آج : 13 December , 2017

مولانا شبیراحمد عثمانی رحمہ اللہ کی سیاسی خدمات

مولانا شبیراحمد عثمانی رحمہ اللہ کی سیاسی خدمات

آج ۱۳ دسمبر ہے۔ شاید ہی کسی کو یاد ہو کہ ۱۳ دسمبر ۱۹۴۹ء کو ایک ایسے نابغۂ روزگار عالم کی رحلت ہوئی تھی جو مسلمانانِ ہند کے لیے روشنی کا مینار تھا۔ یہ تھے مولانا شبیراحمد عثمانی رحمہ اللہ جو بانی دارالعلوم دیوبند مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کے قریبی دوست مولانا فضل الرحمن عثمانی کے فرزند تھے۔ ۱۸۸۵ء میں ولادت ہوئی۔ ۱۹۰۸ء میں دارالعلوم سے فارغ التحصیل ہوئے۔ انہیں حضرت نانوتوی کی حکمت کا شارح اور حضرت شیخ الہند کا ترجمان سمجھا جاتا ہے۔
مولانا شبیراحمد عثمانی کی زندگی کا ایک پہلو خالص علمی و تحقیقی ہے۔ انہوں نے اپنے استاذ شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ کی مالٹا جیل میں سورۃ النساء تک لکھی گئی تفسیر کو اس خوبی سے مکمل کیا کہ بڑے بڑے علماء متحیر رہ گئے۔ وہ ایک عظیم محدث اور شارحِ حدیث بھی تھے۔ صحیح مسلم کی عربی شرح فتح الملہم ان کا لازوال کارنامہ ہے، جس کا تحقیقی معیار بہت اعلیٰ ہے۔ وہ ایک نامور مدرس بھی تھے۔ ۱۹۱۰ء سے ۱۹۲۸ء تک انہوں نے دارالعلوم دیوبند میں متوسط کتب سے صحیح مسلم تک کی تدریس کی۔ ۱۹۲۸ء میں جامعہ اسلامیہ ڈھابیل چلے گئے۔ ۱۹۳۵ء میں دارالعلوم دیوبند کے صدر مہتمم قرار دیے گئے اور ۱۹۴۳ء تک اس عہدے پر رہے۔ مولانا شبیراحمد عثمانی کی زندگی کا دوسرا پہلو قیام پاکستان کے حوالے سے ان کی سیاسی جد و جہد کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تحریکِ پاکستان میں شامل علماء میں ان کا کردار سب سے بڑھ کر تھا۔ بلاشبہ تمام مکاتبِ فکر کے علماء و مشایخ کے ایک جمِ غفیر نے پاکستان کی جد و جہد میں حصہ لیا، مگر مسلمانانِ ہند کی جس طرح راہنمائی مولانا شبیراحمد عثمانی نے کی، وہ کوئی اور نہ کرسکا۔
تحریک پاکستان سے مولانا مرحوم کی وابستگی کا اندازہ ان کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے جو ۲۶ دسمبر ۱۹۴۵ء کو دیوبند کے ایک جلسے میں انہوں نے دیا۔ انہوں نے فرمایا:
’’عرصہ دراز کی کاوشوں اور غور و خوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر حصولِ پاکستان کے لیے میرے خون کی ضرورت ہو تو میں اس راہ میں اپنا خون دینا باعثِ افتخار سمجھوں گا۔ اس ملک میں ملتِ اسلامیہ کی بقا اور مسلمانوں کی باعزت زندگی قیامِ پاکستان سے وابستہ ہے۔ میں اپنی زندگی کی کامیابی سمجھوں گا اگر اس مقصد کے حصول میں کام آجاؤں۔‘‘
راقم نے تحریک پاکستان کے متعلق قائدِ اعظم محمدعلی جناح سمیت چوٹی کے مسلم لیگی زعماء کے مقالات پڑھے ہیں، مگر جو قوتِ استدلال مولانا شبیراحمد عثمانی کے کلام میں دکھائی دیتی ہے، اس کی کوئی نظیر نہیں۔ مسلم لیگ کی صفوں میں روایتی علماء و مشایخ تو تھے، مگر پیچیدہ سیاسی مسائل کو عوام کی زبان میں آسان تر کر کے بیا کرنے والے علماء ناپید تھے۔ مولانا شبیراحمد عثمانی نے اس خلاء کو پُر کیا اور کانگریسی لیڈروں کے استدلالات کے تار و پود بکھیر کر قیام پاکستان کے ناگزیر ہونے کو نہایت واضح دلائل کے ساتھ ثابت کیا۔ مولانا کی قوتِ استدلال کے چند نمونے ملاحظہ ہوں:
۲۷ اکتوبر ۱۹۴۵ء کو کلکتہ کے محمدعلی پارک میں جمعیت علمائے اسلام کا تاسیسی اجلاس ہوا جس میں متفقہ طور پر مسلم لیگ کی حمایت کا اعلان کیا گیا۔ مولانا شبیراحمد عثمانی نے اس کانفرنس میں درجِ ذیل تحریری بیان بھیجا جو پڑھ کر سنایا گیا۔ اس میں کہا گیا تھا: ’’ میرے نزدیک سب سے زیادہ قابلِ تنفر بلکہ اشتعال انگیز جھوٹ اور سب سے بڑی اہانت آمیز دیدہ دلیری یہ ہے کہ یہاں کے دس کروڑ فرزندانِ اسلام کی مستقل قومیت کا صاف انکار کردیا جائے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے دنیا میں دو ہی قومیں ہیں، ایک وہ جس نے خالقِ ہستی کی صحیح معرفت حاصل کر کے اس کے قانون کو اس کی زمین میں نافذ کرنے کا التزام کیا ہے۔ وہ مسلم یا مؤمن کہلاتی ہے۔ دوسری وہ جس نے ایسا التزام نہیں کیا۔ اس کا شرعی نام کافر ہوا۔ اس اساسی نقطۂ نظر سے لامحالہ کُل غیر مسلم قومیں دوسری قوم سمجھی جائیں گی اور اب اس چیز کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہتا کہ مسلم اور غیرمسلم دونوں کے امتزاج سے کوئی قومیتِ متحدہ صحیح معنوں میں بن سکے۔
کوئی شبہ نہیں کہ مسلمان ایک مستقل قوم ہیں اور ان کے لیے ایک مستقل مرکز کی ضرورت ہے، جو اکثریت و اقلیت کی مخلوط حکومت میں کسی طرح حاصل نہیں ہوسکتا۔ یہ اللہ کی عجیب قدرت و حکمت کی نشانی ہے کہ باوجودیکہ مسلمان اس ملک میں مجموعی طور پر دوسری اقوام سے کم تعداد میں ہیں مگر اللہ تعالی نے ہماری اس کمی کو ملک کے تمام صوبوں میں مساوی نسبت پر تقسیم نہیں کیا بلکہ بعض صوبوں میں جو جغرافیائی حیثیت سے اہم بھی ہیں، ہم کو دوسروں کے مقابلے میں اکثریت عطا فرمادی۔ یہ گویا قدرت کی طرف سے پاکستان قائم کرلینے کا امکان کی طرف غیبی اشارہ ہے۔
میں سب اچھے اور بُرے پہلوؤں پر غور کر کے اس نتیجے پر پہنچاہوں کہ اس وقت مسلمانوں کو حصولِ پاکستان کی خاطر مسلم لیگ کی تائید و حمایت میں حدودِ شرعیہ کی رعایت کے ساتھ حصہ لینا چاہیے۔ اگر اس وقت مسلم لیگ ناکام ہوگئی تو پھر شاید مدتِ دراز تک مسلمانوں کو اس ملک میں پنپنے کا موقع نہیں ملے گا۔ بلاشبہ مسلم لیگ اور اس کے قائد میں انسانی کمزوریاں ہیں اور ان کے بہت سی باتیں ہمارے علماء کے نزدیک قابلِ اعتراض بھی ہیں۔ مگر مجھے یقین ہے کہ مسٹر جناح آج کل کی سیاست کے داؤپیچ سے مسلمانوں میں سب سے زیادہ واقف ہے، پھر وہ کسی قیمت پر خریدا جاسکتا ہے نہ کسی دباؤ کے سامنے سرجھکا سکتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ مسلم لیگ انگریز کی حکومت سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہونا چاہتی اور نہ ہی آزادی دلانا چاہتی ہے، جبکہ کانگریس کا ہدف آزادئ کامل ہے اور اس کے لیے وہ بڑی بڑی قربانیاں کرتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ انسان تو انسان، حیوانات کو بھی آزادی محبوب ہے، ایک طوطا جو قفس میں سالہا سال بند رہے، جب قفس کا دروازہ کھولیے، قید سے نکل کر اُڑ جانے کا خواہش مند ہوگا۔ لیکن اگر وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو کہ پنجرے کے گرد بِلّی گشت لگا رہی ہے تو قفس کا دروازہ کھلنے پر بھی بجائے باہر نکلنے کے، اُلٹا قفس کی تیلیوں کو چمٹنے لگے گا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ نکلنے کی صورت میں اصل زندگی ہی کا خاتمہ ہے۔ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان آزادی کے طلب گار نہ ہوں؟ چنانچہ کانگریس کی طرح مسلم لیگ بھی آزادی کامل کا نصب العین رکھتی ہے، لیکن مسلمان یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ہندو کانگریسیوں کا مقصد ہی کچھ اور ہے۔ ان کی اکثریت میں ہم مدغم ہوکر آزادی کامل تو کیا حاصل کرتے، اپنی قومی ہستی ہی کو فنا کر بیٹھیں گے۔ جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں، وہ آخر قربانیاں کا ہے کے لیے کریں؟ قربانی کوئی مقصد تو نہیں، ذریعہ اور وسیلہ ہے۔ اگر حصولِ مقصد کی توقع اس سے نہ ہو، بلکہ خلافِ مقصد کو تقویت پہنچنے کا اندیشہ ہو تو قربانی کس کام کی؟‘‘
مولانا شبیراحمد عثمانی نے اخبارات میں بھی لیگ کی حمایت میں بڑے مدلل بیانات دیے۔ ایک بیان میں فرمایا: ’’تمام امور سے قطع نظر کر کے اگر لیگ کے وجود سے اتنا کام ہوگیا کہ مسلم قوم کی مستقل ہستی اور اس کی غیرمخلوط صاف آواز، ہر انگریز اور ہندو کے نزدیک تسلیم کرلی گئی اور تھوڑی سی مدت میں، بہت زیادہ نقصان اٹھائے بغیر، دنیا نے ہندوستان کے اندر ایک تیسری طاقت کے وجود کا اعتراف کرلیا، بلہ لیگ اور کانگریس کو صلح یا جنگ کے ہر معاملے میں ایک صف میں دوش بدوش کھڑا کیا جانے لگا تو کیا یہ فائدہ شرعی اور سیاسی نقطۂ نظر سے کچھ کم ہے؟
ایک اور بیان میں فرمایا:
’’اشد ضروری ہے کہ یہاں اس قوم مسلم کا کوئی آزاد اور مستقل مرکز ہو۔ ایسے مرکز کا قیام دنیا کی موجودہ سیاست میں صرف انہی صوبوں میں ممکن ہے جہاں اکثریت مسلمانوں کی ہو، اس مرکز کا نام اصطلاحی طور پر پاکستان ہو یا کچھ اور۔ سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ آزاد اور طاقت ور مرکز سے کسی دوسری قوم کے ساتھ صلح یا جنگ کی جو کچھ تجویز ہوگی، وہ طاقت ور اور مؤثر ہوگی۔ پورا ملکِ ہند جو فوائد وفاقی حکومت سے حاصل کرتا ہے، وہ پاکستان اور ہندوستان کے نہایت مستحکم معاہداتی سسٹم سے حاصل کرسکے گا۔ آنے والا الیکشن مسلم لیگ اس اصول پر لڑنا چاہتی ہے اور دوسری جماعتیں اس کے توڑ پر ہیں۔ اس لیے اگر ووٹ دینے والے میرا مشورہ چاہیں گے تو میرے نزدیک مسلم لیگ کی جانب کو ترجیح ہے۔ لہذا شخصیات سے بے پروا ہو کر اس کے نامزد کردہ امیدوار کو ووٹ دینا چاہیے۔
بے شک لیگ اور اس کے قائدین نے غلطیاں کی ہیں، اس کا سبب جہاں ان لوگوں کی احکام شرعیہ سے بے خبری یا لاپروائی ہے، وہیں ہمارے علماء و مصلحین کی ان سے کنارہ کشی اور نبردآزمائی بھی ہے۔ اگر قابل ترین علماء اپنے مذہبی اثرات کے ساتھ لیگ کے نظام میں شریک رہتے تو قابلِ اعتراض چیزیں ختم یا بہت کم ہوجاتیں۔ کیا کانگریس کے دائرے میں جہاں ہندو عناصر کے کھلے ہوئے غلبے سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، مٹھی بھر مسلمان داخل ہوکر تو یہ امید کرسکتے ہیں کہ مسلمانوں کے معاملات میں ان سب کو راہِ راست پر لے آئیں گے، لیکن مسلم لیگ کے متعلق جو خالص مسلمانوں کی جماعت ہے، کیا اس امید کے دروازے بند ہوچکے ہیں؟ یہ چیز کم از کم میرے سمجھ سے باہر ہے۔ مسلم لیگ کلمہ گو مسلمانوں کی جماعت ہے۔ اس میں ہزار عیب سہی، تا ہم غیرمسلم قوموں کی نسبت تو وہ ہم سے قریب تر اور مفیدتر ہے۔ اگر مسلم لیگ ناکام ہوگئی تو قومی اندیشہ ہے کہ ایک سچا اصول ہی شاید ہمیشہ کے لیے دفن ہوجائے اور مسلمانوں کے قومی و سیاسی استقلال کی آواز فضائے ہندوستان میں پھر کبھی سنائی نہ دے۔‘‘
اس زمانے میں برصغیر کے کونے کونے سے مولانا شبیراحمد عثمانی کے نام خطوط آرہے تھے، بعض میں اپنی حیرانی و پریشانی کا ذکر کرکے درست سیاسی لائحہ عمل ہوچھا جارہا تھا اور بعض میں تحریک پاکستان پر اعتراضات اور کانگریس کی وکالت ہوتی تھی۔ مولانا مرحوم نے ان خطوط کے جو جوابات دیے وہ بھی فکر و نظر کی گرہیں کھول دیتے ہیں۔ ایک صاحب مسٹر جناح کی قیادت پر اعتراض کرتے ہوئے لکھا: ’’مسلمانوں کا لیڈر وہ شخص بن سکتا ہے جو اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ اور اتباعِ شریعت میں کوسوں پیچھے ہو یا وہ شخص جو متبع شریعت اور اسلامی روایات اور اصول کا پابند اور آشنا ہو؟‘‘
مولانا شبیراحمد عثمانی نے جواب میں لکھا: ’’خالص مذہبی حیثیت سے مولانا سے مسٹر جناح کا مقابلہ نہیں کیا جارہا۔ اصل چیز یہ ہے کہ آج کل دنیا کی سیاست اسلامی سیاست نہیں، بلکہ یہ سیاست بہت ہی گہرے اور باریک اصول مکر و کید پر مبنی ہے۔ اس کا توڑ وہ کرسکتا ہے جو پہلے ان آئینی چالوں کو سمجھ لے۔ اس اعتبار سے بکثرت مسلمانوں نے مسٹرجناح کو آگے رکھا ہے کہ وہ انگریز اور اس کے شاگرد ہندوؤں کی چالوں اور ان کے داؤپیچ کو بخوبی سمجھتا ہے اور ان کا مکر و کید انہی کی طرف لوٹا دیتا ہے۔‘‘
ایک جید عالم نے اپنے مکتوب میں مسلم لیگ میں گمراہ فرقوں، کمیونسٹوں اور قادیانیوں کی موجودگی کی طرف توجہ دلا کر پوچھا تھا کہ ایسی حالت میں اس میں شرکت کس طرح جائز ہوگی؟
مولانا شبیراحمد عثمانی نے جواب میں لکھا: ’’لیگ کو کوئی مذہبی فتویٰ نہیں دینا کہ کون لوگ فی الواقع مسلمان ہیں، کون نہیں۔ ان کے دستور میں صرف یہی ہے کہ جو اپنے آپ کو مسلمان کہے، وہ اس کا ممبر ہوسکتا ہے۔ میں ان کے عمل کی تصویب نہیں کررہا ہوں، مقصد صرف یہ ہے کہ غلط اور صحیح سے قطع نظر کر کے ایسے لوگوں کو بھی لیگ میں شریک کرلیا گیا۔ لاکھوں مسلمانوں کی شرکت سے اب وہ ہماری شرکت کے بغیر ایک مضبوط جماعت بن گئی ہے۔ ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو اس میں شامل کرنا سخت غلطی اور ایک ناجائز چیز کا ارتکاب ہے، لیکن اصلی بحث یہ ہے کہ ایسی جماعت جس میں غالب اکثریت اہلِ سنت و الجماعت کی ہے، بہت مغلوب تعداد دیگر فرقوں کی اور ناقابل التفات کمیونسٹوں یا قادیانیوں کی ہے، اور دس کروڑ مسلمانوں کے لیے اس کا دروازہ ہر وقت کھلا ہوا ہے اور اس کے تمام کام کثرتِ رائے کے اصول پر انجام پاتے ہیں، کسی کو اختیارات بھی سپرد کیے جاتے ہیں تو صرف کثرت رائے سے، ایسی جماعت کے ساتھ مل کر کھلم کھلا کفار خواہ انگریز ہوں یا ہندو، سے مسلمانوں کے قومی استقلال و آزادی کی جنگ کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟ امام محمد بن حسن الشیبانی نے تصریح کردی ہے کہ اہل حق مسلمان خوارج کے ساتھ ہو کر مشرکین سے لڑیں تو اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ یہ جنگ فتنہ کفر سے دفاع اور اظہارِ اسلام کے لیے ہوگی۔

مسلم لیگ کی ایسی غلطیوں کا علاج یہی تھا کہ ذی اثر علماء کی جماعت جمہور کی طاقت کو لے کر اور کثیر تعداد میں اہلِ حق کو لیگ کا ممبر بنا کر اس کے دستور اساسی کے موافق اکثریت کے زور سے ایسے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کرتی۔ جو کوشش ایسے حضرات کانگریس میں رہ کر کرنا چاہتے ہیں، وہ لیگ میں بروئے کار لاتے۔ کانگریس میں ہر قسم کے لوگ، بے شمار ہندو، عیسائی، سکھ، مرتد، دہریے اور اگر چاہیں تو قادیانی اور مشرقی بھی شریک ہوسکتے ہیں، یعنی کسی کے لیے ممانعت نہیں۔ کیا محض سیاست کے حیلے سے ایسی جماعت کی شرکت جناب کے خیال میں درست ہے۔ کیا ادھر بھی جناب توجہ فرمائیں گے۔؟‘‘
تحریکِ پاکستان کے مخالف ایک لیڈر نے مولانا کو مسلم لیگ کو چھوڑ کر اپنی جماعت میں آنے کی دعوت دی اور کہا کہ ہم حکومت الہیہ قائم کریں گے۔ مولانا شبیراحمد عثمانی نے جواب میں پوچھا:
’’یہ حکومت الہیہ ہم سرِ دست ہندوستان میں کس جگہ قائم کریں گے؟ کیا ہندو مسلم مخلوط حکومت میں جہاں ایک اور تین چوتھائی کی نسبت ہوگی؟ ظاہر ہے کہ یہ صورت حکومتِ الہیہ کی نہیں ہوسکتی، اس لیے ضرورت ہے کہ پہلے کوئی وسیع خطہ ہم ایسا حاصل کرلیں جہاں حکومت الہیہ قائم کرسکیں۔ اب اگر پاکستان کا فیصلہ ہوجائے تو وہ ایک ایسی جگہ ہوگی جہاں قانون سازی کی طاقت مسلم اکثریت کے پاس رہے گی۔ لیگ کے موجودہ قائدین بھی باربار اعلان کررہے ہیں کہ پاکستان میں حکومت قرآنی اصول کے مطابق شریعت مطہرہ کی قائم ہوگی۔ اگر یہ لوگ منحرف ہوجائیں تو آپ تمام مسلمانوں کی طاقت ساتھ لے کر ان کو حکومت الہیہ قائم کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ پھر آئندہ اللہ چاہے تو اس کو اور آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ بہرحال حکومت الہیہ کے لیے پاکستان ہی زمین تیار کرے گا۔‘‘
بہار کے ایک صاحب نے لکھا: ’’پاکستان کی صورت میں مسلمانوں کے کئی نقصانات ہیں۔ ہندو رام راج کے منصوبے گانٹھے ہوئے ہیں، پاکستان کی صورت میں وہ بہار، مدارس و غیرہ کے مسلمانوں کی مذہبی آزادی سلب کرلیں گے، پانچ کروڑ مسلمانوں کے مفاد کے لیے اس طرح تین کروڑ مسلمانوں کو کفار کے حوالے کرنا شرعاً جائز نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ پاکستان یقیناًبرطانیہ کے زیرِ سایہ ہوگا، کافر کی سرپرستی میں قرآن حکومت کا قیام سمجھ میں نہیں آتا۔ معدنی اشیاء زیادہ تر ہندوستانی خطوں میں ہیں، یہ علاقے زراعت و صنعت میں ممتاز ہیں، لہذا پاکستانی مسلمان اقتصادی اعتبار سے دن بدن کمزور ہوتے جائیں گے۔ پاکستان بننے میں سب سے بڑی خرابی یہ ہوگی کہ انگریزوں کا قدم ہمیشہ کے لیے ہندوستان میں جم جائے گا۔‘‘
مولانا شبیراحمد عثمانی رحمہ اللہ نے جوابی مکتوب میں سوال اٹھایا:
’’اکھنڈ ہندوستان میں ملک کو چوتھائی مسلم اقلیت کا تحفظ کس طرح ہوتا ہے اور کس طرح آئندہ ہوگا؟ اقلیت بہرحال اقلیت ہے، مرکزی حکومت ایک ہو یا دو، ملکی حکومت ہو یا اجنبی، اقلیت کو اکثریت کے برابر کردینا تو کسی کی قدرت میں نہیں۔ اب اگر دس کروڑ میں سے سات کروڑ مسلمان رام راج کی تیاری کرنے والے ہندوؤں کی گرفت سے آزاد اور محفوظ ہوجائیں تو کیا یہ کوئی فائدے کی چیز نہیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے جب مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو مکہ کی عبادت گاہوں کو ساتھ اٹھا کر نہیں لے گئے تھے اور بے کس و بے بس مستضعفین کو بھی وہیں چھوڑنا پڑا۔ یہ مسئلہ تو فقہاء کے نزدیک مسلّم ہے کہ اگر دارالحرب میں کفار اَرکانِ دین کے ادا کرنے سے روکیں اور ہجرت کے سوا کوئی چارہ نہ رہے تو ایسے ملک سے ہجرت واجب ہے۔ فرض کیجیے ایسی صورت آج کسی ملک میں پیش آجائے تو ہجرت کرنے والے مسلمان کیا اپنی عبادت گاہیں اٹھا کر ساتھ لیے جائیں گے؟ کیا یہی کہ ان سب کو اللہ کے سپرد کر کے چلے جائیں یا کچھ اور؟
پھر یہاں نہ تو سرِ دست ہجرت کا سوال ہے نہ کئی کروڑ مسلمانوں کا عدد ایسا ہے کہ بالکل بے دست و پا ہوکر بیٹھ رہے، خصوصا اس حال میں جبکہ ان کے پڑوس میں مسلمانوں کا طاقت ور ملک پاکستان بھی موجود ہو اور پاکستان دوسرے آزاد اسلامی ممالک سے متصل بھی ہو۔ خدا جانے لوگ ہندو قوم سے اس قدر خائف کیوں ہیں کہ کسی نے ان کی اکثریت کی غلامی سے نکلنے کا نام لیا اور وہ سمجھے کہ بس ہمارا خاتمہ ہوا۔ کم از کم ایک مرتبہ پاکستانی نظریے کا تجربہ کر کے تو دیکھ لیں۔ اگر ناکام رہے تو بھی یہ موقع تو ہر وقت حاصل ہے کہ پھر اپنے آپ کو ہندو اکثریت کی غلامی کے سپردکردیں۔
رہی پاکستان کی مادی و اقتصادی وسائل کی بحث، تو بعض مسلمان ماہرین نے لکھا ہے کہ اس وقت جو رقم پاکستان اپنے مصارف کے لیے مرکزی حکومت سے وصول کرتا ہے، ان سے کہیں زیادہ وہ مرکزی خزانے میں داخل کرتا ہے۔ جب پاکستان علیحدہ ہوگا تو دولت کی جو نہراب گنگا و جمنا کے میدانوں کو سیراب کرتی ہے، پاکستان کے میدانوں کو گلزار بنانے میں صرف ہوگی۔ سندھ اور بلوچستان کے صوبہ جات میں تیل کے چشمے برآمد ہوئے ہیں، اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہاں سے اتنا تیل دستیاب ہوگا جو کل ہندوستان اور پاکستان کے لیے کافی ہوگا۔ علاوہ ازین پاکستان کی زمین ہندوستان سے زیادہ زرخیز ہے۔ اس میں ہر قسم کی پیداوار ہوسکتی ہے۔ دریا برفانی پہاڑوں سے نکلتے ہیں جو راستے میں جابجا آبشاریں بناتے ہیں جن سے بجلی کی بے پناہ قوت حاصل کی جاسکتی ہے۔
اچھا! ان سب باتوں کو رہنے دیجیے۔ کیا کوئی قوم اپنی موجودہ اقتصادی وسائل کی قلت کی بناء پر غلامی کی ذلت کو آزادی کی زندگی پر ترجیح دے گی؟ آپ سرحدی قبائل کا حال نہیں دیکھتے! وہ اتنی بڑی قاہر سلطنت کے مقابلے میں اپنی انتہائی بے سر و سامانی کے باوجود اپنی آزادی کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ اگر آپ کی سب حجتیں صحیح مان لی جائیں تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہندوستان کے مسلمان کو کبھی اور کسی جگہ ایسا ارادہ یا نیت یہ نہیں کرنی چاہیے کہ وہ ہندو اکثریت کے زیرِ نگیں رہنے اور ان سے حقوق و تحفظات کی بھیک مانگنے سے انکار کرے۔
یہ خوب کہی کہ پاکستان بننے کی صورت میں انگریز کی دائمی غلامی سب پر مسلط رہے گی۔ کیا آپ نے نہیں پڑھا کہ قائدینِ لیگ بار بار مطالبہ کررہے ہیں کہ آج کانگریس مسلمانوں کا یہ منصفانہ اور صحیح مطالبہ تسلیم کر لے تو کل صبح کا آفتاب طلوع ہونے سے پہلے دونوں قومیں کامل تعاون اور وحدتِ عمل کے ساتھ آزادی کی جنگ دوش بدوش ہوکر لڑیں گی بلکہ مسلمان اس میں پیش پیش رہیں گے۔ اب اگر ہندو کا دلی منشأ ہی نہ ہو کہ ملک کو اجنبی غلامی سے آزاد کرائے بلکہ یہی مقصد ہو کہ مسلمانوں کو دائمی طور پر اپنی اکثریت کا محکوم رکھے تو وہی آزادی کی راہ میں سنگِ راہ بنے گا اور مسلمان آزادی حاصل کرنے کے لیے کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔

مطالبہ پاکستان کا انکار کرکے ہندو خود انگریز کو یہ موقع دے رہا ہے کہ وہ ہم کو باہم ٹکراتا اور لڑاتا رہے۔ دونوں قوموں کی بیک وقت آزادی تسلیم کرلینے سے تو آپس کے سب جھگڑے مٹ جائیں گے۔ اگر حکومت ہندوستانیوں کو اُلو بناتی ہے تو وہ خود اُلو کیوں بنتے ہیں۔ ان پر لازم ہے کہ بے جا تعصبات اور تنگ نظریوں سے بالاتر ہوکر فراخ دلی کے ساتھ معاملہ کرنا سیکھیں۔
یہ کہنا بھی حیرت انگیز ہے کہ پاکستان کی حکومت ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں آئے گی جو دین و مذہب سے دور کا واسطہ بھی نہیں رکھتے ہوں گے۔ میں کہتا ہوں کہ آپ لوگ پاکستانی حکومت کو ایسے ہاتھوں میں جانے ہی کیوں دیتے ہیں، یہ قصور تو آپ کا ہے۔ آج اگر تمام علماء و زعماء مل کر لیگ میں آجائیں اور لاکھوں صحیح الخیال اور صحیح العقیدہ مسلمانوں کو اس کا ممبر بنائیں، پھر اکثریت آپ کی ہوگی، آپ ہر طرح کی اصلاح جمہور کی طاقت کو ساتھ لے کر کرسکیں گے۔ ناقابلِ اصلاح ہونے کی صورت میں فاسد عناصر کو باہر نکال سکیں گے۔ ان مشکلات کا واحد حل یہی ہے۔ کیا ہندو اکثریت سے آپ امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ ہمارے دین و مذہب کے تحفظ کی ضامن ہوگی؟ اگر کلمہ پڑھنے والوں سے آپ اپنی مذہبی بات نہیں منوا سکتے تو کھلے ہوئے کافروں سے کس طرح تسلیم کرائیں گے؟‘‘
بعض حضرات یہ کہہ رہے تھے کہ پاکستان میں اگر خلافت راشدہ کا نظام نافذ ہونے کا یقین ہوتا تو ہم اس کے ساتھ ہوجاتے، مگر چونکہ ایسا نہیں ہوگا، اس لیے پاکستان کا بھلا کیا فائدہ ؟ اس قسم کے اعتراضات کے جواب میں مولانا شبیراحمد عثمانی نے اپنے اخباری بیان میں فرمایا:
’’پاکستان ایک اصطلاحی نام ہے۔ یہ نام سن کر کسی کو بھی یہ غلط فہمی یا خوش فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ اس خطے میں فوراً بلاتاخیر خلافت راشدہ یا خالص قرآنی اور اسلامی حکومت قائم ہوجائے گی۔ ضرورت سے زیادہ امیدیں دلانا یا توقعات باندھنا کسی عاقبت اندیش، حقیقت پسند کے لیے زیبا نہیں۔ ہاں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان ایک ایسا ابتدائی قدم ہے جو انجام کار قرآنی اصول کے مطابق احکم الحاکمین کی حکومت عادلہ قائم ہونے پر کسی وقت منتہی ہوسکتا ہے۔‘‘ (منشور دہلی، ۱۲ نومبر ۱۹۴۵ء)
مولانا مرحوم کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ انہوں نے قیام پاکستان کے حق میں اکابر علماء سے بھی گفت و شنید کی اور اپنی قوت استدلال سے اس موقف کو صحیح ثابت کر دکھایا۔ جمعیت علمائے ہند کا اعلیٰ سطحی وفد ۷ دسمبر ۱۹۴۵ء کو تحریک پاکستان کے بارے میں مذاکرات کے لیے ان کی قیام گاہ پر آیا۔ مذاکرات سوا تین گھنٹے تک جاری ہے۔ مولانا شبیراحمد عثمانی رحمہ اللہ تنہا تھے جبکہ دوسرے طرف مولانا حسین احمد مدنی، مفتی کفایت اللہ دہلوی، مولانا احمد سعید دہلوی، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی اور مفتی عتیق الرحمن عثمانی تھے۔ مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی وفد کے سربراہ اور ترجمان تھے۔ زیادہ تر گفتگو انہوں نے کی۔ انہوں نے مطالبہ پاکستان کے نقصانات پر تفصیلی تقریر کی۔ ساتھ ہی یہ بتایا کہ جمعیت علمائے ہند نے مطالبہ پاکستان سے بہتر حل تجویز کیا ہے یعنی مرکزی اسمبلی میں ہندو ۴۰ فی صد، مسلمان ۴۰ فیصد، دیگر اقلیتیں ۲۰ فیصد ہوں گی۔ اس طرح مسلمانوں کے مفادات ہمیشہ کے لیے محفوظ رہیں گے۔ جب مولانا سیوہاروی اپنے دلائل ختم کرچکے تو مولانا شبیراحمد عثمانی رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’میں تین چیزیں دریافت کرنا چاہتا ہوں: پہلی یہ کہ جو فارمولا جمعیت علمائے ہند نے پاکستان کا نعم البدل ظاہر کر کے ملک کے سامنے پیش کیا ہے اور جس کا حوالہ مولانا حفظ الرحمن صاحب نے دیا ہے، اس فارمولے کو آپ حضرات نے کم از کم کانگریس سے منوا لیا ہے یا نہیں؟‘‘
مولانا حفظ الرحمن صاحب نے جواب دیا: ’’ہمارا یہ اصول نہیں کہ ہم جنگِ آزادی میں شامل ہونے کی شرط کے طور پر ہندوؤں سے کوئی شرط منوائیں۔‘‘
(یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ یہ فارمولا جسے ’’مدنی فارمولا‘‘ کہا جاتا تھا کانگریس نے کبھی قابلِ توجہ نہیں سمجھا۔ آخر میں گاندھی جی نے مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کو اپنے پاس بلوا کر نہ صرف فارمولا مسترد کردیا بلکہ طنزیہ طور یہ کہا: ’’اس سے تو پاکستان بہتر ہے۔ آپ لوگ لیگ میں شامل ہوجائیں تو اچھا ہے۔‘‘ بحوالہ: بوئے گل، نالہ دل، دودِ چراغ محفل۔ از شورش کاشمیری: ص ۳۱۵)
مولانا شبیراحمد عثمانی رحمہ اللہ نے پوچھا: ’’دوسری بات یہ معلوم کرنی ہے کہ آپ اس وقت جو گفتگو کر رہے ہیں، وہ یہ فرض کرتے ہوئے ہے کہ انگریز حکومت ہندوستان سے چلی گئی ہے، یا یہ مان کر ہے کہ وہ ابھی جا نہیں رہی، جو کچھ لینا ہے، اسی سے لینا ہے۔‘‘
مولانا حفظ الرحمن صاحب نے فرمایا: ’’یہ تو ماننا ہی پڑے گا کہ انگریزی حکومت ابھی ہندوستان میں موجود ہے، اس کی موجودگی تسلیم کرتے ہوئے جو کچھ لینا ہے، اسی سے لینا ہے۔‘‘
مولانا شبیراحمد عثمانی رحمہ اللہ نے پوچھا: ’’تیسری دریافت طلب بات یہ ہے کہ آپ حضرات جو انقلاب چاہتے ہیں، وہ فوجی انقلاب ہے یا آئینی؟‘‘
جواب دیا گیا: ’’فوجی انقلاب کا تو اس وقت کوئی موقع ہی نہیں، نہ فی الحال اس کا امکان ہے، نہ اس کے وسائل مہیا ہیں۔ اس وقت تو آئینی انقلاب ہی زیرِ بحث ہے۔‘‘
مولانا شبیراحمد عثمانی رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’بحث کا رُخ متعین ہوگیا۔ اب کلام اس پر رہے گا کہ سرِ دست انگریزی حکومت کی موجودگی کے باوجود آئینی انقلاب میں کون سا راستہ مسلمانوں کے لیے مفید ہے؟‘‘
مولانا حفظ الرحمن صاحب نے فرمایا: ’’پاکستان قائم ہونے میں سراسر مسلمانوں کا نقصان اور ہندوؤں کا فائدہ ہے۔‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے قیام پاکستان کے نقصانات کے بارے میں کچھ نکات ذکر کیے۔ مولانا شبیراحمد عثمانی نے ایک ایک نکتے کا تسلی بخش جواب دیا اور پھر فرمایا:
’’آپ کا دعویٰ ہے کہ پاکستان قائم ہونے میں سراسر مسلمانوں کا نقصان اور ہندوؤں کا فائدہ ہے۔ اگر اسے صحیح تسلیم کرلیا جائے تو کیا آپ بتلا سکتے ہیں کہ ہندو پاکستان سے پھر کیوں اس حد تک مضطرب، خائف اور اس کی انتہائی مخالفت پر تلا ہوا ہے؟ کیا آپ باور کر سکتے ہیں کہ ہندو پاکستان کی مخالفت محض اس لیے کر رہا ہے کہ اس میں مسلمانوں کا نقصان ہے اور وہ کسی بھی طرح مسلمانوں کا نقصان دیکھنے کے لیے تیار نہیں؟ ان کا تو یہ اعلان ہے کہ جو جماعت یا جو شخص بھی پاکستان اور مسلم لیگ کے خلاف کھڑا ہوگا، کانگریس اس کی ہر طرح امداد کرے گی اور ان کا قول ہے کہ پاکستان ہماری لاشوں پر ہی بن سکتا ہے۔ آخر یہ پُر زور اور انتہائی مخالفت کیوں ہے؟‘‘
مولانا حفظ الرحمن صاحب نے کہا: ’’ان کی کوئی مصلحت ہوگی۔‘‘
مولانا عثمانی نے فرمایا: ’’ان کی جو بھی مصلحت ہو، آخر آپ حضرات نے بھی کچھ غور کیا کہ وہ مصلحت کیا ہوسکتی ہے؟‘‘
کوئی شافی جواب نہ ملا تو علامہ عثمانی نے فرمایا: ’’میرے نزدیک تو اس مخالفت کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ انگریز کی حکومت تو سرِ دست قائم ہے جسے آپ خود شروع میں تسلیم کرچکے ہیں۔ ہندو یہ چاہتا ہے کہ انگریزی حکومت کے زیرِ سایہ دس کروڑ مسلمانوں میں سے ایک شخص کی گردن پر سے بھی ہندو اکثریت کا طوق کبھی اور کہیں بھی نہ اُترنے پائے اور اس طرح مسلمان ہمیشہ انگریز اور ہندو کی ڈبل غلامی میں پستے رہیں۔‘‘
مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’اچھا اگر پاکستان قائم ہوگیا تو ہندوستان کا دفاع کیسے ہوگا؟ روس نے اگر حملہ کیا تو سرحد کے مسلمان پس جائیں گے، سارا بوجھ ان پر آپڑے گا۔‘‘
مولانا شبیراحمد عثمانی نے فرمایا: ’’بیرونی قوت چڑھائی کرے گی تو دونوں ملک مل کر اس کی مدافعت کریں گے، کیونکہ یہ مشترکہ مفاد ہوگیا، ایسا نہیں کریں گے تو سب کا نقصان ہوگا۔ آپ دیکھیں کہ معاہدے ہی کی طاقت تھی کہ روس اور برطانیہ نے مل کر جرمنی اور جاپان کو کس طرح پیش ڈالا، کیونکہ غرض مشترک تھی۔ پاکستان اور ہندوستان کا مفاد جب مشترک ہوگا تو دونوں بذریعہ معاہدات، عملی اتحاد کیوں نہیں کرسکتے۔‘‘
یہ تمام گفتگو نہایت خوش گوار فضا میں ہوئی، کسی موقع پر کوئی تلخی پیدا نہیں ہوئی۔
(مکالمۃ الصدرین، از مولانا قاری طاہر قاسمی رحمہ اللہ)
مولانا شبیراحمد عثمانی رحمہ اللہ اور ان کے رفقاء کی کوششوں نے تحریک پاکستان کے بارے میں شکوک و شبہات کا جال کاٹ ڈالے۔ جمعیت علمائے ہند میں بھی قیام پاکستان کے حوالے سے مثبت تبدیلی نظر آنے لگی۔ سلہٹ کے ریفرنڈم میں مسلم لیگ اور جمعیت علمائے ہند کے پرچم ایک ساتھ آویزاں تھے اور لوگ ’’جمعیت علمائے ہند اور مسلم لیگ بھائی بھائی‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ (تذکرۃ الظفر، ص: ۳۸۷ از مولانا عبدالشکور ترمذی رحمہ اللہ)
آخر تحریک پاکستان کامیابی سے ہم کنار ہوئی۔ قائد اعظم محمدعلی جناح نے مولانا شبیراحمد عثمانی کی خدمات کے اعتراف میں ملک کے دارالحکومت کراچی میں پہلی پرچم کشائی انہی کے مبارک ہاتھوں سے کرائی۔ انہیں مجلسِ دستور ساز میں رُکنیت بھی دی گئی۔ ۱۱ ستمبر ۱۹۴۸ء کو قائد اعظم کی وفات ہوئی تو ان کی وصیت کے مطابق مولانا شبیراحمد عثمانی نے نماز جنازہ پڑھائی۔
بانی پاکستان کی ناگہانی وفات کے بعد حکومت میں شامل سیکولر لابی پاکستان کے آئین کو اسلام کے مطابق تشکیل کا وہ وعدہ پورا ہونے میں رکاوٹ ڈالنے لگی جو قائد اعظم کر گئے تھے۔ مولانا شبیراحمد عثمانی اور ان کے رفقاء نے سر توڑ کوشش کرکے اس سازش کا راستہ روکا۔ یہ کوششیں رائگاں نہ گئیں اور ۱۲ مارچ ۱۹۴۹ء کو مجلس دستور ساز نے قرار دادِ مقاصد منظور کرلی۔ مولانا شبیراحمد عثمانی نے اس کے فوراً بعد اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے اسلامی دستور کا خاکہ مرتب کرنے کی کوشش شروع کردی جس میں مفتی محمد شفیع اور مولانا ظفراحمد انصاری جیسے علماء ان کے معاون تھے۔ یہ کام جاری تھا کہ ۱۳ دسمبر ۱۹۴۹ء کو مولانا شبیراحمد عثمانی مختصر علالت کے بعد وفات پاگئے۔
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ مولانا شبیراحمد عثمانی نے پاکستان کے ایوانِ اقتدار کا ماحول دیکھنے کے بعد سمجھ گئے تھے کہ مسلم لیگ کے قائدین دھوکا باز تھے اور مولانا نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ پاکستان بنا کر ہم نے غلطی کی۔
یہ محض ایک افواہ اور سنی سنائی بات ہے۔ اس کے برخلاف تاریخی ریکارڈ میں ایسے متعدد پختہ ثبوت موجود ہیں جن سے مولانا کا صحیح موقف سامنے آتا ہے۔ مولانا نے اپنی حیات کے آخری سال میں ۴ فروری ۱۹۴۹ء کو روزنامہ زمین دار میں اپنا یہ بیان شایع کرایا: ’’پورے غور و فکر کے بعد میرا مطمحِ نظر یہ ہے کہ بانئ پاکستان اور دوسرے زعمائے لیگ کے دماغوں میں تاسیس پاکستان کے دو اہم مقصد تھے۔ ایک اس عظیم اور تباہ کن خطرے کا انسداد جو اس ملک میں غیرمسلم اکثریت کی طرف سے دس کروڑ مسلمانوں کو اکھنڈ ہندوستان میں رہنے کی صورت میں ہوسکتا تھا۔ دوسرا یہ عزم کہ آزادی و خودمختاری حاصل ہونے کی صورت میں پاکستان میں اسلامی مثالی مملکت قائم کی جائے۔ اب جبکہ عوام اپنا فرض ادا کرچکے، وقت آگیا ہے کہ اربابِ اقتدار اور ارکانِ اسمبلی اپنا فرض ادا کریں۔‘‘
۹ فروری ۱۹۴۹ء کو ڈھاکہ میں جمعیت علمائے اسلام کی دو روزہ کانفرنس ایسے وقت میں شروع ہوئی تھی جب دو سوالات بڑی شدت سے اٹھ رہے تھے۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کے اتنے بڑے قتل عام، ہجرت اور تباہی و بربادی نے کیا یہ ثابت نہیں کردیا کہ تحریکِ پاکستان کے قائدین فکر و دانش سے عاری تھے۔ دوسرے یہ کیا کہ حکومت کی طرف سے اسلامی نظام کی تشکیل میں لیت و لعل، کیا یہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں کہ پاکستان کا قیام بنیادی طور پر غلط ہے۔
مولانا شبیراحمد عثمانی نے اپنی تقریر میں ان تمام شبہات پر بے لاگ تبصرہ کیا۔ انہوں نے فرمایا: ’’تقسیم ہند کے وقت مسلمانوں پر قیامت خیز مصائب کا سبب پاکستان نہیں بلکہ پاکستان نے تو اس کی تباہ کاری کو محدود کردیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ بہار، مشرقی پنجاب، کئی ہندو ریاستوں اور دہلی و غیرہ میں مسلمانوں پر جو قیامت ٹوٹی اور جو روح فرسا اور جگردوز حوادث گزرے، کیا یہ سب تحریکِ پاکستان کے نتائج نہیں۔ یہ بڑا جرم اور قصورِ نظر ہوگا، اگر ہماری نگاہِ بصیرت اس نقطہ پر آکر رُک جائے۔ ذرا آگے بڑھ کر آپ یہ بھی تو دیکھئے کہ خود تحریک پاکستان کس چیز کا نتیجہ ہے؟
یہ تحریک کوئی ابتدائی اور جارحانہ اقدام کی حیثیت سے شروع نہیں ہوئی تھی، بلکہ یہ نتیجہ تھا اس انتہائی ضد اور اصرار کا جو انڈیا کا چارج لینے والی قوم کی طرف سے دس کروڑ مسلمانوں کو ابدی غلام بنائے رکھنے کے لیے بڑی وحشیانہ ناانصافی اور سفاکی کے ساتھ اختیار کیا گیا، اور نتیجہ تھا اس عیاری اور دسیسہ کاری کا جو ریٹائر ہونے والی حکومت نے تمام اسلامی عناصر کو ہمیشہ مفلوج اور پست رکھنے کے لیے ایک نہ بدلنے والی پالیسی کے طور پر اختیار رکھی تھی۔
پھر اس موقع پر یہ بھی سوچنا چاہیے کہ پاکستان کا مطالبہ کسی کے نزدیک ابتداءً خواہ کیسا ہی تھا، بزورِ شمشیر تو نہیں منوایا گیا بلکہ تمام قوموں اور پارٹیوں کے باہمی معاہدات اور رضامندی سے پاکستان کی تاسیس عمل میں آئی۔ اب اگر اس کے بعد ہندو اور سکھ کی سیاہ ذہنیت، انگریز کی متعفن سیاست اور بعض غدارانِ کی مجرمانہ خیانت نے گہری سازش کے تحت اپنی تسلیم کی ہوئی اسکیم کے خلاف کام نہ کیا ہوتا تو انڈین یونین میں ایسے دردناک اور شرمناک مظالم کا مسلمانوں کو سامنا نہ کرنا پڑتا، نہ کشمیر ایسے روح فرسا حوادث کی آماجگاہ بنتا اور نہ حیدر آباد کی طرف کوئی ظالم نظر اٹھا کر دیکھ سکتا۔ ہر دو مملکتیں اپنی اپنی جگہ آزاد رہ کر اور دوسروں کی آزادی برقرار رکھ کر باہمی تعاون، خیرسگالی اور مشترک مساعی کے ساتھ خوشحالی کی جد و جہد کرتیں تو آپ دیکھتے کہ گزشتہ ایک سال میں برصغیر ترقی کی دوڑ میں کہاں سے کہاں پہنچ جاتا۔ مگر تلخ نوائی معاف، وہاں تو نیتیں ہی کچھ اور تھیں۔
ہندو کو یہ گوارا ہی نہ تھا کہ کوئی ایک مسلمان بھی ہندوستان کے کسی چپے پر ہندو اکثریت کی غلامی سے آزاد ہو کر رہے۔ ہندو مہا سبھا اور راشٹر یہ سیوک سنگھ کی سوچی سمجھی اسکیم کے تحت بیس پچیس برس سے مسلمانوں کو بھارت ورش سے ختم کردینے یا جبراً مرتد بنانے کی تیاریاں کی جارہی تھیں۔
ہندو کی فساد انگیزی، بزدلانہ خون آشامی اور اسلام دشمنی کی تحریک کے لیے پاکستان کا نام لینا کوئی ضروری نہ تھا، کتنے دوسرے حیلے بہانے موجود تھے۔ ۱۹۳۷ء کی (کانگریسی) وزارت کے زمانے میں پیش آنے والے سنگین حوادث سے ہر شخص کو اس کا اندازہ ہوچکا تھا۔ آج بھی انڈین یونین کے مختلف حصوں میں اس کا تجربہ ہوتا رہتا ہے۔
سات سو برس سے یہ ارمان دل میں پرورش پا رہے تھے کہ جن مسلمانوں نے ہم پر صدیوں تک حکمرانی کی ہے، اب ہم ان پر حکومت کریں گے اور اسلامی عہد کی ایک ایک رسم اور ایک ایک یادگار نیست و نابود کر کے چھوڑیں گے۔ مگر اس راستے میں انگریز کا تسلط کوہِ گراں بن کر حائل تھا، جس کا توڑنا ہندو اور مسلمان دونوں اپنی اپنی آزادی کے لیے ناگزیر سمجھتے تھے۔ ہندو نے اس موقع کو خوب بھانپ لیا اور کانگریس کے ذریعے مصنوعی قومیتِ متحدہ کا ڈھونگ رچایا گیا۔ یہ ایک ایسا تیر تھا جس سے بیک وقت دو شکار ہوتے تھے، یعنی ایک طرف دونوں قوموں کی مشترک قوت سے انگریز کو شکست دی جائے اور دوسرے جانب جمہوریت کے اصول پر جو کچھ ہاتھ آئے، اس پر ہندو اکثریت کا قبضہ اور مسلمان کی دائمی بے چارگی کا جواز حاصل کیا جائے۔

وہ تو یہ کہیے کہ اس نام نہاد قومیت متحدہ کے جگر میں جو زہریلا مادہ اور جو آتشین لاوا جوش مار رہا تھا، تحریکِ پاکستان سے اسے جلد نکلنے کا ایک راستا ہاتھ ااگیا اور اس کی تباہ کاری ذرا محدود ہو کر رہ گئی۔ اگر دو چار برس اور گزرجاتے اور پاکستان نہ بنتا تو اس آتش فشاں کے وسیع پیمانے پر پھٹنے سے پورے دس کروڑ مسلمان اس کی لپیٹ میں آجاتے۔
دشمنوں کی پوری کوشش یہی تھی کہ پاکستان کے پودے کو نشونما پانے سے پہلے ہی ختم کردیا جائے لیکن خداوندِ قدس نے اپنے فضل و رحمت سے وہ تمام منحوس مساعی ناکام بنادیں، قتل و نہب کے بازار گرم ہوئے، اغوا اور عصمت ریزیوں کے طوفان اٹھے، ستم رسیدہ تارکینِ وطن کا سیلاب امنڈ پڑا، خوف و دہشت پھیلانے کی کوئی ترکیب نہیں چھوڑی گئی جس کا سلسلہ اب تک کم وبیش جاری ہے اور یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب نہ پاکستان کی ساری فوج اس کے پاس تھی نہ پاکستان کا پورا رقبہ اس کے قبضے میں تھا۔ نہ مالیہ نہ میگزین، نہ کوئی ضروری سامان اس کے ہاتھ آیا تھا، مگر حق تعالیٰ نے ایسے نازک ترین دور میں فوق العادہ اس کی حفاظت فرمائی اور اس کے فضل و اعانت سے وہ چیز جس کی حیثیت اگست ۱۹۴۷ء میں ایک کاغذی دستاویز سے زیادہ نہیں سمجھی جاتی تھی، آج ۱۹۴۹ء میں ایک ٹھوس فولادی حقیقت بن کر سب کے سامنے ہے۔ ہماری فوج اپنی صلاحیتوں کے لحاظ سے دنیا کی بہترین فوج ہے۔ ہمارا ڈیفنس اگر مکمل نہیں تو مضبوط یقیناًہے۔ ہمارا ہر سپاہی بھاڑے کا ٹٹو نہیں بلکہ ایک نئے اور تازہ جوش کے ساتھ اپنے آپ کو ایک مجاہدِ اسلام دیکھنے کا مشتاق ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے بنتے ہی جو عظیم زلزلہ آیا، اس کا اس پیمانے پر اندازہ کسی کو نہ تھا اور اگر فرض کیجیے ہوتا بھی تو اس کے سوا، وہ کر ہی کیا سکتا تھا۔ اس کے سامنے دو ہی راہیں کھلی ہوئی تھیں۔ یا دس کروڑ مسلمانوں ہندوؤں کی غلامی کا پٹا ہمیشہ کے لیے اپنی گردن میں ڈال کر اپنی قومی موت کے وارنٹ پر دستخط کردیں پا پھر جتنے مسلمانوں کو اس تباہی سے بچاسکیں، بچالیں اور آئندہ قدرت حاصل ہونے پر دوسرے گرفتارانِ بلا کی رستگاری کے لیے امکانی جد و جہد عمل میں لائیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کوئی غیرمند مسلمان پہلی شق کو اختیار کرنے کی رائے نہیں دے گا۔
بحمد اللہ اب ایک ایسا خطۂ ارضی ان کو مل گیا جہاں مسلمان کو یہ قدرت حاصل ہے کہ اگر وہاں تمام تر اسلامی آئین و قوانین نافذ کرنا چاہے تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں نہیں روک سکتی۔ لوگ کہتے ہیں اور بعضوں نے مجھے خطوط لکھے ہیں کہ ’حصول پاکستان کے بعد علماء و مشائخ کی مساعئ عظیمہ کو ارباب اقتدار نے قطعاً فراموش کردیا ہے۔ مذہبی طبقے کی خدمات جلیلہ کا اعتراف تو در کنار، نشر و اشاعت کے ان تمام ذرائع سے جو حکومت کے دامن سے وابستہ ہیں، اس کا خاص طور پر لحاظ رکھا جاتا ہے کہ مذہبی عنصر زیادہ چمکنے یا ابھرنے نہ پائے۔‘ میں بالکل صفائی سے بتادینا چاہتا ہوں کہ یہ صورتحال ہمارے لیے کوئی غیرمتوقع نہیں۔ ہم یقیناً پہلے سے جانتے تھے کہ ایسا ہوگا۔ پاکستان کی زمام کار کا موجودہ حالت میں جن ہاتھوں تک پہنچنا ناگزیر تھا، ان سے اس کے سوا کوئی توقع ہی نہیں کی جاسکتی تھی۔ ہم ان کی نسبت بحمداللہ کسی فریب میں مبتلا نہ تھے۔ ہم نے یہ سب کچھ جانتے اور سمجھتے ہوئے مذہبی نقطۂ نظر سے جداگانہ قومیت اور اصول پاکستان کو حق اور صحیح سمجھ کر اس کی مخلصانہ حمایت کی تھی۔ آئندہ بھی ان شاء اللہ اس کی حفاظت کے معاملے میں رجالِ حکومت کی کوئی ناپسندیدہ روش ہماری جد و جہد پر اثر انداز نہیں ہوسکتی۔ خواہ اربابِ اقتدار ہمارے ساتھ کچھ ہی برتاؤ کریں، ہم خالص خدا کی خوش نودی اور اسلام اور اہلِ اسلام کی برتری اور بہتری کے لیے اس مملکت خداداد کو مضبوط اور محفوظ بنانے میں امکانی کوشش کا کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کریں گے۔
ساتھ ہی ہم اس کوشش سے بھی کبھی دستبردار نہیں ہوسکتے کہ مملکت پاکستان میں اسلام کا وہ دستور و آئین او روہ نظام حکومت تشکیل پذیر ہو جس کی رو سے اس بات کا مؤثر انتظام کیا جائے کہ مسلم قوم اپنی زندگی اسلام کے انفرادی و اجتماعی تقاضوں اور اسلامی تعلیمات کے مطابق جو قرآن و سنت سے ثابت ہوں، مرتب اور منظم کرسکے اور کوئی ایسا قانون، بل اور آر ڈی ننس جاری یا نافذ نہ ہوسکے جو احکام اسلام کے خلاف ہو۔‘‘
قارئین! علامہ شبیراحمد عثمانی رحمہ اللہ کے افکار میں سے یہ کچھ جھلکیاں تھیں، جن سے ان کی فکر و نظر کی بلندی اور ان کے کردار کے عظمت کا کچھ اندازہ ہوسکتا ہے۔ مولانا مرحوم کے افکار آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ انہوں نے جس طرح قیام پاکستان کے لیے عظیم تر جد و جہد کی، اسی طرح استحکام پاکستان کے لیے بھی وہ جو خطوط متعین کر گئے تھے، آج بھی وہ اسی طرح اساسی حیثیت رکھتے ہیں، مگر آج نہایت دُکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے اپنے اس عظیم محسن کی سیاسی خدمات کا بالکل نظرانداز کردیا۔ حکمران طبقے کی شکایت کیا کریں، خود دینی حلقوں میں بھی ایسے لوگ بہت کم ہیں جو علامہ شبیراحمد عثمانی کی ان خدمات سے واقف ہوں۔ ہمارے دینی حلقوں میں حضرت علامہ کی تفسیری و حدیثی خدمات سے تو یقیناً استفادہ کیا جاتا ہے مگر ان کی سیاسی فکر و نظر کے بارے میں ہمیں عموماً اتنا ہی معلوم ہے کہ وہ پاکستان بنانے میں شریک تھے اور انہوں نے پہلی پرچم کشائی کی تھی اور قائد اعظم کی نماز جنازہ پڑھائی تھی۔
یہ ناواقفیت ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ میرے خیال میں اس وقت سخت ضرورت ہے کہ پاکستان میں مولانا کی خدمات کے حوالے سے سالانہ کنونشن اور سیمینارز کا انعقاد کیا جائے۔ نسلِ نو کی تربیت کے لیے اور انہیں صحیح لائن دینے کے لیے یہ کام ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ مولانا شبیراحمد عثمانی رحمہ اللہ کی سیاسی خدمات پر تحقیقی کام کیا جائے۔ اس کے لیے ایک تحقیقی ادارہ قائم کیا جائے۔ ان کی ایک ضخیم اور مکمل سوانح عمری لکھی جائے۔ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ دو تین افراد خود کو چند سال کے بالکل فارغ کرلیں۔ وہ پاکستان اور بھارت کے بڑے بڑے کتب خانوں میں ’’عملی اعتکاف‘‘ کریں۔ ۱۹۲۰ء سے ۱۹۵۰ء تک کے اخبارات و رسائل کو چھان ڈالیں۔ گوہرِ بے بہا جمع کرنے لیے سمندر میں اترے بغیر چارہ نہیں۔

اس مضمون کے اہم مآخذ: (۱) خطبات عثمانی، از مولانا انوار الحسن شیرکوٹی مرحوم۔ (۲) تعمیرِ پاکستان اور علمائے ربانی۔ از منشی عبدالرحمن خان مرحوم۔ (۳) مکالمۃ الصدرین از قاری محمدطاہر قاسمی۔ (۴) نالۂ دل، بوئے گل، دودِ چراغ محفل، از شورش کاشمیری۔ (۵) بیس علمائے حق حافظ محمد اکبرشاہ بخاری۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں