، شاید ہی انسانی تاریخ میں اس کی کوئی مثال مل سکے، اہل مکہ کی قربانیاں بھی کچھ کم نہ تھیں، گھر چھوڑا، وطن چھوڑا، وطن کی فضاوٴں کو خیر باد کہا، اعزہ و اقربا کی محبت قربان کی اور اپنی پوری دنیا سے منھ موڑ کر ایک ایسی منزل کو چل پڑے جہاں اجنبیت سے سابقہ تھا اور مستقبل موہوم تھا، اس لیے آپ نے مکہ سے ترکِ وطن کر کے آنے والوں کو ”مہاجرین“ اور مدینہ کے رہنے والوں کو ”انصار“ کا نام دیا، مہاجرین کے معنی ہیں ”دین کے لیے ترکِ وطن کرنے والا“ اور ”انصاری“ کے معنی ہیں ”اہل ایمان کی مدد ونصرت کرنے والا“، مسلمانوں میں ان دو طبقوں کے سوا کسی تیسرے طبقہ کا تصور نہیں، نہ ذات پات کا، نہ قبیلہ اور برادری کا، نہ ملک اور صوبہ کا، نہ زبان کا، کوئی اور تقسیم نہیں جو اللہ کو مسلمانوں کی گوارا ہو۔

ہجرت کا یہ واقعہ ایک طرف مسلمانوں کی قربانی اور دین کی حفاظت و اشاعت کے لیے پیغمبر اسلام ااور ان کے رفقائے عالی مقام کے ایثار و فدا کاری کی یاد گار ہے اور دوسری طرف آئندہ اسلام کو جو فتوحات اور کام یابیاں حاصل ہوئیں، ان کا مقدمہ، یہ محض مکہ سے مدینہ کی طرف سفر نہیں تھا؛ بلکہ مغلوبیت سے غلبہ و ظہور کی طرف اور مقہوریت سے طاقت و شوکت کی طرف سفر تھا، بظاہر مسلمانوں پر زمین تنگ ہو رہی تھی؛ لیکن خدا نے اسی تنگی میں آفاق کی وسعت کو سمو رکھا تھا، یہ واقعہ نااُمیدیوں میں اُمید کی کرن سے روشناس کرتا ہے اور حوصلہ شکن حالات میں اُمید و حوصلہ کا چراغ جلاتا ہے اور اس بات کو بھی یاد دلاتا ہے کہ کیسی کیسی قربانیوں اور جانثاریوں سے خدا کے اس دین کو سربلند کیا گیا ہے اور کس قدر خون و لہو کے ذریعہ حق و صداقت کے اس شجرہٴ طوبیٰ کی آب یاری فرمائی گئی ہے؟!

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا سب سے اہم پہلو رحم دلی اور امن و صلح اختیار کرنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو انسانوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ اس پر رحم نہیں کرتا۔ (بخاری، کتاب التوحید، حدیث نمبر: 37) ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا: رحم کرنے والوں ہی پر خدائے مہربان بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔ (ترمذی، حدیث نمبر: 1924) جو لوگ کمزور اور بے سہارا ہونے کی وجہ سے خصوصی مدد کے مستحق ہوتے ہیں، ان کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی طورپر اچھے سلوک کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص یتیم کی محبت کے ساتھ پرورش کرے، وہ جنت میں میرے بہت قریب رہے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: جیسے یہ دو انگلیاں۔ (ابوداوٴد، حدیث نمبر: 2515، مسند احمد، حدیث نمبر: 22820) آپ نے بوڑھوں کی توقیر اور بچوں کے ساتھ شفقت کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ جو ایسا نہ کرے، وہ ہمارا آدمی نہیں۔ (ترمذی، حدیث نمبر: 1919) عورتوں کے ساتھ خاص طورپر اچھے سلوک کی تلقین کی۔ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمزوروں اور پریشان حال لوگوں کی مدد کی اہمیت کو بتاتے ہوئے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بعض لوگوں سے پوچھیں گے: میں بیمار تھا، تم نے عیادت نہیں کی؟ میں بھوکا تھا، تم نے کھانا نہیں کھلایا؟ میرے کپڑے نہیں تھے، تم نے مجھے لباس نہیں پہنایا؟ بندہ پوچھے گا: اے اللہ! کیا آپ بیمار پڑ سکتے ہیں اور میں آپ کی عیادت کرسکتا ہوں؟ کیا میں آپ کو کھانا کھلاسکتا ہوں؟ کیا میں آپ کو کپڑے پہناسکتا ہوں؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ اگر تو فلاں بیمار کے پاس پہنچتا تو مجھے وہاں موجود پاتا، اگر تو فلاں بھوکے کے پاس پہنچتا تو مجھے وہاں موجود پاتا، اگر تو فلاں ننگے کے پاس جاتا تو مجھے وہاں موجود پاتا۔ (مسلم، عن ابی ہریرہ، حدیث نمبر: 2569) آپ کی رحم دلی کا حال یہ تھا کہ مکہ میں 13/سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ پر ایمان لانے والوں نے نہایت تکلیف میں گزارے، مسلمانوں کو طرح طرح کی تکلیفیں دی گئیں، بعضوں کو ریت پر گھسیٹا گیا، بعضوں کو آگ کے انگارے پر لٹایا گیا، بعض مردوں اورعورتوں کو قتل کردیا گیا، خود آپ کے گھر کی دہلیز پر کانٹے ڈالے جاتے، گھر کے اندر کچرا پھینک دیا جاتا، گلے میں اونٹ کی اوجھ کا پھندا ڈال کر مارنے کی کوشش کی گئی، قتل کا منصوبہ بنایا گیا؛ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پورے عرصہ میں نہ کبھی ہاتھ اٹھایا، نہ اپنے ساتھیوں کو اس کی اجازت دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ خالی ہاتھ مدینہ چلے گئے، مدینہ کے زیادہ تر لوگوں نے آپ کی دعوت قبول کرلی اور آپ کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا، آپ چاہتے تھے کہ اب یکسوئی کے ساتھ لوگوں تک اسلام کا پیغام پہنچایاجائے؛ لیکن اہل مکہ کو یہ بھی گوارا نہیں ہوا، انہوں نے مسلمانوں کی اس چھوٹی سی بستی پر اگلے ہی سال حملہ کردیا اور بدر کے میدان میں جو مدینہ سے 80/ میل پر واقع ہے، جنگ کی نوبت آگئی، اللہ کی ایسی مدد ہوئی کہ دشمنوں کے بڑے بڑے ستر سردار مارے گئے اور ستر قید ہوئے، آپ نے قیدیوں کے ساتھ بڑا اچھا سلوک کیا، یہاں تک کہ رہا کرتے ہوئے انہیں نئے جوڑے پہناکر رخصت کیا، اگلے ہی سال دوبارہ مکہ والوں نے مسلمانوں پر حملہ کردیا اور یہ لڑائی بالکل مدینہ کی سرحد پر لڑی گئی، بہت سے مسلمان شہید ہوئے؛ لیکن اس حال میں بھی آپ حملہ کرنے والوں کے لیے دعا ہی کرتے رہے، دوسال کے بعد پھر اہل مکہ نے مختلف قبیلوں کو اپنا اتحادی بناکر مسلمانوں پر حملہ کیا، یہ اتنی بڑی اور جنگی وسائل سے مالا مال فوج تھی کہ مدینہ کی اینٹ سے اینٹ بج جاتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی جنگی حکمت عملی اختیار کی کہ بالآخر دشمنوں کو واپس ہوجانا پڑا۔ یہ واقعہ مدینہ آنے کے پانچویں سال کا تھا، اس تابڑتوڑ حملہ کے باوجود اگلے سال آپ مسلمانوں کے ساتھ احرام کا لباس پہن کر مکہ کے لیے نکلے، جو امن اور جذبہ عبادت کی علامت سمجھا جاتا تھا اور عربوں کی روایت کے مطابق احرام باندھ کر آنے والے کسی شخص کو کعبہ کا طواف کرنے سے روکا نہیں جاتا تھا؛ لیکن پھر بھی اہل مکہ نے اجازت نہیں دی اور بالآخر آپ نے لڑائی سے بچتے ہوئے اہل مکہ کی شرطوں پر صلح کرلی اور واپس ہوگئے، اہل مکہ نے اس معاہدہ کا بھی لحاظ نہیں رکھا اور مسلمانوں کے حلیف قبیلہ کو – جو غیر مسلم ہی تھا – مکہ میں دوڑا دوڑا کر قتل کیا، پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائی سے بچنے کے لیے ان سے کہا کہ وہ ان کا خوں بہا ادا کردیں، مگر انہوں نے اسے بھی قبول نہیں کیا اور کہا کہ ہمیں جنگ کرنی ہے؛ چناں چہ جس قبیلہ پر ظلم کیا گیا تھا، اس کے اصرار پر مجبور ہوکر مکہ سے ہجرت کے آٹھویں سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دس ہزار ساتھیوں کو لے کر پھر مکہ روانہ ہوئے اور ایسی حکمت عملی اختیار کی کہ جنگ کی نوبت نہ آئے؛ چناں چہ اہل مکہ نے بغیر کسی لڑائی کے ہتھیار ڈال دیے، اس وقت وہ تمام دشمن آپ کے سامنے کھڑے تھے، جنہوں نے آپ پر پتھر پھینکا تھا، آپ کی بیٹی کو طلاق دلوائی تھی، قتل کا منصوبہ بنایا تھا، مسلمانوں کو ناقابل برداشت ایذا پہنچائی تھی، مکہ چھوڑ دینے کے باوجود مدینہ پر بار بار حملہ کیا تھا؛ لیکن آپ نے نہ صرف یہ کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی؛ بلکہ ان کو ان کے جرائم کی یاد دلاکر شرمندہ بھی نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:” انتم الطلقاء، لا تثریب علیکم الیوم“․ (النسائی فی سنن الکبریٰ، حدیث نمبر: 18276) آج تم سب آزاد ہو۔ تم پر کوئی پکڑ نہیں۔ امن و آشتی کو قائم رکھنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اسی بات کی تعلیم دی کہ کوئی مسلمان دوسرے کے لیے تکلیف کا سبب نہ بنے، آپ سے دریافت کیا گیا کہ سب سے بہتر مسلمان کون ہے؟ فرمایا: من سلم الناس من لسانہ ویدہ۔ (الاحسان فی تقریب صحیح ابن حبان، حدیث نمبر:2684) وہ شخص کہ جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ ایک اور موقع پر فرمایا کہ سب سے اچھا مسلمان وہ ہے کہ جس کے شر سے لوگ امن میں رہیں، زیادہ تر پڑوسیوں کے درمیان لڑائی جھگڑے کی نوبت آتی ہے؛ اس لیے آپ نے ارشاد فرمایا: من کان یوٴمن باللّٰہ فلا یوٴذی جارہ۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر: 5185) جو اللہ پر ایمان رکھتا ہو، وہ پڑوسی کو نہ ستائے۔ ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا: جس کا اللہ پر ایمان ہو، اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے۔ (بخاری، حدیث نمبر: 6019) غرض کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی کا خلاصہ اللہ کے بندوں کو اللہ سے جوڑنا، لوگوں کو امن و آشتی کی طرف بلانا، شرم و حیا کی دعوت دینا اوراخلاق کی اصلاح کرنا تھا۔

اسلام کا ایک بنیادی عقیدہ آخرت کا یقین ہے، یعنی اس بات کا یقین کہ ایک ایسا وقت آئے گا، جب خدا کے حکم سے یہ کائنات ختم کردی جائے گی، تمام انسان زندہ کیے جائیں گے، انہوں نے دنیا میں جو اچھے کام کیے تھے، ان کو اس کا بہترین انعام دیا جائے گا، وہ جنت میں داخل کیے جائیں گے اور انسان نے جو گناہ کیے تھے، انہیں اس کی سخت سزا ملے گی اور وہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ آخرت کا یقین عقل و فطرت کے عین مطابق ہے، دنیا میں انسان بہت سے اچھے کام کرتا ہے؛ لیکن اس کو اس کی جزا نہیں ملتی؛ بلکہ بعض دفعہ وہ دکھ بھری زندگی گزار کر دنیا سے چلاجاتا ہے، اس کے برخلاف کچھ لوگ ظلم و زیادتی کرتے ہیں؛ لیکن دنیا میں ان کو سزا نہیں مل پاتی ہے؛ اس لیے عقل اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ کوئی ایسی جگہ ہونی چاہیے، جہاں نیکی کرنے والوں کو انعام اور گناہ اور زیادتی کرنے والوں کو سزاملے، اسی کا نام آخرت ہے، وہاں خاندان، رنگ و نسل اور علاقہ و زبان کی وجہ سے نہیں؛ بلکہ انسان کے عمل اور کردار کی وجہ سے جزا اور سزا کا فیصلہ ہوگا۔ آخرت کا یقین ایک انقلابی عقیدہ ہے، اس کی وجہ سے انسان کی سوچ بدل جاتی ہے، انسان اس وقت بھی نیکی کے کام کرنے پر آمادہ ہوتا ہے، جب کوئی تعریف کرنے والا اور انعام دینے والا نہ ہو اور اس وقت بھی برائی اور ظلم سے باز رہتا ہے، جب کوئی دیکھنے والی آنکھ اورٹوکنے والی زبان نہ ہو۔

مثال کے طورپر اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ شراب انسان کی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہے اور اخلاق کے لیے بھی؛ لیکن امریکہ جیسے ملک میں تمام ترغیبی اور قانونی وسائل کے استعمال کے باوجود یہ بات ممکن نہ ہوسکی کہ لوگوں کو شراب سے روک دیا جائے، خود کئی مسلم ریاستوں میں شراب بندی کی کوشش کی گئی اور اس کے لیے سخت سے سخت قوانین بنائے گئے؛ لیکن پھر بھی مکمل طورپر اسے روکنا ممکن نہ ہوسکا، عرب کے لوگ شراب کے رسیا تھے، ان کی کوئی محفل شراب سے خالی نہیں ہوتی تھی؛ لیکن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے لوگوں کے ذہن میں آخرت کا یقین پیدا کیا، پھر جب شراب کے حرام ہونے کا اعلان ہوا تو جن کے ہونٹوں تک شراب پہنچ چکی تھی، انہوں نے اس کو حلق تک نہیں پہنچایا، شراب کے مٹکے توڑ دیے اور مدینے کی گلیوں میں شراب بہنے لگی۔

اسی طرح سودی کاروبار عربوں میں عام تھا، وہ اسے ایک تجارت سمجھتے تھے؛ لیکن جب اسلام نے اس کو منع کیا؛ کیوں کہ اس میں غریبوں کا استحصال ہے، تو یک لخت لوگوں نے اس حکم کو قبول کرلیا اور جو سود پہلے سے لوگوں کے ذمہ باقی تھا، اس سے بھی باز آگئے – یہ اسی عقیدہ کا نتیجہ تھا، یہ عقیدہ انسان کی فکر کو بدلتا ہے، اس سے انسان میں یہ سوچ پیدا ہوتی ہے کہ ہر کام کو مادی نفع و نقصان کی ترازو میں نہ تولا جائے؛ بلکہ وہ بہت سے کاموں کو خدا کی خوش نودی اور خلق خدا کی بھلائی کے لیے انجام دے۔

انسان کے بارے میں اسلام نے دو بنیادی تصورات پیش کیے ہیں، ایک یہ کہ تمام انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں، ایسا نہیں ہے کہ پیدائشی طورپر ان میں کوئی بڑا اور کوئی چھوٹا ہو؛ چناں چہ قرآن مجید نے کہا ہے:﴿یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَبَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًاکَثِیْرًا وَّنِسَآءً وَاتَّقُوااللّٰہَ الَّذِیْ تَسَآءَ لُوْنَ بِہ وَالْاَرْحَامَ،اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا﴾․(النساء:1) اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، جس نے تم سب کو ایک جان سے پیدا کیا ہے، اسی سے ان کا جوڑا بنایا ہے اوران دونوں سے بہت سے مرد و عورت بنادیے ہیں۔

خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام تعلیمات کا نچوڑ پیش کرتے ہوئے فرمایا: ان ربکم واحد و ان اباکم واحد۔ (مسند احمد، حدیث نمبر: 23489) تمہارا خدا بھی ایک ہے اور تم سب ایک ہی باپ کی اولاد ہو۔ یعنی اللہ کی توحید اور انسانی وحدت ۔ اس سلسلہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انقلابی تصور عطا فرمایا کہ جو باتیں اتفاقی طورپر پیش آتی ہیں، جس میں اس کے اپنے ارادہ و عمل کا دخل نہیں ہوتا، جیسے کسی خاص خاندان میں پیدا ہونا، سفید فام یا سیاہ فام ہونا وغیرہ، تو اس کی وجہ سے کسی شخص کو دوسرے پر فضیلت حاصل نہیں ہوسکتی، انسان اپنے عمل و کردار کی وجہ سے بہتر ہوتا ہے؛ چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری خطبہ میں فرمایا:”لا فضل لعربی علی عجمی، ولا لعجمی علی عربی، ولا لاحمر علی اسود، ولا لاسود علی احمر، الا بالتقویٰ․“ (مسند احمد، حدیث نمبر: 23489) کسی عربی کو غیر عربی پر اور غیر عربی کو عربی پر، نیز کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر (نسل ورنگ کی وجہ سے) کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے، ہاں! تقویٰ سے فضیلت حاصل ہوتی ہے۔

دوسرا بنیادی تصور یہ ہے کہ تمام انسان بحیثیت انسان قابل احترام ہیں؛ چناں چہ قرآن مجید کہتا ہے: ﴿وَ لَقَدکَرَّمْنَا بَنِی اٰدَمَ﴾ (بنی اسرائیل: 70) ہم نے انسان کو معزز بنایا ہے۔ انسان کے تخلیقی ڈھانچے کے بارے میں فرمایا گیا:﴿لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِی اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ﴾ (التین:4) ہم نے انسان کو بہترین قالب میں پیدا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ (مسلم، کتاب الجنائز، حدیث نمبر: 169)

عورتیں اپنے بالوں کو بڑا ظاہر کرنے کے لیے اپنے بال کے ساتھ دوسروں کے بال ملایا کرتی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ (ترمذی، کتاب اللباس، حدیث نمبر: 1759) کیوں کہ انسان کے کسی جز کو دوسرا انسان اپنے لیے استعمال کرے، یہ انسان کی عظمت و حرمت کے مغائر ہے۔غیر مسلموں کے متعلق قرآن مجید نے جو اس بات پر زور دیا ہے کہ ”تمام انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں“ اس سے انسانی اخوت کا رشتہ واضح ہوتا ہے، جیسے ایک رشتہ خاندانی اخوت و بھائی چارے کا ہے، اسی طرح بھائی چارے کا ایک وسیع تر رشتہ وہ ہے، جو پوری انسانیت کو ایک لڑی میں پروتا ہے؛ اس لیے مسلمان ہوں یا غیر مسلم، وہ بحیثیت انسان بھائی بھائی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے:﴿لاَ یَنْھٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْھُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَیْھِمْ،اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ﴾․ (الممتحنة:8) جو لوگ تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کرتے اور نہ انہوں نے تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ہے، اللہ تعالیٰ تم کو ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور انصاف برتنے سے نہیں روکتے، بے شک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں۔

یہ آیت اس بات کی تلقین کرتی ہے کہ جو غیر مسلم مسلمانوں سے برسرپیکار نہ ہوں، ان کے ساتھ بہتر سلوک کرنا چاہیے، مسلمانوں کے بعض غیر مسلم رشتہ دار مسلمان ہونے کو تیار نہیں تھے، مسلمان رشتہ دار پہلے سے ان کی کفالت کیا کرتے تھے، انہوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کی بنیاد پر ان کی مالی مدد کرنا چھوڑ دیا، قرآن مجید نے اس بات سے منع کیا کہ وہ کسی رشتہ دار کے مسلمان نہ ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا چھوڑ دیں، اس سلسلہ یہ آیت نازل ہوئی:﴿لَیْسَ عَلَیْکَ ھُدٰھُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآء، وَمَا تُنْفِقُوْامِنْ خَیْرٍفَلِاَنْفُسِکُمْ،وَمَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّاابْتِغَآءَ وَجْہِ اللّٰہِ، وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ﴾ (البقرة: 272) ان لوگوں کی ہدایت آپ کے ذمہ نہیں، اللہ جسے چاہتے ہیں، ہدایت دیتے ہیں اور تم جو کچھ مال خرچ کرتے ہو، وہ اپنے ہی لیے خرچ کرتے ہو اور تم خرچ نہیں کرتے ہو، مگر اللہ کی خوش نودی کی تلاش میں اورتم جو بھی خرچ کروگے تم کو پورا پورا دیا جائے گا۔ (یعنی اس کا پورا اجر ملے گا) اور تم پر ظلم نہیں ہوگا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے عمل سے اس حسن سلوک کی مثال پیش فرمائی، مکہ کے لوگوں نے آپ پر اور آپ کے ساتھیوں پر کتنے مظالم ڈھائے؛ لیکن جب مکہ میں قحط پڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ریلیف جمع کی اور پانچ سو دینار ان کی مدد کے لیے بھیجے۔ (السیر الکبیر: 1/69) بیس دینار ساڑھے ستاسی گرام سونا ہوتا ہے، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ کتنی بڑی رقم تھی؛ حالاں کہ مسلمان خود اس وقت فقر و فاقہ سے گذر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں کے بارے میں ایک اصولی بات فرمائی کہ جیسے ہم اپنے خون کو قابل احترام سمجھتے ہیں، اسی طرح ہمیں ان کی زندگی کا بھی احترام کرنا چاہیے اورجیسے ہمارے مال کی حرمت ہے، اسی طرح ان کا مال بھی قابل احترام ہے: دماء ھم کدمائنا و اموالھم کاموالنا․ (نصب الرایہ: 4/369) قرآن نے کسی بھی نفس انسانی کے قتل ناحق کو حرام قرار دیا ہے۔ (بنی اسرائیل:33) اور ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل کہا ہے۔ (المائدة: 23) جو غیر مسلم حملہ آور نہ ہو؛ بلکہ پُرامن طورپر مسلمانوں کے ساتھ رہتا ہو، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس کو قتل کرے گا، وہ جنت کی خوش بو سے بھی محروم رہے گا۔ (بخاری، حدیث نمبر: ۳۰) یا جو ان کے مال میں سے لے لے گا، یا ان کے ساتھ حق تلفی کرے گا، قیامت کے دن میں اس کی طرف سے فریق بن کر کھڑا ہوں گا۔ (ابوداوٴد، حدیث نمبر: 3053) اسی طرح اسلام کی نظر میں کوئی مسلمان بہن ہو یاغیر مسلم خاتون، دونوں کی عزت و آبرو برابر ہے۔ اسلام نے غیر مسلموں کے مذہبی جذبات کا بھی لحاظ رکھنے کا حکم دیا اور کہا کہ وہ جن دیویوں دیوتاوٴں کو پوجتے ہیں تم ان کو برا بھلا نہ کہو۔ (الانعام: 108) قرآن نے کسی کی عبادت گاہ کو منہدم کرنے کی مذمت کی ہے، چاہے وہ مسلمانوں کی ہو یا کسی غیر مسلم گروہ کی۔ (الحج: 40) قرآن نے ہدایت دی کہ جہاں معاملہ انصاف کا ہوتو اس میں کوئی امتیاز نہیں ہونا چاہیے، اگر کوئی گروہ تمہارا مخالف ہو، تمہاری نظر میں ان کا طور و طریق اچھا نہ ہو، یا ان کی سوچ غلط ہو، پھر بھی تمہارے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ تم ان کے ساتھ ناانصافی کا معاملہ کرو۔ (المائدة:8)

مسلمانوں کے لیے ایمانی اعتبار سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے؛ کیوں کہ مخلوق پرستی کے بجائے خالق پرستی، انسانوں کے درمیان اُونچ نیچ کے بجائے مساوات و برابری، انفرادی اور قومی غلامی کے بجائے آزادی، مادیت کی جگہ روحانیت اور بے حیائی کی جگہ شرم و حیا اور پاکیزگیِ اخلاق کا نہ صرف آپ نے درس دیا؛ بلکہ دنیا میں ان ہی اقدار پر مبنی عظیم الشان انقلاب آپ کے ذریعہ وجود میں آیا، مگر افسوس کہ بعض لوگ آپ کی ذاتِ اقدس کے بارے میں غلط بیانی سے کام لے کر غیرمسلموں کو غلط فہمی میں مبتلا کرتے ہیں اور رواداری کے بجائے دل آزاری کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذات پات کی تقسیم کو غلط ٹھہراتے ہوئے انسانی وحدت کی تعلیم دی ہے، تمام انسانیت کو ایک ماں باپ کی اولاد قرار دیتے ہوئے انہیں رشتہ اُخوت سے جوڑا ہے اور خاص کر ایک تکثیری اور ہمہ مذہبی سماج میں ایک دوسرے کے جذبات کا احترام و رواداری اور باہمی تعاون کے ذریعہ امن و آشتی کو قائم رکھنے کی ہدایت دی ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو مستندو معتبر کتابوں کے ذریعہ پڑھا جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انقلاب انگیز تعلیمات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے، اس طرح محسوس ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امن اور مساوات کے داعی تھے اور آپ کا اُسوہ ہمارے لیے موجودہ حالات میں بہترین راہ نما ہے۔

مسلمان اپنی زندگی کو اخلاقِ نبوی کا آئینہ بنائیں اور اسلام نے سماج کے تمام طبقات کے ساتھ جس حسنِ سلوک اور انسانی بنیادوں پر برادرانہ برتاوٴ کی تعلیم دی ہے، اس کا نمونہ بنیں۔

اظہارِ محبت کا صحیح طریقہ
ربیع الاوّل کا مہینہ شروع ہوچکا ہے، اسی مہینے میں آقا و مولا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی، اسی ماہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی اور اسی ماہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عالم آخرت کی طرف کوچ فرمایا، اس طرح اس ماہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ سے ایک خاص مناسبت ہے، یوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور آپ کی عظمت کا تقاضا ہے کہ مسلمانوں کا کوئی دن اور کوئی لمحہ ایسا نہ ہو، جب اس کے دل کی دنیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد سے آباد نہ ہو؛ لیکن حیاتِ محمدی سے اس ماہ کی خصوصی نسبت کی وجہ سے عام طور پر اس موقع پر زیادہ جلسے کیے جاتے ہیں، اخبارات ورسائل کے نمبرات نکلتے ہیں اور مختلف طریقوں پر سیرتِ طیبہ کے تذکرہ کو تازہ کیا جاتا ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نہ صرف ایمان لانا ضروری ہے؛ بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ کی بے انتہا عظمت اور تمام چیزوں سے بڑھ کر محبت ہمارے دلوں میں ہو، یہ محبت ہمارے ایمان کا جزاور ہمارے دین کی اساس ہے اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے کہ اس امت کے دل میں آپ کی محبت کا جو غیر معمولی جذبہ کارفرما ہے، دوسرے مذاہب کے متبعین میں اپنے پیشواوؤں سے متعلق اس کا سوواں حصہ بھی نہیں ملتا اور کیوں نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے بعد ہر مسلمان کے لیے آپ ہی کی ذات سب سے محبوب ترین ہستی ہے، ا س کو اپنے وجود سے بھی بڑھ کر آپ سے محبت ہے اور اگر اس کا سینہ اس جذبہ سے خالی ہو تو وہ مسلمان ہی باقی نہیں رہے گا۔

محبت کے تقاضوں میں یہ بات شامل ہوتی ہے کہ انسان محبت کا اظہار کرے، اللہ اور رسول کی محبت تو موٴمن کے لیے معراج ہے؛ لیکن انسان تو دنیا میں بھی جب کسی سے محبت کرتا ہے تو اسے اِظہارِ محبت کے بغیر چین نہیں ملتا؛ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا فطری تقاضا آپ سے محبت کا اظہار بھی ہے؛ لیکن سوال یہ ہے کہ اِظہارِ محبت کا طریقہ کیا ہو؟ محبوب کے لحاظ سے محبت کا اظہار کیا جاتا ہے، انسان کو اپنے والدین سے بھی محبت ہوتی ہے اور اولاد سے بھی، استاذ اور شیخ سے بھی محبت ہوتی ہے اورشاگرد ومرید سے بھی، شوہر و بیوی بھی ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور دوستوں میں بھی باہم محبت کا تعلق ہوتا ہے؛ لیکن ہرجگہ اِظہارِ محبت کا ایک ہی انداز نہیں ہوتا، اِظہارِ محبت میں دو باتوں کو خاص طور پر ملحوظ رکھا جاتا ہے، محبوب کا مقام و مرتبہ اور محبوب کی پسند، مقام و مرتبہ کا لحاظ بے حد ضروری ہے، ایک شخص اپنے بچوں سے پیار کرتے ہوئے محبت کے جو بول بولتا ہے اور جو طریقہٴ کار اختیار کرتا ہے، اگر وہی الفاظ اپنے ماں باپ سے کہے اور وہی طریقہ ان کے ساتھ اختیار کرے تو یہ محبت کی بجائے بے ادبی اور گستاخی ہوجائے گی، اسی طرح کسی شخص کو جو شے پسند نہ ہو، آپ اس کی پسند و ناپسند کی پروا کیے بغیر اس کی ناپسندیدہ شے بطورِ اِظہارِ محبت کے اس کے سامنے پیش کردیں تو یا تو اسے بے وقوفی سمجھا جائے گا یا تمسخر۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے اظہار میں بھی ان دونوں پہلوؤں کو سامنے رکھنا ضروری ہے، ہمارے بعض شعراء نعتیہ اشعار کچھ اس طرح کہتے اور پڑھتے ہیں کہ جیسے اپنی محبوبہ کے گیسو وعارض کی تعریف کررہے ہوں اور اس کے سراپا کا نقشہ کھینچ رہے ہوں، ظاہر ہے کہ یہ اِظہارِ محبت کا ناشائستہ طریقہ ہے، اخبارات میں ایک طرف ایسا اشتہار ہوتا ہے، جس کا تعلق ملبوسات کی دکان سے ہے اور جس میں نیم عریاں شکل میں آنچل لہراتی ہوئی ایک عورت کھڑی ہوئی ہے اور ٹھیک اسی کی پشت پر یا اوپر نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک ذکر ہے، سوچیے کیا یہ بے ادبی نہیں ہے؟ کاغذ کی ایسی جھنڈیاں تیار کی جائیں، جن پر کلمہ طیبہ ہو اور جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک نام ہو اور یہی جھنڈیاں چند دنوں کے بعد زمین میں قدموں سے پامال کی جائیں، کیا یہ بے احترامی نہیں ہے؟ اِظہارِ محبت کے نام پر کتنی ہی ایسی حرکتیں کی جاتی ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ کے خلاف ہیں۔

بہت سی باتیں جو اختیار کی جاتی ہیں، وہ ایسی ہیں، جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا ہے، آپ نے کسی بھی انسان کو تکلیف پہنچانے کے عمل سے منع فرمایا، آپ نے درخت کو کاٹنے سے منع فرمایا؛ کیوں کہ اس کی وجہ سے انسان سایہ سے محروم ہوتا ہے اور ماحولیاتی توازن متأثر ہوتا ہے، آپ نے گھر کی نالی راستے پر نکالنے سے روکا؛ تاکہ تعفن پیدا نہ ہو، آپ نے راستہ میں کچرا اور تکلیف دہ چیزیں ڈالنے سے منع فرمایا، یہاں تک کہ ارشاد ہوا کہ راستہ سے تکلیف دہ چیز کا ہٹانا بھی ایمان میں داخل ہے: ”وادناہا اماطة الاذی عن الطریق“ (صحیح مسلم، باب شعب الایمان، حدیث نمبر: 162) تکلیف دہ چیزوں میں راستہ کی رکاوٹ بھی ہے، راستہ میں ایسی چیزیں رکھ دینا کہ ٹریفک کا بہاؤ متأثر ہوجائے، اس طرح کھڑا ہوجانا کہ چلنے والوں کے لیے رکاوٹ پیدا ہوجائے اس اذیٰ (تکلیف دہ چیز) میں داخل ہے، جس کے ہٹانے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا ہے۔

ایسی ریکارڈ نگ لگانا کہ محلہ کے لوگوں کے لیے سونا دشوار ہوجائے یا بیماروں کو تکلیف ہونے لگے، ایذا ہی کی ایک شکل ہے، حضرت مقداد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت کسی جگہ جاتے تو ایسی آواز میں سلام فرماتے کہ جو لوگ بے دار ہو ں وہ سن لیں اور جو لوگ سوئے ہوئے ہوں، ان کی نیند میں خلل واقع نہ ہو: ”فیجیء من اللیل فیسلم تسلیما لا یوقظ نائما ویسمع یقظان․“ (مسلم، حدیث نمبر: 2055) یہاں تک کہ آپ نے قرآن مجید بھی بہت اونچی آواز میں پڑھنے کو پسند نہیں فرمایا، حضرت ابو سعید خدری راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف تھے، آپ نے صحابہ کو زور زور سے قرآن مجید پڑھتے ہوئے سنا تو پردہ ہٹایا اور فرمایا کہ تم سب اپنے پروردگار سے سرگوشی کررہے ہو؛ لہٰذا ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچاؤ اورقرآن پڑھنے میں ایک دوسرے سے آواز بلند نہ کرو: ”الا إن کلکم مناج ربکم فلا یوذین بعضکم بعضا، ولا یرفع بعضکم علی بعض فی القراء ة“ (ابو داؤد، حدیث نمبر: 1332) آپ نے تکبیر کہنے میں بھی بہت بلند آواز کو پسند نہیں فرمایا، حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب ہم بلندی پر چڑھتے تھے تو تکبیر کہتے، آپ نے فرمایا: تم لوگ اپنے آپ پر نرمی سے کام لو، تم کسی ایسی ذات کو نہیں بلارہے ہو، جو سنتا نہ ہو یا موجود نہ ہو؛ بلکہ اس خدا کو پکار رہے ہو، جو خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا اور تم سے قریب ہے: ”لا تدعون اصم ولا غائبا، تدعون سمیعا بصیرا قریبا“ (بخاری، حدیث نمبر: 6838، مسلم، حدیث نمبر: 2704) اس سے معلوم ہوا کہ ایسے ریکارڈ بجانا کہ جس کی آواز لوگوں کے لیے تکلیف دہ ہو اور جلسوں کے اسپیکر اتنی دور دور تک پھیلادینا کہ لوگوں کی نیند میں خلل ہوجائے، ایسے طریقے ہیں جو ہمارے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہیں تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فضول خرچی نہایت ناپسند تھی، قرآن مجید میں تقریباً بیس آیتوں میں فضول خرچی کو منع کیا گیا ہے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ کھانے اور کپڑے ہی میں نہیں؛ بلکہ صدقہ کرنے میں بھی اسراف نہ ہونا چاہیے: ”کلوا وتصدقوا والبسوا فی غیر اسراف“ (نسائی عن عبد الله بن عمرو “ حدیث نمبر: 2399) صدقہ میں اسراف کا مطلب یہ ہے کہ کسی خیر کے کام میں ضرورت سے زیادہ خرچ کردیا جائے، یا اتنا خرچ کردیا جائے کہ خود دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے حالات پیدا ہوجائیں۔ فضول خرچی کی دو صورتیں ہیں: کسی جائز کام میں ضرورت سے زیادہ خرچ کیا جائے یا کسی بے جا کام میں خرچ کیا جائے اب غور کریں تو ربیع الاوّل میں اِظہارِ مسرت کے لیے جو طریقے اختیار کیے جاتے ہیں، ان میں بعض صورتیں یقینا فضول خرچی کے دائرے میں آجاتی ہیں، یہ اللہ اور اس کے رسول کو ناراض کرنے والی بات ہے، نہ کہ ان کو خوش کرنے والی۔

ایک بات جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت ہی ناپسند تھی، وہ ہے غیر مسلموں کی مشابہت اختیار کرنا، یوں تو آپ لباس وپوشاک اور تہذیب وتمدن میں بھی غیرمسلموں کی مماثلت کو ناپسند فرماتے تھے؛ لیکن خاص کر دینی امور میں تو آپ کو یہ بات حد درجہ ناپسند تھی؛ چناں چہ آپ نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی اور قوم کی مشابہت اختیار کرے، وہ ان ہی میں شامل ہے: ”من تشبہ بقوم فہو منہم“ (ابوداؤد، حدیث نمبر: 1304)

آپ نے سورج کے نکلنے، سورج کے نصف آسمان پر رہنے اور سورج کے ڈوبنے کے وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا؛ اس لیے کہ جو قومیں آفتاب کی پرستار تھیں، وہ ان ہی اوقات میں آفتاب کی پوجا کیا کرتی تھیں، یہودی دیر سے روزہ افطار کرتے تھے تو آپ نے اپنی امت کو افطار میں عجلت کا حکم دیا، یہودی دس محرم کو روزہ رکھتے تھے، تو آپ نے اس کے ساتھ مزید ایک روزہ ملاکر روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ (سنن الترمذی، حدیث نمبر: 760)

اگر اس پس منظر میں دیکھیں تو دیپ جلانا، چراغاں کرنا ہندووٴں کا شعار ہے، وہ چراغ جلاکر دیوالی مناتے ہیں اور اس سے ان کا ایک مذہبی تصور متعلق ہے، عیسائی حضرات کرسمس کے موقع پر پنج پہلو ستاروں کی شکل میں روشنی کا اہتمام کرتے ہیں اور ان کے یہاں بھی اس سے ایک مذہبی تصور متعلق ہے؛ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تربیت یافتہ صحابہ نے کسی اسلامی تقریب کے لیے اس کی دعوت نہیں دی یا اس طرح کا عمل نہیں کیا، اسی طرح رنگ پھینکنا ہندووٴں کا طریقہ رہا ہے اور وہ اس کے لیے مستقل طور پر ہولی کا تہوار مناتے ہیں، اسلام میں ایک دوسرے پر رنگ پھینکنے کا کوئی تصور نہیں ہے، غور کیجیے کہ کہیں ہم غیر مسلموں کے مذہبی اور تہذیبی شعائر کی طرف تو قدم بڑھاتے نہیں جارہے ہیں؟

غرض کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات چھپی ہوئی نہیں ہے؛ بلکہ وہ روشن آفتاب کی طرح ہم سب کے سامنے ہیں، ہم ان کو پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند وناپسند کو جان سکتے ہیں اور اس کی ترازو میں اِظہارِ محبت کے ان طریقوں کا تجزیہ کرسکتے ہیں، جن کو آج ہم نے اختیار کررکھا ہے۔

ہم اس ماہ میں ضرور اپنی خوشی کا اظہار کریں؛ لیکن طریقہ ایسا ہو کہ وہ شریعت کی میزان میں بھی درست ہو اور اس سے دینی نفع بھی ہو۔

اِظہارِ مسرت کا ایک بہتر طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ ہم لوگ اس یادگار مہینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ کے پڑھنے اور اپنی نئی نسل تک اس کو پہنچانے کا اہتمام کریں، اللہ کا شکر ہے کہ ہر زبان میں سیرت کا لٹریچر موجود ہے، یہ کتابیں مختصر بھی ہیں، متوسط ضخامت کی بھی ہیں اور ضخیم بھی، ہم خود ان کا مطالعہ کریں اور اپنے مطالعہ کونئی نسل تک پہنچائیں، خواتین اور بچوں کو سنائیں، آج صورتِ حال یہ ہے کہ مسلمان نوجوانوں، اسکولوں، کالجوں اور یونی ورسٹیوں کے اساتذہ اورطلبہ و طالبات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک اولاد اور پاک بیویوں کے نام تک یاد نہیں، اگر ان سے آپ کے صحابہ کا نام دریافت کیا جائے تو چاروں خلفاء کے بعد کم لوگ ہوں گے جو کسی پانچویں صحابی کا نام بتاسکیں، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے دس بیس واقعات بھی ان کو معلوم نہیں ہیں، کیا یہ بات محبت کے تقاضے میں داخل نہیں ہے کہ انسان اپنے محبوب کو جانے، پہچانے اور دوسروں سے اس کا تعارف کرائے؟ پس آئیے کہ اس مہینے کو ہم لوگ سیرت کے پڑھنے اور اپنی نئی نسل تک سیرتِ نبوی کو پہنچانے کا مہینہ بنائیں، اس کے لیے ایک منصوبہ بنائیں، کوئز پروگرام منعقد کریں اور بچوں کو انعام دے کر انہیں سیرتِ نبوی سے واقف کرائیں۔

اِظہارِ محبت کا دوسرا مناسب طریقہ یہ ہے کہ ہم غیر مسلموں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انسانیت نواز تعلیمات کو پہنچائیں، اس وقت مغرب کی جانب سے ایک منظم کوشش کی جارہی ہے کہ اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کی جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جارہے ہیں، جب اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں تو ہم لوگ احتجاج کرتے ہیں اور ہم اس احتجاج میں حق بجانب بھی ہیں؛ لیکن یہ اس مسئلہ کا پائے دار اور مستقل حل نہیں ہے، اس کا اصل حل یہ ہے کہ غیر مسلموں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ پہنچائی جائے، خاص کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بلند اخلاقی کے واقعات اور انسانیت نواز تعلیمات کو عام کیا جائے، مقامی زبانوں میں سیرت کا لٹریچر زیادہ سے زیادہ مقدار میں شائع کیا جائے اور ایک ایک غیر مسلم تک اس کو پہنچانے کی کوشش کی جائے، اگر ہر صاحب استطاعت مسلمان یہ طے کرلے کہ وہ انگریزی، ہندی یا ہندوستان کی کسی مقامی زبان میں موجود سیرت کی کتاب کے ایک سو تا ایک ہزار نسخے اپنے غیر مسلم اہل وطن تک پہنچائے گا، ہسپتال جاکر مریضوں میں، ریلوے اسٹیشن اور بس اسٹینڈوں پر جاکر مسافروں میں، اسکولوں اور کالجوں میں جاکر اساتذہ اور طالبات میں تقسیم کرے گا، تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا حقیقی اظہار ہوگا، اس طرح غلط فہمیوں کے بادل چھٹیں گے، لوگ آپ کی ہستی کو پہچانیں گے اور آپ کی محبت و عظمت لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوگی۔

اِظہارِ محبت کا تیسرا طریقہ جس کی خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترغیب دی ہے درود شریف کی کثرت ہے، گھروں میں ایسا ماحول بنائیے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھیں، ہر مسلمان خاندان طے کریں کہ کم سے کم اس ماہ میں ہم سب مل کر ایک لاکھ دفعہ درود شریف پڑھیں گے اور آئندہ بھی سہولت کے لحاظ سے اس کا سلسلہ جاری رکھیں گے،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احسان شناسی کا مناسب اظہار ہوگا؛ کیوں کہ امت کا درود شریف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیاجاتا ہے اوردرود کی یہ کثرت ان شاء اللہ آخرت میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت میں حصہ دار بنائے گی۔

اگر ہم سیرت کا پیغام مسلمانوں تک پہنچاکر، غیر مسلموں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے واقف کراکر اور درود شریف کی کثرت کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و تعلق کا اظہار کریں تو یہ اِظہارِ محبت کی کتنی بہتر، مفید اور ثمر آور صورت ہوگی، کاش! ہم ٹھنڈے دل سے اور دینی تعلیمات کو سامنے رکھ کر اس مسئلہ پر غور کریں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں