آج : 20 December , 2017

سیاسی بے یقینی

سیاسی بے یقینی

گزشتہ کئی ماہ سے سیاسی بے یقینی اور افراتفری تاحال برقرار ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ یہ بے یقینی کب تک جاری رہتی ہے اور اس کا منطقی انجام کیا سامنے آتا ہے۔ مارچ ۲۰۱۸ء میں سینیٹ کے انتخابات ہونے ہیں، توقع کی جارہی ہے کہ اس سے قبل ہی اونٹ کسی کروٹ بیٹھ جائے گا۔ لیکن سردست ملک اس سیاسی بے یقینی کی وجہ سے بحران کا شکار ہے، اس وقت ملک کو بنیادی طور پر سنگین مسائل در پیش ہیں۔
پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ملک کو مضبوط اور فیصلہ کرنے کے صلاحیت رکھنے والی حکومت دستیاب نہیں ہے، ملک میں اس وقت ایک کمزور حکومت قائم ہے جو عملی طور پر مفلوج اور بے بس ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ وزیر اعظم اور تمام اہم وفاقی و زراء انتہائی دباؤ میں ہیں۔ وزیر اعظم ایک جانب نواز شریف کے احکامات ماننے کے پابند ہیں تو دوسری جانب ان کے لیے ریاستی اداروں کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔ وزیر اعظم کے لیے دونوں کو راضی رکھتے ہوئے حکومت کا نظام چلانا آزمائش سے کم نہیں ہے۔ وزیر داخلہ کی اگر بات کی جائے تو وہ خود ہی اپنی لاچاری اور بے بسی کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ ان کے ماتحت ادارے کہیں اور سے احکامات لیتے اور ان پر عمل کرتے ہیں، جبکہ وزیر داخلہ کو اس کی خبر تک بھی نہیں ہوتی ہے۔ وزیر خارجہ پر عدالت میں اقامہ کی وجہ سے نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے اور وہ بھی بے بسی ہی دکھائی دیتے ہیں۔ وزیر خزانہ ملک سے باہر اور احتساب عدالت کے مفرور ہیں۔ وزیر دفاع بھی منظر سے غائب ہیں۔ اب ظاہر ہے حکومت انہیں ارکان مملکت سے چلتی ہے اور جب وہ اس قسم کی صورت حال سے دوچار ہیں تو حکومت میں مضبوطی اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت و طاقت کہاں سے آئے گی۔ اس لیے حکومت کا مقصد بھی اب وقت گزاری سے زیادہ کچھ نہیں ہے، کیونکہ سیاسی نقطہ نظر سے شاید اسی میں حکمران جماعت کے لیے فائدہ ہے۔
دوسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت ریاستی اداروں کے درمیان تناؤ اور کشیدگی ہے، ادارے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف عمل ہیں۔ حکمران جماعت اور عدلیہ کے درمیان نواز شریف کی نااہلی کے بعد سے سخت تناؤ ہے۔ نواز شریف سے لے کر حکومتی وزراء تک سب مسلسل عدلیہ پر انتہائی سخت تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔ آپ پاناما کیس کے فیصلے کے خلاف نواز شریف کی نظر ثانی درخواست پر سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ اور اس کے جواب میں حکمران جماعت کا اعلامیہ دیکھ لیں، آپ کو تناؤ کی شدت کا اندازہ ہوجائے گا۔ ساتھ ہی حکمران جماعت کے اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ بھی تعلقات ٹھیک نہیں ہیں، ایک جانب سے کبھی اشارات اور کنایات میں تو کبھی کھل کر الزامات کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب سے بھی مخصوص انداز میں جواب دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ پھر گزشتہ دنوں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے فوج کے حوالے سے جو غیرمعمولی ریمارکس سامنے آئے ہیں، اس نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ عدلیہ میں بھی اختلاف نظر آرہا ہے، کیونکہ ایک جانب اسلام آباد ہائیکورٹ فیض آباد دھرنے کے حوالے سے فوج کے کردار پر سخت برہم ہے تو دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ فوج کے کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ خلاصہ یہ کہ ادارے اس وقت ایک دوسرے کے خلاف آمنے سامنے کھڑے نظر آرہے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کو ان سنگین مسائل کا سامنا ایسے وقت میں ہے جب عالمی حالات اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں ملک میں سیاسی استحکام، مخلص و مضبوط قیادت اور اداروں کے درمیان اتفاق و اتحاد اور تعاون کا ہونا انتہائی ناگزیر ہے۔ عالمی طاقتوں کے شروع دن سے پاکستان کے بارے میں مذموم مقاصد ہیں اور اب وہ ان مقاصد کی تکمیل کے خواہاں ہیں، عالمی طاقتیں اس کے لیے ملک میں اسی قسم کی صورت حال دیکھنا چاہتی ہیں، بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اپنی ہی غلطیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے ان کی خواہش پوری کر رہے ہیں۔ اگر ملک میں یہی صورت حال جاری رہتی ہے تو عالمی طاقتوں کے لیے ان مقاصد کی تکمیل آسان سے آسان تر ہوتی جائے گی۔
ملک کو فوری طور پر بحرانی کیفیت سے باہر نکالنا انتہائی ضروری ہے اور یہ ایک فرد یا ادارہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں، ریاستی اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آپ کے اختلافات اور ضد و اناکو پس پشت ڈال دیا جائے اور ملکی مفاد کے لیے خلوص کے ساتھ متحد و متفق ہو کر کردار ادا کیا جائے، کیونکہ مسئلہ اس وقت ملک اور ریاست کا ہے، جس کے تحفظ کی ذمہ داری سے کوئی بھی مستثنی نہیں ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں