آج : 11 December , 2017

ایران: سنی علمائے کرام نے ’جہاد‘ کو بیت المقدس کی آزادی کا واحد ذریعہ قرار دیا

ایران: سنی علمائے کرام نے ’جہاد‘ کو بیت المقدس کی آزادی کا واحد ذریعہ قرار دیا

ایران کے طول و عرض سے تعلق رکھنے والے سنی علمائے کرام اور خطبا نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے پر سخت برہمی اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے بیت المقدس کی آزادی کے لیے جہاد پر زور دیا۔
سنی آن لائن کو موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق، سنی علمائے کرام ٹرمپ کے حالیہ فیصلہ کی مذمت کرتے ہوئے صہیونی ریاست سے جان چھڑانے کا واحد راستہ جہاد ہی کو قرار دیا۔
شمالی صوبہ گلستان کے عالم دین مولانا محمدحسین گورگیج نے اپنے خطاب میں کہا ہے مسلم ممالک امریکا سے اپنے سفارتی تعلقات بند کریں۔ اس فیصلے سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور مستقبل میں مشرق وسطی مزید لڑائیوں میں پھنس جائے گا۔
انہوں نے مسلم حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: تمہارے ہی اختلافات کی وجہ سے مسلم امہ کسمپرسی اور ہلاکت سے دوچار ہوچکی ہے۔ لہذا اتحاد کے بغیر اسلام اور مسلمانوں کی عزت بحال نہیں ہوسکتی۔
زابل کے خطیب مولانا عبدالرشید نے بھی جہاد اور مزاحمت پر زور دیتے ہوئے کہا: بیت المقدس کی آزادی میں تمام مسلمانوں سے سستی و غفلت ہوئی ہے۔ مسلم حکام اپنی حکومتیں اور سلطنتوں کی بقا کے لیے مصالحت و خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے جہاں قابض افواج ہیں، اللہ تعالی پر بھروسہ کرکے جہاد اور مزاحمت کی راہ اختیار کریں۔
صوبہ کرمانشاہ کے ملاقادر قادری نے امریکی فیصلے کو مسلمانوں کے حق میں خیانت اور غداری قرار دی ہے۔ جبکہ صوبہ ہرمزگان کے شیخ موسی بازماندگان نے اپنے بیان میں کہا ہے دشمن یہ چاہتاہے کہ مسلمان اپنے قبلہ اول کو بھول جائیں اور اسرائیل اس کو اپنا مرکز بنادے۔اگر مسلمان متحد ہوجائیں، دشمن کی سازشیں ناکام ہوجائیں گی۔
خاش کے مولانا محمدعثمان نے بیت المقدس کو مسلمانوں کی ’ریڈ لائن‘ یاد کرتے ہوئے کہا: اسلام دشمن عناصر نے مسلمانوں میں پھوٹ ڈال کر اپنے مفادات حاصل کرنے کا عزم کیا ہے۔ یہ سلسلہ شروع ہوچکاہے۔ ٹرمپ ہمارے زمانے کا فرعون ہے۔ جو مسلم ممالک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، ایک دن امریکا ان کابھی خاتمہ کرے گا۔
گشت شہر کے نائب خطیب مولانا عبدالحکیم سیدزادہ، ایرانشہر کے مولانا محمدطیب ملازائی اور چابہار کے مولانا عبدالرحمن ملازئی نے بھی اپنے بیانات میں سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے نعرے لگانے اور کالم لکھنے کو اس حوالے سے ناکافی قرار دی۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں